صبر: ماہنامہ الرسالہ کے افکار کی روشنی میں
صبر اسلامی تعلیمات کا ایک مرکزی اور بنیادی ستون ہے، جس کی وسعت اور اہمیت کو مولانا وحید الدین خاں نے ۱۹۷۶ء سے جاری ہونے والے ماہنامہ «الرسالہ» میں نہایت گہرائی اور تسلسل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ الرسالہ کے مطابق، «صبر دین کا خلاصہ ہے» اور «ہر قسم کی نیکیوں کی بنیاد ہے» ۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لیے نہیں بلکہ دار الامتحان اور آزمائش کے طور پر بنایا ہے ۔ اس امتحانی دنیا میں انسان کو قول و عمل کی مکمل آزادی حاصل ہے، جس کے سبب ناخوش گوار حالات، چیلنجز اور ناپسندیدہ رویے ناگزیر طور پر سامنے آتے ہیں ۔ ایسی فضا میں بے صبری یا منفی ردِ عمل کے بجائے اپنے ارادے سے مثبت طرزِ فکر اختیار کرنا، اشتعال کے وقت نفس کو قابو میں رکھنا اور ہر حال میں اخلاقی ڈسپلن پر قائم رہنا ہی صبر کی اصل روح ہے ۔ صبر کوئی بے عملی، پسپائی یا کمزوری نہیں، بلکہ یہ ایک اعلیٰ درجے کی مثبت حکمت عملی اور «پیس فل پلاننگ» (پرامن منصوبہ بندی) کا نام ہے ۔ الرسالہ کی تحریروں میں صبر کو شکر، توکل، ضبطِ نفس، روزہ اور دعوت الی اللہ کے ساتھ مربوط کر کے دنیا میں اخلاقی کامیابی اور آخرت میں ابدی جنت کے لازمی وسیلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔
صبر کا مفہوم اور ماہیت
الرسالہ کے مضامین میں صبر کی لغوی اور اصطلاحی ماہیت کو واضح کرنے کے لیے لغت اور علمائے لغت کے بیانات سے استدلال کیا گیا ہے۔ ابن منظور کے مطابق: «أَصْلُ الصَّبْرِ الْحَبْسُ، وَالصَّبْرُ نَقِيضُ الْجَزَعِ» یعنی صبر کی اصل رکنا ہے اور صبر بے چین اور بے برداشت ہونے کی ضد ہے ۔ اسی طرح راغب الاصفہانی کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ: «الصبر الإمساك والصبر حبس النفس على ما يقتضيه العقل والشرع»، یعنی صبر کی حقیقت امساک (پوری قوت سے کنٹرول کرنا) ہے، اور یہ کہ آدمی عقل اور شریعت کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے رکھے ۔
مولانا وحید الدین خاں کے نزدیک صبر کوئی «سلبی صفت» نہیں بلکہ ایک «اعلیٰ درجے کی مثبت (positive) صفت» ہے ۔ صبر کی حقیقت منفی ردِ عمل (negative response / reaction) سے اپنے آپ کو بچانا اور یک طرفہ طور پر مثبت ردِ عمل (positive response) پر قائم رہنا ہے ۔ جب انسان کے نفس کو چوٹ لگے یا کوئی ناپسندیدہ بات پیش آنے سے اشتعال پیدا ہو، تو اس وقت منفی رویے سے بچ کر اپنے آپ کو مثبت مقاصد کے لیے وقف رکھنا صبر کہلاتا ہے ۔ صبر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آدمی «حالات کا شکار (victim) نہ بنے»، بلکہ حالات سے غیر متاثر رہ کر سوچے اور ردِ عمل کے بجائے مثبت انداز سے منصوبہ بندی کرے ۔
صبر کا تعلق عزم کے ساتھ ہے؛ «با عزم انسان وہ ہے جو صابر انسان ہو»، اور با مقصد انسان کے لیے صبر ایک لازمی اصول ہے کیونکہ «صبر نہیں تو با مقصد زندگی بھی نہیں» ۔ صبر درحقیقت حقیقتِ واقعہ کو تسلیم کرنے کا نام ہے ۔ اگر کوئی چیز کھو جائے تو صابر آدمی نہ ملنے والی چیز پر محرومی کو بطور واقعہ قبول کرتا ہے اور ملنے والی چیز کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھتا ہے ۔ وہ نقصان پر افسوس کر کے اپنا وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ اسے بھلا کر آگے بڑھتا ہے اور نقصان کو اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے ۔ مزید یہ کہ «صبر کوئی انسانی قانون نہیں، وہ خود فطرت کا ایک قانون ہے» ۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر کا مقام
الرسالہ میں قرآن مجید اور احادیثِ نبوی کے کثیر حوالوں سے صبر کی اہمیت، اس کے درجات اور اس کے اجر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
* **قرآن صبر کی کتاب:** الرسالہ کے مطابق قرآن مجید کی تقریباً دو سو آیات براہِ راست صبر سے متعلق ہیں اور بقیہ آیات بالواسطہ طور پر صبر سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ «قرآن صبر کی کتاب ہے» ۔ براہِ راست آیات میں مثلاً: «وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ» (البقرہ: ۴۵)، «وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ» (لقمان: ۱۷)، «وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» (العصر: ۳)، اور «وَدَعْ أَذَاهُمْ» (الاحزاب: ۴۸) شامل ہیں ۔
* **بے حساب اجر:** قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کے اجر کو لامحدود قرار دیا گیا ہے: «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» (الزمر: ۱۰) ۔ یہ ایسی آیت ہے جو کسی دوسرے عمل کے بارے میں نہیں آئی ۔ اس بے حساب اجر کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہے؛ دنیا میں صبر کے اصول پر چلنے والے غیر معمولی کامیابی پاتے ہیں اور آخرت میں غیر معمولی انعامات کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔
* **احادیثِ نبوی:** حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ» (صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا کوئی عطیہ انسان کو نہیں دیا گیا) ۔ ابن حجر العسقلانی نے اس کی تشریح میں لکھا کہ «الصبر جامع لمكارم الاخلاق» یعنی صبر تمام اعلیٰ اخلاقیات کا جامع ہے ۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول بھی نقل ہوا ہے: «وجدنا خير عيشنا بالصبر» (ہم نے اپنی زندگی کا خیر صبر ہی کے ذریعہ حاصل کیا ہے) ۔ ابن جوزی کے حوالے سے درج ہے: «عاقبة الصبر الجميل جميلة» یعنی صبر جمیل کا انجام بھی جمیل ہوتا ہے ۔
* **بچاؤ کی ڈھال:** حدیث نبوی ہے کہ «الصبر معول المومن» یعنی صبر مومن کے لیے بچاؤ کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے صبر و اعراض کی صورت میں اہل ایمان کو ایک ایسی ڈھال عطا کی ہے جو یقینی بچاؤ فراہم کرتی ہے ۔
* **سخت ترین آزمائش کا اصول:** الرسالہ میں تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے یہ حدیث درج ہے: «أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ...» یعنی سب سے زیادہ سخت آزمائش پیغمبروں کی ہے، پھر صالحین کی، پھر درجہ بدرجہ ان سے مشابہت رکھنے والوں کی؛ آدمی کا امتحان اس کے دین کے مطابق ہوتا ہے اور اگر دین میں مضبوطی ہو تو آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔
* **بینائی اور محرومی پر صبر:** صحیح بخاری (حدیث: ۵۶۵۳) کے حوالے سے آیا ہے کہ اللہ فرماتا ہے: «إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ» (جب میں اپنے بندے کو آزمائش میں ڈال کر اس کی دونوں آنکھیں لے لیتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں) ۔ یہاں صبر کا مطلب محرومی کے تجربے کو مثبت معنی میں لینا ہے جس سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں ۔
* **چار عظیم نعمتیں:** بیہقی (بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح) کی روایت میں حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں جس کو ملیں اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی: «قَلْبٌ شَاكِرٌ، وَلِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَبَدَنٌ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرٌ، وَزَوْجَةٌ لَا تَبْغِيهِ خَوْفًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ» (شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن، اور ایسی بیوی جس کے نفس اور شوہر کے مال میں کوئی اندیشہ نہ ہو) ۔
* **اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہے:** قرطبی کے حوالے سے درج ہے کہ جان لو جو چیز ناپسند ہو اس پر صبر کرنے میں بہت زیادہ بھلائی ہے، اور اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے اور آسانی مشکل کے ساتھ ہے ۔
صبر کی تفہیم اور فلسفہ
الرسالہ میں صبر کو محض ایک انفرادی طرزِ عمل نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے کائنات اور انسانی تخلیق کے فلسفے کے ساتھ مربوط دیکھا گیا ہے۔
دار الامتحان اور تخلیقی نقشہ
موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے «تخلیقی نقشہ» (creation plan) اور آزمائش کے طور پر بنایا ہے ۔ انسان کو امتحان گاہ میں رکھا گیا ہے اور یہاں کی تمام چیزیں اس کے لیے سامانِ امتحان ہیں نہ کہ سامانِ ملکیت ۔ آزمائش کے بغیر جنت کا فیصلہ ممکن نہیں؛ جس طرح ایک طالب علم امتحان کی سختیوں سے بچ کر بھاگ جائے تو وہ فیل ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن کے لیے بھی آزمائش کا سامنا کرنا لازمی ہے ۔ قرآن میں فرمایا گیا: «وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ» (البقرہ: ۱۵۵)؛ اس آیت میں «بِشَيْءٍ» (کچھ) کا لفظ بتاتا ہے کہ انسان پر آنے والی مصیبت اس کی ہلاکت کے لیے نہیں بلکہ اصلاح و تربیت کے لیے ہوتی ہے ۔ زندگی کے مسائل درحقیقت «زحمت میں رحمت» (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتے ہیں جو انسان کو ذہنی تناؤ سے بچاتے ہیں ۔ آزمائش سے انسان میں ہلچل پیدا ہوتی ہے اور اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔
صبر، شکر اور توکل کا باہمی ربط
الرسالہ میں صبر اور شکر کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی آیت: «إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ» (لقمان: ۳۱) سے واضح ہوتا ہے کہ اعلیٰ شکر کی توفیق صرف انہی کو ملتی ہے جو کثرت سے صبر کرنے والے ہوں ۔ چونکہ انسانوں کی آزادی کے سبب دنیا میں برائیاں اور ناپسندیدہ حالات پیش آتے ہیں، اس لیے مثبت ذہن کو باقی رکھنے کے لیے صبر درکار ہوتا ہے، اور حقیقت میں «صبر دراصل شکر کی قیمت ہے» ۔ جب آدمی کھوئے ہوئے پر صبر کرتا ہے تبھی وہ ملے ہوئے پر شکر ادا کر سکتا ہے ۔ درحقیقت «صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے» اور یہ ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ہی صادر ہوتا ہے ۔
حدیث کے مطابق دو صفات جس میں ہوں اللہ اسے شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے: جو اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے اور اس کی پیروی کرے، اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھے اور اللہ کا شکر ادا کرے ۔ اگر وہ دنیا کے معاملے میں اوپر والے کو دیکھ کر افسوس کرے گا تو وہ نہ شاکر لکھا جائے گا اور نہ صابر ۔
اسی طرح صبر کا گہرا تعلق توکل سے ہے۔ انسان صبر پر تبھی قائم رہ سکتا ہے جب اس میں توکل علی اللہ ہو ۔ جو شخص حالات سے گھبرا کر لڑنے لگے وہ صرف اپنی ذات کو دیکھتا ہے، لیکن صابر انسان خدا کی برتر طاقت پر بھروسا کر کے اپنے مخالف کے مقابلے میں بڑی طاقت کو کھڑا کرتا ہے ۔ توکل یہ ہے کہ آدمی کوشش کو اپنی ذمہ داری سمجھے اور نتیجے کو اللہ کا حق جانے؛ اپنے اونٹ کو باندھنا آدمی کا کام ہے اور اس کے ٹھہرنے کے معاملے میں خدا کی کارسازی پر اعتماد کرنا توکل ہے («السَّعْيُ مِنِّي وَالْإِتْمَامُ مِنَ اللَّهِ») ۔ معاملات اپنے خلاف جانے پر سارا معاملہ اللہ کے حوالے کر کے صبر کرنا ہی حقیقی توکل ہے ۔
صبر، نان وائلنس اور حکمت عملی
الرسالہ میں صبر کو عدم تشدد (نان وائلنس) کا ہم معنی قرار دیا گیا ہے: «نان وائلنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں صبر کہا گیا ہے» ۔ صبر کا مطلب ہرگز پسپائی یا کمزوری نہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی (strategy) ہے ۔ یہ وقتی حالات کو نظر انداز کر کے مستقبل کا نقشہ بنانے اور زیادہ مؤثر قدم تلاش کرنے کا نام ہے ۔ جب ایک طریقہ کارگر نہ رہے تو صبر کی مدد سے دوسرا مؤثر طریقہ دریافت کیا جاتا ہے ۔ صبر اپنے وسیع مفہوم میں «پیس فل پلاننگ» (پرامن منصوبہ بندی) ہے تاکہ ٹکراؤ سے بچا جا سکے اور خاموش تدبیر سے مسائل کا حل نکالا جائے ۔
جنت کا محرک اور تزکیہ نفس
جنت کی طلب ہی صبر کا سب سے بڑا محرک ہے۔ الرسالہ کے مطابق انسان وقتی حقوق یا مادی چیزوں کو صرف اسی وقت چھوڑتا ہے جب اسے کوئی بڑی چیز مل رہی ہو؛ اسلام اس ضبط و تحمل کے بدلے انسان کو «ایٹرنل پیراڈائز» (ابدی جنت) کی بشارت اور طاقتور محرک فراہم کرتا ہے ۔ «جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے» اور وہاں وہی پہنچے گا جو صبر کی تلخیاں سہنے اور نفس کی ہر چوٹ کو چھپانے کے لیے تیار ہو ۔ صبر سے نفس پاک ہوتا ہے اور یہی تزکیہ نفس پرفیکٹ دنیا (جنت) میں بسنے کے لیے پرفیکٹ انسان تیار کرتا ہے ۔
تاریخ اور زندگی سے صابرانہ مثالیں
الرسالہ میں انبیاء، صحابہ کرام اور تاریخی و سماجی واقعات سے صبر کی متعدد عملی مثالیں دی گئی ہیں۔
* **پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام کی جدوجہد:** تاریخ کے سب سے مشکل ترین مشن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خاندان نے مکمل تعاون کیا اور آپ کے اصحاب اس صبر آزما جدوجہد میں «صادق القول اور صابر العمل» ثابت ہوئے ۔ احد کے کڑے وقت میں صحابہ نے بے مثال صبر و استقامت دکھائی؛ حضرت انس بن نضرؓ نے فرمایا: «یَا قَوْمِ إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ، فَإِنَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ لَمْ يُقْتَلْ» (اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوا)، اور حضرت ثابت بن الدحداحہؓ نے اعلان کیا کہ اللہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتا، لہٰذا اپنے دین کے لیے لڑو ۔
* **حضرت اسماعیلؑ کی آزمائش:** حضرت ابراہیمؑ نے جب اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا تو حضرت اسماعیلؑ کا تاریخی جملہ تھا: «سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ» (الصافات: ۱۰۲) ۔ اس واقعے سے مقصود ذبح کرنا نہ تھا بلکہ صبر کا امتحان لینا تھا، کیونکہ خدائی منصوبے کے مطابق انہیں عرب کے بے آب و گیاہ صحرا میں آباد ہونا تھا جس کے لیے صبر کی غیر معمولی صفت درکار تھی ۔
* **صلح حدیبیہ:** رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۵ ہجری (۶ ہجری کے واقعے کے تناظر میں) چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ کا قصد کیا اور حدیبیہ کے مقام پر طاقت کے باوجود عفو و درگزر اور صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا ۔ بظاہر دب کر معاملہ کرنا اور اپنی بات پر اصرار نہ کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک حکیمانہ تدبیر تھی جس سے انتہائی شاندار نتائج برآمد ہوئے ۔
* **ہجرت:** صحابہ کرام نے ہجرت کا عمل کیا جسے قرآن نے صبر قرار دیا اور ان کے توکل کی تعریف فرمائی ۔
* **اقوالِ صحابہ:** حضرت عمیر بن حبیب بن خماشہؓ نے فرمایا کہ جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہیں کرے گا اسے اس کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے تلقین کی کہ «جہالت کرنے والے کی جہالت کا دفاع تم تحمل کے ذریعہ کرو» ۔
* **شاہ رؤف احمد کی روایت:** کتاب «ارکانِ اسلام» کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک بزرگ نے چار ہزار اونٹ کے بوجھ کے برابر کتابیں پڑھ کر چار بنیادی باتیں حاصل کیں، جن میں سے ایک یہ تھی: «اے نفس بر قسمت خویش راضی باش و الا خدائے دیگر طلب کن تا ترا بیشتر دهد» (اے نفس! اپنی قسمت پر راضی رہ ورنہ کوئی دوسرا خدا تلاش کر جو تجھے زیادہ دے) ۔
* **معاصر ہندوستانی تناظر:** الرسالہ نے معاصر تاریخ خصوصاً فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں صبر کے عملی کردار کو اجاگر کیا۔ ہندو اخبار کے حوالے سے صبر کو «برداشت» (restraint) قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ اشتعال انگیزی کے وقت مسلمانوں کا یک طرفہ طور پر کچھ نہ کرنا انہیں فساد سے محفوظ رکھتا ہے ۔ سہارن پور (یوپی) میں مسلمانوں نے پتھروں کا جواب صبر و ضبط سے دے کر فسادیوں کی سازش خاک میں ملا دی ۔ ہفتہ وار «بلٹز» (۱۲ دسمبر ۱۹۹۲ء) کے ایڈیٹر ہارون رشید نے تسلیم کیا کہ فسادات کی لہر میں مسلمانوں کے صبر و تحمل نے ملک کو بڑی تباہی سے بچایا اور لیڈر مولانا وحید الدین خاں کی بولی بولتے ہوئے صبر کی تلقین پر مجبور ہوئے ۔
عملی زندگی اور انفرادی و اجتماعی دائرے میں صبر
الرسالہ میں صبر کے عملی نفاذ کے لیے ٹھوس رہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔
* **روزہ بطور سالانہ تربیتی مشق:** حدیث میں رمضان کو «شہر الصبر» (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے ۔ روزہ کا لغوی معنی رکنا ہے ۔ قدیم زمانے میں سفر و جنگ کے لیے گھوڑے کو بھوکا پیاسا رکھ کر مشقت کی تربیت دی جاتی تھی؛ اسی طرح روزہ انسان کو ایک ماہ تک ضبطِ نفس، اخلاقی ڈسپلن اور یک طرفہ برداشت کی مشق کراتا ہے تاکہ وہ سال کے باقی گیارہ مہینے صبر سے گزار سکے ۔ عام لوگ مجبوراً یا مفاد کے لیے صبر کرتے ہیں، لیکن روزہ دار اپنے ارادے سے خدا کی مرضی اور اصول کی خاطر صبر اختیار کرتا ہے ۔ اگر کوئی روزہ دار کو گالی دے یا جھگڑے تو وہ کہے کہ «میں ایک روزہ دار آدمی ہوں»، جو کہ اشتعال کے مقابلے میں عدم اشتعال کا ثبوت ہے ۔
* **دعوت الی اللہ میں یک طرفہ صبر:** داعی کا کام مکمل طور پر یک طرفہ صبر و برداشت کا طالب ہے ۔ جب سچی دعوت اٹھتی ہے تو مفادات پر قائم لوگ بھڑک اٹھتے ہیں ۔ ایسے میں داعی کا فرض ہے کہ وہ مدعو کی بے رخی، کڑوی باتوں، گالیوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود صبر اور اعراض کی روش پر قائم رہے اور ان کے لیے دعائیں کرے ۔ دعوت میں استقامت سے مراد لڑائی کا مقابلہ نہیں بلکہ صبر و برداشت کی استقامت ہے ۔ قرآنی حکم «وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ» (النحل: ۱۲۷) بتاتا ہے کہ داعی کا صبر بظاہر انسان کے سامنے ہے مگر حقیقت میں صرف اللہ کے لیے ہے ۔
* **قیادت اور امامتِ عالم کی شرط:** الرسالہ واضح کرتا ہے کہ «جو گروہ صبر کا ثبوت دیتا ہے وہی اللہ کے نزدیک اس کا مستحق قرار پاتا ہے کہ اس کو قوموں کے اوپر امام بنایا جائے» کیونکہ بے صبروں کو کبھی امامت نہیں ملتی ۔ کامیاب لیڈر شپ کا راز صبر میں ہے؛ صابر انسان اخلاقی اور فکری طور پر دوسروں سے بلند ہو جاتا ہے اور فطری طور پر لوگ اسی کی قیادت تسلیم کرتے ہیں جو کردار میں بلند ہو ۔ زندہ قوم کی صفت تحمل اور برداشت ہے جبکہ مردہ قوم عدم تحمل کا شکار ہوتی ہے ۔ زوال کے دور میں قومی پروگرام پیچھے ہٹنا، صبر کرنا اور تیاری کرنا ہوتا ہے ۔
* **معاشرت، نزاعات اور گھریلو احوال:** انسانوں کے درمیان نزاع کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے؛ کوئی بھی سماج نزاع سے خالی نہیں ہو سکتا ۔ دانشمندی یہ ہے کہ انسان چھوٹے شر کو برداشت کر لے تاکہ بڑے شر سے محفوظ رہے ۔ اگر کوئی رشتہ دار یا عزیز فوت ہو جائے تو اسے حادثہ سمجھ کر غم کرنے کے بجائے خدا کا امتحانی فیصلہ سمجھ کر صبر کرنا چاہیے؛ یہ صبر دراصل «خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہونا ہے» ۔
* **روزمرہ زندگی کے تضادات پر صبر:** الرسالہ کے مطابق صبر زندگی کے ہر موڑ پر درکار ہے: نقصان پر مایوسی سے بچنا، فائدے پر برتری کا احساس کچلنا، بیماری میں آہ و فغاں نہ کرنا، صحت میں فخر و ناز سے بچنا، اشتعال پر مشتعل نہ ہونا اور تعریف کے وقت تواضع اختیار کرنا صبر ہے ۔ غصہ شخصیت کو برہم کرتا ہے جب کہ غصے کا ضبط شخصیت کو سکون اور آگے کا سفر عطا کرتا ہے ۔ صبر کے مواقع جنگ سے زیادہ امن کے میدان میں آتے ہیں، مثلاً اپنی ضرورتوں کی کمی برداشت کرنا، دوسروں کو ترجیح دیے جانے پر راضی رہنا اور زیادہ کام کے بدلے کم معاوضہ ملنے یا اپنی قربانیوں کا چرچا نہ ہونے پر بھی خوش دلی سے راضی رہنا صبر ہے ۔
الرسالہ کے ادوار میں صبر کے موضوع کا ارتقا
ماہنامہ الرسالہ میں صبر کے تصور کا بیان مختلف دہائیوں میں مخصوص فکری اور تاریخی تناظر کے ساتھ نکھر کر سامنے آیا۔
* **ابتدائی دور (۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۰ء کی دہائی کا اوائل):**
شروع کے برسوں میں صبر کو زیادہ تر نبوی مشن کی سختیوں، صحابہ کی قربانیوں، جہاد بالنفس، استقامت اور روزے کی تربیت کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ ستمبر ۱۹۷۷ء میں اہل بیت اور صحابہ کے «صبر آزما جدوجہد» کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔ مارچ اور جولائی ۱۹۷۹ء میں یہ فکر سامنے آئی کہ بغیر صبر کے کوئی شخص اسلام کے راستے کا مسافر نہیں بن سکتا اور جہاد کا ابتدائی مفہوم دین پر قائم رہنے کی مشکلات جھیلنا ہے ۔ نومبر ۱۹۷۹ء اور مارچ ۱۹۸۰ء میں دنیا کے امتحانی ہونے اور توکل کے امتحانی پہلوؤں کو صبر کے ساتھ جوڑا گیا ۔ اکتوبر اور دسمبر ۱۹۸۰ء میں حکمت، تدبیر اور جنت کے سفر کو تمام تر صبر کا سفر قرار دیا گیا ۔
* **۱۹۸۰ء کی دہائی کا وسط اور اواخر:**
اس دور میں صبر کے تصور کو انسانی پختگی (maturity)، تعلیمی امتحان کی تمثیلات اور آزمائش کے درجات سے واضح کیا گیا۔ جنوری اور جون ۱۹۸۳ء میں انبیاء کی آزمائش اور رمضان کو «شہر الصبر» کے طور پر واضح کیا گیا ۔ اکتوبر ۱۹۸۶ء اور نومبر ۱۹۸۸ء میں ایک طالب علم کی مثال سے امتحان کی نزاکت، اور پختگی کو دیر طلب فائدے کے لیے وقتی خوشی ترک کرنے اور ناخوش گواری کو بنا تلخی سہنے سے تعبیر کیا گیا ۔ اپریل ۱۹۸۸ء اور ستمبر ۱۹۸۹ء میں امت مسلمہ کے زوال کا سبب صبر کی متاع کھونا اور دعوتی میدان میں یک طرفہ صبر کا قائم رکھنا بتایا گیا ۔
* **۱۹۹۰ء کی دہائی (سماجی تناظر اور گہری قرآنی تعبیر):**
۱۹۹۰ء کی دہائی میں بابری مسجد اور فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں صبر کو ایک طاقتور سماجی ڈھال اور غیر متشدد حکمتِ عملی (نان وائلنس) کے طور پر پیش کیا گیا ۔ جون ۱۹۹۱ء میں نقصان کو ایک چیلنج سمجھنے کا نقطہ نظر دیا گیا ۔ ستمبر اور اکتوبر ۱۹۹۵ء میں یہ انقلابی فکر صراحت سے سامنے آئی کہ «قرآن صبر کی کتاب ہے» اور صبر کا توکل کے ساتھ اٹوٹ تعلق ہے ۔ جون ۱۹۹۶ء اور اگست ۱۹۹۸ء میں صبر کو «دین کا خلاصہ»، تمام نیکیوں کی جڑ اور مثبت ردِ عمل کا دوسرا نام قرار دیا گیا ۔
* **۲۰۰۰ء کی دہائی (فکری، سائنسی اور نفسیاتی تطبیق):**
اس دہائی میں جدید اصطلاحات جیسے «کری ایشن پلان» (تخلیقی منصوبہ)، «پیس آف مائنڈ»، اور «پازیٹو رسپانس» کے ذریعے صبر کی تشریح کی گئی۔ مارچ اور نومبر ۲۰۰۰ء میں صبر کو «ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کا امتحان» کہا گیا ۔ ستمبر ۲۰۰۲ء میں واضح کیا گیا کہ شکر، نماز، انفاق اور اخلاق سب صبر کے محتاج ہیں ۔ مارچ ۲۰۰۴ء اور اگست ۲۰۰۸ء میں ثابت کیا گیا کہ مصائب زحمت میں رحمت ہیں اور شکر کے جذبے کو جگانے کے لیے صبر بحیثیت قیمت ادا کرنا پڑتا ہے ۔
* **۲۰۱۰ء سے ۲۰۲۶ء تک کی تحریریں (اسٹریٹیجی اور گہری بصیرت):**
آخری برسوں کے شماروں میں صبر کی تعریف کو اسٹریٹیجک فکر، مثبت سوچ (positive thinking) اور فکری آزادی کے امتحانی پہلوؤں تک وسعت دی گئی۔ ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۵ء میں موت اور نابینائی کو امتحان و تجربے کی نظر سے دیکھنے اور صبر کو اللہ کے تخلیقی نظام پر راضی رہنے سے تعبیر کیا گیا ۔ مارچ ۲۰۱۷ء اور جولائی ۲۰۲۵ء کے مضامین میں یہ نکتہ انتہائی نکھر کر سامنے آیا کہ صبر محض برداشت نہیں بلکہ «اسٹریٹیجی» اور «پیس فل پلاننگ» ہے تاکہ ٹکراؤ سے بچ کر زیادہ مؤثر اقدام کیا جا سکے ۔ مئی ۲۰۲۶ء کے شمارے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صبر کا اصل میدان جدید دور میں جنگ نہیں بلکہ امن کا میدان اور داخلی خواہشات پر قدغن لگانا ہے ۔