امن (ماہنامہ الرسالہ کی روشنی میں)
ماہنامہ «الرسالہ» (نئی دہلی) کے صفحات پر امن کا موضوع ایک مرکزی، ہمہ گیر اور مستقل اصول کی حیثیت سے مسلسل زیرِ بحث آیا ہے ۔ الرسالہ کی فکری ترجیحات کے مطابق امن محض جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ سماجی، دعوتی، روحانی اور اخلاقی زندگی کی وہ ناگزیر بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی بھی مثبت، تخلیقی اور تعمیری عمل انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ اسلام کی بنیادی سرشت کو صلح، سلامتی، رحمت اور عدمِ تشدد سے تعبیر کرتے ہوئے الرسالہ نے واضح کیا کہ نزاعات کے حل کے لیے ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت، صبر اور حقیقت پسندی ہی دین اور فطرت کا مطلوب راستہ ہیں ۔ الرسالہ کی تحریروں میں قرآنی آیات، نبوی ہدایات، بالخصوص صلحِ حدیبیہ کے ماڈل، تاریخی تجربات اور معاصر سماجی مسائل کے تناظر میں امن کو «خیرِ اعلیٰ» کے درجے پر فائز کیا گیا ہے ۔
مفہوم اور تعریف: فطرت کا پُرامن نظام اور خیرِ اعلیٰ
الرسالہ کے نزدیک لفظ اسلام کے لغوی مادے ہی میں سلامتی کا مفہوم پوشیدہ ہے اور پیغمبرِ اسلام جو دین لائے اس کے ذریعے انسانوں کو «سلامتی کے گھر» یعنی دارالسلام کی طرف بلایا گیا ہے ۔ حدیث کی رو سے «اِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ» یعنی اللہ خود سلامتی ہے اور قرآن مجید میں الٰہی ہدایت کو «سبل السلام» (امن کے راستے) قرار دیا گیا ہے ۔ الخطابی کے حوالے سے السلام کا معنی بیان کیا گیا ہے کہ: «معناه الذی سلم الخلق من ظلمه» یعنی وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں اور جس سے لوگوں کو سلامتی کا تجربہ ہو نہ کہ تشدد کا ۔ الرسالہ کے مطابق حدیث میں مذکور لفظ «السلام» کا مفہوم امن، سلامتی، چین و سکون، امان و حفاظت اور صلح جوئی ہے اور اہل ایمان کا فریضہ ہے کہ وہ امن کو خوب پھیلائیں ۔
اس فکر کے مطابق امن کی حیثیت سماج کے لیے «خیرِ مطلق» اور «خیرِ اعلیٰ» (summum bonum) کی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ۔
«امن ہے، تو سب کچھ ہے، اور امن نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہر سماجی ترقی امن کے ماحول میں ممکن ہے۔ امن کے ماحول کا مطلب ہے فطری ماحول۔ خالق کا بنایا ہوا فطری ماحول ہمیشہ پر امن ماحول ہوتا ہے۔ پر امن ماحول میں مثبت مزاج پھیلتا ہے» ۔
امن کے بغیر تعمیر و ترقی کا کوئی کام نہیں ہو سکتا، جیسا کہ فرمایا گیا کہ امن انسانی سماج کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ پانی زمین کو زرخیز بنانے کے لیے درکار ہوتا ہے ۔ مزید برآں، «صلح» اور «رفق» کا مجموعہ ہی امن کہلاتا ہے اور نرمی اور عدمِ تشدد سے کام بنتا ہے جبکہ سختی اور تشدد سے کام بگڑ جاتا ہے ۔ تشدد تخریب کا ذریعہ ہے جبکہ امن تعمیر کا ذریعہ ہے اور پائیدار عمل کی صفت صرف غیر متشددانہ طریقِ کار میں پائی جاتی ہے ۔
انسان کی داخلی کیفیت کے اعتبار سے اطمینانِ قلب کو «ذہنی سکون» (peace of mind) کہا گیا ہے ۔ دنیا کے مادی اسباب انسان کو بیرونی سامانِ سکون تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دل کا چین نہیں دے سکے ۔ انسان جب خدا کے تخلیقی نقشے (creation plan) پر راضی ہو جائے تو اسے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے، جبکہ اس نقشے سے اعراض ہی بے سکونی کی جڑ ہے ۔ اسی طرح شبِ قدر کو بھی «شبِ امن» قرار دیا گیا ہے جس کی برکت سے انسان کی سوچ، گفتگو، طریقہ اور پورا کردار پُرامن بن جاتا ہے ۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں پُرامن فکر کی بنیادیں
الرسالہ میں امن، صلح اور صبر کے موضوعات پر قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ سے مسلسل استدلال کیا گیا ہے۔
قرآنی آیات اور اصولِ صلح
قرآن مجید میں قانونِ نزاع کا بنیادی حل ان الفاظ میں دیا گیا ہے: «وَالصُّلْحُ خَيْرٌ» (النساء: 128)، یعنی صلح بہر حال بہتر ہے ۔ الرسالہ اس پر زور دیتا ہے کہ۔
«قرآن میں الصلح خیر کی آیت نازل ہوئی ہے مگر قرآن میں الحرب خیر کے مضمون کی کوئی آیت موجود نہیں۔ قرآن میں ہے کہ انما یوفی الصابرون اجرہم بغیر حساب (صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے) مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ انما یوفی المقاتلون اجرہم بغیر حساب (جنگ کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے)» ۔
اس آیت کا مفہوم یہ واضح کیا گیا ہے کہ جب کوئی اختلافی یا نزاعی معاملہ پیش آئے تو ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت اور یک طرفہ تصفیے کی روش اپنائی جائے، کیونکہ صلح کی روش پر اللہ تعالیٰ نے وہ کامیابی مقدر کی ہے جو متشددانہ راستے پر نہیں رکھی گئی ۔ صلح دراصل امن کے نتیجے کا نام ہے ۔ سورہ یونس میں آیا ہے کہ «وَاللّٰهُ يَدْعُوۡۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ»، یعنی اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے، اور جنت وہ مقام ہے جہاں کا کلچر «سَلٰمًا سَلٰمًا» یعنی سراسر پیس کلچر ہوگا، اس لیے اس ابدی مقام کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جو اس دنیا میں پُرامن زندگی بسر کرتے ہیں اور جن کے دل دوسروں کے لیے سلامتی اور خیر خواہی سے بھرے ہوئے ہوں ۔
قرآن مجید میں صبر کی تعلیم کو غیر معمولی وسعت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، یہاں تک کہ بالواسطہ اور بلاواسطہ احکام کو ملا کر دیکھا جائے تو پورا قرآن «کتابِ صبر» نظر آتا ہے ۔ مصیبت اور خوف کے مواقع پر صبر کرنے والوں کے لیے «أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ» کی بشارت دی گئی ہے ۔ سورہ الفتح میں حدیبیہ کے موقع پر نازل ہونے والی «سکینت» سے مراد دل کا وہ سکون و اطمینان ہے جس سے انسان پُرخطر حالات میں بھی ٹھنڈے دل سے پُرامن رہتا ہے اور ایمان میں اضافہ حاصل کرتا ہے ۔ سورہ الفتح کی آیات (24-25) کی تشریح میں مولانا شبیر احمد عثمانی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ مکہ کے مظلوم مسلمان جو پہچانے نہیں جاتے تھے، اگر وہ لڑائی میں لاعلمی سے پیس دیے جاتے تو الزام آتا، اس لیے جنگ کو روک کر عفو و تحمل کا مظاہرہ دیکھا گیا ۔
نبوی تعلیمات اور احادیثِ مبارکہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو قرآنی آیت «وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ» کے تحت سراسر رحمت قرار دیا گیا ہے، جس کی توثیق خواجہ الطاف حسین حالی کے شعر «وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا» سے بھی کی گئی ہے ۔ حدیثِ نبوی میں جنگی مڈبھیڑ کی خواہش سے سختی سے روکا گیا ہے: «لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللّٰهَ الْعَافِيَةَ» (دشمن سے جنگی مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو)، اور الرسالہ واضح کرتا ہے کہ حدیث کے پورے ذخیرے میں کہیں ایسا کوئی قول نہیں ملتا جس میں دشمن سے مڈبھیڑ چاہنے یا جنگ کی دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہو ۔
فتح مکہ کے تاریخی موقع پر جب ایک صحابی نے کہا: «اليوم يوم الملحمة» (آج گھمسان کا دن ہے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس کی اصلاح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: «لَا، الْيَوْمُ يَوْمُ الْمَرْحَمَةِ» (نہیں، بلکہ آج رحمت کا دن ہے) ۔ حدیث کی رُو سے سب سے بہتر عطیہ صبر ہے: «وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ» ۔ جامع ترمذی کی روایت کے مطابق اچھا اور برا انسان وہ ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجٰى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ»، یعنی تم میں بہترین انسان وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور لوگ اس کے شر سے سلامت اور محفوظ رہیں ۔ سنن ابی داؤد کی حدیث میں فتنے اور سیاسی بگاڑ کے دور میں حکمرانوں سے متصادم ہونے سے منع کیا گیا، اور جب پوچھا گیا کہ اگر کوئی مارنے گھر میں آ جائے تو کیا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَلْيَكُنْ خَيْرَ ابْنَيْ آدَمَ» یعنی آدم کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے (ہابیل) بن جاؤ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ یک طرفہ طور پر مظلوم ہونا گوارا کر لو لیکن خود قاتل نہ بنو ۔
سیرتِ نبوی اور تاریخی نمونے
الرسالہ میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرام کے طرزِ عمل کو امن، تدبر اور عدمِ تشدد کا سب سے کامل نمونہ قرار دیا گیا ہے ۔
حکمت، تدبر اور مراحلِ سیرت
الرسالہ کے نزدیک حکمت کی بنیاد یہ ہے کہ انسان دو مختلف صورتوں کے فرق کو سمجھے ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں شدید ترین مظالم کے باوجود کبھی ظالموں سے ٹکراؤ نہیں کیا، تاہم مدینہ میں ضرورت کے تحت دفاعی مقابلہ فرمایا ۔ اسی طرح مکہ کے ابتدائی دور میں کعبہ کے اندر 360 بت موجود تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر عملی تصادم چھیڑے بغیر دعوت کا کام جاری رکھا، اور مکہ کے آخری دور میں قتل کے منصوبوں کے وقت بھی ٹکراؤ کے بجائے خاموشی سے ہجرت فرما کر مدینہ کو مرکز بنایا ۔ نیز غزوہ حمراء الاسد کا سفر باآوازِ بلند کیا گیا جبکہ فتحِ مکہ کے سفر میں بلند آوازی سے منع فرما دیا گیا ۔
صلحِ حدیبیہ: امن کی فتحِ مبین
الرسالہ کے مطالعہِ امن میں معاہدۂ حدیبیہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ اگرچہ کتبِ تاریخ میں اسے روایتی طور پر «غزوہ الحدبیہ» کے عنوان سے درج کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ دس سالہ غیر جنگی امن معاہدہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے مشرکین کی یک طرفہ اور غیر مساوی شرائط کو قبول کر کے امن قائم کیا ۔ اگرچہ اس وقت مسلمانوں کے خون کھول رہے تھے اور حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوبکر جیسے جلیل القدر صحابہ کا ردعمل بھی نہایت شدید تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقتی پسپائی اور غیر مشروط صلح کو ترجیح دی ۔
اس یک طرفہ صلح کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے الرسالہ بیان کرتا ہے۔
1. **دعوتی امکانات کا کھلنا:** جنگی حالات میں دعوتی راستے مسدود تھے؛ صلح کے بعد جب راستے پرامن اور محفوظ ہو گئے تو ذی الحجہ 7ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے حکمرانوں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط بھیجے اور صحابہ کو تمام دنیا کے لیے رحمت کا پیغام لے کر پھیل جانے کا حکم دیا ۔
2. **عددی اور نظریاتی برتری:** تاریخ اسلام (مکتبہ رحمت دیوبند) کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال کے قلیل عرصے میں مسلمانوں کی تعداد دگنی ہو گئی، کیونکہ اسلام جنگ کے مقابلے میں امن کی حالت میں زیادہ پھیلتا ہے ۔
3. **امن کی برتری کا ثبوت:** صلحِ حدیبیہ اس بات کا کھلا تاریخی ثبوت ہے کہ «جنگ کے مقابلہ میں امن کی طاقت بہت زیادہ ہے» اور قرآن نے اسی بنا پر اس صلح کو «فَتْحًا مُّبِيْنًا» (کھلی فتح) قرار دیا ۔
4. بعد ازاں جب بنو بکر اور بنو خزاعہ کا واقعہ پیش آیا تو آپ نے مکہ کے سردار ابو سفیان کی تجدیدِ صلح کی پیش کش قبول نہیں فرمائی، جو نبوی حکمت کے امتیازی پہلو کو ظاہر کرتا ہے ۔
دیگر تاریخی و معاصر مثالیں
الرسالہ میں دیگر تاریخی و بین الاقوامی تجربات سے بھی امن و عدم تشدد کے اصولوں کو واضح کیا گیا ہے۔
* **تحریکِ آزادی ہند:** ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں جب تک تشدد کا راستہ اپنایا گیا، انگریز حکومت کے پاس زیادہ طاقت ہونے کی وجہ سے تحریک کامیاب نہ ہو سکی؛ لیکن جب عدمِ تشدد اور دلیل کا ہتھیار اپنایا گیا تو انگریزوں کے مقابلے میں ہندوستانیوں کا پلہ بھاری ہو گیا کیونکہ جنگ ہتھیاروں کے بجائے نظریات کے میدان میں منتقل ہو گئی ۔
* **مہاتما گاندھی کا موقف:** مہاتما گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا ورنہ وہ اس کوشش میں جان دے دیں گے، لیکن آزادی کے بعد ان کے قتل اور تقسیم کے ہولناک فرقہ وارانہ تشدد نے اس عمل کو شدید نقصان پہنچایا ۔
* **ہیروشیما اور ناگاساکی کی تعمیرِ نو:** جاپان پر ایٹم بم کا گرنا اگرچہ تباہ کن تھا، مگر جاپانیوں نے مثبت اندازِ فکر اختیار کر کے قدیم ملبے کی جگہ انتہائی جدید منصوبہ بند شہر تعمیر کر لیے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مثبت سوچ ہر بربادی میں نئی تعمیر کے امکانات تلاش کر لیتی ہے ۔
* **معاہدۂ افغانستان (1995ء):** افغان جہاد کی کامیابی کے بعد افغان گروپوں کے درمیان مسلح جدوجہد کے خاتمے، پرامن سیاسی عمل، علاقائی سالمیت اور خادمِ حرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز، وزیراعظم پاکستان نواز شریف، سعودی عرب اور ایران کی مفاہمتی کوششوں کے نتیجے میں وسیع البنیاد پرامن نظم و ضبط کی ضرورت تسلیم کی گئی ۔
* **بوسنیا کا تجربہ:** بوسنیا کے سابق صدر علی عزت بیگووچ کی ترجمانی کرتے ہوئے رئیس العلماء مصطفیٰ سیرچ نے تلخ جنگی تجربات کی روشنی میں عربوں کو اسرائیل کے ساتھ صلح و آشتی کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا؛ تاہم اس پر کانفرنس میں یوسف القرضاوی نے سخت تردید کی اور کسی نے بیگووچ کا ساتھ نہ دیا، حالانکہ جنگ کے زمانے میں بیگووچ کو ہیرو مانا گیا تھا مگر صلح کی بات پر انہیں نظر انداز کر دیا گیا ۔
* **پاک و ہند تعلقات اور کشمیر:** ماہنامہ میثاق کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کے مسائل کا حل صلحِ حدیبیہ جیسی مفاہمت میں ہے کیونکہ ایٹمی دور میں جنگ جیتنا ممکن نہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ وہاں کے لوگ صدیوں سے صوفی کلچر یعنی «صلحِ کُل» (peace with all)، باہمی ہم آہنگی اور عدمِ تشدد پر قائم تھے اور کشمیر کو دوبارہ اسی فطری حالت پر لا کر اسلام کے پرامن پیغام کا گہوارہ بنانا چاہیے ۔
مولانا وحید الدین خان کی فکر میں امن کا تصور
الرسالہ کے صفحات پر مولانا وحید الدین خان کے فکری نظام میں امن کے بنیادی اجزاء نہایت وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں۔
1. مثبت اسٹیٹس کو ازم (Positive Status Quoism)
الرسالہ کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو یہ انقلابی فارمولا دیا کہ: «حالتِ موجودہ کو مان کر ٹکراؤ ختم کر دو، تا کہ مواقع (opportunities) کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے» ۔ اس پالیسی کو انگریزی میں «positive status quoism» سے تعبیر کیا گیا ہے جو تاریخ میں عظیم فتوحات اور ترقیات کی کنجی ثابت ہوئی ۔ اس کے تحت مسائل کو اچھالنے کے بجائے انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے اور امن کو قومی یا ملّی وقار کے مقابلے میں سپریم حیثیت دی جاتی ہے ۔
2. صبر برائے استخدامِ فُرَص (استعمالِ مواقع)
صبر کو بزدلی یا محض منفی عمل سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی ہے؛ حقیقت میں صبر ایک مثبت ترین عمل اور تمام مثبت اعمال کی بنیاد ہے ۔ الرسالہ واضح کرتا ہے کہ۔
«میں جب صبر کی بات کرتا ہوں تو وہ کسی کے آگے جھکنے کے لئے نہیں بلکہ مواقع دعوت کو استعمال کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ آپ کسی بھی امکان کو اس حکمت کے بغیر اپنے حق میں استعمال نہیں کر سکتے» ۔
اس حکمتِ صبر ہی کے ذریعے دنیا کے تمام دعوتی اور اصلاحی ادارے اور انفرادی شخصیات کامیابی حاصل کرتی ہیں ۔ دعوہ ایکٹوزم میں یک طرفہ صبر کا اصول دراصل کارکن کے ذہن کو اعتدال پر رکھتا ہے اور اسے منفی احساسات یا ردِ عمل کی نفسیات سے بچاتا ہے ۔
3. ڈیفرنس مینجمنٹ کا فن (Art of Difference Management)
انسانوں کے درمیان فکری یا گروہی اختلاف ایک فطری حقیقت ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا ۔ چنانچہ الرسالہ لکھتا ہے کہ۔
«فرق واختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق واختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔ فرق واختلاف کوئی بُرائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے» ۔
قرآنی اصول «الصلح خیر» دراصل اسی ڈیفرنس مینجمنٹ کا ضامن ہے، بشرطیکہ فریقین تشدد کا آغاز نہ کریں؛ اور اگر تشدد ہو جائے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر تشدد ترک کر کے حالات کو معمول پر لائیں تاکہ پُرامن مکالمہ ممکن ہو سکے ۔
4. گن کلچر کے بجائے رحمت کلچر
الرسالہ نے بارہا یہ اعلان کیا کہ «اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے، وہ گن کلچر نہیں» ۔ اسلام جن دلوں میں اترتا ہے انہیں سلامتی اور رحمت کا پیکر بنا دیتا ہے، اور اسلام اور نفرت و عداوت کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے ۔ موجودہ زمانے میں جن انقلابی تحریکوں نے اقتدار کے حصول کو اپنا ہدف بنا کر جہاد کے نام پر مسلح تحریکیں چلائیں، انہوں نے اسلام کو بدنام کیا، حالانکہ سیاسی جہاد درحقیقت «جہاد کے نام پر فساد» ہے جس سے نفرت، تباہی اور تخریب پھیلتی ہے ۔ اسلام میں جنگ کا اختیار صرف ایک باقاعدہ منظم ریاست کو حاصل ہے، وہ بھی صرف دفاعی حالات میں اور باضابطہ علانیہ جنگ کے طور پر؛ کسی بھی غیر حکومتی ادارے یا تنظیم کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار اٹھانے کی قطعاً اجازت نہیں ۔
5. مذہبی ہم آہنگی کا فارمولا
عالمی امن کا دارومدار مذہبی امن اور ہم آہنگی پر منحصر ہے ۔ الرسالہ کا واضح مؤقف ہے کہ تمام مذاہب کو ایک ثابت کرنے کی کوشش ایک غیر فطری اور ناممکن راستہ ہے ۔ اس کا قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ حل صرف رواداری (tolerance) اور باہمی احترام ہے ۔ یعنی عقیدے کے اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے عملی رویوں میں ایک دوسرے کا احترام کیا جائے، جس کو انگریزی کے مقولے «Let's agree to disagree» سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے۔
«مذاہب کے درمیان ہم آہنگی نہیں، بلکہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی» ۔
اقوام متحدہ کے 1995ء کو «سالِ رواداری» قرار دینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے واضح کیا گیا کہ نسلی، لسانی اور مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ صرف باہمی رواداری ہی سے کیا جا سکتا ہے ۔
پُرامن زندگی کے عملی تقاضے اور احکام
الرسالہ نے امن پسندی کو محض ایک فلسفہ بنا کر پیش نہیں کیا بلکہ انفرادی، سماجی اور دعوتی زندگی کے لیے ٹھوس رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔
روزمرہ کی عبادات اور امن کا عہد
اسلامی عبادات کے اندر امن کے پیغام کو پیوست کر دیا گیا ہے۔
* **نماز کا پیغامِ سلامتی:** ہر نمازی جب نماز کے اختتام پر دائیں اور بائیں چہرہ پھیر کر «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» کہتا ہے تو وہ درحقیقت زمین کے چاروں طرف بسنے والے تمام انسانوں کے لیے امن، رحمت اور خیر خواہی کا اعلان کرتا ہے اور خدا کو گواہ بنا کر یہ عہد کرتا ہے کہ اس کی ذات سے کسی کی جان، مال اور آبرو کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوگا ۔
* **حج کا امنِ عالم سے رشتہ:** بیت اللہ دراصل «بیتِ امن» ہے؛ الرسالہ کے مطابق اگر مسلمان حج کی حقیقی اسپرٹ کے ساتھ لوٹیں اور ہر قسم کے تشدد سے توبہ کر کے یک طرفہ طور پر امن اور سلامتی کے داعی بن جائیں تو پوری دنیا میں امن کی فضا قائم ہو سکتی ہے ۔
اخلاقی و سماجی طرزِ عمل
1. **یک طرفہ خیر خواہی اور برتر اخلاق:** انسان کے پاس سب سے بڑی طاقت خیر خواہی ہے ۔ اگر کوئی دوسرا شخص برا سلوک کرے تب بھی مومن کو برتر اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھا سلوک کرنا چاہیے اور ردِ عمل کی نفسیات سے بچنا چاہیے ۔ سچا مسلمان سب کا خیر خواہ ہوتا ہے، نہ کہ «فوجدارِ انسانیت» ۔
2. **بدلہ نہ لینے کا مزاج:** سماجی امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب انسان انتقام لینے کی سوچ سے باہر نکلے؛ انتقام میں انسان کا وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے، جبکہ معافی اور عفو و درگزر سے معاشرہ امن کا گہوارہ بنتا ہے ۔
3. **مناظرے اور مباحثے کے بجائے سنجیدہ ڈائیلاگ:** قدیم دور کی لڑائیوں اور مناظروں کے برعکس جدید جمہوری دور ڈائیلاگ کا دور ہے ۔ مناظرہ حریف کو شکست دینے کے لیے ہوتا ہے جس میں خیر خواہی نہیں ہوتی، جبکہ سنجیدہ ڈائیلاگ کا مقصد مشترکہ بنیادیں (common ground) تلاش کرنا اور مسائل کا پُرامن حل نکالنا ہوتا ہے ۔ اسلام طریقِ کار کے اعتبار سے پُرامن ڈائیلاگ پر قائم ہے ۔
4. **تہمتوں اور منفی جذبات سے پرہیز:** غصہ اور عدم برداشت انسان کو اخلاقی پستی میں گرا دیتے ہیں اور نفرت و تشدد کو جنم دیتے ہیں؛ اس کے برعکس صبر و تحمل انسان کے اندر مثبت شخصیت تعمیر کرتا ہے ۔
5. **مظلوم کا دائرۂ احتجاج:** اگر کوئی شخص مظلوم ہو تو اسے صرف پُرامن کلام اور قول کے دائرے میں رہتے ہوئے انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے، کسی بھی صورت میں قانون ہاتھ میں لینے یا عملی تصادم کی شریعت اجازت نہیں دیتی ۔ توہین یا گستاخی کے مبینہ واقعات پر مسلمانوں کا پُرتشدد ردعمل شریعت کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ اسلام امن کی حالت میں کسی بھی غیر مقاتل پر حملے کی اجازت نہیں دیتا؛ ایسے مواقع پر ردِ عمل کے بجائے عفو، صبر اور ہمدردانہ انداز میں مخاطب کی فطرت کو بیدار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
6. **تعمیرِ ذات اور مشترکہ امن کمیٹیاں:** مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتجاج، جلسے جلوس، بائیکاٹ اور شکوہ و شکایت کے منفی طریقوں کو چھوڑ کر تعلیم اور اقتصادی ترقی کے ذریعے تعمیرِ ذات پر اپنی توجہ مرکوز کریں ۔ نیز ہندو مسلم ہم آہنگی کے لیے مشترکہ امن کمیٹیاں قائم کی جائیں تاکہ کسی بھی نزاع کو ابتدائی مرحلے ہی میں حسنِ تدبیر سے ختم کیا جا سکے ۔
الرسالہ میں امن کے موضوع کا ارتقا (1979ء تا 2026ء)
الرسالہ کے اواخرِ ستر کی دہائی سے لے کر بعد کے شماروں تک امن کا موضوع وقت کے تقاضوں کے ساتھ مسلسل نکھرتا اور وسیع تر اطلاقات کے ساتھ سامنے آتا رہا ہے۔
* **ابتدائی دور (1979ء تا 1989ء):** اس ابتدائی دور میں الرسالہ نے صلحِ حدیبیہ کے تاریخی واقعات کی روشنی میں نبوی طریقِ کار کو واضح کیا کہ کس طرح امن قائم کر کے عمومی دعوت کے راستے کھولے گئے ۔ دورِ جدید کی مادی ترقی کے مقابلے میں باطنی اور ذہنی سکون کے فقدان کی نشان دہی کی گئی ۔ صبر کو منفی کے بجائے مثبت عمل ثابت کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ قرآن میں جہاں جہاد سے مراد یک طرفہ برداشت اور عفو ہے، وہیں مسلم سماج اپنے فخر کی خاطر مفاہمت اور حکمت سے گریزاں رہا ۔
* **نوے کی دہائی (1990ء تا 1999ء):** یہ دور بین المذاہب ہم آہنگی، عدمِ تشدد اور رواداری کی تفصیلی بحثوں کا دور ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «رحمت للعالمین» کے قرآنی ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ۔ 1993ء میں بابری مسجد کے بعد کے ماحول میں ہندو مسلم ڈائیلاگ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کلکتہ اجلاس کے تناظر میں ٹکراؤ چھوڑ کر مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے 1995ء کے سالِ رواداری، افغان امن مذاکرات اور کشمیر کے صوفی روایات کے تناظر میں پُرامن بقائے باہمی کے نمونے سامنے لائے گئے ۔ اسی دور میں نماز کے سلام کو عالمی امن کے اقرار نامے کے طور پر پیش کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ غیر ریاستی جنگ فساد ہے ۔
* **اکیسویں صدی کا ابتدائی دور (2000ء تا 2010ء):** نائن الیون اور اس کے بعد عالمی سطح پر پھیلنے والی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پس منظر میں الرسالہ نے تشدد اور خود ساختہ سیاسی جہاد کے خلاف سخت ترین فکری محاذ قائم کیا ۔ الرسالہ نے فنڈامینٹلزم اور غلو کی مذمت کی اور واضح کیا کہ شریعت میں جنگ صرف باقاعدہ قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے، غیر ریاستی تنظیموں کا کام صرف پُرامن جدوجہد یا یک طرفہ صبر ہے ۔ اسلام کو امن کا مکمل نظریہ حیات قرار دیا گیا ۔ آدم کے بیٹے ہابیل کے عدمِ تشدد کے واقعے کو بطور مثال پیش کیا گیا اور اختلاف کی صورت میں «ڈیفرنس مینجمنٹ» اور جمہوری دور میں ڈائیلاگ کی ناگزیریت کو اجاگر کیا گیا ۔
* **دوسری اور تیسری دہائی (2011ء تا 2026ء):** بعد کے شماروں میں امن کو ایک آفاقی «امن کلچر» اور الٰہی قانونِ جزا و سزا سے مربوط کر کے پیش کیا گیا ۔ 2015ء کے شمارے میں انسانی تخلیق کے نقشے اور ذہنی سکون کا فلسفہ تفصیلاً قلم بند ہوا ۔ 2016ء میں صلحِ حدیبیہ کو «پازیٹو اسٹیٹس کو ازم» اور رسول اللہ کو «پیغمبرِ امن» (prophet of peace) کے القاب سے بیان کیا گیا اور بتایا گیا کہ امن اسلام میں کوئی ثانوی چیز نہیں بلکہ «خیرِ اعلیٰ» ہے جس کے ساتھ جنت اور جہنم کا فیصلہ وابستہ ہے ۔ 2021ء میں مولانا وحید الدین خان کی وفات کے موقع پر اور بعد کے صفحات میں ان کے لٹریچر کو «امن اور صلح کا خزانہ» قرار دیا گیا اور یہ تسلیم کیا گیا کہ بیسویں صدی کے جذباتی ماحول کے برعکس اکیسویں صدی میں اہلِ دانش ان کے پُرامن منہج کے قائل ہو رہے ہیں ۔ 2023ء سے 2026ء تک کے شماروں میں بھی حکمت، صبر، ڈائیلاگ، غیر متشدد ڈیفرنس مینجمنٹ اور شکایت کے کلچر سے نکل کر تعلیم اور تعمیرِ ذات کے اصولوں کی مسلسل تکرار ملتی ہے ۔
پُرامن فکر کے نتائج اور الرسالہ کا حتمی پیغام
ماہنامہ الرسالہ کے تجزیے کے مطابق اسلام کسی بھی قسم کے ٹکراؤ، اشتعال اور تخریب کا نہیں بلکہ امن، مفاہمت اور خیر خواہی کا دین ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری حیاتِ طیبہ میں ظلم کے بدلے میں معافی، تشدد کے جواب میں امن اور دشمنی کے جواب میں معتدل تعلقات استوار کیے ۔
الرسالہ مسلم امت اور بالعموم تمام انسانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ وقتی مسائل پر ردِ عمل کی نفسیات کے بجائے تعمیری ہم آہنگی کی روش اختیار کریں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی اقوام سرخرو ہوتی ہیں جو اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے جذباتی محاذ آرائی سے دور رہیں، ماحول سے ٹکرانے کے بجائے اس سے ہم آہنگی پیدا کریں اور امن و امان کی چھاؤں میں اپنی فکری اور علمی تعمیر جاری رکھیں ۔ امن قائم کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ انسان ہر حال میں ٹکراؤ سے گریز کرے اور صلح و آشتی کے ذریعے ان لامتناہی مواقع کو اپنے تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرے جو خالقِ کائنات نے اس پرامن دنیا میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔