دعوت: ماہنامہ الرسالہ کے فکری تناظر میں
ماہنامہ الرسالہ (نئی دہلی) کے صفحات پر «دعوت» اور «دعوت الی اللہ» کو امتِ مسلمہ کے منصبی فریضے اور دین کے مرکزی مشن کے طور پر مفصل انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس رسالے کے فکری سرچشمے میں دعوت محض ایک رسمی یا روایتی اصطلاح نہیں، بلکہ غیر مسلم اقوام تک خدا کا ربانی پیغام پہنچانے، انسانیت کو خالق کے تخلیقی نقشے (creation plan) سے باخبر کرنے اور اتمامِ حجت کی ایک پرامن، فکری اور تخلیقی جدوجہد ہے ۔ الرسالہ کی فکری توضیح کے مطابق، اسلام کا بنیادی دائرۂ کار اور اس کا مطلوب مشن اصلاً شخصی اصلاح اور پرامن دعوت پر منحصر ہے ۔ رسالے کے مباحث میں دعوت کے مفہوم کی قرآنی تحدید، مسلمانوں کی داخلی اصلاح (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کے ساتھ اس کے اصولی فرق، اس کی نبوی اور صحابہ کی تاریخ، صبر و خیر خواہی پر مبنی منہاجِ عمل اور اس باب میں بعد کے زمانوں میں پیدا ہونے والے علمی زوال پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔
دعوت کا مفہوم، حقیقت اور اصطلاحی حدود
ماہنامہ الرسالہ میں دعوت الی اللہ کی واضح اور دو ٹوک فکری تعریف پیش کی گئی ہے۔ الرسالہ کے مطابق: «دعوت سے مراد غیر مسلموں میں دعوت ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا جو ابھی اللہ کے حلقۂ اطاعت میں داخل نہیں ہوئے» ۔ قرآن میں جہاں بھی دعوت یا تبلیغ کا لفظ آیا ہے، وہ اصلاً غیر مسلموں ہی میں پیغامِ الٰہی پہنچانے کے معنی میں آیا ہے ۔ قرآن مجید میں اسی عظیم فریضے کے لیے شہادت، انذار اور تبشیر جیسے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں ۔ دعوت کا بنیادی مقصد انسانوں کو اللہ کے «کریشن پلان» سے آگاہ کرنا، ان کو ان کے رب سے جوڑنا اور غیر خدا پرستانہ زندگی سے نکال کر خدا پرستانہ زندگی کی طرف لانا ہے ۔
اس مفہوم کے تحت الرسالہ نے واضح کیا ہے کہ دعوت کا مقصد لوگوں کو زبردستی کنورٹ کرنا یا ان پر کوئی نظریہ تھوپنا (impose کرنا) نہیں ہے ۔ داعی کا کام محض حقیقت کا اعلان، ابلاغِ عام اور واضح طور پر پیغام کو پہنچا دینا ہے ۔ قرآن کی رو سے: «وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ» (اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے) ۔ دنیا کے فطری قانون کے تحت انسان دوسروں کو صرف باخبر کر سکتا ہے، ہدایت دینا انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے، جیسا کہ سورۃ القصص (28:56) میں فرمایا گیا: «تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے» ۔
دعوت الی اللہ کی اصطلاحی حدود کو واضح کرتے ہوئے الرسالہ نے اس امر پر بارہا زور دیا ہے کہ دعوت اور داخلی اصلاح دو الگ الگ دائرے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں عام طور پر مسلمانوں کے مسائل پر تقریریں کرنے، سیمینار منعقد کرنے یا مسلمانوں کی داخلی حالت پر گفتگو کرنے کو دعوت کا نام دے دیا جاتا ہے، جبکہ الرسالہ کے نزدیک اس قسم کے کام کا تعلق اصلاً «اصلاحِ مسلمین» سے ہے، نہ کہ دعوت الی اللہ سے ۔ مسلمانوں کے اندر اصلاحی، تذکیری اور ناصحانہ ذمہ داریوں کے لیے قرآن میں تذکیر، اصلاح، تواصی بالحق، تواصی بالصبر اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے الفاظ آئے ہیں ۔ مسلمانوں کی داخلی اصلاح کے لیے مجازی طور پر تو دعوت کا لفظ بولا جا سکتا ہے، مگر اصلاً اور حقیقی عنوان کے اعتبار سے دعوت کا اطلاق غیر مسلم اقوام تک خدا کا بے آمیز پیغام پہنچانے پر ہی ہوتا ہے ۔
قرآنی نصوص اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں دعوت
الرسالہ میں دعوتی مشن کے دلائل براہِ راست قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے اخذ کیے گئے ہیں۔
1. **دعوت بحیثیتِ جہادِ کبیر:** قرآنِ حکیم میں دعوتی مہم اور ابلاغِ حق کی جدوجہد کو بڑا جہاد قرار دیا گیا ہے: «وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا» (فرقان: 50-52) ۔ الرسالہ کی فکری تشریح کے مطابق جہاد کا لفظی مطلب بھرپور کوشش (utmost struggle) ہے، اور قرآن کے ذریعے لوگوں تک پرامن نظریاتی پیغام پہنچانا ہی دراصل «جہاد بالقرآن» یا «جہادِ اکبر» ہے ۔ اسی طرح سورۃ الحج کی آیت (22:78) میں فرمایا گیا: «وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ»، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس امت کا انتخاب ہی دراصل «شہادت علی الناس» یعنی انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانے کی خاطر ہوا ہے ۔
2. **دعوت کا مشن اور الٰہی ضمانت:** قرآن مجید میں انبیاء کے لیے حفاظت کی ضمانت کا ذکر سورۃ المائدہ کی آیت 67 میں آیا ہے: «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۔ الرسالہ نے واضح کیا ہے کہ یہ حفاظت پیغمبر اور داعیانِ حق کی ذات کی نہیں بلکہ ان کے دعوتی «مشن» کی حفاظت کی الٰہی گارنٹی ہے کہ ان کا مشن تکمیلِ ابلاغ تک لازماً پہنچ کر رہے گا ۔ سورۃ الشوریٰ (13) اور الانبیاء (25) کے تناظر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام انبیاء کا اصل اور مشترک دین صرف اور صرف توحید تھا اور اسی توحید پر قائم رہنا مطلوب تھا ۔
3. **عالمی اشاعت کی نبوی پیشین گوئیاں:** احادیثِ نبوی میں دعوتِ حق کے عالمی پھیلاؤ کی واضح خوش خبریاں دی گئی ہیں۔
* مسند احمد اور مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلٍ» (زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا کچا پکا گھر باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ اللہ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کر دے گا) ۔
* مسند احمد میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ» (یہ دین وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں) ۔
* صحیح بخاری میں حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جب مکہ میں سخت مظالم کے دوران صحابہ نے دعا کی درخواست کی تو رسول اللہ ﷺ نے سابقہ امتوں کی قربانیوں کا حوالہ دے کر فرمایا: «وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ» (خدا کی قسم، یہ امر یعنی اسلام ضرور مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ صنعاء سے حضرموت تک ایک سوار اکیلا سفر کرے گا اور اسے سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہوگا) ۔
* حجة الوداع کے تاریخی موقع پر نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیا اور حاضرین سے پوچھا کہ تم میرے بارے میں کیا کہو گے؟ صحابہ نے عرض کیا: «نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت» (ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور خیر خواہی کا حق ادا کر دیا)۔ اس پر آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر تین بار فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» (اے اللہ تو گواہ رہ) ۔
تاریخ، حیاتِ انبیاء اور اسلاف کی مثالیں
الرسالہ کے مضامین میں تاریخِ انسانی اور حیاتِ انبیاء سے دعوتی نمونوں کو بکثرت پیش کیا گیا ہے۔
1. **انبیاء کا طریقِ کار اور توحید کی قیمت:** قدیم ترین زمانے سے تمام انبیاء کا مشن ایک ہی رہا ہے یعنی افراد کو موحد بنانا ۔ رسولِ اسلام ﷺ اور دیگر انبیاء منصب اور بنیادی دین کے اعتبار سے مساوی تھے؛ تمام انبیاء ایک ہی دین لے کر آئے اور ان کے مابین تفریق یا غیر معمولی افضلیت کے دعووں کی نفی احادیث میں ملتی ہے جیسے: «لَا تُخَيِّرُونِي بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ» اور «لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ» ۔ قدیم زمانے میں فکری و سیاسی غلبہ شرک کو حاصل تھا، بادشاہ خود کو دیوتاؤں کی اولاد باور کراتے تھے، لہٰذا اس دور میں توحید کی دعوت کی قیمت آگ کے الاؤ میں کود کر اور سروں پر آرے چلوا کر چکانی پڑتی تھی ۔ انبیاء اپنی قوم کے فرد ہوتے تھے تاکہ وہ ان کی نفسیات، احوال اور زبان کو سمجھ کر مؤثر کلام کر سکیں، اور وہ مثبت گفتگو کے ساتھ ساتھ ناحق کی کھلی تنقید اور فکری تجزیہ بھی کرتے تھے تاکہ حق مبرہن ہو سکے ۔
2. **عہدِ صحابہ کی دعوتی جدوجہد:** اصحابِ رسول کی امتیازی شان یہ تھی کہ وہ مکمل معنوں میں ایک خالص داعی گروہ بنے ۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت اسلام عملاً جزیرہ نمائے عرب تک محدود تھا، لیکن وفات کے فوراً بعد صحابہ کرام عرب سے باہر نکلے، انہوں نے دعوت و اشاعتِ اسلام کو اپنی زندگی کا واحد مشن بنایا اور اپنا سارا اثاثہ اس راہ میں جھونک دیا، جس کے نتیجے میں محض پچاس سال کے مختصر عرصے میں اسلام قدیم دنیا کے بڑے حصے تک پھیل گیا ۔ غیر مسلموں کی طرف سے گستاخی یا ناپسندیدہ رویوں کے ردعمل میں صحابہ نے کبھی جلسے جلوس، ہنگامہ آرائی یا جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ان کے لیے ہدایت کی دعائیں کیں اور دلیل سے ان کی غلط فہمیوں کو دور کیا ۔
3. **تاریخی لغزشیں اور بعد کے ادوار کا زوال:** تاریخ میں جہاں بھی اخلاص کے باوجود دعوتی اصولوں سے انحراف ہوا، اس کے منفی نتائج برآمد ہوئے۔ مثلاً پندرھویں صدی کے ہندوستان میں سید محمد جونپوری صدق و عزیمت، زہد، دعوت الی اللہ اور امر بالمعروف میں بلند پایہ بزرگ تھے، مگر ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا، جس کے نتیجے میں امت میں شدید انتشار پیدا ہوا اور وہ دعویٰ محض وہم ثابت ہوا ۔
اسی طرح بعد کے ادوار میں اسلامی علوم کی تدوین کے دوران ایک المیہ یہ پیش آیا کہ تصانیف میں طہارت سے لے کر قتال تک کے تمام ابواب تو شامل کیے گئے، مگر «دعوت الی اللہ اور تبلیغِ ما انزل اللہ» کا مستقل باب کتب سے عملاً حذف ہو گیا ۔ فقہ، حدیث اور سیرت کے بڑے بڑے مصنفین نے سنتِ نبوی میں داڑھی اور مونچھ کے احکام تک تفصیل سے لکھے مگر نبوی سنتِ دعوت کو واجبات کے باب میں شامل کرنے سے گریز کیا گیا ۔ اس علمی انحراف کا نتیجہ یہ نکلا کہ امت کے زندہ شعور سے غیر مسلموں میں دعوت کا حقیقی فریضہ غائب ہو گیا اور مسلمانوں کی تمام تر توانائیاں صرف داخلی بحثوں اور سیاسی سرگرمیوں میں الجھ کر رہ گئیں ۔
مولانا وحید الدین خان کے فکر میں دعوت کا مقام
مولانا وحید الدین خان کی فکر کا بنیادی محور اور ان کا جاری کردہ «الرسالہ مشن» مکمل طور پر ایک غیر سیاسی اور فکری دعوتی مشن ہے ۔ مولانا کے نزدیک دعوت کے بنیادی فکری اصول درج ذیل ہیں۔
1. **غیر سیاسی مشن اور غلبۂ دین کا حقیقی مفہوم:** الرسالہ مشن کا مقصد حکومت پر قبضہ کرنا، سیاسی امارت کا قیام یا سیاسی انقلاب لانا ہرگز نہیں ہے ۔ الرسالہ کے مطابق اسلام میں جماعت سازی کا اختیار صرف پرامن دعوتِ خیر اور پرامن نصیحت تک محدود ہے، جبکہ قتال اور نفاذِ شریعت جیسی ذمہ داریاں صرف ایک قائم شدہ منظم ریاست کا کام ہیں ۔ سیاسی اسلام کی علمبردار جماعتوں (جیسے الاخوان المسلمون وغیرہ) کی بنیاد غلط سیاسی تعبیر پر رکھی گئی، جس کے باعث وہ پرامن اصلاح کے بجائے تصادم کی راہ پر چل پڑیں ۔ قرآن کی رو سے انسان صرف اپنی استطاعت کی حد تک شرعی احکام پر عمل کا مکلف ہے («تَكْلِيفٌ بِقَدْرِ الْوُسْعِ»)، جبکہ مسلمانوں کا اصل خارجی نشانہ کامل امن پسندی اور بے آمیز ابلاغ ہے ۔
2. **دعوت بحیثیتِ فکری جہاد (Intellectual Jihad):** الرسالہ کی فکر میں موجودہ دور کا سب سے بڑا اسلامی جہاد «فکری جہاد» ہے، جس کی جڑیں گہرے تفکر اور دعوت الی اللہ سے وابستہ ہیں ۔ صحابہ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس اور ابو الدرداء کے ارشادات کی روشنی میں کہ «ایک گھڑی کا تفکر رات بھر کے نفل قیام سے بہتر ہے»، الرسالہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ داعی کا ذہنی ارتقا اسی وقت ممکن ہے جب وہ فکری جدوجہد کے ذریعے حقائق کا ادراک کرے ۔ دورِ جدید کے ذرائعِ ابلاغ، سائنس اور علمی دریافتیں درحقیقت اسلام کے حق میں وہ نئے امکانات ہیں جنہیں دعوت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے ۔
3. **پیغام اور منہاج (طریقِ کار) کا فرق:** الرسالہ نے واضح کیا کہ دین اور اس کا اصل پیغام ابدی اور ناقابلِ تغیر ہے، مگر دعوتی منہاج اور طریقہ کار حالات کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر توحید کا پیغام دیا تھا، جبکہ دورِ جدید کا داعی ٹیلی ویژن اسٹوڈیو یا جدید اشاعتی ذرائع کے ذریعے پوری دنیا کو مخاطب کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آپ ﷺ کو «اسوۂ حسنہ» کہا گیا ہے نہ کہ «اسوۂ کاملہ»، تاکہ طریقہ کار کے تنوع کی گنجائش باقی رہے اور امت جمود کا شکار نہ ہو ۔ اگر ساتویں صدی کے اہل ایمان قرآن کے قاری اور مبلغ تھے تو اکیسویں صدی کے داعیوں کا کام قرآن کے ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن کر گھر گھر اس کا کلمہ پہنچانا ہے ۔
4. **دو بہترین نتائج (إحدى الحسنيين):** الرسالہ کے نزدیک دعوت الی اللہ ایک ایسا خدائی مشن ہے جس میں رب کی نصرت قطعی طور پر وابستہ ہے ۔ اس مشن کے لیے قرآن کی رُو سے دو میں سے ایک بھلائی مقدر ہے: یا تو نظریاتی کامیابی (بہ معنی تبلیغ) یا پھر عملی کامیابی (بہ معنی انقلاب) ۔
عملی رہنمائی اور دعوتی اخلاقیات
الرسالہ میں داعی کے لیے نہایت جامع، عملی اور اخلاقی رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔
* **یک طرفہ خیر خواہی اور نفرت سے پاک دل:** دعوت کا کام صرف وہی انجام دے سکتا ہے جس کا سینہ مخاطب کی طرف سے ہر قسم کے کینے، نفرت، شکایت اور تعصب سے مکمل پاک ہو ۔ الرسالہ کا اصول ہے کہ داعی کو «نفرت کے باوجود محبت» کرنے اور شکایت سے بلند ہو کر سوچنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے ۔ دعوتی مشن ایک دینے والا مشن (giver mission) ہے، یہ لینے والا مشن نہیں، اس لیے داعی کو مدعو سے کوئی مادی یا قومی تنازع کھڑا نہیں کرنا چاہیے ۔
* **صبر اور ایذا رسانی کی برداشت:** دعوت کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ شدید مشقت اور تکلیفوں کا راستہ ہے ۔ جب داعی بے آمیز حق کا اعلان کرتا ہے تو روایتی پیشوا اور مفاد پرست عناصر اس کی مخالفت پر اتر آتے ہیں، اس کے کلام میں عیب نکالتے ہیں («وَالْغَوْا فِيهِ») اور کردار کشی کرتے ہیں ۔ حضرت عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے یہی سکھایا تھا کہ جب امر بالمعروف یا دعوت کا ارادہ کرو تو اپنے آپ کو لوگوں کی ایذا رسانی پر صبر کرنے کے لیے تیار کر لو اور اللہ کے اجر پر بھروسا رکھو ۔ الرسالہ کے الفاظ میں: «دعوت الی اللہ کا کام پورا کا پورا صبر و برداشت کا امتحان ہے» ۔
* **نبوی اخلاقِ عالیہ:** داعی کا اخلاق ایک حدیث کی روشنی میں یہ ہونا چاہیے: «أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِيَ مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِي» (میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے تعلق توڑے میں اس سے جڑوں، جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں، اور جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کر دوں) ۔
* **انا سے خالی شخصیت (Ego-free Personality):** داعی کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنی انا کو مٹا کر مشن کا کام کرے؛ اگر داعی اپنی انا (ego) کو پرائمری پوزیشن دے گا تو سارا مشن برباد ہو جائے گا، کیونکہ یہ خالصتاً خدا کا مشن ہے جس میں صرف خدا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔
* **حکمت، موعظتِ حسنہ اور تنہائی میں تفہیم:** دعوت کا اسلوب موعظتِ حسنہ (شفقت اور دلسوزی) اور جدالِ احسن (تفہیم اور احقاقِ حق، نہ کہ الزام تراشی) پر مبنی ہونا چاہیے ۔ اگر حکمرانوں کی اصلاح کرنی ہو تو اس کا واحد درست طریقہ یہ ہے کہ تنہائی میں بیٹھ کر دلسوزی سے نصیحت کی جائے، نعرے بازی اور جلسوں کے ذریعے اشتعال پھیلانے سے مسلمانوں میں باہمی خونریزی جنم لیتی ہے جو اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے ۔
* **تخلیقی سوچ (Creative Thinking):** دعوت کا کام کوئی لگا بندھا میکانیکی کام نہیں ہے بلکہ ایک انتہائی تخلیقی عمل ہے جس میں داعی کے اندر خود فکری کی صلاحیت ہونی چاہیے تاکہ وہ مخاطب کی صورت حال کے مطابق حکمتِ عملی وضع کر سکے ۔
الرسالہ میں دعوتی فکر کا ارتقا: ۱۹۷۶ء سے ۲۰۲۶ء تک
ماہنامہ الرسالہ کے اولین شماروں (1976ء و 1977ء) سے لے کر بعد کی دہائیوں تک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا موضوع اس رسالے کا مستقل، مسلسل اور سب سے غالب عنوان رہا ہے ۔
* **ابتدائی دور (۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۹ء):** رسالے کے ابتدائی برسوں میں الرسالہ نے مغربی تہذیب کے مادی غلبے کے مقابلے میں اسلام کی اندرونی روحانی اور عقلی قوت کو اجاگر کیا اور یہ واضح کیا کہ مسلمانوں کے سیاسی ضعف کے باوجود اسلام کی فطری سچائی دلوں کو فتح کر رہی ہے، مگر یہ قوت امت کو اس کے دعوتی فریضے سے بری الذمہ نہیں کرتی ۔ اسی دور میں دعوت کو امت کا حقیقی مشن اور «جہادِ کبیر» قرار دیا گیا اور مدعو قوموں کے سامنے بے آمیز حق پیش کرنے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرنے پر مفصل مضامین شائع ہوئے ۔ الرسالہ نے واضح کیا کہ تبلیغ کی ذمہ داری ہر حال میں واجب ہے، خواہ داعی کے اپنے عمل میں کوتاہی ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ مفسر ابن کثیر اور سعید بن جبیر کے اقوال سے مبرہن ہے ۔
* **درمیانی دور (۱۹۹۰ء تا ۲۰۰۹ء):** اس دور میں الرسالہ نے اپنے دعوتی لٹریچر کی عالمی سطح پر اشاعت کی اور کئی مستقل کتابیں پیش کیں ۔ اس عرصے میں دعوت اور «امر بالمعروف و نہی عن المنکر» کے فرق کو اصطلاحی طور پر آخری حد تک نکھارا گیا ۔ فسادات کے انسداد اور معاشرتی امن کے تناظر میں الرسالہ نے واضح کیا کہ امر بالمعروف دراصل ایک سماجی اور اصلاحی عمل ہے جو ہر گروہ کو اپنی اپنی قوم کے اندر انجام دینا چاہیے، یہ کوئی سیاسی لیڈری نہیں ہے ۔ نیز 1992ء میں «الرسالہ فورم» کی بنیاد رکھ کر پرامن ابلاغِ حق اور اخلاقی بیداری کے عملی دائرے طے کیے گئے ۔ ساتھ ہی یہ اصولی نکتہ مبرہن کیا گیا کہ شریعت میں منکر کو ہاتھ سے بدلنے کا مفہوم متشدد کارروائی یا خودکش بمباری ہرگز نہیں بلکہ اس سے مراد مثبت تبدیلی (replacement) اور اصلاحِ حال ہے ۔
* **متاخر دور (۲۰۱۰ء تا ۲۰۲۶ء):** بعد کے شماروں میں الرسالہ نے مسلمانوں کے زوال کی اصل جڑ اس بات کو قرار دیا کہ انہوں نے دین کو «مہجور» بنا دیا اور دعوت الی اللہ کے الٰہی مشن کو ترک کر کے محض قومی مفادات اور سیاسی نعروں کو اوڑھ لیا ہے ۔ الرسالہ نے اکیسویں صدی کے حالات میں داعی کو قرآن کا ایک فعال تقسیم کار (distributor) بننے اور پرامن فکری جہاد کو اپنانے کی تلقین کی ۔ آخری ادوار کی تحریروں میں اس بات کا بھرپور اعادہ کیا گیا کہ اسلام کا ہدف افراد کی فکری و قلبی تعمیر ہے نہ کہ ریاستی نظاموں پر زبردستی قبضہ جمانا، اور یہ کہ انبیاء نے کبھی اقتدار کے نفاذ کی جدوجہد نہیں کی بلکہ ہمیشہ توحید اور ایمانی اقدار کی اشاعت کو ہی اپنی زندگی کا واحد نصب العین بنائے رکھا ۔
الرسالہ میں مذکور متعلقہ کتابیں اور تالیفات
ماہنامہ الرسالہ کے مختلف شماروں کے اعلانات اور فہرستوں میں دعوت اور اس سے جڑے فکری موضوعات پر مولانا وحید الدین خان کی متعدد کتب اور رسائل کے نام صراحت کے ساتھ ملتے ہیں، جن سے دعوتی لٹریچر کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
* *دعوت الی اللہ*، *دعوتِ حق*، *دعوتِ اسلام*، اور *اسلامی دعوت* ۔
* *تاریخِ دعوتِ حق*، *احیاءِ اسلام*، *تجدیدِ دین*، *تعبیر کی غلطی*، اور *دین کی سیاسی تعبیر* ۔
* *شہادت: امتِ مسلمہ کا مشن*، *پیغمبرِ انقلاب*، *دینِ کامل*، اور *دینِ انسانیت* ۔
* *مذہب اور جدید چیلنج*، *مذہب اور سائنس*، *عقلیاتِ اسلام*، *فکرِ اسلامی*، *اظہارِ دین*، اور تفسیر *تذکیر القرآن* ۔
* انگریزی و دیگر زبانوں کے تراجم و کتب: *God Arises*، *The Teachings of Islam*، اور *Muhammad: The Ideal Character* وغیرہ ۔
خلاصہ یہ کہ الرسالہ کے پیش کردہ فکری نظام میں «دعوت» کوئی ضمنی کام نہیں بلکہ اسلام کا کلیدی جوہر، امت کا مستقل منصب اور تمام انسانیت کے لیے رحمت و خیر خواہی کا عالمگیر پیغام ہے ۔