DRAFT written by AI from Al-Risala pages only (hereafter). Tap any [n] to see the printed page with the passage marked (86 of 87 marked automatically). ▶ reads the article aloud, sentence by sentence.
⬇ PDF⬇ Wordfor printing / publishing: numbered references, index and bibliography

الرسالہ میں تصورِ آخرت

ماہنامہ *الرسالہ* (جس کے بانی و مدیر مولانا وحیدالدین خان تھے) میں «آخرت» کا موضوع محض ایک روایتی عقیدہ نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی اور دین کا مرکزی محور بن کر سامنے آتا ہے ۔ الرسالہ کی فکر کے مطابق کائنات کا ایک خدا ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ موت کے بعد تمام انسانوں کو اکٹھا کر کے ان سے حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق دائمی جنت یا دائمی جہنم میں داخل کرے گا ۔ انسان کو ایک ابدی مخلوق بنایا گیا ہے اور اس کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے: «قبل از موت دور» (pre-death period) اور «بعد از موت دور» (post-death period) ۔ موجودہ دنیا کی زندگی ایک محدود امتحانی مرحلہ ہے، جبکہ موت کے بعد کا دور نتائج اور ابدی انجام کا مرحلہ ہے ۔ الرسالہ کا واضح موقف ہے کہ انسانی زندگی کا اصل سوال یہی بعد از موت پیش آنے والا معاملہ ہے، اس لیے انسان کی فکری اور عملی منصوبہ بندی کا رخ آخرت کی طرف ہونا چاہیے ۔

مفہوم، نوعیت اور انسانی زندگی کی حقیقت

الرسالہ کے مطابق، دنیا میں انسان کو حاصل آزادی مستقل نہیں ہے؛ فرد کی آزادی موت کے وقت ختم ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی پوری نسل انسانی کی آزادی قیامت کے روز ختم ہو جائے گی ۔ اس دنیاوی زندگی کے بعد آخرت کا آغاز ہوتا ہے جہاں انسانوں کو دو مستقل گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے گا ۔ ایک وہ لوگ جنہوں نے اپنی آزادی کو خدا کی مرضی کے تابع رکھا، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور دوسرے وہ جنہوں نے اس آزادی کو خدا سے بے خوف ہو کر گزارا، وہ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے اور یہ تقسیم دائمی ہوگی ۔ دنیا کی اوسطاً ستر یا سو برس کی زندگی ایک ایسے انجام پر ختم ہونے والی ہے جو یا تو شدید ترین عذاب ہے یا اعلیٰ ترین انعام، اور یہی بات زندگی کے مسئلے کو انتہائی سنگین بنا دیتی ہے ۔

اس سنگینی کے باوجود دنیا میں یہ تمام حقائق پردۂ غیب میں ہیں؛ انسان خدا، فرشتوں، جنت اور دوزخ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا ۔ الرسالہ میں واضح کیا گیا ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ موت انسان کو کائنات کے نئے پیٹ میں ڈال دیتی ہے جہاں وہ ایک اور عالم میں آنکھ کھولتا ہے ۔ موت دراصل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا وقفہ (transferring period / transportation) ہے ۔ موجودہ دنیا ایک «جوڑ دنیا» (pair world) کا ادھورا حصہ ہے ۔ موجودہ دنیا عارضی اور ناقص ہے، جبکہ آخرت کی دنیا ابدی اور کامل ہے؛ یہاں کی تکلیفیں اور لذتیں معمولی ہیں مگر اگلی دنیا میں دونوں چیزیں اپنی آخری انتہا پر ہوں گی ۔

الرسالہ کے نزدیک جنت اور جہنم کی نوعیت کو خارجی حقیقت کے طور پر سمجھنا ضروری ہے ۔ بعض مسلم مفکرین، جیسے علامہ اقبال، جب اسلامی الہیات کی تشکیل جدید کے تحت فلسفے کے زیر اثر یہ کہتے ہیں کہ «Heaven and Hell are states, not localities» (جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں)، تو الرسالہ کے مطابق یہ علم کلام کو فلسفے سے خلط ملط کرنے کی غلطی ہے، کیونکہ اسلام کی رو سے جنت اور جہنم حقیقی مقامات ہیں ۔ جنت انتہائی عیش اور ہر مطلوب و لذیذ چیز کا مقام ہے اور جہنم بدترین عذاب کی جگہ ہے ۔ خدا کے تخلیقی نقشے میں تخلیق کا اصل مقصود اہلِ جنت ہیں جبکہ اہل جہنم تخلیق کا اضافی جز ہیں جن کا رول امتحانی ماحول بنانا تھا ۔ جب انسانوں کی مطلوبہ تعداد پوری ہو جائے گی تو اس عارضی نرسری (زمین) پر قیامت کا زلزلہ آ جائے گا اور اس کے بعد صرف معیاری دنیا یعنی جنت اور اس کے منتخب افراد باقی رہ جائیں گے، جبکہ فیل ہونے والوں کو کائنات کے کوڑا خانے (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا ۔

قرآنی نصوص اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں

الرسالہ میں آخرت کے تصور کو قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے کثرت سے مدلل کیا گیا ہے۔

قرآنی حوالہ جات اور انذار

- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جس نے خدا کی نصیحت سے منہ پھیرا اس کے لیے تنگی کا جینا ہوگا اور قیامت کے دن اسے اندھا اٹھایا جائے گا (طٰہٰ: 124) ۔

- سورۃ المعارج (آیات 19 تا 35) کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ جنت کے باغوں میں عزت پانے والے وہ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، جن کے مال میں سائل و محروم کا حق ہے، جو روزِ جزا کو سچا مانتے ہیں، اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں، اپنی امانتوں اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں اور سچی گواہی پر قائم رہتے ہیں ۔

- سورۃ الملک (آیات 1 تا 6) کے تحت بتایا گیا ہے کہ انسان اس دنیا میں حالتِ امتحان میں ہے جس کی خاطر اسے آزادی دی گئی، اور انکار کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب تیار ہے ۔

- سورۃ الانشقاق (آیات 1 تا 25) اور دیگر مقامات کے ذریعے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک دنیا کا پایا جانا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسری بہتر دنیا وجود میں آسکتی ہے، اور قیامت کے دن ہر شخص اپنے نامۂ اعمال کو کھلا ہوا پائے گا ۔

- سورۃ آل عمران (آیت 106) کے تحت بتایا گیا ہے کہ اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ سیاہ؛ سیاہ چہروں والوں کو کفر کے سبب عذاب چکھنا پڑے گا ۔

- سورۃ النساء (آیت 147) «مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ» کی تشریح میں مفسر ابو البرکات النسفی کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ «الإيمان: معرفة المنعم، والشكر: الاعتراف بالنعمة» یعنی ایمان منعم کی معرفت اور شکر نعمت کا اعتراف ہے، اور خدا کا تخلیقی منصوبہ یہ ہے کہ لوگ شکر اور ایمان کے ذریعے جنت کے مستحق بنیں ۔

- سورۃ الزمر (آیت 67) کے حوالے سے بیان ہوا کہ قیامت کے دن ساری زمین خدا کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے ۔

- قرآن کی رو سے نجات صرف اپنے عمل پر ہے، جیسا کہ سورۃ الانفطار میں فرمایا گیا کہ اس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا (82:19) ۔

احادیثِ نبوی کے شواہد

- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حاسبوا انفسكم قبل ان تحاسبوا» یعنی دنیا ہی میں اپنا حساب کر لو قبل اس کے کہ آخرت میں تمہارا حساب کیا جائے ۔ اور «من نوقش فقد هلك» کہ جس کی جانچ پڑتال ہو گئی وہ ہلاک ہو گیا ۔

- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عد نفسك من اهل القبور» یعنی اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔ نیز فرمایا: «أَکْثِرُوا ذِکْرَ ھَادِمِ اللَّذَّاتِ، يَعْنِي الْمَوْتَ» یعنی لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کو کثرت سے یاد کرو ۔

- قبر کی نوعیت کے متعلق حدیث وارد ہے: «إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار» (قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا) ۔ اس کو اس حدیث کی روشنی میں سمجھا گیا ہے: «إنما هي أعمالكم ترد إليكم» کہ یہ دراصل انسان کے اپنے اعمال ہیں جو اس کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ۔

- صحیح مسلم (حدیث: 2849) کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن موت کو ایک سفید مینڈھے کی صورت میں لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ «يا أهل الجنة، خلود فلا موت، ويا أهل النار، خلود فلا موت» (اے جنت والو اب ہمیشگی ہے موت نہیں، اور اے جہنم والو اب ہمیشگی ہے موت نہیں) ۔

- ترمذی کی روایت نقل کی گئی ہے: «ما رأيتُ مثل الجنّةِ نامَ طالبُها، وما رأيتُ مثلَ النَّارِ نامَ هَارِبُها» کہ کیسی عجیب بات ہے کہ جنت جیسی چیز کا طلب گار سو رہا ہے اور جہنم جیسی خوفناک چیز سے بھاگنے والا بھی غفلت کی نیند میں ہے ۔

- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوت کا آغاز صفا کے پہاڑ پر کیا اور بعد ازاں جب مدینہ تشریف لائے، تو ہر موقع پر یہی فرمایا کہ اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو («اتقوا النار ولو بشق تمرة») ۔

الرسالہ میں شفاعت کے روایتی تصور کی تصحیح کی گئی ہے؛ سورۃ الزخرف کی آیت 86 کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ حدیث «شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي» میں شفاعت سے مراد سفارش نہیں بلکہ «شہادت» (گواہی) ہے، یعنی پیغمبر اور داعیانِ حق اس بات کی سچی گواہی دیں گے جسے وہ جانتے ہیں، کیونکہ اصل فیصلہ ہر انسان کے اپنے ذاتی ایمان و عمل پر ہوگا ۔

تاریخ، انسانی مشاہدات اور زندگی کی مثالیں

الرسالہ میں آخرت کے حقائق کو ذہن نشین کرانے کے لیے روزمرہ زندگی کے مشاہدات اور تاریخی واقعات سے بکثرت مثالیں دی گئی ہیں۔

- **زلزلہ اور بستی کی بربادی:** جس طرح ایک شدید زلزلہ شہر کی تمام مصنوعی شان و شوکت کو ملیامیٹ کر کے اس کی اصل حقیقت کو سامنے لے آتا ہے، بعینہٖ قیامت کا زلزلہ تمام غیر واقعی پردوں کو ہٹا کر خدا کے جلال اور انسان کی اصل حیثیت کو آشکار کر دے گا ۔

- **ہوائی اڈے کا واقعہ:** مولانا نے اپنے طرابلس کے سفر کے دوران لیبیا ائیرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کا ذکر کیا جہاں حکومت کی خصوصی ہدایت پر خاتون میزبان نے انہیں عام مسافروں کی قطار سے نکال کر وی آئی پی لاؤنج میں پہنچایا اور خصوصی گاڑی کے ذریعے طیارے تک لے گئی ۔ مولانا نے لکھا کہ یہ دیکھ کر مجھے آخرت کا معاملہ یاد آ گیا کہ مرنے کے فوراً بعد کس طرح کسی کے استقبال کے لیے فرشتے موجود ہوں گے اور وہ اعزاز کے ساتھ جنت میں پہنچایا جائے گا جبکہ نافرمانوں کو گرفتاری کے فرشتے لے جا کر جہنم میں ڈال دیں گے ۔

- **مارٹن لوتھر کنگ کا کتبہ:** امریکی سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھر کنگ کی قبر پر کتبہ تھا: «Free at last» (آخر کار آزاد)؛ ان کے ساتھیوں کے نزدیک آزادی سفید فاموں کے تسلط سے چھٹکارا تھی، لیکن الرسالہ کے مطابق حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان کو آخرت کی طویل دنیا میں جہنم سے رہائی ملے؛ دنیا کے کتنے آزاد آخرت میں غلام ہوں گے اور دنیا کے کتنے غلام آخرت میں آزاد قرار پائیں گے ۔

- **بسترِ مرگ کی حالت:** ایک معروف عالم نے ایک بزرگ کا واقعہ بڑے جوش سے سنایا کہ وہ دمِ واپسیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی کا فقہی مسئلہ دریافت کر رہے تھے اور اسے طلبِ علم کا کمال قرار دیا، لیکن مولانا وحیدالدین خان کے مطابق بستر مرگ پر انسان کو فقہی جزئیات کے بجائے صرف آخرت اور موت کی فکر ہونی چاہیے اور ملنے والوں کو آخرت کی یاد دلانی چاہیے ۔

- **بڑھاپے کا تجربہ:** انسان بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے میں داخل ہوتا ہے جہاں اعضا جواب دے جاتے ہیں؛ یہ کمزوری دراصل موت کی پیشگی اطلاع (prior notice) اور جبری یاد دہانی (compulsory reminder) ہے کہ اب عدالتِ الٰہی میں پیشی کا وقت قریب آ پہنچا ہے ۔

- **قبر کا کھودا جانا:** قبرستان میں کھودی جانے والی قبر کو دیکھ کر مولانا نے لکھا کہ یہ محض ایک زمینی گڑھا نہیں بلکہ ایک شخص کی عارضی دنیا سے حقیقی اور ابدی دنیا کی طرف روانگی کا کھلا ہوا دروازہ ہے ۔ انسان زندگی بھر محنت کر کے کوٹھی اور جائیداد بناتا ہے مگر کہانی طربیہ (Comedy) سے اچانک المیہ (Tragedy) میں بدل جاتی ہے اور وہ سب کچھ چھوڑ کر کیڑے مکوڑوں کی نذر ہو جاتا ہے ۔

- **پوتے کی وفات:** اپنے کمسن پوتے خالد کی وفات پر مولانا نے دل کی کیفیت بیان کی کہ اسلامی تعلیم کے مطابق معصوم بچے جو ابھی ذمہ داری کی عمر کو نہیں پہنچے، بلا حساب کتاب جنت میں داخل کیے جاتے ہیں ۔

مولانا وحیدالدین خان کی فکر میں آخرت کا مقام

مولانا وحیدالدین خان کی فکر کا امتیازی وصف یہ ہے کہ انہوں نے آخرت کو ایک فکری، وجودی اور بنیادی محرک بنا کر پیش کیا۔

1. **دعوت کا اصل موضوع:** مولانا نے الرسالہ کے صفحات پر بارہا اعلان کیا کہ: «لوگ مسائل زندگی کے لئے اٹھتے ہیں۔ ہم مسائل موت کے لئے اٹھے ہیں» ۔ الرسالہ کا مقصد انسانوں کو دنیاوی تنازعات اور وقتی ہنگاموں سے نکال کر موت کے بعد پیش آنے والی ابدی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے ۔ 15 مئی 1978ء کے اداریے میں انہوں نے واضح کیا کہ الرسالہ کے ہر صفحے کا اصل موضوع «آخرت کی چیتاونی» ہے ۔

2. **آخرت رخی زندگی (Akhirat-Oriented Life):** مولانا کے مطابق اگر انسان یہ جان لے کہ موت کے اس پار ایک مکمل اور ابدی دنیا ہے تو موجودہ زندگی بامعنی ہو جاتی ہے، اور انسان کی زندگی دنیا رخی کے بجائے «آخرت رخی زندگی» بن جاتی ہے ۔

3. **اخروی عدالت کا استحضار اور ضمیر کا محاسبہ:** آخرت اللہ کی مکمل گرفت کے ظہور کا نام ہے جہاں انسانی ارادہ ختم ہو جائے گا ۔ حقیقی مومن وہ ہے جو آخرت کی اس گرفت کو آج ہی اپنے ارادے سے اپنے اوپر طاری کر لے اور اس کا اسلام اس کو حشر کی آمد سے پہلے حشر کے میدان میں کھڑا کر دے ۔

4. **خوش فہمیوں اور «کتاب الامانی» کی تردید:** مولانا نے مسلمانوں میں رائج ان خود ساختہ عقائد پر سخت تنقید کی جن کے تحت لوگ زبانی دعوؤں، نعت خوانی، چلے، میلاد، کسی بزرگ کا دامن تھام لینے یا بے اصل روایات کے سہارے جنت کو یقینی اور خود کو جہنم سے محفوظ سمجھ لیتے ہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ جولین ہکسلے نے «Religion Without Revelation» (مذہب بغیر الہام) کی بات کی تھی مگر ہمارے یہاں «اسلام بغیر آخرت» کے نسخے رائج ہو گئے ہیں جن کے خزانے میں صرف جنت ہے اور جہنم کا کوئی خوف نہیں ۔ قرنِ اول کے بعد سیاسی مقاصد اور ترغیب کے لیے وضاعین نے فضائل اعمال کی من گھڑت حدیثیں گھڑیں جس نے قوم کو خوش فہمیوں میں مبتلا کر دیا ۔ نجات کا دارومدار قوم یا نسل پر نہیں بلکہ انفرادی عمل اور تقویٰ پر ہے ۔

5. **تواضع اور بے دعوائی:** مولانا کے نزدیک خدا کی عظمت کا ادراک انسان کو مکمل عاجزی میں مبتلا کر دیتا ہے؛ انہوں نے ان مصنفین پر تنقید کی جو اپنی کتب یا تفاسیر کو قیامت کے دن نجات کا تمغہ سمجھتے ہیں، اور لکھا کہ میرے ذہن میں کبھی یہ خیال نہیں آ سکتا کہ خدا کے سامنے کہوں کہ میں فلاں کتاب لکھ کر لایا ہوں، کیونکہ درخت کی ایک پتی کے مقابلے میں بھی انسانی عمل کی کوئی حیثیت نہیں ۔

عملی رہنمائی اور اخلاقی تقاضے

الرسالہ کے مطابق آخرت کا سچا یقین انسان کے اخلاق، رویے اور کردار میں ایک ہمہ گیر انقلاب پیدا کرتا ہے ۔

- **مزکیٰ شخصیت کی تیاری:** قرآن کی آیت «ذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى» (طٰہٰ: 76) کی روشنی میں جنت صرف اس شخص کو ملے گی جو موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کرے اور ایک «مزکیٰ شخصیت» (purified personality) بن کر خدا کے حضور پہنچے ۔ تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں بلکہ ایک گہرا ذہنی اور شعوری عمل ہے جس میں انسان غفلت ترک کرتا ہے، نفسانی خواہشات، ظلم، گھمنڈ اور تعصب کو کچلتا ہے اور خدا رخی زندگی اپناتا ہے ۔

- **مثبت شخصیت اور اعمال:** موجودہ دنیا ایک نرسری اور انتخابی میدان (selection ground) ہے جہاں انسان اپنی شخصیت تراش رہا ہے ۔ جو شخص مثبت شخصیت بنائے گا اس کے اعمال خوبصورت صورت میں اس کے سامنے آئیں گے اور وہ موت کے فوراً بعد جنت کے باغوں میں پہنچے گا، جبکہ منفی شخصیت بنانے والا جہنم کا ایندھن بنے گا ۔

- **امن پسندی بحیثیت خیرِ اعلیٰ:** اسلام میں امن «خیرِ اعلیٰ» (summum bonum) ہے؛ قرآن کے مطابق انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ امن پسند شخصیت تعمیر کرے ۔ امن پسندی پر آخرت میں ابدی انعام (دار السلام) اور فساد پر ابدی عذاب کی وعید انسان کے اندر پرامن رہنے کا سب سے طاقتور محرک پیدا کرتی ہے ۔

- **بندوں کے حقوق کے تئیں حساسیت:** آخرت کا خوف انسان کو بندوں کے معاملے میں انتہائی محتاط بنا دیتا ہے؛ کسی کے ساتھ ناانصافی یا بدخواہی کرتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ خود کو جہنم کے گڑھے میں گرا رہا ہے ۔ وہ منافقت، دوغلے پن اور مفاد پرستی سے مکمل پرہیز کرتا ہے ۔

- **اینٹی پروگرامنگ سوچ (Anti-Programming Thinking):** دنیا کے وقتی مفادات اور لائف سپورٹ سسٹم میں الجھنے کے بجائے انسان کو «اینٹی پروگرامنگ سوچ» اپنانی چاہیے، یعنی اپنے ماحول اور فوری خواہشات کے خلاف سوچ کر وقتی زندگی میں ابدی حیات کی تیاری کرنی چاہیے ۔

- **اعمال کا دارومدار خاتمے پر:** حدیث نبوی کے مطابق انسان کو اپنے موجودہ نیک اعمال پر تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ فیصلے کا انحصار آخری عمل پر ہے، اور نہ ہی کسی گناہ گار سے نفرت کرنی چاہیے کیونکہ معلوم نہیں کب اس کی اصلاح ہو جائے ۔

موضوع کا ارتقا: سال بہ سال جائزہ (۱۹۷۶ء سے ۲۰۲۴ء تک)

الرسالہ کے قریباً پانچ دہائیوں پر محیط سفر میں آخرت کا تصور مستقل طور پر بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم وقت کے ساتھ اس کے استدلال اور تفہیم میں نئے علمی اور دعوتی ابعاد کا اضافہ ہوتا رہا۔

ابتدائی دور (۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۹ء)

اس دور میں مولانا نے بنیادی عقائد کی سنگینی، انسانی آزادی کے امتحان، موت کی ناگزیریت اور روایتی بے بنیاد خوش فہمیوں کے رد پر زور دیا ۔

- 1977ء میں واضح کیا گیا کہ فرد کی آزادی موت پر اور انسانیت کی آزادی قیامت پر ختم ہو جائے گی اور تقسیم دائمی ہوگی ۔

- 1978ء اور 1979ء کے شماروں میں «اسلام بغیر آخرت»، فضائل اعمال کے نام پر روایات گھڑنے کے فتنہ، اور کلامی و فلسفیانہ موشگافیوں (جیسے اقبال کا نظریہ احوال) کا کھل کر جائزہ لیا گیا ۔ ساتھ ہی «آخرت رخی زندگی» (Akhirat Oriented Life) کی اصطلاح قائم کی گئی ۔

- 1980ء کی دہائی کے اوائل میں فرد کے ذاتی حساب، قبر کی حقیقت بحیثیت «اگلی دنیا کا دروازہ»، اور انبیاء کے مشن کے حوالے سے آخرت کی سنگینی کو واضح کیا گیا ۔ 1984ء میں «ہم مسائل موت کے لیے اٹھے ہیں» کے دعوتی نعرے کو سامنے لایا گیا ۔

- اسی دور میں مولانا کی وہ معرکہ آرا تحریریں اور کتابیں شائع ہوئیں جن میں «زلزلۂ قیامت» اور «آخری سفر» شامل ہیں جن کا تذکرہ رسالے کے صفحات پر ملتا ہے ۔

فکری و سائنسی تعبیرات کا دور (۱۹۹۰ء تا ۲۰۰۹ء)

اس دور میں مولانا نے آخرت کے تصور کو جدید فکری و سائنسی اصطلاحات اور گہرے عقلی دلائل کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا۔

- 1991ء سے 1997ء کے دوران شکر اور ناشکری کو انجام کی بنیاد قرار دیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ سائنسی و کائناتی نظم کی موجودگی بذاتِ خود دوسری کامل دنیا کے امکان کا بین ثبوت ہے ۔

- 2001ء میں موت کے فوراً بعد پیش آنے والے احوال کے اشکال کو رفع کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ موت کے ساتھ ہی دنیاوی زمان و مکان (space and time) کا تصور ختم ہو جاتا ہے، اس لیے قبر اور انجام میں زمانی فاصلے کی بحثیں بے معنی ہیں ۔ شفاعت کو «شہادت» کے معنوں میں متعین کیا گیا ۔

- 2005ء سے 2008ء کے شماروں میں مولانا کی فکر نئے اسلوب میں ڈھل کر سامنے آئی: انسانی زندگی کو «قبل از موت دور» (pre-death period) اور «بعد از موت دور» (post-death period) میں تقسیم کر کے سمجھایا گیا ۔ زمین کو ایک «ٹسٹ گراؤنڈ» اور «عارضی نرسری» قرار دیا گیا جہاں سے اہل جنت کی سلیکشن (selection) کی جا رہی ہے ۔ اسی عرصے میں «اینٹی پروگرامنگ سوچ» (anti-programming thinking) اور «مزکیٰ شخصیت» کی اصطلاحات کا گہرا استعمال نظر آتا ہے ۔

آخری سال اور مابعد ادوار (۲۰۱۰ء تا ۲۰۲۴ء)

زندگی کے آخری برسوں اور ان کے بعد کے شماروں میں مولانا کی توجہ علاماتِ قیامت، تاریخ کے اختتام، اور بندے اور خدا کے براہ راست تعلق پر مرکوز رہی۔

- 2011ء میں واضح کیا گیا کہ انسانی تاریخ اپنے امتحانی مرحلے کی آخری شام تک پہنچ چکی ہے اور کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے ۔ ساتھ ہی بڑھاپے کو موت کی جبری یاد دہانی اور نوٹس قرار دیا گیا ۔

- 2012ء سے 2016ء کے مضامین میں یہ نکتہ نکھر کر سامنے آیا کہ انسان اور جنت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں («جنت مطلوب انسان ہے اور انسان مطلوب جنت») ۔ دنیا میں انسان کو عطا کردہ چیزیں دراصل «ٹسٹ سپورٹ سسٹم» ہیں نہ کہ محض لائف سپورٹ سسٹم ۔ فطرت (نیچر) کو آخرت کی جنت کی زمینی جھلک اور نمائندہ قرار دیا گیا ۔ امن کو اسلام کا «خیرِ اعلیٰ» بتاتے ہوئے اسے اخروی نجات سے مربوط کیا گیا ۔

- فروری 2021ء میں مولانا وحیدالدین خان کی وفات کے بعد شائع ہونے والے شماروں میں ان کی دعوتی خدمات، ان کے قائم کردہ مشن اور کتب کے حوالے سے آخرت کے اساسی پیغام کو جاری رکھا گیا ۔ 2023ء اور 2024ء کے شماروں میں بھی موطا امام مالک، سنن ترمذی، مسند احمد اور صحیحین کی روایات کے تحت یہی حقیقت دہرائی گئی کہ انسان کو ایک جوڑ دنیا (pair world) کے تحت ابدی مخلوق بنایا گیا ہے، قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے اور انسان کے ابدی انجام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس نے اس امتحان گاہ میں اپنے خالق کے تخلیقی منصوبے کو کس حد تک سمجھا اور اپنایا ہے ۔

حوالہ جات

scan

Open the whole page ›