{
  "metadata": {
    "month": "December",
    "year": "2012",
    "source_url": "http://cpsalrisala.blogspot.com/2012/12/DecemberAlrisala.html",
    "scrape_timestamp": "2026-03-26T14:27:30.772572"
  },
  "content": [
    {
      "chapter_id": "C01",
      "chapter_title": "ایمان سے جنت تک",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C01P01",
          "text": "قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے:  من عمل صالحاً من ذکر أو أنثى وہو مؤمن فلنحیینّہ حیاة طیبة، ولنجزینہم أجرہم بأحسن ما کانوا یعملون (16:97) یعنی جو شخص کوئی عمل صالح کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو زندگی دیں گے، ایک اچھی زندگی- اور جو کچھ وہ کرتے رہے، اُس کا ہم اُن کو بہترین بدلہ دیں گے-"
        },
        {
          "para_id": "C01P02",
          "text": "قرآن کی اِس آیت کے تین حصے ہیں— پہلے حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہو، وہ غور وفکر کے ذریعے ایمان باللہ تک پہنچے اور پھر اس کے مطابق، وہ عملِ صالح کا طریقہ اختیار کرے، ایسا شخص گویا اللہ کی رحمت کے سایے میں آگیا، وہ اللہ کے مطلوب بندوں میں شامل ہوگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C01P03",
          "text": "دوسری بات ہے ایسے شخص کو ’حیاتِ طیبہ‘ کا ملنا- اِس حیات طیبہ کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دے، تو اُس کے بعد وہ اللہ کی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے، اُس پر فرشتے اترتے ہیں، زندگی کے ہر موڑ پر اس کو وہ مدد ملتی رہتی ہے جس سے اس کے اندر ثابت قدمی پیدا ہو، وہ صحیح اور غلط میں فرق کرتے ہوئے اپنے لیے صحیح کا انتخاب کرے، اللہ کی توفیق سے اس کے اندر وہ شعور پیدا ہوجاتا ہے جو اس کو ہر انحراف (deviation)  سے بچائے، اِس طرح وہ اپنے اندر اُس شخصیت (personality)  کی تعمیر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو اس کو اللہ کے مطلوب بندوں کی فہرست میں شامل کردے -"
        },
        {
          "para_id": "C01P04",
          "text": "آیت کے آخری حصے میں، اجر ملنے سے مراد، آخرت کا اجر ہے- ایسے افراد آخرت کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار دئے جائیں گے-"
        },
        {
          "para_id": "C01P05",
          "text": "ان کے اوپر اللہ کا مزید احسان یہ ہوگا کہ آخرت میں ان کو جو بدلہ دیاجائے گا، وہ اُن کے اعمال کے بہتر حصہ (احسنِ عمل) کی نسبت سے دیاجا ئے گا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C02",
      "chapter_title": "اللہ کے گواہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C02P01",
          "text": "سورہ آل عمران قرآن کی ایک طویل سورہ ہے- اس کی آیات 130-200 غزوہ احد (3ہجری) کے بعد نازل ہوئیں- غزوہ احد میں 70 صحابہ شہید ہوئے- اِس موقع پر قرآن کا جو حصہ اترا، اُن میں سے ایک آیت یہ ہے:  إن یمسسکم قرح فقد مسّ القوم قرح مثلہ، وتلک الأیام نداولہا بین الناس، ولیعلم اللہ الذین آمنوا ویتخذ منکم شہداء، واللہ لا یحب الظالمین (3:140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے، تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے- اور ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے- اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا-"
        },
        {
          "para_id": "C02P02",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں اصلاً شہید سے مراد مقتول نہیں ہے، بلکہ شہید سے مراد گواہ (witness) ہے- قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں جب تمام انسان اکھٹا کئے جائیں گے اور لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا- اُس وقت کچھ لوگ اللہ کے گواہ کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے- اِس گواہی کے دوپہلو ہیں — نظری گواہی، اور عملی گواہی- نظری گواہی سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کردیا جائے- اور عملی گواہی سے مراد یہ ہے کہ زندگی میں اِس حقیقت کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ دنیا میں یہ پوری طرح ممکن تھاکہ ایک شخص اللہ کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم کا پیرو بن سکے- قرآن میں اصحابِ اعراف (7:48) کا ذکر ہے- اصحابِ اعراف سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی میں دین ِ حق کی نظری شہادت دی- انھوںنے قولی دعوت کے ذریعے لوگوں کو سچائی سے باخبر کیا- دوسرا گروہ اصحاب الشہادہ کا گروہ ہے- یہ وہ افراد ہیں جو تمام غیر موافق حالات کے على الرغم سچائی پر قائم رہے- ان لوگوں کی زندگی اِس بات کا ایک عملی ثبوت ہوگی کہ دنیا میں جن لوگوں نے سچائی کا طریقہ اختیار نہیں کیا، اُن کے پاس اپنی غلط روش کے لیے کوئی عذر (excuse) موجود نہیں تھا، ان کا کیس سرکشی کا کیس تھا، نہ کہ عذر کا کیس-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C03",
      "chapter_title": "بائبل کی ایک پیشین گوئی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C03P01",
          "text": "بائبل (پرانا عہد نامہ) میں ایک اسرائیلی نبی حبقّوق کی زبان سے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی درج ہے- حبقوق، یہود کی جلاوطنی (605ق م) کے دور سے پہلے آئے- اِس پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں —— اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے- اُس کی راہیں ازلی ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C03P02",
          "text": "He stood and measured the earth. He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting. (Habakkuk 3: 6)"
        },
        {
          "para_id": "C03P03",
          "text": "بائبل کی اِس پیشین گوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعد کے دور میں ایک عظیم انقلاب پیش آئے گا- اِس انقلاب کا قائد ایک شخص ہوگا- مگر بائبل کے شارحین یہ نہ بتاسکے کہ اِس عظیم انقلاب سے مراد کون سا واقعہ ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C03P04",
          "text": "لیکن بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ اِس سے مراد وہی انقلاب ہے جو بعد کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا- کوئی بھی دوسرا واقعہ ایسا نہیں جو حقیقی طورپر اِس طور پر اس پیشین گوئی کا مصداق بن سکے-"
        },
        {
          "para_id": "C03P05",
          "text": "حبقّوق نبی نےجس وقت یہ پیشین گوئی کی، اُس وقت ایشیا اور افریقہ کے علاقے میں دو بڑی سلطنتیں (empires) قائم تھیں — بازنتینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر-"
        },
        {
          "para_id": "C03P06",
          "text": "یہ دونوں سلطنتیں قدیم طرز کی جابرانہ بادشاہت کی سب سے بڑی نمائندہ تھیں- لمبی مدت کے نتیجے میں وہ بہت زیادہ مستحکم ہوچکی تھیں- اِن سلطنتوں نے آزادی اور ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند کررکھا تھا- یہی وہ سلطنتیں تھیں جن کو بائبل میں ’’ازلی پہاڑ‘‘ کہاگیا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C03P07",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے اِن سیاسی پہاڑوں کو توڑ دیا اور اِس طرح دنیا میں آزادی اور ترقی کا دور آیا، وہ دراصل اُسی انقلابی عمل کا نقطہ انتہا (culmination)تھا جو ساتویں صدی عیسوی اور آٹھویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت برپا ہوا تھا — یہی وہ انقلابی واقعہ ہے جس کو بائبل میں حبقّوق نبی نے تمثیل کی زبان میں بیان کیا تھا-"
        },
        {
          "para_id": "C03P08",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلابی رول اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال امریکی مورخ چارلس (Charles Issawi) ہیں، جن کی وفات 2000 میں ہوئی-"
        },
        {
          "para_id": "C03P09",
          "text": "مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977) نے اپنی انگریزی تفسیر قرآن میں سورہ الانشراح کی تفسیر کے تحت اِس سلسلے میں چارلس اساوی کا ایک قول اِس طرح نقل کیا ہے کہ — یہ کہنا کوئی مبالغہ کی بات نہیں کہ اگر کسی ایک شخص نے تاریخ کے کورس کو بدلا ہے، تو وہ انسان محمد تھے:"
        },
        {
          "para_id": "C03P10",
          "text": "It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history that man was Muhammad. (The Muslim World, Hartford, April 1950, p. 95)"
        },
        {
          "para_id": "C03P11",
          "text": "یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا طویل زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا- اِس بادشاہت کے تحت ساری دنیا میں جبری نظام قائم تھا- انسان کو آزادانہ سوچ اور آزادانہ تحقیق کا اختیار حاصل نہ تھا- اِسی کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں سال سے علمی ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا- ہر قسم کی ترقی آزادانہ سوچ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور قدیم بادشاہی نظام میں یہ آزادانہ سوچ سرے سے موجود نہ تھی-"
        },
        {
          "para_id": "C03P12",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی قربانیوں کے نتیجے میں قدیم بادشاہت کے تحت قائم شدہ جبری نظام ختم ہوا- اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں آزادی آئے اور انسانی قافلہ ترقیات کے دور میں پہنچے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C04",
      "chapter_title": "قلب اور عقل",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C04P01",
          "text": "انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal)  ہے- انسان کی تمام سرگرمیاں سوچ سے کنٹرول ہوتی ہیں- کہاجاتا ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے-سوچنے کی اس فیکلٹی (faculty) کو ذہن (mind) کہاجاتا ہے- ذہن کے لئے قرآن میں حسب ذیل الفاظ آئے ہیں —  عقل، لُب، فواد، حِجر، نُہىٰ اور قلب-"
        },
        {
          "para_id": "C04P02",
          "text": "قلب کو عام طورپر دل کے ہم معنى سمجھا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ قلب کا لفظ عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے-عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب میں قلب کی تشریح کے تحت یہ الفاظ آئے ہیں: وقد یُعبربالقلب عن العقل- قال الفراء فی قولہ تعالى: إن فی ذلک لذکرى لمن کان لہ قلب، أی: عقل- قال الفراء: وجائز فی العربیة أن تقول: مالک قلب، وما قلبک معک- تقول: ما عقلک معک، وأین ذہب قلبک- أی: أین ذہب عقلک- (لسان العرب، 1/687)"
        },
        {
          "para_id": "C04P03",
          "text": "یعنی قلب کو عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے- فرا نحوی نے کہا ہے کہ قرآن کی آیت: إن فی ذلک لذکرى لمن کان لہ قلب (50:37) میں قلب سے مراد عقل ہے- عربی زبان میں یہ طریقہ درست ہے کہ عقل کے موقع پر قلب کا لفظ بولا جائے- مثلاً کہاجاتا ہے کہ تمھارا قلب کہاں چلا گیا، یعنی تمھاری عقل کہاں چلی گئی-"
        },
        {
          "para_id": "C04P04",
          "text": "حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر سب سے بڑی چیز ذہن (mind) ہے، قلب کا لفظ اور عقل کا لفظ دونوں اِس معنی میں استعمال ہوتے ہیں- فرق صرف یہ ہے کہ عقل کے لفظ کو لفظی طور پر ذہن کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اور قلب کا لفظ ادبی استعمال کے لحاظ سے ذہن کے معنی میں بولا جاتا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C04P05",
          "text": "موجودہ زمانے میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قلب صرف حرکتِ خون کا مرکز ہے اور سوچنے کا مرکز صرف دماغ ہے، لیکن ادبی استعمال کی بنا پر اب بھی، ہول مائنڈڈلی (wholemindedly) نہیں بولا جاتا، بلکہ ہول ہارٹڈلی (wholeheartedly) بولاجاتا ہے- یہی طریقہ ہر زبان میں رائج ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C04P06",
          "text": "قرآن کا موضوع علمِ تشریح الاعضا (anatomy) نہیں ہے، بلکہ قرآن کا موضوع انسان کی ہدایت ہے- ہدایت کا تعلق کامل طورپر تعقل اور تفقہ سے ہے- ایسی حالت میں قرآن میں جہاں بھی قلب کا لفظ آئے گا، تو قرآن کے موضوع کی بناپر اُس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا-"
        },
        {
          "para_id": "C04P07",
          "text": "قلب کا لفظ جب دو معنی میں آتا ہے —  ایک، معروف طورپر دل کے معنی میں اور دوسرے، عقل کے معنی میں، تو ایسی حالت میں قرآن میں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا- قلب بمعنی دل، قرآن میں قابلِ انطباق (applicable) نہیں ہوگا، بلکہ قرآن میں قلب بمعنی عقل ہی قابلِ انطباق قرار پائے گا-"
        },
        {
          "para_id": "C04P08",
          "text": "یہ اصول، بلاغت کا ایک مسلّم اصول ہے، اور یہ قرآن اور غیر قرآن دونوں کے لیے قابلِ انطباق ہے- مثلاً ایک کتاب جو علم تشریح الاعضا (anatomy) پر لکھی گئی ہو، اُس میں اگر کہیں قلب (heart) کا لفظ آتا ہے تو وہاں قلب کے لفظ کو عقل (mind)کے معنی میں نہیں لیا جائے گا، بلکہ دل کے معنی میں لیا جائے گا- اس کے برعکس، جب قرآن میں قلب کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کو عقل (mind) کے معنی میں لیاجائے گا- علمِ تشریح الاعضا کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب میں قلب کامفہوم اس کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوتا ہے- اِسی طرح قرآن میں اگر قلب کا لفظ کسی آیت میں آئے تو یہاں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا، یعنی اِس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا- یہ بلاغت کا ایک معروف اصول ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C04P09",
          "text": "ہر زبان میں ایسا ہے کہ اکثر کسی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں- یہ معنی سیاق (context) سے متعین ہوتا ہے- مثلاً عربی زبان کا ایک لفظ دین ہے، جس کے کئی معنی ہوتے ہیں- مثلاً  مالک یوم الدین(1:3)میںیہ لفظ روزِ جزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور أقیموا الدین ( 42:13) میں یہ لفظ مذہب (religion) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، وغیرہ-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C05",
      "chapter_title": "زندگی کی ایک حکمت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C05P01",
          "text": "قرآن کی سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے: ربنا لا تجعلنا فتنةً للقوم الظالمین (10:85) یعنی اے ہمارے رب، تو ہم کو ظالم لوگوں کے لیے ہدفِ فتنہ نہ بنا-"
        },
        {
          "para_id": "C05P02",
          "text": "ایک اسلوبِ کلام یہ ہے کہ بظاہر مخاطب کوئی اور ہوتا ہے، لیکن اصل مقصود کوئی دوسرا ہوتا ہے- مثلاً عربی میں کہاجاتا ہے: لا یضربنک زید- اِس جملے کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ زید تم کو ہرگز نہ مارے، مگر اِس کا اصل مطلب زید کو مارنے سے منع کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل خطاب آدمی کی اپنی ذات ہے، یعنی تم اپنے کسی عمل سے زید کو یہ موقع نہ دو کہ وہ تم کو مارے-"
        },
        {
          "para_id": "C05P03",
          "text": "قرآن میں اِس اسلوب کی ایک مثال یہ آیت ہے: فلاینازعنّک فی الأمر (22:67)- اِس آیت کا بظاہر ترجمہ یہ ہے کہ وہ ’امر‘ میں تم سے نزاع نہ کریں- مگر اِس آیت کا خطاب خود اہلِ ایمان سے ہے، یعنی تم دوسروں کو یہ موقع نہ دو کہ وہ تم سے ’امر‘ میں نزاع کرنے لگیں-"
        },
        {
          "para_id": "C05P04",
          "text": "یہی اسلوب قرآن کی مذکورہ آیت میں ہے- بظاہر آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ظالم لوگ ہم کو ہدفِ فتنہ نہ بنائیں، مگر اِس دعائیہ کلام کا اصل خطاب خود اہلِ ایمان سے ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ، تو ہم کو اِس سے بچا کہ ہم کوئی ایسا فعل کریں جو ہمارے مخالفین کو یہ موقع دے دے کہ وہ ہم کو اپنے ظلم کا تختہ مشق بنائیں-"
        },
        {
          "para_id": "C05P05",
          "text": "دوسرے لفظوں میں، یہ کہ مذکورہ آیت میں اہلِ ایمان کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی طرف سے ہر گز کوئی ایسا فعل نہ کریں جو اُن کے مخالفین کے لیے اُن کے خلاف ظالمانہ کارروائی کا مبرّر (justification) بن جائے-"
        },
        {
          "para_id": "C05P06",
          "text": "اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ مصری حکومت نے 1956 میں سوئز کمپنی سے پٹہ (lease) کو یک طرفہ طورپر قبل ازوقت منسوخ کردیا- اِس منسوخی نے فریقِ ثانی کو یہ مبرّر دے دیا کہ وہ 1967 میں مصر پر تباہ کن حملہ کردے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C06",
      "chapter_title": "غیر ضروری شبہات",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C06P01",
          "text": "مسٹر ساجد انور انجینئر (رڑکی، اتراکھنڈ) اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں- انھوں نے ایک مجلس میں یہ بات کہی کہ مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ قرآن کے ترجمے کو غیر مسلموں تک پہنچائیں، تاکہ وہ قرآن کے پیغام سے واقف ہوسکیں- اِس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجودتھے- انھوں نے اِس پر اعتراض کرتےہوئے کہاکہ—   اگر ایک شخص کسی غیر مسلم کو قرآن کا ترجمہ دیتاہے اور وہ اس کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے تو کون اس کے لیے گناہ گار ہوگا:"
        },
        {
          "para_id": "C06P02",
          "text": "If one gives a copy of the Quran to a non-Muslim, and he tears it apart and puts it into a dustbin, then who would be a sinner?"
        },
        {
          "para_id": "C06P03",
          "text": "اُس وقت مجلس میں ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان ڈاکٹر عندلیب طارق موجود تھے- انھوں نے اِس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں کچھ غیر مسلم حکمرانوں کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیے تھے- اُن میں سے ایک مکتوب وہ تھا جو ایران کے غیر مسلم بادشاہ کسری کے نام بذریعہ عبد اللہ بن حُذافہ صحابی بھیجا گیا تھا-اِس مکتوب میں قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں- کسرى ایک مغرور بادشاہ تھا- وہ مکتوب کو دیکھ کر غصہ ہوگیا- اس نے مکتوب نبوی کو پھاڑ کر پھینک دیا- اس کے لیے کون گنہ گار ہوگا- کیا نعوذ باللہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم :"
        },
        {
          "para_id": "C06P04",
          "text": "Did the act of the king in any way make the Prophet a sinner?"
        },
        {
          "para_id": "C06P05",
          "text": "اِس جواب پر مذکورہ مسلمان خاموش ہوگئے، مگر یہ خاموشی کی بات نہیں- اِس جواب کے بعد مذکورہ مسلمان کو چاہئے تھا کہ وہ کہتے کہ آج میں نے اپنی ایک غلطی دریافت کی- واقعہ یہ ہے کہ اِس قسم کے شبہات مکمل طورپر بے حقیقت ہیں- ہم کو چاہئے کہ اِس معاملے میں ہم صرف اپنے دعوتی فرض کے بارے میں سوچیں اور قرآن کے تراجم کو تمام انسانوں تک پہنچادیں- ہمارا کام پہنچا دینا ہے- کسی بھی عذر کی بنا پر ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ ہم اللہ کے کلام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کا کام نہ کریں-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C07",
      "chapter_title": "بے بنیاد اندیشہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C07P01",
          "text": "ایک اردو میگزین میں ایک ہندستانی عالم کا مضمون نظر سے گزرا- یہ مضمون موجودہ مسلمانوں کے بارے میں تھا- اِس مضمون کی سرخی یہ تھی:  ’’عالمی سطح پر ملتِ اسلامیہ کو گھیرنے کی کوشش‘‘- اِس موضوع پر ایک اور مسلم پروفیسر کا انگریزی مضمون نظر سے گزرا- اس کا عنوان یہ تھا— موجودہ مسلمان محاصرے کی حالت میں:"
        },
        {
          "para_id": "C07P02",
          "text": "Present Muslims Under Siege."
        },
        {
          "para_id": "C07P03",
          "text": "مسلم علما اور مسلم رہنماؤں کی طرف سے آج کل ہر جگہ اِس طرح کی تحریریں چھپ رہی ہیں اور اِس طرح کی تقریریں کی جارہی ہیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام ذہن یہی ہے- وہ سمجھتے ہیں کہ ہر جگہ وہ مخالفین کی طرف سے کی جانے والی دشمنی اور سازش کے درمیان گھرے ہوئے ہیں- ان کے خیال کے مطابق، یہ صورتِ حال اتنی عام ہے کہ وہ خود مسلم ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C07P04",
          "text": "اِس قسم کی منفی سوچ یقینی طورپر ایک غیر اسلامی سوچ ہے، وہ قومی ذہن سے نکلی ہوئی سوچ ہے، حقیقی اسلامی سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیں- جو مسلمان اِس طرح سوچتے ہیں، اُن کو قرآن کی حسب ذیل آیات پر غور کرنا چاہیے: الذین قال لہم الناسُ إن الناس قد جمعوا لکم فاخشوہم فزادہم إیمانا وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل- فانقلبوا بنعمة من اللہ وفضل لم یمسسہم سوء  واتبعوا رضوان اللہ،  واللہ ذو فضل عظیم- إنما ذلکم الشیطنُ یخوف أولیاءہ، فلاتخافوہم وخافونِ إن کنتم مؤمنین (3:173-175) یعنی یہ وہ ہیں کہ جن کو لوگوں نے بتایا کہ دشمن نے تمھارے لیے بڑی طاقت اکھٹا کی ہے تو تم اُن سے ڈرو، اِس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور اللہ بہترین کارساز ہے- پس وہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے- اُن لوگو ں کو کوئی برائی پیش نہ آئی اور وہ اللہ کی رضامندی پر چلے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C07P05",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں ’’قد جمعوا لکم‘‘ کے الفاظ میں جو بات نقل کی گئی ہے، وہ قدیم مدینہ کے منافقین کی بات تھی- منافقین نے جب یہ بات پھیلائی تو اس کو سن کرسچے اہلِ ایمان کا جواب کیا تھا، وہ قرآن کے اِن الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: حسبنا اللہ ونعم الوکیل- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن اندیشہ ناک باتوں کو سن کر سچے اہلِ ایمان کے دلوں میں کوئی خوف پیدا نہیں ہوا، بلکہ اُن کا ایمان اور زیادہ بڑھ گیا-"
        },
        {
          "para_id": "C07P06",
          "text": "منافق مسلمانوں اور سچے اہلِ ایمان کے درمیان یہ فرق کیوں تھا-اِس کا سبب یہ ہے کہ منافق مسلمانوں کو صرف’’مخالفین‘‘ نظر آتے تھے، وہ اِن مخالفین کی باتوں سے اپنی رائے بناتے تھے- اُن کا حال یہ تھا کہ مخالفین کی طرف سے جو پروپیگنڈہ انھوں نے سنا، اس کو اُسی طرح مان لیا اور لوگوں کے درمیان اس کا چرچا کرنے لگے-"
        },
        {
          "para_id": "C07P07",
          "text": "سچے اہلِ ایمان کا معاملہ اِس سے مختلف تھا- سچے اہلِ ایمان کی توجہ ہمیشہ اللہ کے وعدوںاور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی بشارتوں پر ہوتی تھی- سچے اہلِ ایمان کا ذہن قرآن سے اور پیغمبر کی باتوں سے بنا تھا، نہ کہ کسی اور چیز سے- اِس بناپر سچے اہلِ ایمان کے اندر یہ بصیرت پیدا ہوچکی تھی کہ وہ منفی پروپیگنڈہ کا تجزیہ کرسکیں اور مخالفین کی باتوں سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے بنائیں-"
        },
        {
          "para_id": "C07P08",
          "text": "یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: أشداء على الکفار (48:29) یعنی وہ غیرتاثر پذیر ذہن کے مالک ہیں- وہ مخالفین کی باتوں سے آزاد ہو کر اپنی رائے بناتے ہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C07P09",
          "text": "سچے اہلِ ایمان کے اِس ذہن نے ان کے اندر یہ اتھاہ یقین پیدا کردیا تھا کہ جب وہ حق کے راستے پر چل رہے ہیں تو کوئی ان کو نقصان پہنچانے والا نہیں- اپنے اِس ذہن کی بنا پر ان کا یہ حال تھا کہ وہ دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنے کے بجائے ہمیشہ خود اپنا جائزہ لیتے رہتے ـتھے، کیوں کہ ان کو یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں، ان کو ضرور اللہ کی مدد پہنچتی رہے گی- اُن کے نزدیک اصل مسئلہ خود اپنے آپ کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا تھا، نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C08",
      "chapter_title": "مغربی تہذیب کا مسئلہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C08P01",
          "text": "امت مسلمہ کی تاریخ میں بہت سے ایسے مسئلے پیش آئے جن کو فتنہ کہاجاتا ہے- مثلاً باطنیت کا فتنہ، وحدتِ وجود کا فتنہ، انکارِ حدیث کا فتنہ، قادیانیت کا فتنہ ، وغیرہ- تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ماضی میں اِس قسم کا کوئی فتنہ پیدا ہوا تو بہت سے علما اٹھے جنھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کا بھرپور رد کیا- اس کے بعد یہ ہوا کہ بہت سے مسلمان جو ان فتنوں سے متاثر ہوئے تھے، انھوںنے ان سے توبہ کی اور وہ امت مسلمہ کی مین اسٹریم (mainstream)  میں شامل ہوگئے-"
        },
        {
          "para_id": "C08P02",
          "text": "تاریخ مزید بتاتی ہے کہ اِن موقعوں پر ایسا نہیں ہوا کہ ایک فتنہ دوبارہ ایک نئے فتنے کی شکل اختیار کرلے، یعنی جو لوگ ان فتنوں سے ذہنی طورپر متاثر ہوئے تھے، انھو ں نے اپنی اصلاح کر لی اور اربابِ فتنہ سے الگ ہوکر وہ اسلامی زندگی گزارنے لگے-"
        },
        {
          "para_id": "C08P03",
          "text": "موجودہ زمانے میں بھی اِسی قسم کا ایک ’’فتنہ‘‘ پیش آیا- یہ مغربی تہذیب کا فتنہ تھا- یہ فتنہ ابتدائی طورپر یورپ کی نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں اپنے عروج پر پہنچ گیا- اُس وقت بہت سے عرب اور غیر عرب مصلحین پیدا ہوئے جنھوں ے مغربی تہذیب کے خلاف زبان وقلم کے ذریعے جہاد شروع کیا- یہ جہاد بظاہر کامیاب رہا- بہت سے مسلم نوجوان جو مغربی تہذیب سے متاثر ہوئے تھے، وہ اس سے تائب ہوگئے-"
        },
        {
          "para_id": "C08P04",
          "text": "اِس کامیابی کا عمومی طور پر اعتراف کیاگیا- حتی کہ ان مصلحین میں سے کئی افراد ایسے تھے جن کو بڑے بڑے القاب دئے گئے- مثلاً مفکرِ اسلام، معمارِ ملت، عہد ساز شخصیت، مجدّدِ دوراں، وغیرہ-مگر واقعات بتاتے ہیں کہ قدیم فتنوں کے مقابلےمیں جدید فتنے کا معاملہ اپنے حقیقی نتیجہ (result) کے لحاظ سے بالکل مختلف ثابت ہوا، یعنی بظاہر نظری سطح پر خاتمہ کے نتیجے کے اعتبار سے وہ دوبارہ مزید اِضافے کے ساتھ زندہ ہوگیا- اِن مصلحین نے مسلمانوں کی جدید نسلوں کو یہ باور کرایا تھا کہ —  مغربی تہذیب زہریلے پھل کا ایک درخت ہے-جدید تہذیب ایک مسلم دشمن تہذیب ہے- مغربی تہذیب کے تحت پیدا شدہ تعلیمی ادارے قتل گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں- مسلمانوں کا تعلق مغربی تہذیب سے بائیکاٹ کا ہونا چاہئے، نہ کہ اس سے تعاون کا-"
        },
        {
          "para_id": "C08P05",
          "text": "ابتدائی طورپر مسلم نوجوانوں پر بظاہر ان باتوں کا اثر ہوا- مسلم نوجوان مغربی تہذیب کے علم برداروں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے- انھوں نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیا، انھوں نے مغربی اداروں میں جاب لینے سے انکار کردیا، وغیرہ- مگر بعد کو آسمان نے یہ منظر دیکھا کہ انھیں مسلم نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر یوٹرن (U turn) لیا- انھوں نے اور ان کی اولاد نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ اداروں میں ڈگریاں حاصل کیں- وہ مغربی تہذیب کے اداروں کے کارکن بن گئے- وہ بہت بڑی تعداد میں مسلم ملکوں سے ہجرت کرکے مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور وہاں سٹل (settle) ہونے پر فخر کرنے لگے-"
        },
        {
          "para_id": "C08P06",
          "text": "قدیم فتنوں اور جدید تہذیب کے فتنہ میں نتیجہ (result) کے اعتبار سے یہ فرق کیوں ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم طرز کے فتنے صرف اعتقادی فتنے تھے، مگر مغربی تہذیب کا معاملہ یہ تھا کہ دنیا کی مادی ترقی سے وہ براہِ راست جڑا ہوا تھا- مغربی تہذیب کے علم برداروں نے جو نئی دنیا بنائی، وہ مادی اعتبار سے ایک نہایت شاندار دنیا تھی- اس کے مکانات، اس کے شہر، اس کے دفاتر، اس کی سواریاں، اس کے سامانِ حیات، ہر چیز نہایت اعلی معیار کی تھی- اِسی حقیقت کو موجودہ زمانے کے ایک مسلم شاعر نے طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کیا تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C08P07",
          "text": "ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جااٹکا ہے      واں کنسٹر سب بلوری ہیں، یا ںایک پرانا مٹکا ہے"
        },
        {
          "para_id": "C08P08",
          "text": "انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے ہمیشہ ترقی کا طالب ہوتا ہے- وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے زیادہ ترقی یافتہ مستقبل دیکھنا چاہتا ہے- مغربی تہذیب میں یہ پہلو نہایت اعلی درجے میں موجود تھا- یہی وجہ ہے کہ مسلم مفکرین کی خلافِ مغرب مہم ابتداء ً نظر ی طورپر کامیاب ہو کر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مکمل طورپر ناکام ہوگئی- مسلم نوجوان ابتدائی طورپر رومانوی جذبات کے تحت جدید تہذیب کے خلاف ہوگئے، مگر بعد کو جب انھوں نے دیکھا کہ ساری ترقیاں مغربی تہذیب اور مغربی علوم سے وابستہ ہیں، تو وہ سب کچھ بھول کر اس کے اوپر ٹوٹ پڑے- جن تعلیمی اداروں کو قتل گاہ سمجھ کر انھوں نے وقتی طورپر چھوڑ دیا تھا، وہ دوبارہ اُسی میں داخل ہوئے اور انھوں نے وہاں سے ڈگریاں حاصل کیں-جن مغربی قوموں کو انھوں نے مسلم دشمن قرار دیا ، انھیں کے اداروں میں جاب لینے کو وہ اپنے لئے قابلِ فخر سمجھنے لگے- اُن کے بزرگوں نے جن مغربی ملکوں سے ہجرت کا فتوی دیا تھا، انھیں ملکوں میں واپس جاکر وہ پُرفخر طورپر آباد ہونے لگے، وغیرہ-"
        },
        {
          "para_id": "C08P09",
          "text": "اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دو حصے تھے — ایک، اس کی سائنس اور دوسرے، اس کا کلچر- مغربی سائنس حقائقِ فطرت کے انکشاف پر مبنی تھی- اُس کے اندر ذاتی طورپر غلطی کا کوئی پہلو شامل نہ تھا- حقیقت یہ ہے کہ مغربی سائنس، قرآن کی اِس آیت کی انفولڈنگ تھی: وسخّرلکم ما فی السموات وما فی الأرض جمیعا منہ (45:13)- وہ قرآن کے الفاظ میں: وآتاکم من کل ما سألتموہ کا ٹکنالوجکل اظہار تھا- وہ آفاق وانفس کی آیات کی وہ تبیین تھی جس کی پیشگی اطلاع قرآن (41:53) میں دے دی گئی تھی-"
        },
        {
          "para_id": "C08P10",
          "text": "مغربی تہذیب کا دوسرا پہلو اس کا کلچر تھا- یہ کلچر براہِ راست طورپر سائنس کی پیداوار نہ تھا، بلکہ وہ قومی اور سماجی عوامل کی پیداوار تھا- قومی اور سماجی دائرے میں خالق نے ہر انسان کو آزادی دی ہے- اِس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اس کا غلط استعمال کرے- مغربی کلچر کے جن پہلوؤں کو لے کر ہمارے علما نے اُس کے خلاف ہنگامہ آرائی کی، وہ دراصل آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا نتیجہ تھا، نہ کہ حقیقةً مغربی سائنس کا نتیجہ- اِس معاملے میں ہمارے مفکرین کو اصولِ تمییز (principle of differentiation) کو منطبق کرنا تھا، مگر وہ ایسا نہ کرسکے- نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے افراد ایک فتنے کے استیصال کے نام پر ایک شدید تر فتنے کا شکار ہوگئے، یعنی دہراپن- اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ وہ مغربی تہذیب کے پیدا کردہ مثبت مواقع کے استعمال سے محروم ہو کر رہ گئے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C09",
      "chapter_title": "فرق کا اصول",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C09P01",
          "text": "خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے کا واقعہ ہے- مسلمانوں کا مقابلہ ایرانی ایمپائر سے پیش آیا- مسلمان جب پیش قدمی کرنے لگے تو ایرانی سپہ سالار رستم نے مسلم فوج کے سردار سعد بن وقاص کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اپنا نمائندہ گفت وشنید کے لیے بھیجو - اِس موقع پر مسلمانوں کی جماعت میں سے جو لوگ رستم کے دربار میں گئے، اُن میں سے ایک ربعی بن عامر تھے- وہ دربار میں پہنچے تو رستم نے اُن سے کہا کہ تم لوگ کیوں ہمارے ملک میں آئے ہو- اِس سوال کے جواب میں ربعی بن عامر نے کہا: اللہ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلى عبادة اللہ (البدایة والنہایة، 7/39) یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تاکہ جو چاہے، اُس کو ہم انسان کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لے آئیں-"
        },
        {
          "para_id": "C09P02",
          "text": "اِس واقعے سے ایک اہم اصول اخذ ہوتاہے اور وہ ہے فرقان کا اصول، یعنی دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا- صحابی کے قول کا مطلب یہ تھا کہ تم ہم کو حملہ آور نہ سمجھو، ہم دراصل تہذیبِ توحید کے نقیب (harbinger) بن کر آئے ہیں- ہم تمھارے لیے رحمت ہیں، نہ کہ کوئی مسئلہ-"
        },
        {
          "para_id": "C09P03",
          "text": "انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب نوآبادیاتی غلبہ کا دور آیا تو مسلم دنیا کے تمام رہنما، علما اور غیر علما دونوں اُن سے لڑنے کے لیے تیار ہوگئے- اِس لڑائی میں انھوں نے غیر معمولی قربانیاں پیش کیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیںنکلا- مسلم رہنما اگر صحابی رسول کی اِس مثال سے سبق لیتے اور اس کو موجودہ صورتِ حال پر منطبق کرتے اور وہ کہتے کہ یہ نوآبادیاتی قومیں سادہ طورپر صرف حملہ آور نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger of a new civilization) ہیں- ہم کو چاہئےکہ ہم اُن سے لڑنے کے بجائے، اُن سے نئے ترقیاتی ذرائع کو سیکھیں- ہمارے رہنما اگر اِس طرح ایک پہلو کو دوسرے پہلو سے الگ کرکے دیکھتے اور اِس کے مطابق، وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرتے تو آج امتِ مسلمہ کی تاریخ مختلف ہوتی- آج مسلمان شکر کرنے والا گروہ ہوتے، جب کہ آج مسلمان صرف شکایت اور احتجاج کرنے والا گروہ بنے ہوئے ہیں-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C10",
      "chapter_title": "دورِ جدید موافقِ اسلام دور",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C10P01",
          "text": "آج اسلام شدید خطرے میں ہے، وہ عصری طوفانوں کی زد میں ہے— یہ بات موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلمان مختلف انداز میں دہرا رہے ہیں، مگر یہ بات جتنی زیادہ دہرائی جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ وہ بے اصل ہے- جو لوگ یہ باتیں کہتے ہیں، ان کے بارے میں یقینی طورپر کہاجاسکتا ہے کہ وہ نہ اسلام کو سمجھتے ہیں اورنہ عصری تقاضوں کو-اِس جملے میں پہلی غلطی یہ ہے کہ اس میں اسلام اور مسلم قوم دونوں کو ایک سمجھ لیاگیا ہے- موجودہ زمانے میں اگر بالفرض کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف مسلم قوم کے لیے ہے- جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں، کیوں کہ اسلام ایک دین ِ محفوظ ہے، اللہ نے خوداس کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے، اور جس دین کا محافظ خود اللہ تعالی ہو، اس کے لیے خطرے کاکوئی سوال نہیں- اِس واقعے کا ایک عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، اتنی زیادہ سرگرمی اِس سے پہلے کبھی موجود نہ تھیں-"
        },
        {
          "para_id": "C10P02",
          "text": "یہی معاملہ دورِ جدید کا ہے- دور جدید اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک موافقِ اسلام دور ہے، نہ کہ مخالفِ اسلام دور- دور جدید کو مخالفِ اسلام دور بتانا، صرف اِس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دورِ جدید کی الف ب بھی نہیں جانتا- ایسا آدمی دراصل مسلم قومی ذہن کے تحت سوچ رہا ہے اور غلط فہمی کی بنا پر اس کو وہ اسلام کے اوپر منطبق کررہا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C10P03",
          "text": "دورِ جدید کیا ہے، دورِ جدید عقلی طرز فکر (rational thinking) کا نام ہے، اور عقلی طرز فکر مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے- دورِ جدید مذہبی آزادی کا دور ہے، اور مذہبی آزادی مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے- دورِ جدید کمیونکیشن کا دور ہے، اور کمیونکیشن مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے- دورِ جدید پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مکمل طورپر اسلام کے لیے مفید ہے، وغیرہ- ایسی حالت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دورِ جدید کے موافقِ اسلام پہلوؤں کو دریافت کرکے اس کو اسلام کےحق میں استعمال کریں-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C11",
      "chapter_title": "دورِ فتنہ کی واپسی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C11P01",
          "text": "عبد اللہ بن زبیر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان آپس میں جنگ ہوئی- اُس زمانے میں مشہور صحابی عبد اللہ بن عمر (وفات: 73ہجری) موجود تھے، لیکن انھوں نے اِس جنگ میں حصہ نہیں لیا- اُس زمانے کا ایک واقعہ کتابوں میں اِس طرح آیا ہے: سعید بن جبیر تابعی کہتے ہیں کہ ایک دن عبد اللہ بن عمر ہمارے پاس آئے- ایک آدمی نے اُن سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے فتنہ کے خلاف جنگ کے معاملے میں- عبد اللہ بن عمر نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے- پھر انھوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے جنگ کرتے تھے، اور مشرکوں کے یہاں جانا فتنہ تھا، نہ کہ تمھاری طرح اقتدار کے لیے جنگ کرنا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4651)"
        },
        {
          "para_id": "C11P02",
          "text": "ایک اور روایت میں اِس طرح کے الفاظ آئے ہیں: نافع تابعی کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں دو آدمی عبد اللہ بن عمر کے پاس آئے - انھوں نے کہا کہ لوگ ہلاک ہورہے ہیں اور آپ عمر بن الخطاب کے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں- آپ کو کیا چیز اِس سے روک رہی ہے کہ آپ نکلیں اور اِس جنگ میں شریک ہوں- عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون میرے لیے حرام قرار دیا ہے- پھر اُن آدمیوں نے کہا: کیا اللہ نے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ: وقاتلوہم حتى لا تکون فتنة (8:39) یعنی اُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- اِس کے بعد عبد اللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ(ہم نے جنگ کی، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوگیا اور دین، اللہ کے لیے ہوگیا- اور تم لوگ چاہتے ہو کہ تم جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ لوٹ آئے اور دین دوبارہ غیر اللہ کے لیے ہو جائے)- صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4513"
        },
        {
          "para_id": "C11P03",
          "text": "نافع تابعی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبد اللہ بن عمر کے پاس آیا- اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ خدا نے اپنی کتاب میں یہ کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دوگروہ آپس میں لڑیں تو تم اُن کے درمیان صلح کراؤ(49:9)- آپ کو اِس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ وہ جنگ کریں جس کا حکم اللہ نے اپنی کتاب میں دیا ہے-عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ تم مجھ کو اِس آیت سے غیرت دلاتے ہو کہ مجھ کو لڑنا چاہئے، مگر مجھ کو یہ زیادہ محبوب ہے کہ تم مجھ کو اُس آیت سے غیرت دلاؤ جس میں اللہ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا(4:93)- اُس آدمی نے کہا کہ اللہ نے تو کہا ہے کہ تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ وہ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کرچکے- یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ اسلام قلیل تھا، چناں چہ آدمی اپنے دین کی وجہ سے ستایا جاتا تھا- لوگ یا تو اہلِ دین کو قتل کردیتے تھے یا وہ اس پر زیادتی کرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور فتنہ باقی نہ رہا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4650 )"
        },
        {
          "para_id": "C11P04",
          "text": "اِس روایت میں ’’وکان الدخول علیہم فتنة‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی مشرکین کے یہاں جانا ایک فتنہ تھا- یہ جانے والے کون لوگ ہوتے تھے- یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو موحد اور داعی تھے- جب وہ مشرکین کے یہاں موحد کی حیثیت سے اور توحید کے داعی کی حیثیت سے جاتے تو مشرکین اُن کو طرح طرح سے ستاتے تھے، کیوں کہ توحید کا عقیدہ مشرکین کے عقیدہ شرک کے خلاف تھا- اِس کا سبب یہ تھا کہ اُس زمانے میں مذہب، سیاسی اقتدار کا ایک حصہ بنا ہوا تھا- اِسی واقعے کو ایک قدیم مقولے میں اِس طرح کہاگیا ہے: الناس على دین ملوکہم (لوگ اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتے ہیں)-"
        },
        {
          "para_id": "C11P05",
          "text": "قدیم زمانے میں مذہب، ریاست (state) سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا- جو آدمی بادشاہ کے مذہب پر ہو، وہ ریاست کا وفادار سمجھا جاتا تھا، اور جو آدمی ریاست کے مذہب پر نہ ہو، وہ ریاست کا باغی قرار پاتا تھا- شرک اور اقتدار کے اِس تعلق کی بنا پر قدیم زمانے میں وہ چیز پیداہوئی جس کو قرآن میں فتنہ کہاگیا ہے، یعنی مذہبی جبر(religious persecution) - یہ فتنہ یا مذہبی جبر خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف تھا- خدا کی منشا یہ ہے کہ لوگوں کو مذہب کے معاملے میں آزادئ اختیار (freedom of choice) حاصل ہو، تاکہ اُس کے مطابق، آخرت میں اُن کے مثبت یا منفی مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے- اِس بنا پر اللہ تعالی نے رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا کہ اہلِ شرک اگر پُرامن نصیحت کے ذریعے مذہبی جبر کے اِس کلچر کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوں تو تم جنگ کرکے اِس کلچر کو ختم کردو، تاکہ انسان کو اختیار کی آزادی حاصل ہوجائے، جو کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، لازمی طورپر مطلوب ہے-قرآن کے الفاظ (8:39)پر غور کیا جائے تو یہ حکم صرف استیصالِ فتنہ کے لیے تھا، وہ کسی قسم کے نظام (system) کی اقامت یا نفاذ کے لیے نہ تھا، یعنی یہ حکم سلبی معنوں میں تھا، نہ کہ ایجابی معنوں میں- اِس کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی آزادی کی راہ میں جو رکاوٹ حائل ہے، وہ ختم ہوجائے- اِس کے بعد یہ آدمی کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کی اطاعت کے لیے استعمال کرتا ہے، یا خدا سے انحراف کے لیے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P06",
          "text": "فتنہ ابن زبیر میں شریک ہونے والوں سے عبد اللہ بن عمر نے کہا تھا کہ: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ- اِس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ قرآن میں جنگ کا حکم صرف ایک مقصد کے لیے دیاگیا تھا اور وہ تھا مذہبی تعذیب (religious persecution) کو ختم کرنے کے لیے، اور اصحابِ رسول نے جنگ کرکے اس کو ختم کردیا- اب تم لوگ قرآن کی اِس آیت کے نام پر اقتدار کی جنگ کررہے ہو، جس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ دنیا میں مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب (political persecution)  کا دور آجائے- یہ اصلاح کے نام پر صرف فساد ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا-"
        },
        {
          "para_id": "C11P07",
          "text": "عبد اللہ بن عمر کے اِس قول کو ایک حدیث کی روشنی میں سمجھئے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو انتباہ دیتے ہوئے فرمایا تھا:  إذا وضع السیف فی أمتی، لم یرفع عنہا إلى یوم القیامة (الترمذی، رقم الحدیث:      2202) یعنی جب میری امت میں تلوار داخل ہوجائے گی تو وہ اُس سے قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی-"
        },
        {
          "para_id": "C11P08",
          "text": "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیشین گوئی کی زبان میں اُس صورتِ حال کی خبر ہے جو بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت بڑے پیمانے پر ایک واقعہ بن گئی- تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے تقریباً 25  سال بعد مسلمانوں کے درمیان’’اصلاحِ سیاست‘‘ کے نام پر باہمی جنگ کا آغاز ہوا- اِس کو قدیم اصلاح کے مطابق، ’’خروج‘‘ کہاجاتا ہے- تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ سیاسی جنگ ایک بار شروع ہونے کے بعد دوبارہ کبھی ختم نہ ہوئی- ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ جنگ امت مسلمہ کے اندر جاری ہے، کبھی ایک صورت میں اور کبھی دوسری صورت میں-"
        },
        {
          "para_id": "C11P09",
          "text": "تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان مذہب کے نام پر سیاست شروع ہوگئی- یہ طریقہ بلاشبہ اسلام کی اصل تعلیمات سے انحراف تھا- اگر اِس طریقے کو اسلام کا مطلوب طریقہ قرار دیا جائے تو کوئی کہنے والا جائز طورپر یہ کہہ سکتا ہے کہ —  اسلام نے مذہبی تعذیب کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسلام نے مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب کا طریقہ رائج کردیا-اِس طرح یہ ہوا کہ مذہبی تعذیب کا دور ختم ہوگیا، لیکن اس کی جگہ شدید تر انداز میں سیاسی تعذیب کا د ور انسانی تاریخ میں واپس آگیا- یہ دوسرا دور اب تک جاری ہے—  اِس پورے دور کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ الفاظ (إذا وضع السیف فی أمتی الخ)  لفظ بلفظ درست ثابت ہوئے ہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C11P10",
          "text": "اصل یہ ہے کہ قدیم مذہبی تعذیب صرف جبر کے زور پر قائم تھی، اُس کی پشت پر کوئی فلسفہ یا نظریہ موجود نہ تھا، اس لیے اُس کو ختم کرنا آسان تھا، مگر بعد کے زمانے میں سیاسی تعذیب کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کے ساتھ ایک مبرَّر (justification) موجود تھا- اُس کو اسلامی طورپر جائز کردہ تعذیب (Islamically justified persecution) کہاجاسکتا ہے- بعد کے دور میں پیدا ہونے والے تشدد کا یہی وہ نظریاتی پہلو ہے جس کی بنا پر اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ شروع ہونے کے بعد وہ پھر کبھی ختم نہ ہوسکا-اِس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ قدیم طرز کا فتنہ صرف سیاسی جبر کا ایک فتنہ تھا، اُس کو جنگ کے ذریعے ختم کیا جاسکتا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والا فتنہ ایک نظریاتی فتنہ ہے، اس کو جنگ کے ذریعے ختم کرنا ممکن نہیں- اُس کو ختم کرنے کے لیے ایک طاقت ور جوابی نظریہ (counter ideology) درکار ہے- کوئی بھی دوسری تدبیر اِس دوسرے فتنے کو ختم کرنے کے لیے موثر (effective) نہیں ہوسکتی-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C12",
      "chapter_title": "بچوں کی تربیت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C12P01",
          "text": "ایک مغربی ملک میں مقیم ایک مسلم خاندان نے اِس کا اظہار کیا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے کچھ دنوں کے لیے آکر ہمارے یہاں ٹھہریں اور ہم سے اسلامی تربیت حاصل کریں- میں نے اِس تجویز کو رد کردیا- میرے نزدیک یہ تربیت کا ایک مصنوعی طریقہ ہے- اس دنیا میں کوئی بھی نتیجہ خیز کام صرف فطری طریقے کے مطابق، انجام پاتا ہے- غیر فطری طر یقہ کسی بھی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C12P02",
          "text": "اِس سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے- اپریل 1981 میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے تحت میں بار بیڈوز (Barbados)گیا تھا- اِس سلسلے میں وہاں کے مقیم مسلمانوں نے ایک مسجد میں میرا پروگرام رکھا- ایک صاحب اپنے ایک بچے کو اپنے ساتھ لے کر وہاں آئے- یہ بچہ جو تقریباً 12 سال کا تھا، وہ اصل اجتماع کے باہر ایک مقام پر اِس طرح بیٹھا کہ اس کی پیٹھ میری طرف تھی اور اس کا چہرہ دوسری طرف- ایک شخص نے اُس سے کہا کہ تم اِس طرح کیوں بیٹھے ہو، اندر چل کر لوگوں کے ساتھ بیٹھو- لڑکے نے نہایت بے پروائی کے ساتھ جواب دیا — می ناٹ (me not) یعنی مجھے اِس سے کوئی مطلب نہیں ہے-یہ واقعہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم خاندانوں کے لیے ایک علامتی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے- آج کل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ محنت کرکے کماتے ہیں اور پھر محبت کے نام پر اپنی کمائی کا بڑا حصہ بچوں پر خرچ کرتے ہیں- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محبت نہیں ہے، بلکہ وہ لاڈپیار (pampering) ہے- اور یہ ایک واقعہ ہے کہ بچوں کو بگاڑنے کا سب سے بڑا سبب یہی لاڈ پیار ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C12P03",
          "text": "کسی بچے کا ابتدائی تقریباً 10سال وہ ہے جس کو، نفسیاتی اصطلاح میں، تشکیلی دور (formative period) کہاجاتا ہے- یہ تشکیلی دوربے حد اہم ہے، کیوں کہ اِس تشکیلی دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ بے حد اہم ہے- یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے- اِسی حقیقت کو ایک عربی مقولے میں اِس طرح بیان کیاگیا ہے: من شَبَّ على شیئ شاب علیہ (آدمی جس چیز پر جوان ہوتاہے، اُسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے)-"
        },
        {
          "para_id": "C12P04",
          "text": "لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تشکیلی دور (formative period) میں نام نہاد محبت کے ذریعے بچوں کو بگاڑ دیتے ہیں- دوسرے لفظوں میں یہ کہ آج کل کے تمام والدین اپنے بچوں کو می ناٹ بچے (me not children) بنادیتے ہیں- اس کے بعدوہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کرشمہ ساز تربیتی طریقے (charismatic method of training) کے ذریعے اصلاح یافتہ بن جائیں-"
        },
        {
          "para_id": "C12P05",
          "text": "میرے تجربے کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں- اِس معاملے میں اگر کوئی باپ زیادہ سے زیادہ سوچ پاتا ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ اپنے بیٹے کو گول ٹوپی اور اپنی بیٹی کو اسکارف پہنا دے اور پھر خوش ہو کہ اُس نے اپنی اولاد کو اسلامی تربیت سے مزیّن کردیا ہے- تاہم اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ ہو تو اس کے لیے میں چند عملی مشورے یہاں درج کروں گا-"
        },
        {
          "para_id": "C12P06",
          "text": "1-  محبت کے نام پر لاڈ پیار (pampering) کو وہ اِس طرح چھوڑ دیں جیسے وہ کسی حرام کو چھوڑتے ہیں- محبت کے نام پر جو لاڈ پیار کیا جاتا ہے، اُس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کے حقائق (realities)  سے بالکل بے خبر کردیتا ہے- اِس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بچے کے اندر حقیقت پسندانہ طرز فکر (realistic approach) نشو ونما نہیں پاتا- مزید یہ کہ اِس کے نتیجے میں بچے کے اندر ایک خود پسند شخصیت (self-centered personality) تشکیل پاتی ہے، جو کسی آدمی کے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر میں بلا شبہہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C12P07",
          "text": "2-  اِس سلسلے میں یہ بات بہت زیادہ قابلِ لحاظ ہے کہ بچے کی عمر کا ابتدائی تشکیلی دور ماں باپ کے ساتھ گزرتا ہے- اِس دور میں بچے کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ ہمیشہ بدستور اس کے اندر باقی رہتی ہے- والدین کو جاننا چاہیے کہ اِس ابتدائی تشکیلی د ور میں اگر انھوں نے بچے کی تربیت میں غلطی کی تو بعد کے زمانے میں اس کی تلافی کبھی نہ ہوسکے گی- بعد کے زمانے میں ایسے کسی شخص کی اصلاح کی صرف ایک ممکن صورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اس کو شدید نوعیت کا کوئی ہلادینے والا تجربہ (shocking experience) پیش آئے جو اس کے لیے ایک نقطہ انقلاب (turning point) بن جائے، مگر بہت کم لوگوں کو اِس قسم کا ہلادینے والا تجربہ پیش آتا ہے، اور ایسا ہلادینے والا تجربہ مزید نادر (rare) ہے، جب کہ وہ آدمی کے لیے مثبت انقلاب کا سبب بن جائے-"
        },
        {
          "para_id": "C12P08",
          "text": "3-  اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے والدین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہمارے یہاں کا مطبوعہ لٹریچر اہتمام کے ساتھ پڑھوائیں، صرف ایک بار نہیں، بلکہ بار بار- اِسی کے ساتھ وہ کوشش کریں کہ اُن کے بچے ہمارے یہاں کے تیار شدہ آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ دیکھیں اور سنیں- مزید یہ کہ دہلی میں ہونے والا ہمارا ہفتے وار لکچر کا پروگرام پابندی کے ساتھ سنیں جو کہ ہر سنڈے کی صبح کو انڈین ٹائم کے اعتبار سے ساڑھے دس بجے شروع ہوتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتاہے-"
        },
        {
          "para_id": "C12P09",
          "text": "4-  یہ لازمی نوعیت کا ابتدائی پروگرام ہے- جو والدین اپنے بچوں کی اصلاح وتربیت کے خواہش مند ہوں، اُن کو لازماً اِسے اختیار کرنا چاہئے- اگر وہ اِس کو اختیار نہ کریں تو کوئی بھی جادوئی تدبیر بچوں کی اصلاح کے لیے کار آمد نہیں ہوسکتی-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C13",
      "chapter_title": "بے فائدہ عمل",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C13P01",
          "text": "امریکا کی ایک کمپنی نے ایک فلم بنائی- اِس فلم کا نام تھا — مسلمانوں کی معصومیت (Innocence of Muslims)- ستمبر 2012 میں اِس فلم کا ایک مختصر حصہ انٹرنیٹ پر ڈال دیاگیا- کچھ مسلمانوں نے اس کو دیکھا- پھر مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر اس کا چرچا ہوا- مسلمانوں نے کہا کہ اِس فلم میں پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی ہے- اِس پر ساری دنیا کے مسلمان بھڑک اٹھے اور مختلف ملکوںمیں وہ اس فلم کے خلاف پرشور مظاہرے کرنے لگے- اِن مظاہروں کے درمیان جان ومال کا شدید نقصان ہوا-"
        },
        {
          "para_id": "C13P02",
          "text": "نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 ستمبر 2012) میں ایک رپورٹ چھپی ہے- اِس رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے — حقیقت یہ ہے کہ کچھ ہی لوگوں نے اِس فلم کو چند منٹ سے زیادہ دیکھا ہوگا، اور یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ یہ فلم کبھی مکمل کی جاتی- لیکن اس کا تھوڑا سا حصہ جو آن لائن کیاگیا، اس میں اتنا بھونڈا پن اور مصنوعیت ہے کہ کوئی بھی اس کو سنجیدگی سے نہ لیتا، مگر مسلمانوں کے مظاہروں نے اس فلم کو عالمی طورپر شہرت دے دی:"
        },
        {
          "para_id": "C13P03",
          "text": "In fact, few people have seen more than a few minutes of the film, and there are doubts if it was even completed. But the little that is online is so crude and contrived that it was not even taken seriously till Islamist mobs made it world-famous. (p. 26)"
        },
        {
          "para_id": "C13P04",
          "text": "اِس طرح کے فتنے کو قرآن میں شجرِ خبیثہ (14:26) کہا گیا ہے، یعنی وہ فتنہ جو اپنے آپ مرجانے والا ہو- ایسے فتنے کے بارے میں دانش مندی یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کردیا جائے- جو فتنہ اپنے آپ مرجانے والا ہو، اس کو مارنے کی کیا ضرورت- مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان بار بار اِس قسم کی بے دانشی کا شکار ہورہے ہیں-یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت عمر فاروق نے اِن الفاظ میں بیان فرمایا: أمیتوا الباطل بالصمت عنہ -یعنی باطل کو ہلاک کرو اُس کے بارے میں چپ رہ کر-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C14",
      "chapter_title": "شتمِ رسول کا مسئلہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C14P01",
          "text": "ستمبر 2012 میں امریکا میں ایک فلم بنائی گئی- اِس فلم کا نام تھا —  انوسنس آف مسلمس- اِس فلم میں ایسے مناظر دکھائے گئے تھے جو مسلمانوں کی نظر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ’’گستاخی‘‘کے ہم معنی تھے- اِس کے بعد دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے- شرق سے غرب تک، ہر جگہ اس کے خلاف پرشور احتجاج ہونے لگا- ہر جگہ دھوم کے ساتھ جذباتی مظاہرے اور تقریریں کی گئیں- اِن مواقع پر مسلمان جگہ جگہ اپنے مظاہروں کے دوران جو پلے کارڈ (placard) بلند کیے ہوئے تھے، اُن ;کی نوعیت کا اندازہ اُن پر لکھے ہوئے حسب ذیل الفاظ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C14P02",
          "text": "Obama, Obama, we like Osama!"
        },
        {
          "para_id": "C14P03",
          "text": "Behead all those who insult the Prophet!"
        },
        {
          "para_id": "C14P04",
          "text": "Insulting the Prophet is insulting 1.5 billion Muslims!"
        },
        {
          "para_id": "C14P05",
          "text": "The Prophet is dearer to us than our lives!"
        },
        {
          "para_id": "C14P06",
          "text": "اِس سلسلے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں جو پرشور مظاہرے کئے گئے، اُن میں سےایک پاکستان کا وہ مظاہرہ تھا جو 28 ستمبر 2012 کو ’’یومِ عشقِ رسول‘‘ کے طور پر منایا گیا- اِس واقعے کی رپورٹ لاہور کے ہفت روزہ سنڈے میگزین نوائے وقت (30 ستمبر 2012) میں شائع ہوئی ہے- اِس رپورٹ کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں: ’’پاکستانی قوم نے جمعہ کو یومِ عشقِ رسول منایا- گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف ’’یومِ عشقِ رسول‘‘ پر عوامی رد عمل کے دوران غیر معمولی توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات ہوئے-اِن پر تشدد واقعات میں صرف جمعہ کو 32 افراد جاں بحق ہوئے اور 200سے زائد افراد زخمی ہوئے- کراچی میں 5 سینما گھر، تین بینک اور لاتعداددکانیں لوٹنے کے بعد جلا دی گئیں، گاڑیوں کو توڑا گیا، لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے، 4 پولیس موبائلیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی جلا دی گئیں- اس دوران اسپتالوں پر بھی حملے کئے گئے اور اربوں روپیے کی املاک دھوئیں کی نذر ہوگئیں‘‘-  (صفحہ:  4)"
        },
        {
          "para_id": "C14P07",
          "text": "’’گستاخی رسول‘‘کے سوال پر اِس طرح کے پرتشدد واقعات مسلمانوں کی طرف سے ہر جگہ ہورہے ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی- اِن واقعات کی رپورٹ برابر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں آرہی ہے- اِس صورتِ حال کو دیکھ کر ساری دنیا میںایک سوال کیا جارہا ہے، وہ یہ کہ —  پُر امن گستاخی کے جواب میں مسلمان خود پرتشدد گستاخ کیوں بن جاتے ہیں، رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ وہ اِس قسم کی ایک کتاب شائع کرتا ہے، یا اخبار میں ایک کارٹون چھاپ دیتاہے، یا ایک فلم بنا کر اس کو انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے- یہ اگر گستاخی ہے تو وہ یقینی طور پر ایک پرامن گستاخی ہے، لیکن اس کے جواب میں مسلمان جو کچھ کرتے ہیں، وہ مبیّنہ طورپر ایک پرتشدد رد عمل یا پرتشدد گستاخی کا معاملہ ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P08",
          "text": "پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی شریعت دی ہے، اُس میں واضح طورپر اِس طرح کے معاملات میں ایک اصول بتایا گیا ہے ، وہ اصول قِصاص(2:178) کا اصول ہے، یعنی برابر کا بدلہ (equal retribution)- قصاص کی تعریف (definition) قرآن میں اِن الفاظ میں دی گئی ہے:  وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ، ولئن صبرتم لہو خیر للصابرین(16:126)- تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمھارے ساتھ کیا گیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں: وجزاء سیّئةٍ سیّئةٌ مثلہا، فمن عفا وأصلح فأجرہ على اللہ، إنہ لا یحب الظلمین(42:40) یعنی برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، پھر جس نے معاف کردیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے- بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا-"
        },
        {
          "para_id": "C14P09",
          "text": "قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے معاملے میں اہل ایمان کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option)  ہے —   ایک، عفو اور صبر کا آپشن اور دوسرا، قصاص کا آپشن- اِس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے اِنھیں دو میں سے ایک کا آپشن جائز ہے، اس کے سوا کوئی تیسرا آپشن لینااُن کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں-قتل کے معاملے میں اسلامی شریعت کا ایک مسلّمہ قانون یہ ہے کہ زمانہ جنگ میں بھی صرف مقاتل(combatant) کو مارا جائے گا، غیر مقاتل (non-combatant) کو مارنا جنگ کے زمانے میں بھی جائز نہیں- ایسی حالت میں اسلام کیسے اجازت دے سکتاہے کہ امن کی حالت میں غیر مقاتل یا پرامن افراد کو مارا جائے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P10",
          "text": "عفو اور صبر کے آپشن کا مطلب یہ ہے کہ آپ پیش آمدہ معاملے پر رد عمل کی نفسیات کے تحت نہ سوچیں، بلکہ اصلاح کی نفسیات کے تحت سوچیں- آپ یہ سوچیں کہ جو شخص اِس ’’گستاخی‘‘ میں ملوث ہوا ہے، وہ بھی ایک انسان ہے- اس کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہوتی ہے- اِس لیے آپ ہمدردانہ انداز میں اس کی فطرت کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں- ہوسکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہوجائے اور وہ توبہ کرکے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوجائے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P11",
          "text": "اِس معاملے میں دوسرا آپشن وہ ہے جس کو قرآن میں قصاص کہا گیا ہے- یہ ثانوی درجے کا آپشن ہے- اِس کی حیثیت صرف ایک قانونی جواز کی ہے- جہاں تک اسوہ رسول کا معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طرح کے معاملے میں ہمیشہ عفو اور صبر اور اصلاح کے طریقے کو اختیار فرمایا، کیوں کہ یہی طریقہ عزیمت اور خُلقِ عظیم کا طریقہ ہے- جیسا کہ اِس سلسلہ کلام کے تحت اگلی آیت میں ارشاد ہوا ہے:  ولمن صبر وغفر إن ذلک لمن عزم الأمور (42:43) یعنی جس شخص نے صبر کا طریقہ اختیار کیا اور معاف کردیا، تو بے شک یہ بڑی عزیمت کے اوصاف میں سے ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P12",
          "text": "جراحت (harm) کی دو قسمیں ہیں — ایک، جسمانی جراحت (physical harm)  اور دوسرے، نفسیاتی جراحت(psychological harm) - دونوں قسم کی جراحتوں کی نوعیت ایک دوسرےسے مختلف ہے- قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں ہمارے لیے دو آپشن ہیں—  قصاص،  اورعفو-"
        },
        {
          "para_id": "C14P13",
          "text": "جیسا کہ عرض کیاگیا ، قصاص کا مطلب ہے: برابر کا بدلہ لینا، یعنی جتنا کسی نے کیا ہے، ٹھیک اتنا ہی اس کے ساتھ کرنا- اِس کے مقابلے میں، عفو کا مطلب ہے: یک طرفہ طورپر صبر کرلینا، نہ کوئی عملی کارروائی کرنااور نہ زبان سے اس کے خلاف شکایت یا احتجاج کے الفاظ بولنا- گویا اسلامی تعلیم کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں اہلِ ایمان کے لیے دو آپشن ہیں، لیکن نفسیاتی جراحت کی صورت میں اُن کے لیے صرف ایک آپشن ہے، اور وہ صبر کا آپشن ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P14",
          "text": "قصاص کا اصول"
        },
        {
          "para_id": "C14P15",
          "text": "جیسا کہ عرض کیا گیا ، اِس طرح کے معاملے میں قصاص کا آپشن ثانوی آپشن ہے- اگر مسلمانوں کو قصاص کا آپشن لینا ہے تو لازمی طورپر انھیں یہ کرنا ہوگا کہ وہ فریقِ ثانی کے ساتھ برابر کا معاملہ کریں، یعنی یہ کہ جتنا کسی نے کیا ہے، مسلمان بھی اس کے خلاف اتنا ہی کریں- اگر کسی شخص نے ایک کتاب چھاپی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک کتاب شائع کریں- کسی نے اگر کوئی قابلِ اعتراض آرٹکل یا کارٹون چھاپا ہے تو اس کے جواب میں مسلمان بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے ایک اور آرٹکل چھاپیں- اگر کسی نے اسٹیج پر ایک تقریر کی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں اسٹیج پر ایک تقریر کریں- اگر کسی نے ایک اخباری بیان دیا ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک مدلل اخباری بیان دیں- مسلمان اگر اِس طرح کے معاملے میں پیغمبر کے اسوہ کے مطابق، عفو وصبر کا طریقہ اختیار نہیں کرسکتے تو اسلامی شریعت کے مطابق، اُن کو صرف یہ حق ہے کہ وہ قلم کا جواب قلم سے دیں اور تقریر کا جواب تقریر سے دیں- اِس کے برعکس، قلم کا جواب پرتشدد مظاہرہ کے ذریعے دینا یا پر امن اعتراض کے جواب میں توڑ پھوڑ کرنا ایک ایسا فعل ہے جو بلاشبہہ حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہے-رسول اور اصحاب رسول کی مثال سے یہی طریقہ ثابت ہوتا ہے- جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مخالفین نے بہت بڑے پیمانے پر وہ سب کچھ کیا جس کو ’’شتمِ رسول‘‘ کہاجاتا ہے، مگر رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اس کے جواب میں احتجاج اور ہنگامے کا طریقہ اختیار نہیں کیا- اِس کے برعکس جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ حسان بن ثابت انصاری اپنے اشعار کے ذریعے سے اس کا جواب دیتے تھے- واضح ہو کہ اُس زمانے میں شاعری کا وہی درجہ تھا جو موجودہ زمانے میں صحافت کا درجہ ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P16",
          "text": "پرامن احتجاج"
        },
        {
          "para_id": "C14P17",
          "text": "کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ احتجاج (protest)    ہمارا ایک مسلّمہ حق ہے، اِس لیے مسلمانوں کو لازماً اِس طرح کے واقعات پر احتجاج کرنا چاہئے، البتہ یہ ضروری ہے کہ اُن کا یہ احتجاج پرامن ہو- مگر یہ شرط ایک ایسی شرط ہے جو عملاً کبھی پوری ہونے والی نہیں- عوامی احتجاج میں دو میں سے ایک برائی کا پیش آنا یقینی ہے، یا تو وہ بظاہر پر امن احتجاج کسی مرحلے میں پہنچ کر لوگوں کو مشتعل کردے گا اور پر امن احتجاج فوراً ہی پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہوجائے گا- آغاز میں بظاہر وہ ایک پرامن احتجاج کی حیثیت سے شروع ہوگا، لیکن آخر میں وہ توڑ پھوڑ اور فساد اور تخریب کی شکل اختیار کرلے گا، جس کی ایک مثال پاکستان کے مذکورہ احتجاجی واقعے میں نظر آتی ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P18",
          "text": "اگر بالفرض کوئی احتجاج واقعةً پرامن احتجاج ہو، وہ اول سے آخر تک امن کی شرط پر قائم رہے، تب بھی عملاً وہ ایک فساد کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں وہ سنگین برائی پیدا ہوتی ہے جس کو باہمی نفرت کہاجاتا ہے، اور نفرت بلاشبہ ایک منفعل تشدد (passive violence) ہے- یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد اگر ایک بم ہے تو نفرت ایک ٹائم بم (time-bomb) -"
        },
        {
          "para_id": "C14P19",
          "text": "احتجاج کا حق"
        },
        {
          "para_id": "C14P20",
          "text": "’’شتمِ رسول‘‘ کے مسئلے پر ساری دنیا کے مسلمان پُر شور احتجاج (protest)  کررہے ہیں- اِس پُر شور احتجاج کے جواز کے لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ — حقوقِ انسانی (human rights) کے مسلّمہ اصول کے تحت احتجاج ہمارا ایک جائز حق ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P21",
          "text": "سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنا کوئی سادہ بات نہیں- گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا- مسلمان آج جس طرح کے واقعات پر جگہ جگہ احتجاجی جلوس نکالتے ہیں، اُس طرح کےناخوش گوار واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر موجود تھے- مثلاً مقدس کعبہ میں مشرکین کی طرف سے سیکڑوں کی تعداد میں بتوں کا نصب کیا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے طورپر، نعوذ باللہ، مذمَّم اور مجنون کہنا، وغیرہ- مگر حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا- رسول اور اصحابِ رسول کے اِس ثابت شدہ عمل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احتجاج کا طریقہ یقینی طور پر اسلام کا طریقہ نہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C14P22",
          "text": "پھر احتجاج کا طریقہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کہاں سے ملا- یہ طریقہ انھوں نے حقوقِ انسانی کی جدید شریعت سے اخذ کیا ہے-یہ انسانی شریعت کی ایک دفعہ ہے جس کو 1948میں اقوامِ متحدہ کے یونی ورسل ڈیکلریشن (universal declaration)  کے ذریعہ وضع کیا گیا -"
        },
        {
          "para_id": "C14P23",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں — ایک ہے، حبل اللہ کے تحت جینا، اور دوسرا ہے، حبل الناس کے تحت جینا (3:112)- حبل اللہ کے تحت زندگی کا حق ملنا کسی امت کی مطلوب حالت ہے، اور حبل الناس کے تحت زندگی کا حق ملنا سرتا سر غیر مطلوب حالت- قرآن میں حبل اللہ اور حبل الناس کے الفاظ کسی امت کی دو مختلف حالتوں کو بتانے کے لیے آئے ہیں- امت کی ایک حالت وہ ہے جب کہ اس کے اندر خوفِ خدا کی روح موجودہو اور وہ اپنے عمل کا نقشہ حبل اللہ، بالفاظِ دیگر، خدائی تعلیمات (قرآن وسنت) سے اخذ کرے، اور حبل الناس کا مطلب یہ ہے کہ امت بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی ہو اور اتباعِ شہوات (19:59)کی بنا پر وہ اپنے عمل کا نقشہ تعلیمات الہی سے اخذ کرنے کے بجائے انسان کے وضع کردہ ضابطوں سے اخذ کرنے لگے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P24",
          "text": "حبل اللہ اور حبل الناس کی اِس قرآنی تقسیم کے مطابق دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنی زبان سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ اِس معاملے میں وہ حبل اللہ پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ حبل الناس پر قائم ہیں- وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی احتجاجی روش کا جواز حبل اللہ میں نہ پاکر اس کو حبل الناس سے اخذ کررہے ہیں، اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ یہ کررہے ہیں کہ اپنی غیر اسلامی روش کے لیے وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس کا حوالہ دے رہے ہیں، جو کہ ان کی قومی خواہشات کے مطابق ہے- یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباعِ شہوات کہاگیا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P25",
          "text": "یہ کوئی سادہ بات نہیں- آپ قرآن کی مذکورہ آیت (3:112) کا مطالعہ کیجئے اور دیکھئے کہ اس میں کس گروہ کے بارے میں یہ کہا گیاہے کہ وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس سے اپنے لیے زندگی کا حق حاصل کررہا ہے، یہ بلاشبہہ ایک نہایت سنگین بات ہے- اِس طرح مسلمان اپنے آپ کو اُس گروہ کے ساتھ بریکٹ کررہے ہیں جس کے بارے میں وہ خود صبح وشام یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک ایک مغضوب اور ملعون گروہ کی حیثیت ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C15",
      "chapter_title": "فطرت کی آواز",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C15P01",
          "text": "ایک خبر کے مطابق، آرایس ایس کے سابق سرسنگھ چالک سی کے سدرشن (85 سال) 20 اگست 2012  کو عید الفطر (1433 ہجری) کے دن بھوپال میں على الصبح اپنی قیام گاہ سے نکل کر بھوپال کی تاریخی مسجد (تاج المساجد) کی طرف روانہ ہوگئے- انھوں نے بتایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لیے تاج المساجد جارہے ہیں- اس سے کئی انتظامی مسئلے پیدا ہوگئے، اِسی لیے مدھیہ پردیش کے ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے مداخلت کی- اس کے بعد مسٹر سدرشن کو ایک مقامی مسلمان کے گھر لے جایا گیا- وہاں انھوں نے کئی مسلمانوں سے مصافحہ کیا اور ان کو عید کی مبارک باد دی اور عید کی سوئیاں کھائیں- مسٹر سدرشن نے اِس سے پہلے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں مسلمانوں کا طریقِ عبادت بہت اچھا لگتا ہے- لوگوں کا ایک صف میں کھڑا ہونا، ایک ساتھ ہاتھ باندھنا، ایک ساتھ جھکنا اور ایک ساتھ اپنی پیشانی کو زمین پر رکھنا اُن کو بہت متاثر کرتا ہے- ان کو یہ طریقِ عبادت ڈسپلن کی بہترین مثال معلوم ہوتا ہے- اِسی نوعیت کا ایک واقعہ 1950 میں پیش آیا تھا- یہ واقعہ یوپی کے ایک وزیر مسٹرگووند سہائے کا ہے- وہ آرایس ایس کے خصوصی ممبر تھے- بعد کو انھوں نے آرایس ایس کو چھوڑ دیا- اِس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی تھی کہ ان کو مسلمانوں کے خلاف آرایس ایس کی انتہا پسندانہ پالیسی غیر حقیقی نظر آتی تھی- انھوں نے آرایس ایس چھوڑنے کے بعد اِس موضوع پر ایک کتاب (Why I Left RSS) لکھی- (راشٹریہ سہارا اردو، نئی دہلی، 23 اگست 2012، صفحہ 7)"
        },
        {
          "para_id": "C15P02",
          "text": "اِس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ دین ِ حق اور دوسرے لوگوں کے درمیان ایک فطری ’کلمہ سواء‘  (natural common ground)موجود ہے- دین ِ حق کے حاملین کے لیے بہترین آغاز ِ کار یہ ہے کہ وہ اِس فطری کلمہ سواء کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کام کریں- یہ بلاشبہہ ایک بہترین طریقِ کار ہے- مگر اِس امکان کو کامیاب طورپر استعمال کرنے کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ طرفین کے درمیان کشیدگی کا ماحول نہ ہو، بلکہ معتدل ماحول ہو- طرفین کے درمیان کشیدگی یا غیر معتدل ماحول میں اِس کام کو انجام نہیں دیا جاسکتا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C16",
      "chapter_title": "تاریخ انسانی کا خاتمہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C16P01",
          "text": "12 اگست 2012 کو امریکا کی ایک خبر تمام اخباروں میں نمایاں طورپر شائع ہوئی- وہ خبر یہ تھی کہ ایک امریکی صحافی کو نظریاتی سرقہ (plagiarism) کا مرتکب پایا گیا اور اِس بنا پر اس کو اس کے صحافتی جاب سے فوری طورپر معطل کردیاگیا- اس خبر کی سرخی یہ تھی:"
        },
        {
          "para_id": "C16P02",
          "text": "American journalist suspended for plagiarism."
        },
        {
          "para_id": "C16P03",
          "text": "نظریاتی سرقہ (plagiarism) کیاہے، وہ دراصل کسی شخص کی فکری پراپرٹی (intellectual property) کا سرقہ کرنے کا نام ہے- نظریاتی سرقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے آئڈیا کو اصل مصنف کے حوالے کے بغیر اپنا بنا کر نقل کیا جائے:"
        },
        {
          "para_id": "C16P04",
          "text": "Plagiarism: Copying someone's idea without crediting the original author. (Merriam-Webster Dictionary)"
        },
        {
          "para_id": "C16P05",
          "text": "یہ معاملہ امریکا کے مشہور صحافی مسٹر فرید زکریا کا ہے-وہ امریکی میگزین ٹائم (Time) کے ایڈیٹر تھے- انھوں نے ٹائم کے شمارہ 20 اگست 2012 میں اپنا ایک مضمون گن کلچر کے موضوع پر شائع کیا- اِس کا عنوان یہ تھا:   The Case for Gun Control"
        },
        {
          "para_id": "C16P06",
          "text": "اِس مضمون میں انھوںنے ایک پیراگراف شامل کیا تھا جو پورا کا پورا، ایک اور شائع شدہ مضمون سے لیا گیا تھا- یہ دوسرا مضمون امریکا کی ایل (Yale) یونی ورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر جل لیپور (Jill Lepore) کا تھا، جس کو مسٹر فرید زکریا نے بلا حوالہ اپنے مضمون میں شامل کرلیا تھا- یہ مضمون امریکا کے ایک اخبار نیویارکر (The New Yorker) کے شمارہ 22اپریل 2012 میں اس عنوان کے تحت چھپا تھا— Battleground America"
        },
        {
          "para_id": "C16P07",
          "text": "نظریاتی سرقہ کا یہ واقعہ جو عالمی میڈیا میں آیا ہے، وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں- وہ دراصل اِس قسم کے ایک زیادہ بڑے سرقہ (super plagiarism) کے لیے ایک یاددہانی (reminder) کی حیثیت رکھتا ہے- وہ ایک انسان کی برخاستگی کے حوالے سے یہ یاد دلا رہا ہے کہ شاید وہ وقت آگیا ہے جب کہ کائنات کا مالک پوری تہذیب کو برخاست کردے-"
        },
        {
          "para_id": "C16P08",
          "text": "سترھویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں روایتی دور قائم تھا- اس کے بعد دنیا میں سائنٹفک دور کا آغاز ہوا- سائنٹفک دور سے مراد وہ دور ہے جب کہ انسان نے نیچر (nature)پر آزادانہ غور وفکر شروع کیا- اِس غور وفکر کے بعد یہ ہوا کہ نیچر میں چھپے قوانین ایک کے بعد ایک دریافت ہونے لگے- مثلاً پانی میں اسٹیم پاور کی دریافت، اور مادّہ (matter) میں بجلی (electricity)کی دریافت، وغیرہ-جدید دنیا، خاص طور پر مغربی دنیا میں کئی سو سال تک اِس موضوع پر رسرچ جاری رہی، یہاں تک کہ فطرت میں چھپے ہوئے ہزاروں قوانین دریافت ہوگئے- اِن کے ذریعے ایک نئی ٹکنالوجی بنی اور بہت سے نئے فنی علوم وجود میں آئے- وہ ظاہرہ جس کو جدید مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کی تشکیل تمام تر انھیں دریافت کردہ قوانین فطرت پر مبنی ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C16P09",
          "text": "یہ قوانین جو موجودہ زمانے میں معمارانِ تہذیب نے دریافت کیے، اُن کو سائنسی قوانین (scientific laws) کہاجاتا ہے- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ سائنسی قوانین نہیں ہیں، بلکہ وہ خدائی قوانین(divine laws) ہیں- خدائی قوانین کو نظامِ فطرت سے لینا اور اُن کو سائنس قوانین کے نام پر اپنا بناکر پیش کرنا، یہ بلاشبہہ ایک سپر سرقہ(super plagiarism) کا کیس ہے- تہذیب جدید کے معمار وں کا یہ واقعہ بھی بلا شبہہ اِسی قسم کا ایک سرقہ ہے- امریکی صحافی کا سرقہ اگر جرنلسٹک سرقہ (journalistic plagiarism) تھا تو معمارانِ تہذیب کا سرقہ سائنٹفک سرقہ (scientific plagiarism) ہے- امریکی صحافی نے تو صرف اپنے ایک آرٹکل میں نظریاتی سرقہ کا ارتکاب کیا تھا، جب کہ مغربی تہذیب کا پورا کا پورا ڈیولپمنٹ اِسی قسم کے عظیم تر نظریاتی سرقہ کی بنا پر ہوا ہے- امریکی جرنلسٹ کا سرقہ اگر صرف ایک انفرادی سرقہ تھا تو مغربی تہذیب کا سرقہ اس کے مقابلے میں ایک عالمی سرقہ (global plagiarism) کی حیثیت رکھتا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C16P10",
          "text": "دنیا سے انسان کے بے دخلی"
        },
        {
          "para_id": "C16P11",
          "text": "تہذیب کی ترقی کے نام پر مذکورہ سائنسی سرقہ کئی سو سال سے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں جاری ہے، مگر اِس مدت میں اہلِ تہذیب کے درمیان کوئی شخص نہیں اٹھا جو یہ اعلان کرے کہ یہ تمام تہذیبی ترقیاں خدائی قوانین (divine laws)کی بنا پر ممکن ہوئی ہیں- ہم کو چاہیے کہ ہم کھلے طورپر اِس حقیقت کا اعتراف کرلیں- بے اعترافی کا یہ معاملہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے- اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ کائنات کا خالق انسان کو زمین کے چارج سے بے د خل کردے اور زمین کا اور پوری دنیا کا نظام حقیقتِ واقعہ کی بنیاد پر قائم کرے-"
        },
        {
          "para_id": "C16P12",
          "text": "دنیا کا یہ انجام پیشگی طورپر مقدر تھا- خدا نے پیشگی طورپر یہ اعلان کردیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کردیا جائے اور دنیا کا نیا نظام بنایا جائے- اِس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: وما قدروا اللہ حق قدرہ، والأرض جمیعا قبضتہ یوم القیامة، والسماوات مطویّات بیمینہ، سبحانہ وتعالى عما یشرکون (39:67)-"
        },
        {
          "para_id": "C16P13",
          "text": "اِس آیت میں ’قدر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے- قدر کا مطلب ہے اندازہ کرنا، یعنی انسان جو کچھ دنیا میں کررہا ہے، وہ اِس لیے کررہا ہے کہ اس نے خالق کا کم تر اندازہ (under-estimation) کررکھا ہے- یہ کم تر اندازہ کیا ہے، اِس کم تر اندازہ کو قرآن کی ایک آیت میں اِس طرح بیان کیاگیاہے: افحسبتم أنما خلقناکم عبثاً وأنکم إلینا لا ترجعون(23:115) یعنی کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤگے-"
        },
        {
          "para_id": "C16P14",
          "text": "اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے- یہ روایت قرآن کی مذکورہ آیت (وما قدروا اللہ حق قدرہ) کی مزید تشریح کرتی ہے- روایت کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرأ ہذہ الآیة ذات یوم على المنبر ’’وما قدروا اللہ حق قدرہ، والأرض جمیعاً قبضتہ یوم القیامة والسماوات مطویات بیمینہ، سبحانہ وتعالى عما یشرکون‘‘ ورسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول ہکذا بیدہ ویحرکہا یقبل بہا أو یدبر یمجد الرب نعتہ: أنا الجبار، أنا المتکبر، أنا الملک، أنا العزیز، أنا الکریم، فرجف برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المنبر حتی قلنا لیخرنّ بہ (السلسلة الصحیحة، 7/596) یعنی عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی- اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید کرے گا اور کہے گا کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم- کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر- یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں-"
        },
        {
          "para_id": "C16P15",
          "text": "بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب کہ خالقِ کائنات ظاہر ہو اور براہِ راست طورپر دنیا کا چارج لے لے- اسباب کے اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگاکہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالفعل آچکا ہے، اُس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C16P16",
          "text": "لائف سپورٹ سسٹم کی تباہی"
        },
        {
          "para_id": "C16P17",
          "text": "دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے- مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات، وغیرہ- اِن چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے، یعنی معاونِ حیات نظام- سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاونِ حیات نظام خطرناک حد تک بگڑ گیاہے، سائنس داں برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آبادکاری بہت جلد ناممکن ہوجائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ نے اِس صورت حال کی نشان دہی کرتےہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے، حالاں کہ اسٹفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C16P18",
          "text": "زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک (Arctic) کہاجاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے- یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے- آرکٹک (قطب شمالی) کا یہ منطقہ مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے- مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہرے نے شدت اختیار کی ہے، قطب شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے- سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، شایداندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے- اِس کی بنا پر مختلف قسم کے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے جو زمین کو انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بنا دیں گے-اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا ( 14اگست 2012)  میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C16P19",
          "text": "Arctic Sea Ice May Vanish in 10  Years (p. 19)"
        },
        {
          "para_id": "C16P20",
          "text": "اوپر جو کچھ لکھا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اُس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہاجاتا ہے- وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے، وہ پوری کی پوری اِسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے- اِس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے- جن لوگوں نے اِس تہذیب کو وجود دیا، وہ اِس جرم میں براہِ راست طورپر شریک ہیں، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اِس جرم پر نکیر (denial) کیے بغیر اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ بالواسطہ طورپر اِس جرم میں شریک ہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C16P21",
          "text": "اِس نظریاتی سرقہ (plagiarism)کے خلاف خالق کی کارروائی اب مستقبل بعید کی چیز نہیں رہی- یہ کارروائی اب عملاً شروع ہوچکی ہے- اِس کارروائی کو ایک لفظ میں اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کردیا جائے- خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہورہا ہے- بظاہر وہ وقت بہت قریب آچکا ہے جس کی پیشین گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جاچکی تھی-"
        },
        {
          "para_id": "C16P22",
          "text": "نوٹ:  صدر اسلامی مرکز کا مذکورہ خطاب سی پی ایس کے حسب ذیل ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C16P23",
          "text": "http://cpsglobal.org/content/end-human-history-12th-aug-12"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C17",
      "chapter_title": "ایک خط",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C17P01",
          "text": "برادرِ محترم مولانا محمد اکرم الزہری  (مسقط،عمان)"
        },
        {
          "para_id": "C17P02",
          "text": "السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ"
        },
        {
          "para_id": "C17P03",
          "text": "امید کہ آپ مع متعلقین بخیر ہوں گے- اللہ تعالی آپ کو اور آپ کے تمام اہلِ خانہ کو اپنی خصوصی نصرت اور رحمت سے نوازے اور دنیا اور آخرت کی سعادتیں عطا فرمائے- 12 اکتوبر 2012 کو آپ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی- ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں-"
        },
        {
          "para_id": "C17P04",
          "text": "آپ ماشاء اللہ برابر دینی کاموں میں مشغول رہتے ہیں- اللہ تعالی آپ کی اِن کوششوں کو قبول فرمائے- تاہم مجھے آپ کو ایک خاص کام کی طرف توجہ دلانا ہے- یہ کام دعوت الی اللہ کا کام ہے، یعنی غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانا- یہ بلاشبہہ اہلِ ایمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے- دعوت کا کام گویا کہ خاتم النبیین کی نیابت کا کام ہے- یہ کام بلاشبہہ فرضِ عین ہے اور ہر مومن کو اپنے دائرے میں اِس کام کو انجام دینا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C17P05",
          "text": "موجودہ زمانے میں دو واقعات ایسے پیش آئے ہیں جنھوں  نے دعوت کے کام کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے- ایک ہے پرنٹنگ پریس، جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیاکہ قرآن کا ترجمہ ’لسانِ قوم‘ میں تیار کیا جائے اور اُس کو مطبوعہ صورت میں لوگوں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ کیا جائے- اصحابِ رسول کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے، اِس بنا پر اُن کو مقری کہاجاتا تھا- اب وقت آگیا ہے کہ تمام اہلِ ایمان قرآن کے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں-"
        },
        {
          "para_id": "C17P06",
          "text": "اِس معاملے میں دوسرا موافقِ دعوت پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مواصلات کی ترقی کی بناپر ایک نیا ظاہرہ وجود میں آیا ہے، جس کو عالمی حرکت (global mobility) کہاجاتا ہے- موجودہ زمانے میں سیاحت، تجارت، ملازمت اور دوسرے اسباب کے تحت، لوگوں کی آمد ورفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے- ہر ملک میں دوسرے ملکوں کے لوگ پہنچ رہے ہیں- اِن میں بڑی تعداد غیر مسلموں کی ہوتی ہے- اِس نئے ظاہرے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ مدعو خود چل کر داعی کے یہاں پہنچ رہا ہے- وہ خاموش زبان میں امتِ محمدی کے ہر فرد سے کہہ رہا ہے کہ ہم تمھارے دروازے پر ہیں- آؤ، ہم کو اُس ربانی پیغام سے آگاہ کرو جو اللہ نے تمھارے پاس بھیجا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C17P07",
          "text": "اب ہر مسلمان کو، خواہ وہ عرب میں ہو یا غیر عرب میں، اس کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے پاس اسلامی کتابیں رکھے اور اِس کو اُن لوگوں تک پہنچاتا رہے جو اس کے علاقے میں بار بار کسی نہ کسی سبب سے آرہے ہیں- اِس قسم کے مواقع آج کل ہر جگہ موجود ہیں- دفتروں میں پارکوں میں، کانفرنسوں میں، غرض ہر اجتماعی مقام پر اِس قسم کے مدعو برابر پہنچ رہے ہیں- اُن کو نہایت آسانی کے ساتھ دعوتی لٹریچر پہنچایا جاسکتا ہے- اِس سلسلے میں ہمارے ادارے سے قرآن اور سیرتِ رسول اور خصوصی اسلامی موضوعات پر مختلف زبانوں میں کتابیں تیار کی گئی ہیں- مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ اور پرافٹ آف پیس (The Prophet of Peace)، وغیرہ-"
        },
        {
          "para_id": "C17P08",
          "text": "میں امید کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کے ساتھی اپنے دوسرے دینی کاموں کے ساتھ اِس کام کو اپنی سرگرمیوں میں شامل کریں گے، یعنی اسلامی لٹریچر کو غیر مسلموں تک پہنچانا-"
        },
        {
          "para_id": "C17P09",
          "text": "نئی دہلی، 15 اکتوبر 2012   دعا گو وحید الدین"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C18",
      "chapter_title": "سوال وجواب",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C18P01",
          "text": "عام طور پر کہا جاتا کہ میں تشدد کا حامی نہیں، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا تو بہت ضروری ہے- براہِ کرم اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور)"
        },
        {
          "para_id": "C18P02",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إن تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیئا (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی-"
        },
        {
          "para_id": "C18P03",
          "text": "گویا کہ سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقوی کی روش اس کا توڑ ہے-قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اِس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی جائے، اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے- کیوں کہ مسلمانوں کے اندر صبر اور تقوی کی روش پیدا کرکے ہی سازش کو بے اثر بنایا جاسکتا ہے- قانونِ فطرت کے تحت ’’سازش‘‘ کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے مثبت رد عمل کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکیں-"
        },
        {
          "para_id": "C18P04",
          "text": "جس چیز کو ’’سازش‘‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک امرِ فطری ہے- اِس کا تعلق خدا کی دی ہوئی آزادی سے ہے- یہ آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پردی گئی ہے، اس لیے وہ قیامت تک باقی رہے گی، اس کو ہرگز ساقط نہیں کیا جاسکتا- کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ لا حاصل طورپر خود سازش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے- کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں- مشتعل نہ ہو کر سازش کو بے اثر بنایا جاسکتا ہے- اِس معاملے میں اصل حقیقت تدبیرِ کار کی ہے، نہ کہ سازش سے باخبر ہونے کی- اِسی لیے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ اے مسلمانو، تم سازش سے باخبر رہو، بلکہ یہ فرمایا کہ تم ہر حال میں صبر کی روش اختیار کرو- صبر کی روش اختیار کرکے تم سازش کا شکار ہونے سے بچ جاؤ گے-"
        },
        {
          "para_id": "C18P05",
          "text": "ایک حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی- اِس حدیث کا مطلب کیا ہے- اس کو واضح فرمائیں- (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ، بہار)"
        },
        {
          "para_id": "C18P06",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن أمتی لا تجتمع على الضلالة (ذخیرة الحفاظ للقیسرانی، 1/364)یعنی میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی- اِس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امتِ محمدی کے افراد جس چیز پر مجتمع ہوجائیں، وہ لازماً حق ہوگا- اِس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ عام ضلالت کے وقت بھی امت محمدی کے کچھ افراد ایسے ہوں گے جو ہدایت پر قائم رہیں گے اور وہ حق کی نمائندگی کریں گے- قانونِ فطرت کے مطابق، امتِ محمدی میں بھی انحراف آئے گا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ امت کا کوئی فرد بھی اِس انحراف سے محفوظ نہ رہے-حدیث کے اِس مفہوم کی تصدیق ایک اور روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:  أن تستجمعوا کلکم على الضلالة (مسند إسحاق بن راہویہ، رقم الحدیث: 363 ) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا، اُس وقت بھی کچھ افراد اِس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے-"
        },
        {
          "para_id": "C18P07",
          "text": "امت محمدی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار فضیلت کی بات نہیں- یہ دراصل ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان فرمایا- اصل یہ ہے کہ امت ِمحمدی کی بنیاد جس دین پر قائم کی گئی ہے، اُس کا متن کامل طورپر ایک محفوظ متن ہے- پیغمبر اسلام کی یہ ایک استثنائی صفت ہے کہ آپ پر اتارا ہوا قرآن پوری طرح اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے- پیغمبر اسلام کی سیرت بھی تاریخی طورپر پوری طرح معلوم ہے- پیغمبر اسلام کا کلام بھی مستند کتابوں میں محفوظ ہوچکا ہے- پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے، پوری طرح معلوم اور محفوظ ہے- یہ صورتِ حال اِس بات کی ضمانت بن گئی ہے کہ امت کے زوال یا انحراف کے دور میں بھی دین ِ اسلام کا ماخذ پوری طرح محفوظ ہو اور حق کے طالب افراد ہمیشہ اُس سے دین ِ خداوندی کو اخذ کرکے ہدایت پر قائم رہیں- امتِ محمدی میں دین سے انحراف عمومی ہوسکتاہے، لیکن وہ کلی کبھی نہیں ہوگا-"
        },
        {
          "para_id": "C18P08",
          "text": "کہاجاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہوگیا اور افغانستان جیت گیا- وہ اِس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اِس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے- یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلی افسر کے اِس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ امریکا جو کچھ افغانستان میں کررہا ہے، وہ سب اس کے لیے الٹےنتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے- براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (عبد الباسط عمری، قطر)-"
        },
        {
          "para_id": "C18P09",
          "text": "افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے، اِس سے وہ نتیجہ ہر گز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اُس سے نکال رہے ہیں- کوئی بھی منفی تبصرہ، مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا-امریکا نے جب عراق اور افغانستان پر ہوائی حملے کیے، تو اس کا مقصد اصلاً القاعدہ کا زور توڑنا تھا، اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت (2011) کے بعد یہ مقصد ایک حد تک حاصل ہوچکا ہے- لیکن امریکی قائدین کو غالباً اِس کا اندازہ نہ تھا کہ اُن کے اقدام سے القاعدہ کی طاقت تو کمزور ہوسکتی ہے، لیکن اِس اقدام کے رد عمل میں امریکا کے خلاف مسلمانوں میں جو نفرت پیدا ہوگی، اس کا کوئی توڑممکن نہ ہوگا-"
        },
        {
          "para_id": "C18P10",
          "text": "امریکی افسر نے جو کچھ کہا وہ صرف امریکی قائدین کے غلط اندازے کو بتاتا ہے- اُس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اِس جنگ میں افغانستان کی جیت ہوئی ہے- واقعات بتاتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی طاقت بالکل تباہ ہوگئی ہے- افغانستان کی تعمیر وترقی کا کام بالکل رکا ہوا ہے- مزید یہ کہ افغانی لوگوں میں آپس کی جنگ چھڑ گئی ہے- یہ واقعات افغانستان کی تباہی کو بتاتے ہیں، نہ کہ اس کی جیت یا کامیابی کو-"
        },
        {
          "para_id": "C18P11",
          "text": "اِس معاملے میں جہاں تک اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے، اسلام میں وہی اقدام مثبت اقدام ہے جو مثبت نتیجہ برآمد کرنے والا ہو- فریقِ ثانی کے نقصان پر خوش ہونا اسلام کا طریقہ نہیں- اسلامی نقطہ نظر کے مطابق، قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ اِس جنگ میں امریکا کو کچھ نقصان پہنچا، اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ افغانستان بدستور پچھڑا ہوا ایک ملک ہے، وہ تعمیر وترقی کے راستے میں آگے نہ بڑھ سکا- یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی بدستور اپنے بیٹوں کو امریکا بھیج رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنے بیٹوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے تیار نہیں-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C19",
      "chapter_title": "خبرنامہ اسلامی مرکز — 219",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C19P01",
          "text": "1-  نئی دہلی کے تاج پیلیس (ہوٹل) میں 3    اگست 2012 کو افطار کا ایک پروگرام ہوا- یہ پروگرام ترکی کے ادارہ ایجوکیشنل ٹرسٹ (Educational Endowment Trust)  کی طرف سے کیا گیا تھا- اس کی دعوت پر سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی ٹیم کے نمائندوں نے اس میں شرکت کی- یہاں ملک وبیرون ملک کے اعلی افسران اور تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے- مثلاً کمیونکیشن منسٹر کپل سبل ،اور ٹرکش ایمبیسڈر مسٹربراق (Burak Akcapar) وغیرہ- یہاںحاضرین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P02",
          "text": "2-  اینگلو عربک اسکول (دہلی) میں 15   اگست 2012 کے موقع پر ایک فنکشن ہوا- اِس میں اعلی تعلیم یافتہ ہندو-مسلم حضرات نے شرکت کی- سی پی ایس کی دہلی فیلڈ ٹیم (DFT)  کی طرف سے لوگوں کو دعوتی لٹریچر  دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P03",
          "text": "3- پولس کمیونٹی کی طرف سے 13 اگست 2012 کو سہارن پور (یوپی) کے کرسٹل پیلیس (امبالا روڈ) میں روزہ افطار کا ایک پروگرام ہوا- اِس میں سہارن پور کے تعلیم یافتہ ہندو-مسلم حضرات کے علاوہ، اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی- اِس موقع پر سہارن پور کے حلقہ الرسالہ کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P04",
          "text": "4-  پیس ہال (سہارن پور) میں 25 اگست 2012 کو عید ملن کا ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں نے اِس پروگرام میں شرکت کی- یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ عید گفٹ کے طور پر دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P05",
          "text": "5-  نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) میں 9 ستمبر2012 کو ایک ورک شاپ ہوا- اِس میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- مثلاً گنیز بک آف ریکارڈ میں شامل ڈاکٹر اشوک جین، وغیرہ - اِس موقع پر حاضرین کو دعوتی میٹریل دیاگیا- ڈاکٹر اشوک جین نے بعد کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایاکہ انھوں نے سی پی ایس کے لٹریچر کا مطالعہ کیا- انھوں نے کہا کہ اِن کتابوں کے مطالعے نے مجھے اِس حقیقت کو سوچنے پر مجبور کیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی آخرت کے لیے تیاری کرے- انھوں نے کہا کہ میں اِس مشن میں شامل ہو کر دوسروں تک اس کا پیغام پہنچانا چاہتا ہوں-"
        },
        {
          "para_id": "C19P06",
          "text": "6-  صدر اسلامی مرکز کے مضامین مختلف انگریزی جرائد میں چھپ رہے ہیں- اِس سلسلے میں 16  ستمبر 2012کو درج ذیل اخبار میں حسب ذیل مضمون شائع ہوا:"
        },
        {
          "para_id": "C19P07",
          "text": "In the Name of God, Deccan Chronicle (Daily Newspaper, Hydrabad)"
        },
        {
          "para_id": "C19P08",
          "text": "7-  جموں وکشمیر کے چند نمائندہ افراد ایک پروگرام کے تحت دہلی آئے- اس موقع پر  22-23 ستمبر 2012  کو صدر اسلامی مرکز نے دعوتی اور تربیتی موضوع پر خصوصی خطاب کیے— یہ تمام خطابات دوسرے خطابات کی طرح سی پی ایس کے ویب سائٹ پر محفوظ ہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C19P09",
          "text": "8-  مسٹر اے والٹر (A. Walter Emmerich) نے 24 ستمبر 2012 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا- اِس انٹرویو کا موضوع تھا— انڈین مسلم اور ان کے مسائل-مسٹر والٹر آکسفورڈ یونی ورسٹی (لندن) میں ڈیولپ مینٹ اسٹڈیز کے تحت پی ایچ ڈی کررہے ہیں- مسٹر والٹر کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P10",
          "text": "9-  پرل پیلیس (سہارن پور) میں 29 ستمبر 2012 کو نکاح کی ایک تقریب ہوئی- یہاں موجود تمام لوگوں کو سہارن پور ٹیم کی طرف سے دعوتی لٹریچر دیاگیا- دولہا اور دلہن کو تذکیر القرآن، اور ’خاندانی زندگی‘ کا ایک نسخہ دیا گیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P11",
          "text": "10-  نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 ستمبر 2012) میں شائع شدہ صدر اسلامی مرکز کے ایک مضمون (Everything is Temporary) پر قارئین کے چند تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C19P12",
          "text": "— Thanks for a timely piece of article that serves as an eye-opener to all of us. As we keep getting tangled or caught up in many difficulties in our day-to-day situations, we need support and mental strength that comes from moral support offered by a mentor. Today, at a very personal level, as I read these words of wisdom, I am helped to unshackle the clouds of depression cropping up and I feel once again motivated and cheerful to address the day’s challenges.  (Ramana Acharyulu)"
        },
        {
          "para_id": "C19P13",
          "text": "— It is a very meaningful article. Maulana’s understanding of the society, nature, and how to live life is truely amazing. This is best formula one can adopt for everyday life.  (Dr Giriyappa Kollannavar)"
        },
        {
          "para_id": "C19P14",
          "text": "— Very inspiring article. Faith in the divine could do wonders. The belief that we are being watched over and are protected brings in lots of hope and the will to face difficult times.  (Dr Rashmi Chaturvedi)"
        },
        {
          "para_id": "C19P15",
          "text": "— Surely this is an excellent article, particularly for those who are seeing their lives as purely hopeless owing to several negative problems in their day-to-day life.  (Gangadharan Pulingat)"
        },
        {
          "para_id": "C19P16",
          "text": "— Thank you so much for posting this blog. It has really energized my mind to fight with difficulties.  (Archana Vishwakarma)"
        },
        {
          "para_id": "C19P17",
          "text": "— This is a fantastic article. All things in life are temporary and transient and will eventually change and fade away. Nothing stays the same forever and sooner we learn how to accept that fact, the happier we will be.  (C.Swami)"
        },
        {
          "para_id": "C19P18",
          "text": "11-  یکم اکتوبر 2012 کو سنت نرنکاری بھون (سہارن پور) میں ہندو گروؤں کا ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر حاضرین کو قرآن کا ہندی ترجمہ اور ہندی بک لیٹ — ستیہ کی کھوج، جیون کا اُدیش، وغیرہ دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P19",
          "text": "12-  نئی دہلی کے شری کرشنا آڈیٹوریم میں 2   اکتوبر 2012 کو ایک پروگرام ہوا- اِس کا موضوع یہ تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C19P20",
          "text": "Non-Violence, World Peace and Environment Conservation"
        },
        {
          "para_id": "C19P21",
          "text": "یہ پروگرام آل انڈیا جین آرگنائزیشن (All India Shwetambar Jain Organization) کی طرف سے کیاگیا تھا- اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی- یہ تقریر ہندی زبان میں تھی- اِس تقریر میں اسلام کی پرامن تعلیمات کا تعارف پیش کیا گیا- اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا- اِس پروگرام کو دور درشن ٹی وی چینل نے لائیو ٹیلی کاسٹ کیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P22",
          "text": "13-  کشمیر کے مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی بڑے پیمانے پر وہاں کے غیر ملکی ٹورسٹس (tourists)  اور مقامی لوگوں کے درمیان دعوت کا کام کررہے ہیں۔ اِس سلسلے میں 1-3 اکتوبر 2012کو کشمیر یونی ورسٹی (سری نگر) کے سنسکرت ڈپارٹمینٹ کی طرف سے آل انڈیا اورینٹل کانفرنس کا 46  واں سیشن منعقد ہوا- اِس موقع پر حلقہ الرسالہ کے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا- خاص طورپر آسام کے گونر مسٹر جے  بی پٹنائک کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-’’صبح کشمیر‘‘ (The Dawn Over Kashmir) کو لوگوں نے بہت شوق سے لیا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا-یہاں حاضرین کے چند تاثرات درج کیے جاتے ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C19P23",
          "text": "— میں بہت دنوں سے ہندی ما دھیم میں قرآن پڑھنا چاہتا تھا، آج اِس دھرم گرنتھ(قرآن) کو پاکر میں بہت خوش ہوں- یہ گرنتھ انسانیت کا سبق دیتاہے -(پروفیسر رام سمیر یادو، شعبہ سنسکرت، لکھنؤ یونی ورسٹی)"
        },
        {
          "para_id": "C19P24",
          "text": "— خدا نے انسان کو کئی زبانیں دی ہیں- اِن میں سب سے اچھی زبان ہم کو اردو معلوم ہوتی ہے- مطالعے کے بعد میں نے پایا کہ ہندی، اردو کے بغیر ادھوری ہے- آج یہاں ہندی اور اردو میں قرآن کا ترجمہ پاکر میری دیرینہ خواہش پوری ہورہی ہے-(منوویندر سنگھ، مظفر پور، بہار)"
        },
        {
          "para_id": "C19P25",
          "text": "— آج قرآن کا انگریزی ترجمہ پاکر مجھ کو بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے- (مہیندر راول، پولس انسپکٹر، گجرات، جونا گڑھ)"
        },
        {
          "para_id": "C19P26",
          "text": "— Extremely impressed by the noble activities and precious publications of CPS, Kashmir. The activities are meant for promotion of universal brotherhood and mutual fellow-feelings which appreciating the endavour of the organisation, I wish this spiritual exercise all success in the days to come. (Prof. Hare Krishna Satyapathy, VC. R.S. University, Tirupati)"
        },
        {
          "para_id": "C19P27",
          "text": "14-  پنجاب (پاکستان) کے معروف صوفی بابا عرفان الحق نے ایک پروگرام کے تحت انڈیا کا سفر کیا- اِس سلسلے میں 4 اکتوبر 2012 کو پیس ہال میں ایک پروگرام کیاگیا- اِس موقع پر اُن کو اور ان کے ساتھیوں کو صدر اسلامی مرکز کی کتابیں دی گئیں- بابا عرفان الحق نے یہاں گفتگو کے دوران کہا کہ میں نے مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں پڑھی ہیں- اِسی کا نتیجہ ہے کہ میں قرآن وسنت کے علاوہ، کسی اور ’’مسلک‘‘ سے اپنے آپ کووابستہ نہ کرسکا- اِس پروگرام میں بڑی تعداد میں اعلی تعلیم یافتہ ہندو-مسلم حضرات نے شرکت کی- تمام حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-"
        },
        {
          "para_id": "C19P28",
          "text": "15-  نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (2   اکتوبر 2012) میں صدر اسلامی مرکز کے شائع شدہ مضمون (Blasphemy in Islam) پر قارئین کے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C19P29",
          "text": "— Your article  made a very interesting reading, which is in consonance with my own very little understanding of the readings of the Quran over the last many years. I congratulate you for explaining this so vividly, and in a scholarly manner, as well. I would be too glad to read such scholarly articles / books of yours, especially the scientific understandings or inference of Quran.  (P Ravindra Kumar, Bangalore)"
        },
        {
          "para_id": "C19P30",
          "text": "— Thank you for sharing the beautiful article on a proper response to blasphemy. It is an eloquent articulation of the religious freedom that we both believe God wants for all humanity to enjoy. I hope your article reaches a very wide and receptive audience. (Galen Carey, W. D.C.)"
        },
        {
          "para_id": "C19P31",
          "text": "16-  صدر اسلامی مرکز کے ٹیلی فونی خطاب (Tele-Conference) انڈیا اور انڈیا کے باہر کے لیے جاری ہیں- انڈیا میں یہ پروگرام مختلف مقامات کے لیے ہوتا ہے- مثلاً بنگلور، کلکتہ، چنئی، وغیرہ- امریکا کے لیے ہونے والے خطاب کی تفصیل درج ذیل ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C19P32",
          "text": "Shift of Emphasis,   2nd September 2012"
        },
        {
          "para_id": "C19P33",
          "text": "Discover Your Ignorance , 16th September 2012"
        },
        {
          "para_id": "C19P34",
          "text": "The Issue of Blasphemy in Islam ,  30th September 2012"
        },
        {
          "para_id": "C19P35",
          "text": "Relative Value of Things | , 14th October 2012"
        },
        {
          "para_id": "C19P36",
          "text": "17-  سی پی ایس کی دہلی فیلڈ ٹیم (DFT) کے ذریعے دعوت کا کام جاری ہے- اِس سلسلے میں مقامی طور پر دعوتی کام کرنے کے علاوہ ٹیم کے لوگ دوسرے امکانات;کو دعوت کے لیے استعمال کرتے ہیں- مثلاً بک فیر، وغیرہ- اِس سلسلے میںٹیم کے لوگوں نے تین بک فیر میں شرکت کی— گوالیار بک فیسٹ (مدھیہ پردیش)10-19  اگست 2012 ، اندور بک فیسٹ (مدھیہ پردیش)  14-23 ستمبر2012 ، ناگ پور بک فیسٹ (مہاراشٹریہ)   28 ستمبر تا 7 اکتوبر 2012  - اِن بک فیرز میں دہلی فیلڈ ٹیم کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے اپنے ذاتی انتظام کے تحت بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلامی لٹریچر اور قرآن کے ترجمے حاصل کیے- دعوتی اعتبار سے یہ بک اسٹال بہت کامیاب رہا- یہاں اِس سلسلے میں چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C19P37",
          "text": "— Overwhelming response from all age groups. I fell very ill and had 103 degree’ fever, I prayed to God and in the morning to my surprise, my fever was gone. And after that for the next 10  days, I attended the book fest. An Assistant Commissioner, Muhammad Yunus came at the stall  (Gwalior) with a non-Muslim friend. He had several questions about the ideology .  I explained to him.   He had read the book in one day and came back the next day as a different person. Yunus said that after talking with me the non Muslim youth’s mind had also undergone a change as he was also negative about Islam .  I told Yunus that you should give the Quran to all at Eid. The idea struck him and he placed an order of 175  Quran and the non Muslim youth also bought some copies along with other books. Our initial stock of Quran had finished in few days , another stock was sent from Delhi . Some of those who left the addresses, called me up and asked when would we recieve our copy of the Quran. Reaching of the second consignment was also very miraculous ,  my neighbour Mr. Vijay who works for the state transport volunteered to send the Quran. The residents of Gwalior are open hearted and nationalistic and loving people. During the entire  period, there was not a single untoward  happening, they were all very open to the message of Islam . All of them were extremely welcoming.  (Junaidul-Islam)"
        },
        {
          "para_id": "C19P38",
          "text": "— As a reader, I always wanted to read the Quran. Now, it is available in Hindi and English. I am very grateful. (Anand Lakra, Indore)"
        },
        {
          "para_id": "C19P39",
          "text": "— I had a dream many years back in which it was written: “Read Quran!” (Hansharastan Chopra, Indore)"
        },
        {
          "para_id": "C19P40",
          "text": "— میں بہت دنوں سے قرآن کو سمجھنا چاہتی تھی- آپ نے مجھ کو قرآن پڑھنے کا موقع دیا،شکریہ (مزپونم بترا، اندور)"
        },
        {
          "para_id": "C19P41",
          "text": "— کٹر وادی وچار دھارا سے بچنے اور سچا گیان حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، ا ور وہ ہے سچائی کو خود سے ڈسکور کرنا- اِس مقصد کے لیے میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں- مجھے یقین ہےکہ قرآن خداکی کتاب ہے، اور وہ صحیح راستہ دکھاتا ہے- اگرچہ اِس پر کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں، لیکن ہم کو خود ہی اِن پردوں کو ہٹانا ہوگا-(مہیش یادو،  اندور)"
        },
        {
          "para_id": "C19P42",
          "text": "— قرآن میں آسان طریقے سے بتایا گیا ہے کہ بندہ اپنے خدا کو کس طرح پاسکتا ہے- خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے- وہاں شرمندگی نہ ہو، چہرہ اجلا رہے، یہی سب سے بڑی چیز ہے -(دواکر دونگولے،  ناگ پور)"
        },
        {
          "para_id": "C19P43",
          "text": "— سی پی ایس کے لٹریچر میں مذہب کو جس طرح پازیٹیو انداز میں پیش کیا گیا ہے،اس کے لیے ہم آپ لوگوں کے بہت شکر گزار ہیں-(راجیش مدھولکر،  ناگ پور)"
        },
        {
          "para_id": "C19P44",
          "text": "— میں بہت دنوں سے اسلام کے بارے میں سوچ رہی تھی، مجھ کو سی پی ایس کے بک اسٹال سے اچھی کتابوں کا سیٹ مل گیا- شاید میں اِن کتابوں کے ذریعے اسلام کو سمجھ سکوں- (مز سونیا مَنے،  ناگ پور)"
        },
        {
          "para_id": "C19P45",
          "text": "18-  الرسالہ مشن سے متعلق مولانا عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر کا ایک تاثر یہاں نقل کیا جاتا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C19P46",
          "text": "’’ہم احساس محرومی میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ احساس یافت میں جینےکے قابل بنایا۔ہم بے شعور تھے ،  اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں شعور عطا کیا۔ہم ظواہر اسلام میں جیتے تھے ، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ روح اسلام سے متعارف ہونے کا موقع دیا۔اسلام ہمارے لئے ہاتھ کی چھنگلیا کی طرح تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ اسے ہماری حقیقی زندگی میں شامل کیا اور اس کو ہمارے لئے روحانی غذا اور ذہنی ارتقاکا ذریعہ بنا دیا- ہم خدا کی شعوری دریافت سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں خدا کی شعوری دریافت سے متعارف کیا۔ہم خدا کو مانتے ہوئے خدا سے دور تھے ،ہمیں معلوم تھا کہ خدا ارحم الراحمین ہے اور ہمیں اس سے حب شدید ہونا چاہیے، لیکن خدا کی دی ہوئی نعمتیں ہم کو کم لگتی تھیں ، یہی وجہ تھی کہ ہم حقیقی جذبات شکر سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ خدا کے ارحم الراحمین ہونے کو کس طرح دریافت کیا جائےاور خدا سے حب شدید کا طریقہ کیاہے۔ہم صرف نفی غیر کو جانتے تھے اور اسی کو خالص توحید سمجھے ہوئے تھے۔نفی ذات کیا ہے، اس سے ہم کلی طور پر بےخبر تھے، یہی وجہ تھی کہ ہم سچی تواضع سے بھی محروم تھے۔اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ نفیِ ذات کا شعور عطا کیا ۔ ہم اللہ اکبر کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے ’’لوگو‘‘ تم بڑے نہیں ہو، اِس سے فخر اور ذاتی بڑائی کا احساس پیدا ہوتاتھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں بتایا کہ اللہ اکبر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے ’’میں‘‘ بڑا نہیں ہوں۔اس سے تواضع کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے- ہم کنفیوژن میں جیتے تھے - ہمیں معلوم نہیں تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ وہ کون سا کام ہے جس کو ہمیں اپنا سپریم کنسرن بنانا چاہئے- اِس وقت اسلام کے نام پر اٹھنے والی مسلم تحریکوں کا حال وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیاہے : کل حزب بما لدیھم فرحون (23:53)- ہر ایک یہ کہتا کہ کرنے کا کام تو یہ ہے جو ہم کررہے ہیں ۔اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں اس کنفیوژن سے نکالا اور ہمیں بتایا کہ دعوت اور معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز ہمارا مقصد زندگی نہیں ، کوئی بھی دوسرا کام ہمارے لئے سپریم کنسرن کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہم مایوسی اورشکایت کی نفسیات میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں دکھایا کہ اِس دنیا میں ہر طرف امکانات ہی امکانات ہیں ۔ ہمیں بس انہیں دریافت کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہمارے اندر شکر ہی شکر پیدا ہوگا، ہمارے اندر سے شکایت اور مایوسی کا کلی طور پر خاتمہ ہوجائے گا-ہماری حالت یہ تھی کہ ہم دعوت اور عداوت دونوں میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ خالص دعوت الی اللہ کو ہمارے اوپر کھولا اور ہمیں پورے معنوں میں ساری انسانیت کے لئے کامل خیرخواہ بنایا ۔ہم قومی فخر میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کوخدا کے شکر میں جینا سکھایا۔ ہم اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ اسلام اور مسلمان دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، وہ ہر گز ہم معنی نہیں- ہم تشدد کلچر اور نفرت کلچر میں جیتے تھے ، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں امن کلچر میں جینا سکھایا ۔ہم اسلاف کی عظمت میں جیتے تھے ، ہم اس کیفیت میں جیتے تھے کہ ماترک الأولون للآخرین شیئا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور اللہ کا عطاکیا ہوا دماغ بند پڑا ہوا تھا ،اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کو بتایا کہ ساری عظمتیں صرف اللہ کے لیے ہیں (العظمة للہ وحدہ)- اِس دریافت نے ہمارے دماغ کو کھولا، اور ہمیں ذہنی ارتقا کی نعمت سے نوازا اور ہمیں اپنے ان صاحبِ معرفت بندوں میں شامل ہونے کی تربیت اور توفیق دے رہا ہے جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ:  یغبطھم الأنبیاء  والشہداء یوم القیامة الخ- یہ چند احساسات تھے، جو میرے دماغ میں ہلچل پیدا کررہے تھے ‘‘۔"
        }
      ]
    }
  ]
}