{
  "metadata": {
    "month": "June",
    "year": "2012",
    "source_url": "http://cpsalrisala.blogspot.com/2012/06/JuneAlrisala.html",
    "scrape_timestamp": "2026-03-26T14:27:43.905038"
  },
  "content": [
    {
      "chapter_id": "C01",
      "chapter_title": "انابت الی اللہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C01P01",
          "text": "قرآن کی سورہ غافر کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ ہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے وہ تمھارے لیے رزق نازل کرتاہے۔ اور نصیحت صرف وہی شخص حاصل کرتاہے جو انابت کرنے والا ہو‘‘ ۔(40: 13)"
        },
        {
          "para_id": "C01P02",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں تین باتیں کہی گئی ہیں— پہلی بات ہے، نشانیوں (آیات) کا ظاہر ہونا۔ دوسری چیز ہے، اِن نشانیوں سے رزقِ خداوندی کا ملنا۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ رزق صرف اُن افراد کو ملتاہے جن کے اندر انابت کی صفت پائی جائے۔ آیات سے مراد وہ نشانیاں (signs)  ہیں جو تخلیق میں ظاہر ہوئی ہیں۔ رزق سے مراد وہ ربانی اسباق (divine lessons)  ہیں جو اِن نشانیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ انابت کا لفظ یہ بتا رہاہے کہ یہ ربانی سبق کن خوش قسمت افراد کو حاصل ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C01P03",
          "text": "انابت کا لفظی مطلب ہے، بار بار واپس آنا (to return from time to time) ۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے آدمی کے ساتھ بار بار وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو ڈسٹریکشن کہاجاتا ہے، یعنی توجہ کا ہٹ جانا۔ یہی چیز رزق ربانی کے حصول میں اصل رکاوٹ ہے۔ اللہ کی تخلیقات میںاور زندگی کے تجربات میں رزقِ ربانی کے آئٹم ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر سوچے تو وہ ہر وقت اِن چیزوں میں نصیحت کا رزق پاتا رہے گا، لیکن حالات کے تحت بار بار آدمی کی توجہ مطلوب نشانے سے ہٹتی رہتی ہے۔ انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اِس ڈسٹریکشن سے بچائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قرآن میں منیب (42: 13)  کہاگیا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی خواہشیں اُس کو نشانیوں میں غور وفکر سے ہٹا دیتی ہیں۔ کبھی کوئی مسئلہ اس کی توجہ کو موڑ دیتا ہے۔ کبھی شکایت کی نفسیات اس کے لیے ڈسٹریکشن کا سبب بن جاتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ محاسبہ کے ذریعے اپنے آپ کو تمام قسم کے ڈسٹریکشن سے بچائے، تاکہ وہ خدائی نشانیوں (divine signs)سے مسلسل اپنے لیے ایمانی رزق حاصل کرتا رہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C02",
      "chapter_title": "اللہ کی محبت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C02P01",
          "text": "قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے:  والذین آمنوا أشد حبّا للہ (2: 165) ۔ اِس آیت کے مطابق، اللہ کا مومن بننے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کے لیے حبّ شدیدپیدا ہوجائے۔ مذکورہ قرآنی آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان اللہ سے حب شدید کرتے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ اہلِ ایمان کے اندر اللہ سے حب شدید ہوتی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P02",
          "text": "اصل یہ ہے کہ محبت، جواب (response)  کے طور پر کسی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک انسان اللہ کو اپنے سب سے بڑے محسن اور منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سینے میں اللہ کے لیے محبت کا سمندر موج زن ہوجاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P03",
          "text": "اِسی کا نام حبّ شدید ہے۔ محبت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دریافت (discovery) کا نتیجہ ہے، وہ محض ایک حکم کی رسمی تعمیل نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P04",
          "text": "انسان جب اپنے آپ کو احسنِ تقویم (95: 4)  کی حیثیت سے دریافت کرتاہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے ساتھ تکریم (17: 70)   کا معاملہ کیا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے لیے زمین اور آسمان کو مسخر کردیا ہے، جب وہ ان بے شمار نعمتوں کو دریافت کرتا ہے جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہاجاتا ہے، جب وہ اللہ کے اِس احسان کو دریافت کرتا ہے کہ اُس نے پیغمبر کے ذریعے اس کی ہدایت کا انتظام فرمایا، جب کہ وہ ہدایت سے پوری طرح بے خبر تھا، جب وہ کائناتی پیمانے پر اللہ کی تخلیق اور اس کی ربوبیت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا بے پناہ جذبہ امنڈ پڑتا ہے۔ یہی شکرِ الٰہی محبتِ الٰہی، کا منبع ہے۔ اِسی سے انسان کے اندر وہ گہرا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید کہا گیا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P05",
          "text": "اصل بات یہ نہیں ہے کہ محبت کرو، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو اتنے بڑے منعم کی حیثیت سے دریافت کرو کہ تمھارے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہوجائے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C03",
      "chapter_title": "کوثر— خیر ِ کثیر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C03P01",
          "text": "قرآن کی سورہ الکوثر (108)  کا ترجمہ یہ ہے: ’’ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔ پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمھارا دشمن ہی بے نام ونشان ہے‘‘۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P02",
          "text": "کوثر مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے — خیر کثیر۔ خیر کثیرسے کیا مرادہے، اس کی وضاحت قرآن کی دوسری آیت سے ہوتی ہے۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں یہ آیت آئی ہے:   یؤتی الحکمۃ من یشاء، ومن یؤت الحکمۃ فقد أوتی خیراکثیرا۔ وما یذکر إلاّ أولوا الألباب (2: 269)  یعنی اللہ جس کو چاہتاہے، اُس کو حکمت عطا کرتاہے، اور جس کو حکمت دی گئی، اُس کو خیر کثیر دے دیاگیا۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P03",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں حکمت سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن کے دوسرے مقام پر معرفت یا عرفانِ حق (5: 83)  کہاگیا ہے۔ معرفت کا تعلق عقلی دریافت سے ہے اور یہ معرفت بلاشبہہ کسی مومن کے لیے سب سے بڑی چیز ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت اہلِ مکہ یا اہلِ عرب کے درمیان اگرچہ مذہب کے نام پر مختلف قسم کے مذہبی رسوم (religious rites) موجود تھے، مگر وہ لوگ خدا کی سچی معرفت سے کامل طورپر محروم تھے۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبراسلام کو سچی معرفت عطا فرمائی۔ اِس کا ذکر قرآن کی دوسری آیت میں اِن الفاظ میں کیا گیا ہے:   ووجدک ضالاّ فہدی  (93: 7) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P04",
          "text": "سورہ الکوثر میں صلوٰۃ اور  نحر کے الفاظ علامتی طورپر آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ سے تعلق قائم کرو، تاکہ شکر کا جذبہ پوری طرح برقرار رہے۔ ’نحر‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو دعوتی مشن تم کو دیاگیا ہے، قربانی کی سطح پر تم اس مشن کو جاری رکھو۔ مخالفین کی مخالفت تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی، وہ خود ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C04",
      "chapter_title": "نماز میں خشوع",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C04P01",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ — فلاح اُن اہلِ ایمان کے لیے ہے جو خشوع کے ساتھ اپنی نماز ادا کرتے ہیں (23: 1) ۔ خشوع کا لفظی مطلب فروتنی ہے، یعنی وہ حالت جو مُحاسب ومُجازی خدا کی یاد سے پیدا ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت یہ ہے:   الذین یظنّون أنہم ملٰقوا ربہم (2: 46) ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ لقائِ رب کے شدید تصور سے انسان کے دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، اُسی کا نام خشوع ہے۔نماز میں خشوع یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اتنازیادہ بیدار ہو کہ جب وہ نماز کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرے تو اِن کلمات کا مفہوم اُس کے ذہن کو متحرک کرتا رہے۔ اس کے اعضا نماز کے ظاہری افعال کو ادا کررہے ہوں اور ا س کا ذہن خدا کے سامنے حاضری کو سوچ کر اندیشہ ناک بنا ہوا ہو، حتی کہ یہ کیفیت اتنی زیادہ شدید ہو کہ اس کے بدن پر خوف سے کپکپی طاری ہوجائے۔ اِس کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے شدید محنت درکار ہوتی ہے، اِس لیے نماز کے ساتھ صبر کو شامل کیاگیا ہے  (2: 45) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C04P02",
          "text": "ایک فارسی شاعر نے کہا — رات کو جب میں نماز کی نیت کرکے کھڑا ہوا تو دل میں بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ میرا بچہ صبح کو کیا کھائے گا:"
        },
        {
          "para_id": "C04P03",
          "text": "شب چو عقدِ نماز بر بندم  چہ خورد بامداد فرزندم"
        },
        {
          "para_id": "C04P04",
          "text": "یہ شعر تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ خشوع کی نماز ادا کرنے کے لیے کیا چیز درکار ہے، وہ یہ کہ آدمی کا ذہن کسی اور سوچ میں مبتلا نہ ہو، اپنی سوچ کے اعتبار سے، وہ پوری طرح لقائِ رب پر فوکس کئے ہوئے ہو۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ذہنی فوکس کو ہٹانے والی سب سے طاقت ور چیز منفی سوچ ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔آدمی کو چاہئے کہ وہ صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے کامل طور پر اپنے آپ کو منفی احساس سے بچائے۔ خشوع کی نماز پڑھنا صرف اُس کے لیے ممکن ہے جو نماز سے پہلے اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرچکا ہو۔ اور ایسا صرف اُس وقت ہوسکتا ہے، جب کہ آدمی اپنے اندر یہ صابرانہ نفسیات پیدا کر لے کہ وہ منفی تجربات کے باوجود اپنے آپ کو مثبت روش پر قائم رکھے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C05",
      "chapter_title": "منصوبۂ خداوندی کی مخالفت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C05P01",
          "text": "قدیم مکہ میں جب کہ وہاں کے سردار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کررہے تھے، اُس وقت قرآن کی سورہ الانعام میں یہ آیت اتری:   قد نعلم إنہ لیحزنک الذی یقولون، فإنہم لا یکذبونک ولکنّ الظالمین بٰایات اللہ یجحدون (6: 33)  یعنی ہم کو معلوم ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، اُس سے تم کو رنج ہوتا ہے۔ یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلا تے، بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی نشانیوں کا انکار کررہے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C05P02",
          "text": "اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی مشن سادہ طور پر صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں ہے، وہ براہِ راست طور پر اللہ کے منصوبے کا معاملہ ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے بندوں کے لیے ہدایت کا انتظام کرے، اِس لیے اُس نے پیغمبر کے ذریعے اُس دعوتی مشن کو برپا کیا ہے۔ ایسی حالت میں، پیغمبر کے دعوتی مشن کو ناکام بنانے کی کوشش کرنا، اللہ کے منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرنا ہے، اور یہ خدا کی اِس دنیا میں کسی کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C05P03",
          "text": "یہ کوئی زمانی معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی دعوت خالص حق کی بنیاد پر اٹھے تو اپنی نوعیت کے اعتبار سے، اُس کا معاملہ بھی یہی ہوگا۔ بظاہر یہ دعوت کسی فرد کے ذریعہ اٹھے گی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبارسے، وہ بلاشبہہ اللہ کا ایک منصوبہ ہوگا۔ دوبارہ ایسا ہوگا کہ جو لوگ اِس دعوتی مشن کی مخالفت کریں، وہ بلاشبہہ ناکام رہیں گے، ان کی مخالفانہ تدبیریں یقینی طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C05P04",
          "text": "بعد کے دور میں اٹھنے والی دعوتِ حق کی پہچان وہی ہوگی جو دورِ اول میں اِس قسم کی دعوتِ حق کی پہچان تھی، وہ یہ کہ اس کی مخالفت کرنے والے اپنی مخالفت کے حق میں کوئی دلیل نہ پاسکیں گے۔ اُن کی ساری مخالفت بے بنیاد الزام تراشی پر قائم ہوگی، نہ کہ کسی حقیقی دلیل پر۔ دونوں کے درمیان بلا دلیل تکذیب کی یہی مشابہت اِس بات کا ثبوت ہوگی کہ یہ مخالفت، اللہ کے منصوبے کی مخالفت ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک مجرمانہ فعل ہے، نہ کہ کوئی اسلامی فعل۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C06",
      "chapter_title": "وسیلہ کی حقیقت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C06P01",
          "text": "وسیلہ کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما یقول، ثم صلّوا علیّ، فإنہ من صلّی علیَّ صلاۃ، صلّی اللہ علیہ بہا عشراً، ثم سَلوا للہ لی الوسیلۃ، فإنّہا منزلۃ فی الجنۃ۔ لاتنبغی إلا لعبد من عباد اللہ، وأرجوا أن أکون ہو، فمن سأل لی الوسیلۃ، حلّت لہ الشفاعۃ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 387, 582 )یعنی جب تم موذن کو سنو تو تم بھی وہی کہو جو موذن نے کہا ہے، پھر میرے لیے دعا کرو۔ جو میرے لیے ایک دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس پر اپنی دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ پھر تم میرے لیے اللہ سے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وسیلہ جنت کا ایک درجہ ہے۔ یہ درجہ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے کو ملتاہے، اور میں امید کرتاہوں کہ میں وہ بندہ ہوں گا۔ جس نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی، اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P02",
          "text": "1 -  وسیلہ کا لفظی مطلب قربت (nearness)  ہے۔ یہ لفظ قرآن میں اِسی معنی میں آیا ہے۔ ایک جگہ فرشتوں کی نسبت سے، اور دوسری جگہ انسان کی نسبت سے۔ فرشتوں کی نسبت سے، قرآن میں آیا ہے کہ وہ اللہ کے وسیلہ، یعنی قربت کے طالب رہتے ہیں (17: 57)  ۔ اِسی طرح، قرآن میں انسان کی نسبت سے آیا ہے کہ تم اللہ کے وسیلہ، یعنی قربت کے طالب بنو (5: 35) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P03",
          "text": "2 -  مذکورہ روایت میں وسیلہ کا لفظ اِسی معنی میں استعمال ہواہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ دعا کرو کہ آپ کو اللہ کاوسیلہ، یعنی اللہ کی قربت حاصل ہو، جو کہ اللہ کی طرف سے کسی انسان کے لیے ایک عظیم رحمت ہے اور جنت میں اس کے درجے کو بڑھانے والی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P04",
          "text": "ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: اللہم آت محمداً الوسیلۃ والفضیلۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:614 ) یعنی اے اللہ، محمد کو وسیلہ اور فضیلت دے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اِس جملے میں  ’فضیلۃ‘ کا لفظ کسی نئے مفہوم کے لیے نہیں ہے۔ وہ وسیلہ کے لفظ ہی کی مزید وضاحت ہے: والفضیلۃ تفسیراً للوسیلۃ (فتح الباری، 2/113)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تو محمد کو قربت کا درجہ دے جو کہ فضیلت کا ایک درجہ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P05",
          "text": "3 -  عام طورپر یہ سمجھا جاتاہے کہ وسیلہ سے مراد سفارش (recommendation)  ہے، یعنی قیامت میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل ہوگی۔ وسیلہ کا یہ مفہوم ایک خود ساختہ مفہوم ہے، وہ لفظی طورپر کسی بھی روایت میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغفرت تمام تر اللہ کا ایک عطیہ ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں میں اِس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P06",
          "text": "4 -  روایت میں ’حلّت لہ الشفاعۃ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اس کے لیے شفاعت واجب ہوگئی۔ یہاں شفاعت سے مراد سفارش نہیں ہے۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے عمل کی بنا پر اِس قابل ہوگیا کہ رسول اللہ اس کو پہچانیں اور قیامت میں اس کو اپنی امت کا ایک فرد شمار کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P07",
          "text": "5 -  شفاعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک شخص جو اپنے عمل کے اعتبار سے جنتی نہ ہو، وہ پیغمبرکی سفارش سے جنتی بن جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کے اخروی مستقبل کا فیصلہ تمام تر اللہ کی مرضی سے ہوگا، لیکن اُس کے اعلان کا طریقہ یہ ہوگا کہ انبیاء اور دُعاۃ کو بلندمقام (اعراف) پر کھڑا کیاجائے گا۔ انھوں نے جن لوگوں کے اوپر دعوت وشہادت کا کام کیا ہوگا، وہ اُن کو قیامت کے دن صاف طورپر پہچان لیں گے اور ہر ایک کے لیے اللہ کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P08",
          "text": "6 -  وسیلہ (قربت) کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ تعلق باللہ کے دو درجے ہیں— ایک درجۂ اطاعت، اور دوسرا درجۂ قربت۔ مومن کو چاہئے کہ وہ درجۂ قربت میں اللہ سے تعلق قائم کرے، اور اِسی اعلیٰ درجۂ قربت کے لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں دعا کرے۔ اِس دعا کا کوئی تعلق سفارش کے خود ساختہ نظریے سے نہیں ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P09",
          "text": "7 -  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعاو صلاۃ کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ وہ صرف اظہارِ تعلق کی ایک صورت ہے۔ ایک انسان جو سچائی کا طالب ہو، لمبی جستجو کے بعد جب اس کو پیغمبراسلام کے ذریعے ہدایت ملے تو فطری طورپر ایسا ہوگا کہ اس کو پیغمبر اسلام سے قلبی تعلق ہوجائے گا اور وہ اِس تعلق کا اعتراف الفاظ کی صورت میں کرے گا۔ اِسی اعتراف کا دوسرا نام درودو صلاۃ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P10",
          "text": "8 -  حدیثوں کی نوعیت زیادہ تر یہ ہے کہ کوئی واقعہ گزرا تو اُس کی نسبت سے آپ نے لوگوں کو ایک اسلامی تعلیم بتادی۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کسی موقع پر جب مسجد سے اذان کی آواز آئی تو اُس وقت آپ کے پاس جو لوگ موجود تھے، اُن سے آپ نے مذکورہ بات فرمائی۔ آپ کے اِس قول کا مطلب یہ تھا کہ موذن کے کلمات کو سننے والا بھی اُسی طرح دہرائے۔ اُس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ سننے والا مسجد میں حاضر ہو اور نماز کے ذریعے وہ قربتِ الٰہی (96: 19)  کا تجربہ کرے۔ اِس طرح اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اعلیٰ اعتراف کا جذبہ پیدا ہو، جن کے ذریعے عبادت کا یہ نظام اور دوسری تعلیماتِ الٰہیہ حاصل ہوئیں۔ اِسی جذبۂ اعتراف کا یہ ایک اظہار ہے کہ مومن یہ کہے کہ خدایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربت کا درجہ عطا فرما اور آپ کو جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز فرما۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P11",
          "text": "9 - حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ’’جو میرے لیے ایک بار دعا کرتا ہے، اللہ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے‘‘۔حدیث کے یہ الفاظ ’’درود‘‘ کی کسی علاحدہ خصوصیت کو نہیںبتارہے ہیں۔ وہ ایک عام سنتِ الٰہی کو بتارہے ہیں، جیسا کہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی عمل کا کم ازکم دس گنا اجر دیتا ہے اور عمل کی کیفیاتی قدر کے مطابق، اس کا انعام سات سو گنا تک یا اس سے بھی زیادہ دیا جاتا ہے۔ حدیث کے مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایسا کروگے تو تم کو اس کا اجر ملے گا۔ جس کی کم سے کم مقدار دس گنا ہوگی۔ صلاۃ وسلام دراصل پیغمبر کے حق میں ایک مومن کی طرف سے اعتراف کا کلمہ ہے۔ جس کا اعتراف جتنا شدید ہوگا، اتنا ہی اس کا اجر بڑھتا جائے گا۔وسیلہ کا یہ مفہوم قرآن وحدیث کے متن سے بالکل واضح ہے۔ مگر اُس کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے، وہ یہ کہ آدمی اپنے روایتی شاکلہ (traditional mindset)  کو توڑے۔ وہ خالص علمی انداز میں کھلے ذہن کے ساتھ قرآن وحدیث کا موضوعی (objective)  مطالعہ کرے۔ وسیلہ کی مذکورہ تشریح کو سمجھنے کے لیے اِس شرط کو پورا کرنا ضروری ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C07",
      "chapter_title": "صلاۃ وسلام",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C07P01",
          "text": "قرآن کی سورہ الاحزاب میں ارشاد ہوا ہے:   إن اللّٰہ وملائکتہ یصلّون علی النبی، یاأیہا الذین اٰمنوا صلّوا علیہ وسلّموا تسلیماً (33: 56)  یعنی اللہ اور اس کے فرشتے، نبی پر صلاۃ بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو، تم بھی نبی پر صلاۃ وسلام بھیجو۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P02",
          "text": "’صلاۃ‘ کا لفظ جب اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے۔ اور جب ’صلوۃ‘ کا لفظ بندے کی نسبت سے بولا جائے تو اس سے مراد دعا ہوتی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول پر جس مشن کی ذمے داری ڈالی ہے، اُس میں وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ اللہ کی رحمتیں اس کے ساتھ ہیں۔ اللہ کے فرشتے بھی اِس مشن میں رسول کی مسلسل تائید کررہے ہیں۔ یہی کام اہلِ ایمان کو بھی کرنا چاہیے۔ اہلِ ایمان کے دل میں رسول کے لیے بہترین جذبات ہونے چاہئیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P03",
          "text": "آیت میں ’صلّوا‘ کے بعد ’وسلّموا تسلیماً‘ کے الفاظ ’صلّوا‘ کی مزید تاکید کو بتا رہے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہئے کہ وہ پیغمبر کے رول کو بھر پور طورپر دریافت کریں۔ جب وہ اِس رول کو شعوری طورپر دریافت کریں گے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ رسول کے لیے سرتاپا اطاعت بن جائیں گے۔ اُن کے دل میں رسول کے لیے صلاۃ وسلام اور اعتراف کے چشمے جاری ہوجائیں گے، جس کا اظہار بار بار الفاظ کی صورت میں ہوگا۔ یہی مطلب ہے صلاۃ وسلام کے اِن الفاظ کا:   اللہم صل علی محمد وعلی اٰلِ محمد، کما صلیت علٰی إبراہیم، وعلیٰ اٰل إبراہیم، إنک حمید مجید۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P04",
          "text": "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے درود کوئی پُراسرار چیز نہیں۔ یہ دراصل ایک مومن کی طرف سے آپ کے لئے قلبی اعتراف (heartfelt acknowledgement)  ہے۔ رسول اللہﷺکے ذریعہ انسان کو دو انتہائی اہم چیزیں ملی ہیں— ایک، مستند خدائی ہدایت نامہ(authentic divine guidance)۔ اور دوسرا، خدائی ہدایت کا مستند رول ماڈل(authentic role model)۔ یہ دونوں چیزیں رسول کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکتی تھیں۔ایک مومن کو جب اِس حقیقت کا شعور حاصل ہوتا ہے تو اس کے اندر رسول اللہ کے لیے گہرے اعتراف کا جذبہ پیدا ہوتاہے اور پھر اس کی زبان سے بے اختیارانہ طورپر وہ الفاظ نکل جاتے ہیں جن کو صلاۃ وسلام کہا جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P05",
          "text": "درود کلمۂ فضیلت نہیں ہے، درود کلمۂ اعتراف ہے۔ ایک شخص پیدا ہو کر اِس دنیا میں آتاہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ میں کیا ہوں اور یہ کائنات کیا ہے۔موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اِن سوالات کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے، مگر کہیں بھی اس کو اِن سوالات کا مستند جواب نہیں ملتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P06",
          "text": "آخر کار، وہ اِس دریافت تک پہنچتا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے ذریعے جو دین انسان کو دیاگیا ہے، وہی اس سوال کا حقیقی جواب ہے۔ یہ دریافت اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعتراف کے جذبے سے سرشار کردیتی ہے۔ یہ جذبۂ اعتراف جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو اِسی کا نام صلاۃ وسلام ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P07",
          "text": "درود یا صلاۃ وسلام یہ نہیں ہے کہ کچھ مخصوص الفاظ کو اپنی زبان سے دہرا دیا جائے یا اُن کی تکرار کی جاتی رہے۔ یہ رسول کے لیے صلاۃ وسلام کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ رسول کے لیے صلاۃ وسلام کا آغاز دریافت سے ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P08",
          "text": "ایک مومن پیغمبر کے اِس رول کو دریافت کرتاہے۔ اِس دریافت کے نتیجے میں اس کے اندر اعلیٰ کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کیفیات لفظوں میں ڈھل جاتی ہیں، اِس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ مومن، پیغمبر کو اپنا رہنما بنا لیتاہے۔ وہ پیغمبر کے اسوہ  (model) کو اختیار کرلیتا ہے۔ وہ پیغمبر کے مشن میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگا دیتاہے۔ وہ پیغمبر کے مشن کو اپنا مشن بنا لیتاہے— یہ تمام چیزیں درود وسلام کا لازمی حصہ ہیں، کچھ چیزیں براہِ راست طور پر اس کا حصہ ہیں اور کچھ چیزیں بالواسطہ طورپر اس کا حصہ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C08",
      "chapter_title": "ایک واقعہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C08P01",
          "text": "سلطان غیاث الدین تغلق (وفات:1325 ء) کے دربار میں ایک خاص مسئلے پر شیخ الوقت خواجہ نظام الدین اولیاء (وفات: 1325 ء) اور شیخ الاسلام قاضی جلال الدین کے مابین مناظرہ ہوا۔ اُس وقت اپنے موقف کے حق میں خواجہ نظام الدین نے ایک حدیث رسول کو پیش کرنا چاہا، تو قاضی جلال الدین نے کہا کہ — تم ابو حنیفہ کے مقلد ہو، تمھیں حدیث رسول سے کیا مطلب۔ اگر ابو حنیفہ کا کوئی قول پیش کرسکتے ہو تو پیش کرو:  ’’تو مقلدِ ابو حنیفہ ہستی، تُرا با حدیثِ رسول چہ کار۔ قول ابو حنیفہ بیار‘‘۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P02",
          "text": "اِس کو سن کر خواجہ نظام الدین اولیاء نے یہ کہتے ہوئے مناظرہ ختم کردیا اور دربار سے اٹھ گئے کہ — سبحان اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے ہوتے ہوئے مجھ سے ابو حنیفہ کے قول کا مطالبہ کیاجارہا ہے: ’’سبحان اللہ، کہ باوجود قول مصطفوی، از من قولِ ابو حنیفہ می خواہند‘‘۔ (سیر العارفین بحوالہ سہ ماہی مجلہ حکمتِ قرآن، لاہور، جنوری- مارچ 2011 ، صفحہ  9)۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P03",
          "text": "یہ واقعہ ایک واقعہ نہیں، یہ ایک مثال کی صورت میں دورِ زوال کی امتِ مسلمہ کی تصویر ہے۔ زوال کے دور میں، دوسری امتوں کی طرح امتِ مسلمہ میں بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ امت کے شیوخ اور اکابر، دین کا ماخذ بن گئے۔ جس طرح یہود کے دورِ زوال میں یہ ہوا کہ اُن کے احبار اور رہبان (علما اور مشائخ) اُن کے لیے دین کا ماخذ بن گئے۔ تاہم امتِ مسلمہ کے پاس اِس معاملے میں ایک واضح معیار (criterion) موجود ہے، جس کے ذریعے صحیح اور غلط میں فرق کیا جاسکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق، امت میں تین دور قُرون مشہود لہا بالخیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ تین دور یہ ہیں — دورِ رسالت، دور صحابہ، دورِ تابعین۔ اِس معیار کی روشنی میں دیکھئے تو وہ تمام افراد جن کو بعد کے زمانے میں ’’اکابر‘‘ کا درجہ دے دیاگیا، وہ سب قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد کے افراد ہیں۔ ہم کو حق ہے کہ ان بعد کے لوگوں کی باتوں کو قرآن اور سنت کی روشنی میں جانچیں۔ اگروہ قرآن اور سنت کے مطابق ہوں تو اُن کو لیں، ورنہ ان کو رد کردیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C09",
      "chapter_title": "عجیب اور سبق آموز",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C09P01",
          "text": "والٹر ڈی لا میئر (Walter De La Mare) ایک برٹش مصنف ہے۔ وہ 1873  میں پیدا ہوا، اور 1956  میں اس کی وفات ہوئی۔ ڈی لا میئر کی ایک نظم ہے۔ اس کا عنوان مس ٹی (Miss T) ہے۔ اِس نظم کی ایک لائن یہ ہے — یہ بہت زیادہ عجیب بات ہے کہ مس ٹی جو کچھ کھاتی ہے، وہ مس ٹی بن جاتاہے:"
        },
        {
          "para_id": "C09P02",
          "text": "It's a very odd thing— as odd can be —"
        },
        {
          "para_id": "C09P03",
          "text": "That whatever Miss T eats, turns into Miss T."
        },
        {
          "para_id": "C09P04",
          "text": "’’مس ٹی‘‘ ایک فرضی نام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مس ٹی کے باہر دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے ہیں— پھل، سبزی، چاول، دال، وغیرہ۔ یہ چیزیں جب تک باہر ہیں، وہ مختلف غذائی آئٹم ہیں۔ لیکن جب مس ٹی اِن چیزوں کو کھاتی ہے تو وہ اُس کے اندر داخل ہو کر اُس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P05",
          "text": "یہ تبدیلی (conversion)  کا ایک واقعہ ہے، جب کہ ایک مادی چیز تبدیل ہو کر ایک شخص کے جسم کا جز بن جاتی ہے۔ تبدیلی کے اِس واقعے کا ایک اور پہلو ہے۔ یہ پہلو شعور سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک با شعور آدمی جب یہ سوچتاہے کہ یہ مادی چیزیں کیسے بنیں، کیوں ایسا ہے کہ دو بہ ظاہر الگ الگ چیزوں میں کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ کس طرح یہ ممکن ہوا کہ یہ تمام چیزیں انسان کے لئے لائف سپورٹ سسٹم (life-support system)  کا ذریعہ بن گئیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P06",
          "text": "جب ایک شخص اِس طرح سوچتا ہے تو ہ تخلیق کی معنویت (meaningfulness)کو دریافت کرتاہے۔ وہ تخلیق میں خالق کو دیکھ لیتاہے— یہی وہ تجربہ ہے جو انسان کے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ مادی چیزیں انسان کے باہر صرف مادی چیزیں ہیں، لیکن انسان کے ذہن میں آکر وہ شعوری ارتقا میں ڈھل جاتی ہیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C10",
      "chapter_title": "دعوتِ قرآن",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C10P01",
          "text": "قرآن کی سورہ مریم میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے:   لتبشر بہ المتقین (19:97)یعنی قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ اہلِ تقویٰ کے لیے بشارت ثابت ہو۔ ’بشارت‘ کا مطلب اچھی خبر (good news) ہے۔ قرآن، خدا کی ایک مستند کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو ایک اچھی خبر دینے والا ہے۔ وہ اچھی خبر یہ ہے کہ انسان اگر دنیا کی محدود زندگی میں حسنِ عمل کا طریقہ اختیار کرے تو وہ موت کے بعد کی زندگی میں ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P02",
          "text": "یہ اچھی خبر اُن افراد کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کی روش اختیار کریں۔ جنت عمومی طورپر ہر انسان کو نہیں ملے گی، وہ صرف اُس انسان کو ملے گی جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کا ثبوت دے(3: 133)۔جنت کی معیاری دنیا میں جگہ پانے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P03",
          "text": "قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، جنت کی بشارت متقی انسانوں کے لیے ہے۔ متقی کا لفظی مطلب ہے — ڈرنے والا یا بچنے والا۔ ڈرنا یا بچنا کیا ہے، یہ دراصل حساسیت (sensitivity) کا ایک ظاہرہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ باشعور ہوجائے تو فطری طور پر وہ اس کے بارے میں بہت زیادہ حساس (sensitive) ہوجاتاہے۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑا رول اِسی حساسیت کا ہے۔ آدمی جس چیز کے بارے میں حساس نہ ہو، وہ اس کو نظر انداز کرے گا، اور جس چیز کے بارے میں وہ حساس ہو، وہ چیز اس کا کنسرن (concern)  بن جائے گی۔ عین اپنے مزاج کے مطابق، اُس کو وہ سب سے زیادہ قابلِ توجہ چیز سمجھنے لگے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P04",
          "text": "قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے۔ وہ اپنے شعورکو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ اپنی زندگی میں خدا کی اطاعت ہی اُس کا سب سے بڑا کنسرن (sole concern) بن جائے، کوئی دوسری چیز اس کی حساسیت کا مرکز نہ بنے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P05",
          "text": "ایسے آدمی کا حال کیا ہوگا، اُس کو قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:   ولا تقفُ ما لیس لک بہ علم، إن السمع والبصر والفؤاد کلُّ أولئک کان عنہ مسؤلاً(17:36 ) یعنی تم اُس چیز کے پیرو نہ بنو جس کا تمھیں علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کی، آدمی سے پوچھ ہوگی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P06",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں د راصل اُس چیز کا حکم دیاگیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہاگیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اِس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرز فکر پیدا ہو جائے۔ وہ اپنے قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کوپوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنالے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P07",
          "text": "قرآن کے مطابق، یہی وہ منصوبۂ تخلیق (creation plan)  ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کرکے اس کو محدود مدت کے لیے سیارۂ ارض (planet earth) پر بسایا گیا ہے۔ سیارۂ ارض انسان کے لیے کوئی عیش گاہ نہیں ہے، وہ مذکورہ مقصد کے لیے مقامِ انتخاب (selection ground) ہے۔ یہاں وہ افراد چُنے جارہے ہیں جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر جنت جیسی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے:  الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم أیُّکم أحسن عملاً (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے:"
        },
        {
          "para_id": "C10P08",
          "text": "He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct."
        },
        {
          "para_id": "C10P09",
          "text": "اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، وہ وسیع تر تقسیم (division) میں دوہیں— مادی دنیا اور انسان۔ مادی دنیا سے مراد وہ پوری وسیع کائنات ہے جس کو نیچر (nature)کہاجاتاہے۔ مادی دنیا مکمل طورپر خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون (divine laws)  کے تحت کام کررہی ہے۔ وہ خدا کے قانون سے ادنی انحراف نہیں کرتی۔ مگر انسان کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ انسان پوری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو انتخاب کی آزادی (freedom of choice) عطا کی گئی ہے۔ انسان کو کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ خود اپنی سوچ کے مطابق، اپنے قول وعمل کا فیصلہ کرے۔ یہ بات قرآن کی مختلف آیتوں میں بتائی گئی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اُسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ (3: 83)۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے:’’اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا، تو وہ دین اُس سے ہر گز قبول نہ کیاجائے گا اور وہ آخرت میں ناکام انسانوں میں سے ہوگا‘‘ (3: 85)"
        },
        {
          "para_id": "C10P10",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں لفظ ’اسلام‘ (submission) استعمال کیا گیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کی جو اطاعت بقیہ کائنات سے جبری (compulsory)  طورپر مطلوب ہے، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ اِسی اطاعت کو وہ کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P11",
          "text": "انسان کو سننے کی طاقت، دیکھنے کی طاقت اور سوچنے کی طاقت اِس لیے دی گئی ہے، تاکہ انسان اُن کا استعمال کرکے اپنے لیے اُس صحیح روش کو جان سکے جس کو قرآن میں صراطِ مستقیم کہاگیاہے۔ صراطِ مستقیم سے ہٹنا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے اپنی ملی ہوئی صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال نہیں کیا۔ ایساآدمی اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ مواخذہ (accountable) قرار پائے گا، کو ئی بھی عذر اُس سے قبول نہیں کیا جائے گا 30: 57) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P12",
          "text": "اِسی طرح حیاتِ انسانی کا ایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کبر (arrogance)  کی نفسیات سے بچائے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: ولا تمش فی الأرض مرحاً، إن اللہ لا یحب کلَّ مختال فخور(31: 18)  یعنی تم زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P13",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے لیے سب سے بُری اخلاقی صفت کیا ہے، وہ کبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کبر تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کے برعکس، تواضع (modesty) تمام بھلائیوں کا سرچشمہ۔ قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو متواضع ہو اور کبر کی نفسیات سے مکمل طورپر خالی ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P14",
          "text": "قرآن کی سورہ الفجر میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ساتھ جو خوش گوار یا نا خوش گوار تجربات پیش آتے ہیں، وہ صرف ابتلا (test)  کے لیے ہوتے ہیں، مگر انسان ایسے واقعات کو منفی معنی میں لے لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ خوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ   ’أکرمن‘ کی نفسیات میںمبتلا ہوجاتا ہے، یعنی احساسِ برتری (superiority complex)  کی نفسیات میں۔ اِس کے برعکس، اگر اُس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ ’أہانن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے، یعنی احساسِ کم تری (inferiority complex) کی نفسیات میں (89: 15-16)۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P15",
          "text": "قرآن کے مطابق، یہ دونوں چیزیں انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی خوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ جو انسان اِس طرح معتدل شخصیت کا ثبوت دے، اس کو قرآن میں   النفس المطمئنۃ (89: 27)  کہاگیا ہے، یعنی کامپلکس فری انسان (complex-free soul) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P16",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اُس کو موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلہ مل جائے۔ اِس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے:  إن ہذا لہو الفوز العظیم۔ لمثل ہذا، فلیعمل العاملون (37: 60-61)  یعنی یقینا یہی بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔اِس سے معلوم ہواکہ قرآن کے مطابق، انسان کا گول (goal)  کیا ہونا چاہئے، وہ گول صرف ایک ہے، اور وہ جنت ہے۔ جنت سادہ طور پر صرف ایک عیش گاہ نہیں ہے۔ جنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ رب العالمین کا پڑوس ہے، اور بلاشبہہ کسی انسان کے لیے اِس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی کہ اس کو ابدی زندگی میں اپنے رب کا پڑوس (neighbourhood) حاصل ہوجائے۔ جنت کی یہ خصوصیت قرآن کی اِس دعا سے معلوم ہوتی ہے:   ربّ ابنِ لی عندک بیتاً فی الجنۃ   (66: 11) یعنی اے میرے رب، میرے لیے تو اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C11",
      "chapter_title": "مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C11P01",
          "text": "بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے بارے میں ایک حدیث اِن الفاظ میں آئی ہے:  یوشک الأمم أن تداعی علیکم کما تداعی الأکَلَۃُ إلی قصعتہا۔ فقال قائلٌ: و من قلۃٍ نحن یومئذ۔ قال بل أنتم یومئذ کثیر، ولکنکم غثاء کغثاء السیل، ولینزعنّ اللہ من صدور عدوکم المہابۃ منکم، ولیقذفنّ فی قلوبکم الوَہْن۔ قیل وما الوہن یا رسول اللہ۔ قال: حب الدنیا وکراہیۃ الموت (أبو داؤد، رقم الحدیث: 4297)  حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تمھارے اوپر ٹوٹ پڑیں، جس طرح کھانے والے کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا، کیا اِس لیے کہ اُس وقت ہم لوگ کم تعداد میں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اُس وقت تم لوگ بہت زیادہ ہو گے، مگر تم لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے، اللہ تمھارے دشمنوں کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا، اور تمھارے دلوں میں ’وہن‘ پیدا کردے گا۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، ’وہن‘ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت، اور موت کو ناپسند کرنا۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P02",
          "text": "اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں میں یہ مسئلہ اگرچہ خارجی اعتبار سے پیداہوگا، لیکن اُس کا اصل سبب تمام تر داخلی ہوگا۔ امت کے اِس داخلی مسئلے کو حدیث میں ’’وہن‘‘ کہاگیا ہے۔ وہن کا لفظی مطلب ہے— ضعف (weakness) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P03",
          "text": "یہ ضعف (کمزوری) کیاہوگا، اِس کو بھی حدیث میں بتادیاگیا ہے۔ وہ یہ کہ اُس زمانے میں مسلمانوں کا کنسرن (concern) یہ نہیں رہے گا کہ وہ دین کے تقاضے پورے کریں۔ اُن کا کنسرن صرف یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں مادی اعتبار سے اپنی جگہ بنائیں۔ موت کے بعد پیش آنے والی صورتِ حال اُن کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور نہ ہوگی، بلکہ ان کی سرگرمیوں کا مرکز و محور صرف یہ ہوگا کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی میں کس طرح مادی کامیابی اور مادی ترقی حاصل کریں۔ ’’دنیا پرستی اور آخرت فراموشی‘‘ کے اسی مزاج کو حدیث میں وہن کہاگیا ہے۔ اِس مزاج کے بعد امتِ مسلمہ سے خدا کی نصرت اٹھ جائے گی، اور خدا کی نصرت اٹھنے ہی کا وہ نتیجہ ہوگا جس کی ایک تصویر مذکورہ روایت میں نظر آتی ہے۔ ایسی حالت میں اِس مسئلے کا حل دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج نہ ہوگا، بلکہ اُس کا حل صرف یہ ہوگا کہ اپنی داخلی حالت کی اصلاح کرکے د وبارہ اپنے آپ کو نصرتِ الٰہی کا مستحق بنایا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P04",
          "text": "لوگوں کے دلوںمیں تمھاری ہیبت باقی نہ رہے گی — ہیبت یا مہابت کا ترجمہ عام طور پر خوف کیا جاتاہے، مگر خوف ایک منفی لفظ ہے، جب کہ ہیبت تمام تر ایک مثبت لفظ ہے۔ اِس حدیث میں ہیبت سے مراد سیاسی ہیبت نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد وہ ہیبت ہے جو اعلیٰ قسم کے مثبت اوصاف سے پیدا ہوتی ہے۔ ہیبت سے مراد وہ خوف نہیں ہے جو کسی درندہ جانور کو دیکھ کر آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ ہیبت یا مہابت سے مراد وہ رعب و دبدبہ (profound reverence)  ہے جو کسی فرد یا گروہ کے اندر اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ وہ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے دوسروں کے مقابلے میں برتر حیثیت حاصل کرلے۔قدیم زمانے میں مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں یہ ہیبت حاصل تھی، جب کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے دوسروں کے مقابلے میں اپنی یہ ہیبت مکمل طور پر کھو دی ہے۔ اِس فرق کا سبب یہ نہیں ہے کہ قدیم زمانے میں مسلمانوں کے پاس ’’لشکرِ جر ّار‘‘ کی طاقت موجود تھی، بلکہ اِس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے کے مسلمان اپنی نظریاتی برتری، اصول پسندی، نفع بخشی اور اپنی اخلاقی عظمت کے اعتبار سے، دوسروں کے مقابلے میں اعلیٰ سطح پر پہنچے ہوئے تھے۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P05",
          "text": "اِس حدیث میں بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی جس حالت کا ذکر ہے، وہ کوئی پُراسرار بات نہیں، وہ ایک تاریخی حقیقت کا بیان ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، ہر قوم کی بعد کی نسلوں میں زوال (degeneration)  آتا ہے۔ اِس معاملے میں مسلمانوں کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، ایسا ہوتا ہے کہ دورِ زوال میں پیدا ہونے والی نسلیں مثبت اوصاف سے محروم ہوجاتی ہیں۔ پہلے اگر وہ دوسری قوموں کو دینے والے (giver)  تھے، تو اب وہ دوسری قوموں سے لینے والے (taker)  بن جاتے ہیں۔ پہلے اگر اُن کے افراد میں اعلیٰ حوصلگی تھی، تو اب اُن کے افراد پست حوصلگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پہلے اگر اُن کے اندر تخلیقی فکر تھی، تو اب اُن کے افراد صرف تقلیدی فکر کے حامل بن جاتے ہیں۔ پہلے اگر ان کے دلوں میں دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا، تو اب ان کے دل دوسروں کے خلاف نفرت اور شکایت کا جنگل بن جاتے ہیں۔ پہلے اگر ان کے اندر صبر وتحمل کے اوصاف تھے، تو اب ان کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو کر لڑنے لگتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P06",
          "text": "حدیث میں   ’کراہیۃ الموت‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمان موت سے ڈرنے لگیں گے۔اِس کا ثبوت موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی حالت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر اب وہ وقت مسلّمہ طورپر آچکا ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔ لیکن اِسی کے ساتھ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ موت سے بالکل بے خوف ہوگئے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر اُن کی مسلح تنظیمیں قائم ہیں۔ اِن مسلّح تنظیموں میں مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ وہ جگہ جگہ جہاد کے نام پر مسلح کلچر چلائے ہوئے ہیں۔ بالا کوٹ کے شہیدوں اور علمائِ ہند کی قربانیوں سے لے کر موجودہ فلسطین اور افغانستان تک ہر جگہ مسلمان بڑے پیمانے پر مسلح کلچر چلائے ہوئے ہیں، حتی کہ وہ بے خوف ہو کر خود کش بم باری کرتے ہیں۔ وہ جگہ جگہ پُرتشدد مظاہرے کرتے ہیں، خواہ اس کے جواب میں اُن کو فریق ثانی کی طرف سے بندوق کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑے۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P07",
          "text": "ایسی حالت میں ’’کراہیتِ موت‘‘ کی تشریح یہ نہیں ہوسکتی کہ مسلمان بعد کے دور میں لڑنا مرنا چھوڑ دیں گے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ بعد کے دور کے مسلمانوں میں دینی زوال کے نتیجے میں مبنی بر موت سوچ ختم ہوجائے گی، آخرت رخی زندگی کا حقیقی تصور اُن کے اندر باقی نہیں رہے گا۔ موت سے وابستہ حقائق، جنت اور جہنم اور فکرِ آخرت جیسی چیزیں ان کی شخصیت کا حصہ نہیں رہیں گی۔اِس حدیثِ رسول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ’’ہیبت‘‘ کا تعلق تعداد سے نہیں ہے، بلکہ کردار سے ہے۔ تعداد خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، وہ مسلمانوں کے لیے عزت ووقار کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اُس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم افراد میں حقیقتِ موت کا شعور پیدا کیا جائے، جس کا دوسرا نام آخرت رخی سوچ ہے۔ آخرت رخی سوچ ہی سے افراد میں وہ اعلیٰ کردار بنتا ہے جو اُن کو لوگوں کے درمیان عزت ووقار کادرجہ عطا کرتاہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C12",
      "chapter_title": "امتِ مسلمہ کا احیا",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C12P01",
          "text": "کچھ بچے ایک جگہ بیٹھ کر کھیل رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ تم لوگ کیا کررہے ہو۔ بچوں نے کہا کہ جھوٹ موٹ کھچڑی پکارہے ہیں۔ پوچھنے والے نے کہا کہ جب جھوٹ موٹ ہی پکانا ہے تو کھچڑی کیوں پکاؤ، پلاؤ پکاؤ۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P02",
          "text": "یہ لطیفہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانے کا ہر رہنما احیائِ ملت کی باتیں کرتاہے، مگر اُن کا احیائِ ملت کا تصور رومانی خواب کے سوا کچھ اورنہیں۔ یہ سب کے سب رہنما ایسی چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں جو کبھی وقوع میں آنے والی نہیں۔ یہ رہنما عام طور پر درج ذیل قسم کے خوش نما الفاظ بولتے ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C12P03",
          "text": "مسلم تہذیب کا احیا  (Revival of Muslim Civilization)"
        },
        {
          "para_id": "C12P04",
          "text": "مسلم ایمپائر کا احیا (Revival of Muslim Empire)"
        },
        {
          "para_id": "C12P05",
          "text": "مسلم خلافت کا احیا (Revival of Muslim Khilafah)"
        },
        {
          "para_id": "C12P06",
          "text": "مسلم عظمت کا احیا  (Revival of Muslim Glory)"
        },
        {
          "para_id": "C12P07",
          "text": "مسلم تاریخ کا احیا (Revival of Muslim History)"
        },
        {
          "para_id": "C12P08",
          "text": "یہ نشانے سب کے سب قومی نشانے ہیں اور قومی نشانے کبھی اِس دنیا میں پورے نہیں ہوتے، کیوں کہ قومی نشانوں کو کبھی خدا کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ مسلم امت کا نشانہ صرف ایک ہے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس کو ’’شہادت علی الناس‘‘ کہاگیا ہے، یعنی اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانا۔ یہی دعوت الی اللہ امتِ مسلمہ کا واحد مشن ہے۔ یہ مشن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک غیر سیاسی مشن ہے، اور اپنے طریقِ کار کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پُر امن مشن (peaceful mission)۔ اِس دعوتی مشن کے لیے اللہ کی طرف سے یقینی نصرت کا وعدہ ہے۔ یہ مشن تمام انسانوں کے لیے ہے، نہ کہ کسی خاص قوم کے لیے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C13",
      "chapter_title": "اصلاح کا صحیح طریقہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C13P01",
          "text": "موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھائی گئیں، لیکن ظاہری دھوم کے باوجود مثبت نتیجے کے اعتبار سے اُن کا کوئی حقیقی حاصل نہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِن تحریکوں کا نقطۂ آغاز (starting point)  درست نہ تھا۔ اصلاح کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ سب سے پہلے افراد کا ذہن بنایا جائے۔ خارجی نوعیت کی سرگرمیوں سے آغاز کوئی آغاز نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C13P02",
          "text": "مسلمانوں کی اصلاح کی پہلی شرط یہ ہے کہ ان کے ذہنی شاکلہ (mindset)  کو بدلا جائے۔ مائنڈ سیٹ کیا ہے، اس کا مطلب ہے :"
        },
        {
          "para_id": "C13P03",
          "text": "A fixed set of attitudes"
        },
        {
          "para_id": "C13P04",
          "text": "تاریخی اعتبار سے دیکھئے تو قدیم عرب میں لوگوں کا جو مائنڈ سیٹ تھا، اس کو قبائلی مائنڈ سیٹ (tribal mindset) کہا جاسکتاہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C13P05",
          "text": "اِس کے بعد دورِ اقتدار آیا۔ اُس زمانے میں، مسلمانوں کے اندر ایک نیا مائنڈ سیٹ بنا۔ اِس کو سیاسی مائنڈ سیٹ (political mindset)  کہاجاسکتاہے۔ یہ مائنڈ سیٹ تقریباً اٹھارھویں صدی کے آخر تک چلتا رہا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، مسلمانوں کا سیاسی اور تہذیبی دبدبہ ختم ہوگیا۔اِس کے بعد مسلمانوں کے اندر ردِّ عمل کی نفسیات پیدا ہوئی۔ اب ان کے اندر جو مائنڈ سیٹ بنا، اس کو انتقامی مائنڈ سیٹ (revengeful mindset) کہاجاسکتاہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C13P06",
          "text": "یہی انتقامی مائنڈ سیٹ آج تقریباً تمام دنیا کے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ شکایت، نفرت، تشدد، خود کش بم باری سب اِسی مائنڈ سیٹ کے عملی مظاہر ہیں۔ اب اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ اُن کے اندر دوبارہ وہی مائنڈ سیٹ پیدا کیا جا ئے جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں پایاجاتاتھا، یعنی دعوتی مائنڈ سیٹ۔ یہی مسلمانوں کی اصلاح کا صحیح آغاز ہے۔ اِسی طرح کام کرنے سے مسلمانوں کے اندر حقیقی نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C14",
      "chapter_title": "مسئلے کا حل",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C14P01",
          "text": "موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام خیال یہ ہے کہ وہ ’’اغیار‘‘ کی سازش اور تشدد کا شکار ہیں۔ مگر قرآن یہ کہتے ہوئے اِس نظریے کو رد کررہا ہے کہ — اللہ ہرگز منکروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا:"
        },
        {
          "para_id": "C14P02",
          "text": "And never will God allow non-believers to harm the believers. (4:141)"
        },
        {
          "para_id": "C14P03",
          "text": "پھر مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والی موجودہ صورتِ حال کا سبب کیا ہے۔ قرآن ایک اور آیت میں اُس کا جواب اِس طرح دیتاہے—اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے، وہ تمھارے اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں ہی کے سبب سے ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C14P04",
          "text": "Whatever misfortune befalls you is of your own-doing (42: 30)"
        },
        {
          "para_id": "C14P05",
          "text": "اب سوال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ ’’اغیار‘‘ کی طرف سے جو مسائل پیش آرہے ہیں، اُس کا اصل سبب کیا ہے۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے — اے پیغمبر، جو کچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو لوگوں تک پہنچا دو۔ اور اگرتم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا:"
        },
        {
          "para_id": "C14P06",
          "text": "O Prophet, deliver whatever has been sent down to you by your Lord. If you do not do so, you will not have conveyed His message. God will protect you from the people. (5: 67)"
        },
        {
          "para_id": "C14P07",
          "text": "قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ اہلِ ایمان کی عصمت (protection)  کا معاملہ دعوت الی اللہ (Dawah work)  سے جڑا ہوا ہے، یعنی اہلِ ایمان اگر دعوہ ورک کریں تو اُن کو خدا کی طرف سے پروٹکشن ملا رہے گا۔ اگر وہ دعوہ ورک چھوڑ دیں، تو خدا کا پروٹکشن اُن سے اٹھ جائے گا۔ اہلِ ایمان کے مسائل کا حل نہ پروٹسٹ ہے اور نہ ٹکراؤ۔ اہلِ ایمان کے مسئلے کا واحد حل دعوہ ورک ہے۔ کوئی بھی دوسری تدبیر اِس معاملے میں اہلِ ایمان کے لیے ہرگز کار گر نہیں ہوسکتی:"
        },
        {
          "para_id": "C14P08",
          "text": "Dawah work guarantees divine protection of Muslim Ummah."
        },
        {
          "para_id": "C14P09",
          "text": "حدیثِ رسول کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو عالمی ادخالِ کلمہ کی ذمے داری ادا کرنا تھا، یعنی گلوبل دعوہ ورک۔ اِس گلوبل دعوہ ورک کے لیے ایک گلوبل انفراسٹرکچر درکار تھا۔ مسلمان خود اس گلوبل انفراسٹرکچر کو وجود میں نہ لاسکے۔ اِس کے بعد خدا نے سیکولر قوموں سے یہ کام لیا کہ وہ ایک گلوبل انفراسٹرکچر ڈیولپ کریں۔ سیکولر قوموں کے اِس رول کی پیشین گوئی خود حدیثِ رسول میں کردی گئی تھی۔ چناں چہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں سیکولر لوگوں کے ذریعے اپنے دین کی تائید کا انتظام کرے گا   (إن اللہ لیؤیدہذا الدین بالرجل الفاجر)۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P10",
          "text": "مسلمانوں کی ناکامی کے بعد سیکولر قوموں کے ذریعے اِس گلوبل انفراسٹرکچر کا وجود میں آنا، اِسی حدیثِ رسول کے مطابق تھا۔ مسلمانوں پر فرض تھا کہ وہ اِس راز کو سمجھیں اور ماڈرن انفراسٹرکچر کو گلوبل دعوہ ورک کے لیے استعمال کریں۔ لیکن بعض اسباب سے مسلمان اِس راز کو نہ سمجھ سکے اور خود ساختہ اِشوز کو لے کر لوگوں سے رقابت (rivalry)  قائم کرلی، حتی کہ وہ اُن کے خلاف تشدد کرنے لگے۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P11",
          "text": "مسلمانوں کی یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف تھی۔ اب مسلمانوں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، وہ از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P12",
          "text": "وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں، نہ کہ اپنا حریف (rival) ۔ وہ جدید تہذیب کے ذریعے حاصل ہونے والے گلوبل انفراسٹرکچر کو لے کر عالمی سطح پر پر امن دعوہ ورک کو انجام دیں۔ مسلمانوں کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں جو مسلمانوں کو موجودہ مسائل سے نجات دلانے والا ہو۔مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کو اپنے لیے سکنڈری بنائیں۔ وہ دعوت کو اپنی زندگی کا واحدمشن قرار دیں۔اِس کے بعدہی ان کو دوبارہ خدا کی حفاظت ملے گی۔ اِسی میں اُن کے لیے دنیا کی حفاظت ہے اور اِسی میں ان کے لیے آخرت کی نجات مقدر ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C15",
      "chapter_title": "اسلامی تحریک کا ہدف",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C15P01",
          "text": "تبلیغی جماعت کے سابق امیر مولانا انعام الحسن کاندھلوی (وفات: 1996 ء) نے کہا تھا کہ: ہماری تبلیغی تحریک ایک مسجد وار تحریک ہے۔ مولانا انعام الحسن کاندھلوی کا یہ قول تبلیغی جماعت کی صحیح تصویر کو بتاتا ہے۔ تبلیغی جماعت کی تحریک اصلاً مسلمانوں کی دینی اصلاح کی تحریک ہے، جومسجدوں کو بنیاد بنا کر چلائی جارہی ہے۔ مسجدوار تحریک کا مطلب ہے — مسجد اورینٹڈ موومنٹ (Masjid-oriented movement)۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ مختلف پہلوؤں سے اِسی قسم کی تحریکیں تھیں — مسجدوار تحریک، مدرسہ وار تحریک، ملت وار تحریک، تحفظ وار تحریک، مناظرہ وار تحریک، فخروار تحریک، سیاست وار تحریک، وغیرہ۔ اِس قسم کی تحریکوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان پھیلا ہوا ہے، اور اکیسویں صدی میں بھی اس قسم کی تحریکوں کا تسلسل جاری ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P02",
          "text": "تحریکوں کی اِس طویل فہرست میں صرف ایک تحریک ہے جو غیر موجود ہے، اور وہ ہے دعوت وار تحریک۔ دعوت وار تحریک کے لیے قرآن میں دعوت الی اللہ کا لفظ آیا ہے، یعنی خدا کے بندوں کو خداکی طرف بلانا، تمام انسانوں کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan)  سے آگاہ کرنا۔ قرآن میں اِس دعوت وار تحریک کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً اِنذار، تبشیر، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P03",
          "text": "دعوت الی اللہ، امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا مشن ہے۔ یہی تمام پیغمبروں کا مشن تھا۔ یہی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن تھا۔ یہی اب امتِ محمدی کا مشن ہے۔ اِسی دعوتی مشن کی انجام دہی پر امتِ محمدی کا امتِ محمدی ہونا متحقق ہوتاہے۔ امت اگر اِس دعوتی مشن کو انجام نہ دے تو اللہ کی نظر میں ٍٔ اس کا امتِ محمدی ہونا مشتبہ ہوجائے گا۔ مزید یہ کہ یہ دعوتی مشن فرض علی الکفایۃ نہیں ہے، بلکہ وہ فرضِ عین ہے۔ امت کا ہر فرد جس طرح عبادت کو اپنے لیے فرض سمجھتاہے، اسی طرح امت کے ہر فرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق، اِس دعوتی مشن میں اپنے آپ کو شریک کرے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C16",
      "chapter_title": "انسانی ذمّے داری",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C16P01",
          "text": "(Human Responsibility)"
        },
        {
          "para_id": "C16P02",
          "text": "رسپانسبلٹی (responsibility) سے مراد وہی چیز ہے جس کو ڈیوٹی (duty) کہاجاتاہے۔ کہا جاتاہے کہ — انسان ایک سماجی حیوان ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C16P03",
          "text": "Man is a social animal"
        },
        {
          "para_id": "C16P04",
          "text": "اِس کا مطلب یہ ہے کہ سوسائٹی کا ممبر ہونے کی حیثیت سے ہر فرد کے اوپر اپنی سوسائٹی کی نسبت سے کچھ ذمے داریاں ہیں (Individual’s duty towards his society) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P05",
          "text": "اِسی کے ساتھ انسان، نیچر کا ایک حصہ ہے۔ اِس اعتبار سے، ہر انسان کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ وہ نیچر کے معاملے میں اپنی ڈیوٹی کو ادا کرے۔ اِس طرح، انسانی ذمے داری کے دو پہلو ہیں— ایک، سوسائٹی کی نسبت سے۔ اور دوسرا، نیچر کی نسبت سے۔ انسانی ذمے داری کا یہ تصور مذہبی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P06",
          "text": "تمام مذاہب میں انسان کی اِن دونوں ذمے داریوں کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ اِس طرح، اسلام میں بھی اِن دونوں پہلوؤں کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P07",
          "text": "رسپانسبلٹی اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اعتراف (acknowledgement)  کا دوسرا نام ہے۔ آپ کو دوسروں سے جو کچھ ملتا ہے، آپ عملی طورپر اس کا اعتراف کرنا چاہیں تو اِسی سے وہ کردار وجودمیں آتاہے جس کو انسانی ذمے داری کہا جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P08",
          "text": "سوسائٹی کی نسبت سے فرد کی ذمے داری"
        },
        {
          "para_id": "C16P09",
          "text": "پہلے سوسائٹی کو لیجئے۔ پچھلے زمانے میں سوسائٹی سے مراد آپ کا قریبی سماج ہوتا تھا۔ اب ہم الکٹرانک دور میںجی رہے ہیں، اِس لیے اب سوسائٹی کا لفظ وسیع ترسماج کے ہم معنی بن گیا ہے۔ اب سوسائٹی سے مراد قریبی سوسائٹی بھی ہے، اور الکٹرانک سوسائٹی بھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P10",
          "text": "سماجی زندگی کا اخلاقی معیار یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سوسائٹی میں اُس کا دینے والا ممبر (giver member) بن کررہے۔ وہ سوسائٹی میں اِس طرح رہے کہ اُس سے دوسروں کو کچھ نفع مل رہاہو۔ وہ سوسائٹی کے حق میں اپنی ڈیوٹی کو ادا کرے۔ مثلاً وہ دوسروں کے لیے کوئی پرابلم پیدا نہ کرے۔ وہ دوسروں سے کئے ہوئے عہد کو لازماً پورا کرے۔ وہ دوسروں کے جان ومال میں اُنھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ وہ سماج میں ایک قابل پیشین گوئی کردار والا انسان (predictable character) بن کر رہے، یعنی سماج اُس سے جائز طور پر جو امید رکھے، اُس امید میںوہ پورا اترے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P11",
          "text": "ایک واقعہ اِس معاملے کو اچھی طرح واضح (illustrate)  کرتاہے۔شکاگو (Chicago) امریکا کا ایک شہر ہے۔ شکاگو کے لفظی معنی جنگلی پیاز (wild onion) کے ہیں۔ پہلے یہ شہر اپنی گندگی اور جرائم اور ناقص مکانات کے لیے مشہور تھا۔ اِس لیے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ آج شکاگو ایک اعلیٰ درجے کا خوب صورت شہر ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P12",
          "text": "شکاگو کی جدید تاریخ رچرڈڈیلی (Richard J. Daley) کی طرف منسوب ہے۔ وہ 1902  میں پیدا ہوا، اور 1976 میں اس کی وفات ہوئی۔ 1955  میں وہ شکاگو کا میئر منتخب ہوا، اور آخر عمر تک وہ شکاگو کا میئر رہا۔ میئر بننے کے بعد اس نے از سرِ نو شہر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اس نے قدیم شکاگو کو ہر اعتبار سے نیا شکاگو بنا دیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P13",
          "text": "رچرڈ ڈیلی کی کامیابی کا خاص راز یہ تھا کہ اس نے شکاگو کی جدید تعمیر کو وہاں کے باشندوں میں سے ہر ایک کا ذاتی مسئلہ بنا دیا۔ اُس نے ہر ایک کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ یہ کام مجھے کرنا ہے، اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔ اس نے شکاگو میں بسنے والے ہر شخص کو یہ ماٹو دیا— میںاِس کو کروں گا:"
        },
        {
          "para_id": "C16P14",
          "text": "I will do it."
        },
        {
          "para_id": "C16P15",
          "text": "ایک فرد کے لیے سماج میں جینے کے دو اصول ہیں— ایک، یہ کہ وہ سماجی ذمے داریوں کو اپنے اوپر لے۔ دوسرا، یہ کہ وہ سماجی ذمے داریوں کو دوسروں کے اوپر ڈالے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایک ہے، آئی ول ڈو اسپرٹ (I will do spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا۔ اور دوسرا ہے، دے وِل ڈو اِٹ اسپرٹ (They will do it spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا۔ اِن دونوں طریقوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سماج کے افراد آئی ول ڈو اٹ اسپرٹ (I will do it spirit)  کے ساتھ رہیں، وہ سماج ترقی کرے گا۔ اس کے ہر شعبے درست طورپر کام کریں گے۔ اِس کے برعکس، جس سماج کے افراد دے وِل ڈو اِٹ اسپرٹ (They will do it spirit)  کے ساتھ رہیں، وہ سماج غیر ترقی یافتہ سماج ہوگا۔ ایسے سماج کے ہر شعبے بگاڑ کا شکار ہوجائیں گے۔ آئی ول ڈو اٹ (I will do it)  ذمے دار شخصیت کی علامت ہے اور دے وِل ڈو اِٹ (They will do it)  غیر ذمے دار شخصیت کی علامت۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P16",
          "text": "سماجی رسپانسبلٹی کا تصور ہر فرد کو ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) بناتا ہے۔ ایسے سماج میں ہر فرد اس کا گور ممبر (giver member) بن کر رہنے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ صرف ٹیکر ممبر (taker member)۔ اِس کے برعکس، جس سماج میں لوگوں کے اندر رسپانسبلٹی کا احساس نہ ہو، وہاں کا ہر فرد رائٹ کانشس (right-conscious) بن جائے گا۔ ایسے سماج کا ہر فرد، سماج سے اپنے لیے لینا چاہے گا، لیکن خود سماج کو دینے کی اسپرٹ اس کے اندر موجود نہ ہوگی۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P17",
          "text": "رسپانسبلٹی پر مبنی سماجی اخلاقیات کی معقولیت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سماج اپنے وسیع تر مفہوم میں، ہر فرد کو بہت زیادہ دے رہاہے۔ کوئی فرد سماج کو جو کچھ دیتاہے، وہ اُس سے بہت کم ہے جو اُس کو سماج سے مل رہا ہے۔ کوئی فرد اگر پورے معنوں میں سماج کا گور ممبر بن جائے، تب بھی سماج کے لیے اُس کا عطیہ ایک فی صد سے بھی کم ہوگا، جب کہ سماج نے اس کو جو کچھ دیاہے، وہ 99  فی صد سے زیادہ ہے۔ اس لیے کسی فرد کے لیے سماجی اخلاقیات میں کوتاہی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس اصول کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ —  جو شخص انسان کا معترف نہ ہو، وہ خدا کا معترف بھی نہیں ہوسکتا  (من لم یشکر الناس، لم یشکر اللہ)۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P18",
          "text": "سوسائٹی صرف اُس قریبی مجموعۂ انسانیت کا نام نہیں ہے جہاں ایک فرد پیداہوتا ہے، بلکہ سوسائٹی ایک طویل سلسلۂ تاریخ کانام ہے۔ سوسا ئٹی کا دائرہ، پہلے انسان (آدم) سے لے کر، آج کے انسان تک پھیلا ہوا ہے۔ اِس پورے مجموعۂ انسانیت نے اپنی لمبی تاریخ کے دوران جو کچھ کیا ہے، اس کو تہذیب کا ارتقا کہا جاتاہے۔ تہذیب کے اِس ارتقا میںہر فرد اپنا حصہ پارہا ہے۔ آج ایک فرد جس مہذب دنیا (civilized world)  میں رہ رہا ہے، وہ دنیا ہمیشہ سے موجود نہ تھی۔ وہ پوری انسانیت کی لمبی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P19",
          "text": "ایک وقت تھا کہ انسان اپنے پیروں پر چلتا تھا، پھر لمبے تجرے کے بعد انسان نے پہیہ بنایا۔ اِس طرح، انسان کے لیے پاؤں پر چلنے کے بجائے گاڑی سے چلنے کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کشتی بنائی۔ اِس طرح دریاؤں اور سمندروں کو بحفاظت پار کرنے کا  دور شروع ہوا۔ پھر لمبے تجربے کے بعد انسان نے اسٹیم پاور دریافت کیا۔ اِس کے بعد ریلوے ٹرین اور اسٹیم شپ کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کار بنائی اور انسان تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنے کے دور میں پہنچا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد ہوائی جہاز بنایا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان فضا میں تیز رفتاری کے ساتھ اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے اور جنگل اور پہاڑ اور سمندر اور بستیاں کوئی بھی چیز اُس کے سفر میں رکاوٹ ثابت نہ ہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P20",
          "text": "یہ انسانیت کی جدوجہد کے صرف ایک پہلو کی چھوٹی سی مثال ہے۔ اِس طرح پورا مجموعہ انسانیت ہزاروں سال تک مسلسل جدوجہد کرتا رہا، یہاں تک کہ لاکھوں کی تعداد میں زندگی کے بے شمار سامان وجود میں آئے، جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے۔ موجودہ تہذیب کو وجود میں لانے میں پورے مجموعۂ انسانیت کا حصہ ہے۔ ایک سُوئی (needle)سے لے کر ایک ترقی یافتہ شہر تک، ہر چیز میں براہِ راست طورپر پوری انسانیت کی مجموعی جدوجہد اور قربانی شامل ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P21",
          "text": "یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جو انسانی رسپانسبلٹی کی اخلاقی بنیاد ہے۔ جب ایک فرد اِس حقیقت کو دریافت کرتاہے کہ آج وہ جس ترقی یافتہ دنیا میں رہ رہا ہے ، اُس کو وجود میں لانے کے لیے پوری انسانیت اس میں شریک ہے، اِس معاملے میں وہ پوری انسانیت کا مقروض ہے۔ جب ایک شخص اِس تاریخی حقیقت کا اعتراف کرکے اس کے مطابق، زندگی گزارے تو اِسی کا نام سوسائٹی کے حق میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔ گویا کہ انسانی رسپانسبلٹی ایک اعتبار سے، پوری نوعِ انسانی (mankind)  کے کنٹری بیوشن (contribution)کا اعتراف ہے، اور دوسرے اعتبار سے، وہ اپنے انفرادی دائرے میں اس کی محدود قیمت ادا کرنا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P22",
          "text": "انسانی ذمے داری کی اِسی نوعیت کی بنا پر قرآن میں اس کو انسان کی طرف سے انسان کو اس کے حقوق ادا کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن اللہ یأمرکم أن تؤدّوا الأمانات إلی أہلہا:"
        },
        {
          "para_id": "C16P23",
          "text": "God commands you to hand back your trusts to their rightful owners. (4: 58)"
        },
        {
          "para_id": "C16P24",
          "text": "اسلام کے اِس تصور (concept) کے مطابق، ایک فرد جب انسانی سماج کے حق میں اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتا ہے تو وہ دوسروں کو کچھ دیتا نہیں ہے، وہ صرف یہ کرتا ہے کہ دوسروں سے ملے ہوئے میں سے کچھ حصے کو وہ اُن کی طرف لوٹاتا ہے۔ یہ تصور ہر فرد کے اندر اپنی ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے طاقت ور محرک (strong incentive)  پیدا کرتاہے، اتنا زیادہ طاقت ور محرک کہ اس سے زیادہ طاقت ور محرک اور کوئی نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P25",
          "text": "نیچر کی نسبت سے فردکی ذمے داری"
        },
        {
          "para_id": "C16P26",
          "text": "انسانی ذمے داری کا دوسرا پہلو وہ ہے جو نیچر سے تعلق رکھتا ہے۔ نیچر سے مراد پورا عالمِ مادیت (entire physical world)  ہے۔ یہ عالم جس کے اندر انسان اپنے آپ کو پاتا ہے، وہ انسان کے لیے اتنا زیادہ موزوں ہے جیسے کہ وہ اُسی کے لیے بنایا گیا ہو۔ اِسی لیے ایک سائنس داںنے اس کو کسٹم میڈ ورلڈ (custom-made world) کہا ہے۔ اِس دنیا کے اندر انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں موجود ہیں۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:  واٰتاکم من کل ما سألتموہ:"
        },
        {
          "para_id": "C16P27",
          "text": "God has given you all that you asked of Him. (14:34)"
        },
        {
          "para_id": "C16P28",
          "text": "انھیں تمام چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر موجودہ دنیا میں انسان کی زندگی ممکن ہی نہ ہوتی۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P29",
          "text": "ہماری یہ موافق دنیا اتفاقاً اِس طرح نہیں بن گئی ہے۔ اُس کو بنانے والے نے اُس کو بلا شبہہ شعوری منصوبے کے تحت اِس طرح بنایا ہے کہ وہ ہر پہلو سے عین ہماری ضرورتوں کے موافق ہے۔ اِس طرح کی ایک موافق دنیا ہم خود وجود میں نہیں لاسکتے تھے۔ یہ دنیا ہم کو خالق کی طرف سے انتہائی استثنائی طورپر بطور خصوصی عطیہ دی گئی ہے۔قرآن میں موجودہ دنیا کے اِس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم فطری حالت پر باقی رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرو، تم اُس میں ہر گز کوئی بگاڑ پیدا نہ کرو۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے— ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحہا:"
        },
        {
          "para_id": "C16P30",
          "text": "Do not corrupt the land after it has been set in order (7: 85)"
        },
        {
          "para_id": "C16P31",
          "text": "قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ہماری دنیا ایک اصلاح یافتہ دنیا ہے۔ وہ پیشگی طورپر انسان کی ضرورتوں کے مطابق، بنائی گئی ہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اِس دنیا کو اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرے، لیکن کسی انسان کو یا کسی انسانی مجموعے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دنیا کے فطری نظام کو بگاڑے۔ وہ دنیا کے فطری نظام میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا کرے جس کے بعد وہ اگلی نسلوں کے لیے قابلِ استعمال نہ رہے۔ یہ انسان کی وہ ذمے داری ہے جو نیچر کے اعتبار سے، انسان کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن میں یہ ہدایت دی گئی ہے— کلوا واشربوا ولا تسرفوا :"
        },
        {
          "para_id": "C16P32",
          "text": "Eat and drink, but do not be wasteful (7: 31)"
        },
        {
          "para_id": "C16P33",
          "text": "مثلاً انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین میں واقع پانی کے ذخیرے کو استعمال کرے، لیکن اُس کو یہ حق نہیں کہ وہ پانی میں کسی قسم کی آلودگی (pollution)  پیدا کرکے اس کو انسان کے لیے ناقابلِ استعمال بنا دے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی سطح پر اُگے ہوئے درختوں کو استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے درختوں کو کاٹ کر زمین کی ہریالی (greenery)کو ختم کردے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی زرخیزی کو زراعت کے لیے استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے غلط استعمال سے اس کو ناقابلِ پیداوار بنادے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی فضا کو استعمال کرے، لیکن انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے کسی غیر فطری عمل کے ذریعے وہ خرابی (evil) پیدا کرے جس کو فضائی کثافت کہاجاتاہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ یہاں اپنی انڈسٹری لگائے، مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ یہاں ایسی انڈسٹری لگائے جو اوزون کے زندگی بخش غلاف (layer) کو ڈیمیج کردے، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P34",
          "text": "نیچر انسان کے لیے ایک بے حد قیمتی تحفہ ہے جو انسان کو بالکل فری دیاگیا ہے، لیکن انسان اِس نیچر کا مالک نہیں، وہ اُس کا امین ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ نیچر کے بارے میں خالق کے منصوبے کو جانے اور وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق، استعمال کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P35",
          "text": "خالق کا وہ منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کو انسانی خواہش کے مطابق (according to human greed) نہیں بنایا، بلکہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کوانسانی ضرورت کے مطابق (according to human need) بنایا ہے۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے—  إناّ کلّ شیٔ خلقناہ بقدر :"
        },
        {
          "para_id": "C16P36",
          "text": "We have created everything in due measure (54: 49)"
        },
        {
          "para_id": "C16P37",
          "text": "یہ تخلیقی منصوبہ انسان کے لیے لازم کرتاہے کہ وہ ایک طرف، اپنی حقیقی ضرورتوں کا تعین کرے اور دوسری طرف، وہ نیچر کی چیزوں کو اُن کی تخلیقی نوعیت کے اعتبار سے جانے، پھر وہ اِن دو طرفہ تقاضوں کے مطابق، اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ اِس کے برعکس، انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی خواہش کی بنیاد پر نیچر کا اندھا دھند استعمال کرے، کیوں کہ ایسا کرنے سے نیچر کا متناسب نظام درہم برہم ہو جائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P38",
          "text": "مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی خواہشیں (desires)  لامحدود ہیں۔ اِس کے برعکس، نیچر کی تمام چیزیں محدود ہیں۔ ایسی حالت میں انسان اگر خواہشوں (desires) کی بنیاد پر اپنا پلان بنائے، تو اس کا پلان خالق کے پلان کے مطابق نہ ہوگا۔انسان اِس قسم کے ٹکراؤ کا تحمل نہیں کرسکتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P39",
          "text": "حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی مشین دو کاگ (cog)  پر چل رہی ہے— ایک، ہیومن کاگ (human cog) اور دوسرا، ڈوائن کاگ (divine cog) ۔ ڈوائن کاگ کی اپنی ایک مقرر رفتار (pace) ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاگ کو بھی اُسی رفتار پر چلائے جو ڈوائن کاگ کی رفتار ہے۔ یہ واضح ہے کہ ڈوائن کاگ طاقت ور (strong) ہے اور ہیومن کاگ کمزور(weak) ۔ اگر انسان اپنے کاگ کی رفتار کو اپنی خواہش کے مطابق، چلانے لگے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ڈوائن کاگ تو اپنی جگہ باقی رہے گا، لیکن ہیومن کاگ یقینی طورپر ٹوٹ جائے گا۔ اِس کے نتیجے میں انسان کی زندگی ایسی تباہی سے دوچار ہوگی جس کی تلافی کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P40",
          "text": "خلاصۂ کلام"
        },
        {
          "para_id": "C16P41",
          "text": "ہیومن رسپانسبلٹی کا مطلب ہے — ہیومن ڈیوٹی۔ حضرت مسیح نے کہا تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C16P42",
          "text": "Render therefore to Caesar the things that are Caesar’s, and to God the things that are God’s. (Luke 20: 25)"
        },
        {
          "para_id": "C16P43",
          "text": "یہی بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن الفاظ میں کہی ہے—  أدّوا إلیہم حقہم، وسلوا اللہ حقکم (صحیح البخاری: رقم الحدیث: 7052 ):"
        },
        {
          "para_id": "C16P44",
          "text": "Give to them what is due to them. And ask your dues from God."
        },
        {
          "para_id": "C16P45",
          "text": "یہ دونوں اقوال، فرد اور سوسائٹی کے درمیان صحیح تعلق کو بتاتے ہیں۔ فرد اور سوسائٹی کے درمیان صحت مند تعلق اُس وقت قائم ہوتاہے جب کہ فرد کے اندر رسپانسبلٹی کی اسپرٹ پوری طرح زندہ ہو۔ جب ایسا ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فرد کا فوکس اپنی ذمے داریوں پر ہوگا۔ فرد یہ چاہے گا کہ سوسائٹی کا جو حق اُس کے اوپر آتا ہے، اس کو وہ پوری طرح ادا کرے۔جہاں تک فرد کے اپنے حقوق کی بات ہے، وہ کسی مطالبے سے نہیں ملتے، بلکہ وہ خود اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ملتے ہیں۔ یہی اسپرٹ آف رسپانسبلٹی اِس بات کی ضامن ہے کہ فرد اور سماج کے درمیان ٹکراؤ کی صورتِ حال نہ پیدا ہو۔ صحت مند سرگرمیوں کے درمیان دونوں کا ارتقا فطری انداز میں جاری رہے۔ (20 دسمبر 2011)"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C17",
      "chapter_title": "جذباتی سیاست کا نقصان",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C17P01",
          "text": "1947 کے بعد کشمیر کی ریاست انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک نزاعی اشو بن گئی۔اب بے شمار نقصانات کے بعد پاکستان نے اِس معاملے میں دانش مندانہ پالیسی اختیار کی ہے۔پاکستانی حکومت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا کو موسٹ فیورڈ نیشن (Most-Favoured Nation)  کا درجہ دے دیا جائے۔ اِس کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے(ملاحظہ ہو، ہندستان ٹائمس، 1 مارچ 2012، صفحہ 15)۔ اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کو 1996 میں موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے دیا تھا۔ اِس کے جوا ب میں پاکستان کو بھی یہی کرنا چاہیے تھا، مگر پاکستانی لیڈروں نے ایسا کرنے میں بہت دیر کی۔ وہ ڈرتے تھے کہ کشمیر کے بارے میں حساس پاکستانی عوام اِس کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کریں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P02",
          "text": "اِس واقعے میں لیڈر شپ کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ لیڈر شپ کو کبھی ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی اِشو پر جذباتی انداز اختیار کرے، وہ اس کے بارے میں ہائی پروفائل میں بولنے لگے۔ اِس قسم کا طریقہ لیڈر شپ کے لیے ایک غیر دانش مندانہ طریقہ ہے، کیوں کہ عوام کو اگر ایک بار جذباتی تقریریں کرکے بھڑکا دیا جائے تو وہ حقیقت پسندانہ مزاج کھودیتے ہیں۔ اِس کے بعد خواہ حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، وہ یوٹرن (U Turn) لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اُن کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ — خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے، لیکن ہم اِس مسئلے پر مفاہمت نہیں کریں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P03",
          "text": "اِس قسم کا مزاج کسی قوم کی ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جذباتی انداز کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اجتماعی زندگی نام ہے — اپنی سوچ اور فریقِ ثانی کی سوچ کے درمیان ایڈجسٹمنٹ تلاش کرنے کا۔ اجتماعی زندگی کے معاملات یک طرفہ بنیاد پر طے نہیں ہوتے، بلکہ وہ دو طرفہ بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں جذباتی سیاست کا طریقہ ایک سنگین رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی کے معاملات یا تو فریقِ ثانی کی رعایت کے ذریعے حل ہوتے ہیں، یا وہ کبھی حل نہیں ہوتے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C18",
      "chapter_title": "مسئلہ یا چیلنج",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C18P01",
          "text": "زندگی میں ہمیشہ ناموافق حالات پیش آتے ہیں۔ اِس طرح کے ناموافق حالات کا تجربہ ہر ایک کو ہوتا ہے، خواہ وہ عام آدمی ہو یا کوئی بڑی حیثیت والا آدمی۔ اِس میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P02",
          "text": "ناموافق حالات اُسی طرح زندگی کا حصہ ہیں جس طرح بھوک اور پیاس زندگی کا حصہ ہیں۔ ناموافق صورت حال کو اگر مسئلہ (problem)  کہاجائے تو اِس سے منفی ذہن بنے گا۔ آدمی مایوسی کی نفسیات کا شکار ہوجائے گا۔ وہ پیش آمدہ مسئلے کو ایک غیر مطلوب صورت حال سمجھے گا۔ وہ اس کے مقابلے میں، مثبت منصوبہ بندی نہ کرسکے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P03",
          "text": "صحیح بات یہ ہے کہ مسئلے کو ایک چیلنج سمجھا جائے۔ مسئلہ کا لفظ اگر ایک منفی لفظ ہے تو چیلنج کا لفظ ایک مثبت لفظ۔ چیلنج کیا ہے، چیلنج ایک مشکل صورتِ حال ہے جو کسی آدمی کی استعداد کا امتحان ہوتی ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C18P04",
          "text": "Challenge: a difficult task that tests somebody’s ability."
        },
        {
          "para_id": "C18P05",
          "text": "جب آپ کسی صورت حال کو چیلنج کی نظر سے دیکھیں تو آپ کے اندر مقابلے کا ذہن پیدا ہوگا۔ آپ کی ساری توجہ اِس پر لگ جائے گی کہ آپ پیش آمدہ صورتِ حال کو بے لاگ انداز سے دیکھیں اور اس کے مطابق، دانش مندانہ منصوبہ بندی کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P06",
          "text": "یہ سوچ آپ کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرے گی۔ اِس سے آپ کے اندر شکایت کے بجائے مقابلے کا ذہن پیدا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ کسی کو پیش آمدہ صورتِ حال کا ذمّے دار قر ار دے کر اس سے نفرت کرنے لگیں۔ آپ کسی دوسرے کی تخریب میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے، بلکہ آپ مکمل طورپر اپنی تعمیر میں لگ جائیںگے۔ آپ ایسا نہیں کریں گے کہ کسی کو اپنا دشمن قرار دے کر اس کے خلاف تقریر وتحریر کے ہنگامے کھڑے کریں۔ آپ ایسے کسی معاملے کو فطرت کے نظام کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں گے، نہ کہ کسی دشمن کی سازش کے تحت پیش آنے والا واقعہ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C19",
      "chapter_title": "ایک سبق آموز واقعہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C19P01",
          "text": "حکیم اجمل خاں (وفات: 1927 ) نے دہلی میں ’’ہندستانی دواخانہ‘‘ قائم کیا تھا۔ اِس دوا خانے میں ایک صاحب معمولی ملازم تھے۔ ان کی تنخواہ پندرہ روپئے ماہانہ تھی۔ اُن کا نام حافظ عبد المجید تھا۔ انھوں نے بعد کو ہندستانی دواخانہ چھوڑ دیا اور دواؤں کی ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ اس دکان کا نام ’’ہمدرد دواخانہ‘‘ تھا۔ان کا انتقال 1922  میں ہوا جب کہ ان کی عمر صرف 40 سال تھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P02",
          "text": "حافظ عبد المجید صاحب کے دو بیٹے تھے۔ یہ وہی دو بیٹے ہیں جو بعد کو حکیم عبد الحمید (وفات:1999 ) اور حکیم محمد سعید (1998)  کے نام سے مشہور ہوئے۔ دونوں نے بعد کو غیر معمولی ترقی کی۔ دونوں نے ہمدرد ایمپائر اور ہمددر یونی ورسٹی قائم کی۔ حکیم عبد الحمید نے دہلی میں اور حکیم محمد سعید نے کراچی (پاکستان )میں۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P03",
          "text": "یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ترقی کے لیے اصل چیز جو درکار ہے، وہ محنت ہے۔ عام طورپر لوگ ایسے آدمی کو خوش قسمت سمجھتے ہیں جو خوش حال گھرانے میں پیدا ہوا ہو، لیکن ایسے خوش قسمت لوگ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیتے۔ بڑا کارنامہ ہمیشہ اُن لوگوں نے انجام دیا ہے جو معمولی حالات میں پیدا ہوئے، جن کو پیدا ہوتے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آسان حالات آدمی کی قوتِ عمل کو گھٹاتے ہیں اور مشکل حالات آدمی کی قوتِ عمل کو بڑھاتے ہیں— زیادہ خوش قسمت انسان وہ ہے جو مشکل حالات میں پیدا ہو، نہ کہ آسان حالات میں۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P04",
          "text": "مشکل حالات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اُس سے آدمی کے اندر عمل کا محرک (incentive)  پیدا ہوتا ہے۔ اُس کے اندر یہ زبردست خواہش جاگتی ہے کہ میں اپنے حالات کو بدلوں، میں اپنے ’نہیں‘ کو ’ہے‘  بناؤں، میں ایسا عمل کروں جس کے ذریعے یہ ہو کہ میرا مستقبل میرے حال سے بہتر ہوسکے۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P05",
          "text": "زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت محرکِ عمل کی ہے، اور محرک عمل ہمیشہ مشکل حالات میں پیدا ہوتاہے، نہ کہ آسان حالات میں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C20",
      "chapter_title": "سوال و جواب",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C20P01",
          "text": "میں نے آپ کی کتاب ’’اسلام دورِ جدید کا خالق‘‘ کا مطالعہ کیا ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آج جو سائنسی اور ٹکنیکل ترقی ہورہی ہے، اس کا آغاز اسلام نے کیاہے۔ اسلام سے پہلے فطرت کو مقدس سمجھنے کی وجہ سے اس کو تحقیق وریسرچ کا موضوع نہیں بنایا گیا۔ اسلام نے ساتویں صدی میں آکر اس تقدس کو ختم کیا اور فطرت کی تحقیق و تسخیر کا دروازہ کھولا۔ اس طرح انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ فطرت کی آزادانہ تحقیق کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ لیکن ایک دن میں ماحولیات پر ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس میں ماحولیات کے بگڑنے کی اہم وجہ فطرت کو ریسرچ وتحقیق کا موضوع بنانا بتایا گیا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C20P02",
          "text": "At present we are not adhering to the old tradition properly. Hence man has become one of the factors for the present day environmental problems. The ancient people respected nature and also understood the value of nature. They worshipped the earth, fire, air, water and sky. (Environmental Education, HS 1st year, TN Textbook corporation, 2009, p. 3)"
        },
        {
          "para_id": "C20P03",
          "text": "آپ نے جو بتایا، وہ بالکل حقیقت ہے، اور اس کتاب میں ماحولیاتی مسائل کی جو وجہ بتائی جارہی ہے وہ بھی بظاہر درست معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم، میرے کنفیوژن کو دور کریں۔ (فرہاد احمد سلفی، بنگلور)"
        },
        {
          "para_id": "C20P04",
          "text": "یہ صحیح ہے کہ موجودہ زمانے میں ماحولیاتی مسائل (ecological problem)  پیدا ہوئے ہیں، مگر اِن مسائل کا سبب فطرت کا مطالعہ نہیںہے، بلکہ وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنزیومرزم (consumerism) کہاجاتا ہے۔ اور دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P05",
          "text": "کنزیومر گڈس (consumer goods)سے مراد اصلاً اشیائِ صرف ہیں، لیکن موجودہ زمانے میں نئی ٹکنالوجی کے تحت جو صنعتیں قائم ہوئیں، اُن کی ترقی کے لیے یہ نظریہ وضع کیا گیاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اشیائِ صرف استعمال کریں، تاکہ صنعت کو زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل ہو:"
        },
        {
          "para_id": "C20P06",
          "text": "Consumerism: advocacy of a high rate of consumption and spending as a basis for a sound economy."
        },
        {
          "para_id": "C20P07",
          "text": "اشیائِ صَرف (consumer goods) میں اضافے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر ایک نیا نظام وضع ہوا۔ یہ بینکوں سے اندھا دھند قرض کا نظام تھا۔ لوگوں کو یہ موقع دیاگیا کہ وہ نقد خریداری کا انتظار نہ کریں، بلکہ بینکوں سے سودی قرض لے کر وہ حسب خواہش جو چیز چاہیں، حاصل کریں — اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم زمانے کا مبنی بر ضرورت سماج (need-based society) ختم ہوگیا اور اس کی جگہ مبنی بر حرص سماج (greed-based society)  وجود میں آیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P08",
          "text": "مگر یہ سادہ معاملہ نہ تھا۔ اِس کے نتیجے میں وہ بھیانک مسئلہ پیدا ہوا جس کو ضرورت سے زیادہ کاربن اخراج (carbon emission)  کہاجاتا ہے۔ جدید صنعتی دور سے پہلے بھی کاربن کا اخراج ہوتا تھا، لیکن وہ فضا کے اندر جذب ہوجاتا تھا اور انسان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا تھا۔ لیکن جدید صنعتی نظام اور بڑھے ہوئے کنزیومرزم کی بنا پر وہ مصنوعی مسئلہ پیدا ہوا ہے جس کو گرین ہاؤس گیس (greenhouse gas) کہاجاتا ہے، یعنی فضا میں مضر گیس کا نقصان دہ حد تک بڑھ جانا:"
        },
        {
          "para_id": "C20P09",
          "text": "The problem of the gradual rise in temperature of the earth’s atmosphere, caused by an increase of gases, such as carbon dioxide in the air surrounding the earth, which trap the heat of the sun."
        },
        {
          "para_id": "C20P10",
          "text": "فطرت کو تحقیق کا موضوع بنانا ایک خالص علمی اور نظری کام تھا۔ یہ کام خواہ کتنا ہی زیادہ کیا جائے، اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، مگر جدید صنعت کے ظہور کے بعد معیارِ زندگی میں مصنوعی اضافہ اور اشیائِ صرف کے اندھا دھند استعمال کے نتیجے میں وہ مسائل پیدا ہوئے جن کو ماحولیاتی مسائل کہاجاتا ہے۔ اِس مسئلے کا حل یہ ہے کہ فطرت کی تحقیق کو لامحدود طورپر جاری رکھتے ہوئے صنعتی سرگرمیوں پر کنٹرول قائم کیا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P11",
          "text": "الرسالہ مشن کو سمجھنے کے لیے اردو زبان کی اہمیت کیا ہے، اس کو واضح فرمائیں۔ (عظیم الدین، لکھنؤ)"
        },
        {
          "para_id": "C20P12",
          "text": "ہمارے دعوتی مشن سے جو لوگ جڑے ہوئے ہیں، اُن لوگوں کی ایک بڑی تعدادہے جو انگریزی کتابوں یا ٹی وی اور نیٹ پر میری تقریروں کے ذریعے ہمارے دعوتی مشن سے متعارف ہوئی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ الرسالہ مشن کو پوری طرح جاننے کے لیے ماہ نامہ الرسالہ کا مسلسل مطالعہ بہت ضروری ہے۔ جو لوگ اردو جانتے ہیں، ان کے لیے ماہ نامہ الرسالہ ایک طاقت ور ذہنی غذا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ ان کے لیے مسلسل طورپر ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P13",
          "text": "افراد کے پاس یہ عذر ہے کہ ہم اردو نہیں جانتے یا اردو کم جانتے ہیں، مگر یہ کوئی عذر نہیں۔ اصل ضرورت شوق کی ہے۔ اگر شوق ہو تو اردو زبان سیکھنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مثلاً مہاراشٹریہ (ناندیڑ) کے کشن جَیونت راؤ پاٹل کے ایک دوست عثمان چاؤش (وفات: 2006 ) تھے۔ انھوں نے مسٹر کشن پاٹل کو الرسالہ کے کچھ مضامین پڑھ کر سنائے۔ اِن مضامین کو سن کر کشن راؤ پاٹل کے اندر اتنا زیادہ شوق پیدا ہوا کہ انھوںنے مسلسل محنت کرکے اردو زبان سیکھ ڈالی۔ اب وہ الرسالہ کے مسلسل قاری ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P14",
          "text": "تاریخ میں اِس نوعیت کی بہت سی مثالیں ہیں۔ مثلاً مولانا عنایت رسول چریّا کوٹی (وفات: 1902) نے بائبل کو عبرانی زبان میں پڑھنے کے لیے عبرانی زبان سیکھی۔ شری آروبندو گھوش (وفات: 1950 ) نے رابندر ناـتھ ٹیگور (وفات: 1941 ) کی کتاب ’’گیتانجلی‘‘کو بنگلہ زبان میں پڑھنے کے لیے بنگلہ زبان سیکھی۔ آج کل لوگ جاب کے لیے کثرت سے انگریزی فرانسیسی اور جرمن زبان سیکھ رہے ہیں، وغیرہ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C21",
      "chapter_title": "خبر نامہ اسلامی مرکز — 216",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C21P01",
          "text": "1 -  جنوری2012  میں برطانیہ سے 610 صفحات کی ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Why Peace ۔ اس کو ایک امریکی مصنف ڈاکٹر مارک گٹ مین (Marc Guttman) نے ایڈٹ کیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مقالہ حسب ذیل عنوان سے شامل کیا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C21P02",
          "text": "Peace versus Interventionism (p. 454)"
        },
        {
          "para_id": "C21P03",
          "text": "2 -  جنوری 2012  کے پہلے ہفتے میں بیڑمہاراشٹریہ میں مراٹھا سیوا سنگ کا سہ روزہ اجلاس ہوا۔ یہاں حلقہ الرسالہ مہاراشٹریہ سے وابستہ ساتھیوں نے مسٹر محمد الطاف انعام دار (الطاف بک ڈپو، بیڑ) کے تعاون سے ایک بک اسٹال لگایا۔ یہاں سے بڑے پیمانے پر برادرانِ وطن نے قرآن کے ہندی، انگریزی اور مراٹھی تراجم حاصل کیے۔ وزٹرس کو مختلف زبانوں میں دعوتی پمفلٹس بطور ہدیہ دئے گئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P04",
          "text": "3 -  امریکا اور ترکی کے اسکالرز کا ایک وفد 2  فروری 2012  کو اسلامی مرکز میں آیا۔ اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے اسلام اور امن عالم کے موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔وفد کے اراکین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P05",
          "text": "4 -  سی پی ایس کے آڈی ٹوریم (نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی) میں 4  فروری 2012  کو ’دعوہ ایمپائر‘ کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس ٹیم کو خصوصی طورپر خطاب کیا۔ یہ خطاب سی پی ایس کے ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر دیکھا جاسکتاہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P06",
          "text": "5 -  لبرٹی انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کی طرف سے 14  فروری  2012 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں انڈیا اور انڈیا سے باہر کے معروف صحافی اور مصنف شریک تھے۔ اس کا موضوع یہ تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C21P07",
          "text": "Freedom to Express"
        },
        {
          "para_id": "C21P08",
          "text": "اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس ڈسکشن میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ حاضرین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P09",
          "text": "6 -  نئی دہلی کے ادارہ انٹر فیتھ کولیشن فار پیس (ICP)  اور اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن (ISA)  کی طرف سے 11  فروری 2012 کو انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے کانفرنس ہال میں ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C21P10",
          "text": "Perspectives on Peacemaking: Muslims and Christians in Constructive conversation."
        },
        {
          "para_id": "C21P11",
          "text": "اِس میں دو اسپیکر تھے — صدر اسلامی مرکز اور امریکن پروفیسر لیفبر (Fr. Leo D. Lefebure) ۔ یہاں صدر اسلامی مرکز نے موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ آخر میں حاضرین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P12",
          "text": "7 -  بلجیم کی ایمبسی(نئی دہلی) کے دو ڈپلومیٹ نے 21  فروری  2012  کو صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی:"
        },
        {
          "para_id": "C21P13",
          "text": "Antoine Evrard"
        },
        {
          "para_id": "C21P14",
          "text": "Minister Councellor, Embassy of the Kingdom of Belgium"
        },
        {
          "para_id": "C21P15",
          "text": "Jochen Anthierens"
        },
        {
          "para_id": "C21P16",
          "text": "First Secretary, Embassy of the Kingdom of Belgium"
        },
        {
          "para_id": "C21P17",
          "text": "انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔ اُن کا عام تصور یہ تھا کہ ہندستان کے مسلمان یہاں مظلومیت کی زندگی گزاررہے ہیں۔ اُن کے ساتھ یہاں امتیاز (discrimination)  برتا جارہا ہے۔ فرقہ وارانہ فساد میںمسلمان مارے جاتے ہیں۔ اُن کو سرکای سروس نہیں دی جاتی، وغیرہ۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ اِس کا سبب سلیکٹیو رپورٹنگ  (selective reporting) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان ہر اعتبار سے یہاں 57 مسلم ملکوں سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ یہ گفتگو انگریزی زبان میں تھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P18",
          "text": "8 -  نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے آڈیٹوریم میں 22  فروری 2012  کو ادارہ منہاج القرآن (گجرات) کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں ڈاکٹر طاہر القادری (مقیم کینڈا) نے شرکت کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس کے ممبران نے یہاں حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا۔ اِسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری کو صدر اسلامی مرکز کی اردو اور انگریزی کتابوں کا ایک منتخب سیٹ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P19",
          "text": "9 -  اورنگ آباد (بہار) میں 20  فروری 2012 کو نیشنل ہاکر فیڈریشن (NHF) کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں مقامی لوگوں کے علاوہ، انڈیا کے مختلف مقامات سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ الرسالہ مشن سے وابستہ مسٹر ابوالحکم محمد دانیال اپنے ساتھیوں کے ساتھ اِس پروگرام میں شریک ہوئے۔یہاں لوگوں کو اردو، ہندی، انگریزی میں دعوتی لٹریچر کے علاوہ قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ اِسی طرح 26-27  فروری 2012  کو مذکورہ ساتھیوں نے پٹنہ ہولی فیملی ہاسپٹل میں جاکر وہاں لوگوں کے ساتھ انٹریکشن کیا اور ان کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P20",
          "text": "10 -  جیک ہیون (Jeik Hyun MA) 22  فروری 2012  کو صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے۔ وہ ہوائی (Hawai)  کے ایسٹ ویسٹ سنٹر کے ایشین پیسفک پروگرام (APLP)  کے تحت، مختلف مذاہب میں امن کے تصور کے موضوع پر رسرچ کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے اسلام کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P21",
          "text": "11 -  نئی دہلی کے پرگتی میدان میں 25  فروری  تا 4  مارچ 2012  کے درمیان ورلڈ بک فئر تھا۔ اِس میں گڈ ورڈ بکس نے اپنے دو اسٹال لگائے۔ اِس موقع پر وزٹرس کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس بطور ہدیہ دئے گئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P22",
          "text": "12 -  پٹنہ (بہار) میں 15-26  مارچ 2012  کے درمیان ایک بک فئر (Book Fair) ہوا۔یہاں پٹنہ کے سنٹر فار پیس کی طرف سے ایک دعوتی اسٹال لگایا گیا۔ یہاں بہار اور جھارکھنڈ ٹیم کے افراد — مسٹر محمد دانیال، ڈاکٹر ظہیر، ڈاکٹر ضاء الدین اور مسٹر انور امام غزالی اور ان کی ٹیم کے ساتھیوں نے اپنا بھر پور تعاون دیا۔ یہاں انٹریکشن کے دوران لوگوں کو القرآن مشن (Al-Quran Mission)سے متعارف کیاگیا اور ان کو بطور ہدیہ دعوتی پمفلٹس دئے گئے۔ اسی طرح 18  مارچ 2012  کو دانا پور (پٹنہ، بہار) میں ایک تقریب نکاح میں سنٹر فار پیس (بہاروجھارکھنڈ) کی طرف سے ایک اسٹال لگایا گیا۔ یہاں لوگوں کو قرآن کے تراجم اور دعوتی پمفلٹس بطور ہدیہ دئے گئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P23",
          "text": "13 -  ٹورنٹو (کینڈا) کے سینٹ مائیکل ہاسپٹل (St. Michael’s Hospital)  میں 27 فروری 2012 کو سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے انگریزی ترجمہ قرآن کے نسخے بھیجے گئے۔ یہ دعوتی میٹریل ہاسپٹل میں زیر علاج افراد اور اسٹاف کے لوگوں کو بطور ہدیہ دیاگیا۔ انھوں نے اس کو بخوشی قبول کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P24",
          "text": "14 -  یکم مارچ 2012  کو صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس کی بنگلور ٹیم کے لیے ایک خصوصی ٹیلی فونک خطاب کیا۔ بعد کو سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ خطاب کا موضوع  تھا: داعی کی ذمے داریاں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P25",
          "text": "15 -  انڈیا اور انڈیا کے باہر سی پی ایس کے تحت بڑے پیمانے پر دعوتی کام ہو رہا ہے۔ ماہ نامہ الرسالہ میں اِس دعوتی کام کی صرف جزئی رپورٹ شائع ہوتی ہے۔مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں اور وہاں انٹریکشن کے دوران وہ لوگوں کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ترجمہ برائے مطالعہ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں سہارن پور (یوپی) کے حلقہ الرسالہ کے تحت جاری دعوتی سرگرمیوں کی ایک منتخب رپورٹ یہاں درج کی جاتی ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C21P26",
          "text": "ک    درونا چاریہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں 12 فروری 2012  کو سائنس کامپٹیشن کا ایک پروگرام ہوا۔ اس کی دعوت پر ڈاکٹر محمد اسلم خان نے بطور چیف گیسٹ اس میں شرکت کی اور یہاں طلبا اور اساتذہ کو خطاب کیا۔ اِس موقع پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P27",
          "text": "ک    سہارن پور کی ٹیم نے 14  فروری 2012  کو کرنال گرلس کالج اور امبالا کالج کا دورہ کیا۔ اِس موقع پر انھوں نے وہاں کے طلبا اوراساتذہ نیز وہاں کے مشہور مقامی اشخاص سے دعوتی ملاقات کی۔ مثلاً مان سنگھ ایڈوکیٹ، وغیرہ۔ اِس موقع پر کرنال گرلس کالج کی پرنسپل ڈاکٹر موہنی کو صدر اسلامی مرکز کی کتابیں دی گئیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P28",
          "text": "ک    مولانا سلمان حسینی ندوی نے 2  مارچ 2012 کو سہارن پور کا دورہ کیا۔ یہاں ڈاکٹر محمد اسلم خان نے مولانا سلمان حسینی کی دعوت پر مدرسہ مظاہر العلوم کے باہر سٹی گیٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ اور ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابیں بطور ہدیہ پیش کیں۔یہاں مظاہرالعلوم کے طلبا اور اساتذہ کو بھی دعوتی لٹریچر دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P29",
          "text": "ک    سوامی امر پال سنگھ کی دعوت پر سہارن پور ٹیم کے ساتھیوں نے 9 مارچ 2012  کو گنگوہ اور ناگوڑ کے مختلف پروگرام میں شرکت کی۔ یہاں انٹرفیتھ کے موضوع پر ایک خصوصی پروگرام ہوا۔ جس میں ہمارے ساتھیوں کے علاوہ مقامی ہندوؤں نے بھی شرکت کی اور سی پی ایس کی انٹرفیتھ ایکٹوٹی کو اپنا تعاون دینے کا وعدہ کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P30",
          "text": "ک    سہارن پور کے قدیم چرچ سینٹ تھامس(St. Thomas)  میں 29  مارچ 2012  کو ایک آل انڈیا پروگرام ہوا۔ یہاں جیون جیوتی بال وکاس سنٹر کا افتتاح تھا۔ اس کی دعوت پر ہمارے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی۔ یہ ایک بڑا پروگرام تھا۔ اِس پروگرام میں انڈیا کے مختلف مقامات کے چرچ کے نمائندے شریک تھے۔ سہارن پور چرچ کے فادر ڈینئل نے اپنی تقریر میں کہا کہ سی پی ایس کا لٹریچر امن کی اشاعت کے لیے بنیادی فکر ی مواد کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P31",
          "text": "ک    سہارن پور کے پیس ہال میں 25  مارچ 2012  کو ایک دعوہ میٹ تھی۔ اِس میں جناب طارق عبد اللہ رام پوری، گنگوہ گروکل کے سوامی امر پال سنگھ آریہ اور ڈاکٹر انور جمال دیوبندی کے علاوہ، ندوۃ العلما، لکھنؤ اور دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم کے مختلف علما نے شرکت کی۔ اِس موقع پر حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P32",
          "text": "16 -  میرٹھ (یوپی) کے پی پی ہال (آبو لین، کینٹ) میں 11  مارچ 2012  کو قرآن کے موضوع پر ایک کانفرنس ہوئی۔ اِس موقع پر میرٹھ کے حلقہ الرسالہ کے ساتھیوں مولانا محمد عرفان قاسمی، ڈاکٹر ساجد صدیقی، وغیرہ نے بڑے پیمانے پر قرآن کا اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاضرین کو بطور ہدیہ پیش کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P33",
          "text": "17 -  نئی دہلی کی میڈیا کمپنی (Agnus Dei)  کی نمائندہ مز گریما تیواری نے 19  مارچ 2012  کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C21P34",
          "text": "Islam and Spirituality"
        },
        {
          "para_id": "C21P35",
          "text": "18 -  پنگوئن بکس، انڈیا کی 25  ویں سال گرہ کے موقع پر نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹر میں 25  مارچ 2012 کو ایک آل انڈیا پروگرام ہوا۔ یہاں سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P36",
          "text": "19 -  بنگلہ دیش کے مشہور مصنف اور صحافی مسٹر شہر یار کبیر (Shahriar Kabir)  نے 28  مارچ 2012  کو مسلم ملٹنسی کے موضوع پر ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ مسٹر شہریار کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P37",
          "text": "20 -  اپریل 2012  کے دوسرے ہفتے میں مولانا محمد ذکوان ندوی نے لکھنؤ کا سفر کیا۔ وہ اپنے ساتھ دعوتی لٹریچر خرید کر لے گئے تھے۔ انھوں نے لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا، خاص طورپر علما کو ’’کتاب معرفت‘‘ بطور ہدیہ پیش کی۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P38",
          "text": "21 -  صدر اسلامی مرکز کے مضامین اردو اخبارات میں شائع ہورہے ہیں۔ اِس سلسلے میں 10 اپریل 2012  کو روزنامہ راشٹریہ سہارا میں ایک مفصل مضمون ’’حاکمانہ ماڈل، دعوتی ماڈل‘‘ شائع ہوا۔ اِسی طرح صدر اسلامی مرکز اور سی پی ایس (نئی دہلی) کے ممبران کے مضامین انگریزی اخبارات ٹائمس آف انڈیا، وغیرہ میں برابر شائع ہو رہے ہیں۔ یہ مضامین سی پی ایس کے ویب سائٹ (www.cpsglobal.org)  پر دیکھے جاسکتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P39",
          "text": "22 -  استنبول(ترکی) کے ادارہ سلام ورلڈ (Salam World)  کی ٹیم نے 11 اپریل 2012  کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اسلام اور امنِ عالم کے موضوع پر تھا۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میںتھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P40",
          "text": "23 -  ڈی او ایس سوسائٹی (Delhi Optholmological Society)  کی طرف سے نئی دہلی کے ہوٹل سمراٹ اشوک (چنکیا پوری) میں 6-8   اپریل 2012  کو ایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی۔ اِس موقع پر سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے کانفرنس میں ایک ہزار سے زیادہ ڈاکٹروں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P41",
          "text": "24 -  ترکی ٹی وی کے نمائندہ مسٹر عثمان انالن کی ٹیم نے 18  اپریل 2012  کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیوانٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع یہ تھا — اسلام اور عصر حاضر۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔ سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی۔ یہ انٹرویو ترکی میں نشر کیا جائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P42",
          "text": "25 -  لندن (Earl Court)  میں 16-18   اپریل 2012  کو لندن بک فئر ہوا۔ اِس موقع پر تحریک ترسیل قرآن (نیویارک) اور گڈورڈ بکس (نئی دہلی) کے تعاون سے وزٹرس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P43",
          "text": "26 -    قرآن کے انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر کے متعلق قارئین کے چند تاثرات ملاحظہ ہوں:"
        },
        {
          "para_id": "C21P44",
          "text": "ک    Dawah work and the Al-Risala Mission have successfully been started here in Kolkata. Copies of the Quran and other dawah literature were distributed at the International Book Fair in Kolkata. The distribution of literature was also done in Ghazipur, (U.P) and Vaishali (Bihar). People, particularly the non-Muslims showed great interest. Our members here are also doing this work on a one-to-one basis. We hope, it will yield results, Insha Allah. A friend, Md. Aslam Ansari, who is an employee at the Indian Railways, gave a copy of the Quran and some Hindi literature to one of his senior colleagues, Mr. Baldeo Singh Randhar, Chief Office Superintendent (Mechanical Diesel). He is very popular in the office for his jovial and humorous attitude. But after going through the literature he has become extremely serious, to the surprise of his colleagues. They even asked our friend as to what he had given him that had brought about such tremendous change in a person like him. (Mohammed Abdullah, Kolkata Team)"
        },
        {
          "para_id": "C21P45",
          "text": "ک    I am over 90. I hail from Kashmir and am settled in Gurgaon. The thought of taking the liberty of writing to you came to my mind immediately after I came across your booklet Peace in Kashmir, which I read on your website. I could not help rating it as the first realistic version of the Kashmir dispute. It is indeed thought-provoking. (Muhammad Amin Chishti, Gurgaon, Haryana)"
        },
        {
          "para_id": "C21P46",
          "text": "ک  I would like to express my sincere gratitude to Maulana Wahiduddin Khan, for delivering the keynote address and participating in the discussion held at the Liberty Institute on the topic, Freedom to Express. His clear thinking, I am sure, cleared a lot of misconceptions which some people may have had about Islam. Almost everyone I spoke to at the end acknowledged that they were most impressed by Maulana’s sincerity and knowledge. (Barun Mitra, Liberty Institute, New Delhi)"
        },
        {
          "para_id": "C21P47",
          "text": "ک I am a Chaplain in a prison in the United States. The Center for Peace and Spirituality in Bensalem, Philadelphia, has sent us a box of paperback translations of the Quran by Maulana Wahiduddin Khan, and a box of study booklets by Maulana W. Khan. Thank you very much for these generous and helpful donations. The inmates in this facility will benefit greatly by your contribution. (Richard Tinker, Chaplain, Oklahoma, USA)"
        },
        {
          "para_id": "C21P48",
          "text": "ک Brother, there is a great need for copies of the Quran in Ghana. Many of these requests come from non-Muslims or new Muslims. We have sent this list to individuals and organizations that have helped Voice of Islam provide such a service to those in need in Ghana. We wish to thank you for your efforts and support in our humble efforts and encourage you to continue your support in the future. (Mohammad Thompson, Voice of Islam Trust, Auckland, New Zealand)"
        },
        {
          "para_id": "C21P49",
          "text": "27 -  نظام الدین ویسٹ مارکیٹ (نئی دہلی) کے کمیونٹی سنٹر میں 24  اپریل 2012  کو مسٹر وجے ستپال (52 سال) کے انتقال پر ایک تعزیتی پروگرام (اٹھالا) ہوا ۔ اِس موقع پر حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P50",
          "text": "28 -  یوجی سی (UGC)  اور سروجنی نائڈو سنٹر فار ومنس اسٹڈیز (SNCWS)  کے تعاون سے 24   اپریل 2012 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی)  میں ایک پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا:"
        },
        {
          "para_id": "C21P51",
          "text": "Capacity Building Workshop of Women Managers in Higher Education."
        },
        {
          "para_id": "C21P52",
          "text": "اس میں خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور کرسچن خواتین نے شرکت کی۔ اِس پروگرام کا آغاز سی پی ایس (نئی دہلی) کی ممبرمز عائشہ نے قرآن کی تلاوت سے کیا۔ اس کے بعد مز سعدیہ خان نے ان آیات کا انگریزی ترجمہ پڑھا۔ قرآن کے ترجمہ اور تلاوت کو سن کر نان مسلم شرکا نے اپنے گہرے تاثرات کا اظہار کیا۔مثلاً سروجنی نائڈو سنٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مز بلبل دھر نے کہا کہ قرآن کو سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اِسی طرح پروفیسر منی ایس تھامس (PIO) نے کہا:"
        },
        {
          "para_id": "C21P53",
          "text": "The recitation of the Quran was mind boggling. It stirred our souls."
        },
        {
          "para_id": "C21P54",
          "text": "اِس موقع پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ہمارے ساتھی اِس تجربے سے فائدہ اٹھائیں اور حسب موقع وہ قرآن کے منتخب حصے کی تلاوت اور ترجمہ سنانے کے بعد لوگوں کو قرآن کا ترجمہ دیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P55",
          "text": "29 -  کشمیر کے مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی بڑے پیمانے پر وہاں کے نان مسلم ٹورسٹس (tourists)  اور مقامی لوگوں کے درمیان دعوت کا کام کررہے ہیں۔ اِس سلسلے میں یہ لوگ وہاں کی انڈین آرمی اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران تک دعوتی پیغام پہنچا رہے ہیں۔ یہ لوگ کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات مثلاً پارک، وغیرہ  میں جاکر انٹر یکشن کے دوران لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر برائے مطالعہ دیتے ہیں۔مثلاًکشمیر یونی ورسٹی میں اردو پمفلٹ ’’شاہ ہمدان مشن‘‘ کی ایک ہزار کاپیاں طلبا اور اساتذہ کو دی گئیں۔ اِسی طرح جنرل حسنین کو ’’صبح کشمیر‘‘ کا خصوصی شمارہ دیاگیا۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ لیا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P56",
          "text": "30 - مسٹر ہارون شیخ(ممبئی) کے تعاون سے گھانا(مغربی افریقہ) میں ایک دعوتی ٹیم تیار ہوگئی ہے۔ یہ لوگ افریقہ میں بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچارہے ہیں۔دعوتی مقصد کے لیے رابطہ قائم کریں:"
        },
        {
          "para_id": "C21P57",
          "text": "Mr. Siraj, Tel. +23326566740"
        },
        {
          "para_id": "C21P58",
          "text": "Mr. Teslim Braimah, Tel. +233243720702"
        },
        {
          "para_id": "C21P59",
          "text": "31 -  مسٹر خرم قریشی کے تعاون سے انڈیا اور انڈیا سے باہر کے ملکوں میں الرسالہ کے لوگ منظم ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اپنے مقام پر ہفتہ وار یا ماہانہ میٹنگ کرتے ہیں اور اپنے علاقے میں دعوت کے کام کو منظم کرتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P60",
          "text": "32 -  برمنگھم (برطانیہ) میں مسٹر شمشاد محمد خان کے تعاون سے اُن کے ادارہ آئی پی سی آئی (IPCI)  کے تحت اسلامک ایگزبیشن کا ایک مستقل پروگرام جاری ہے۔ یہ ایگزبیشن موبائل اور پرماننٹ دونوں طریقے پر ہورہی ہے۔ اس کے تحت برطانیہ میں بڑے پیمانے پر وہاں کے مختلف طبقوں میں اسلام کے تعارف کا پروگرام کیا جاتاہے۔ ادارے کی طرف سے زائرین کو صدر اسلامی مرکز کا انگریزی ترجمہ قرآن بطور ہدیہ پیش کیا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:"
        },
        {
          "para_id": "C21P61",
          "text": "www.islamic-exhibition.org"
        },
        {
          "para_id": "C21P62",
          "text": "33 -  امریکا کے لیے صدر اسلامی مرکز کے ٹیلی فونی خطاب کا سلسلہ جاری ہے۔ موضوعات مع تاریخ درج ہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C21P63",
          "text": "Feb 19     Islam Ki Surbulandi  (Ascendency of Islam)"
        },
        {
          "para_id": "C21P64",
          "text": "March 16   Philosophy, Religion and Science"
        },
        {
          "para_id": "C21P65",
          "text": "April   1      Importance of Sincerity"
        },
        {
          "para_id": "C21P66",
          "text": "April 15    The Concept of Tawassum in Islam"
        },
        {
          "para_id": "C21P67",
          "text": "34 -  ایک خط:  11 مارچ  2012 کو آپ کا ویکلی لکچر بذریعہ انٹرنٹ سن کر فارغ ہوا تو میں بیٹھاہوا سوچ میں گم تھا اور اللہ سے سچی ہدایت کی دعائیں کررہا تھا۔ اچانک دعا جیسی کیفیت ہونے لگی،چناں چہ میں نے بہت سی دعائیں کیں۔ اُس وقت ایک عجیب دعا میرے ذہن میں آئی۔میں نے اپنی پوری زندگی میں اس قسم کی دعا کبھی نہیں کی تھی، اور نہ ایسا کبھی سوچا تھا۔ میں اللہ سے اس کی معرفت کے لئے دعا کررہا تھا کہ میں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے خدا، میں ایک  کمزور انسان ہوں، میری کچھ بھی حیثیت نہیں ہے۔ میں ایک عاجز انسان ہوں جو کسی بھی چیز کے قابل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ میری ماں میری اس حیثیت کے باوجود ایسا نہیں کرے گی کہ وہ مجھے اکیلا چھوڑدے، وہ مجھے پریشان حال دیکھے پھر بھی وہ انجان بنی رہے۔ میری ماں مجھ کو اپنے سینے سے لگا لے گی۔ یہ ایک ماں کا حال ہے۔ پھر میں نے خدا سے کہا کہ بے شک، میں تیری معرفت کے لائق انسان نہیں، میرے پاس وہ اہلیت نہیں جو تیری معرفت کے لائق ہو۔ لیکن ایک ماں کا یہ حال ہوتا ہے تو، جوستر ماں سے زیادہ محبت کرتا ہے،کیا تو مجھے اپنی معرفت سے نہیں نوازے گا۔ کیا تو مجھے صرف  اس لئے اپنی معرفت سے محروم رکھے گا کہ میں اس لائق نہیں۔ میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ ایسا نہیںہوسکتا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ سوچ سوچ کر میں رورہا تھا اور اللہ کی معرفت کے لئے دعا کررہا تھا۔ یہ سلسلہ تقریبا دس منٹ تک جاری رہا۔ اس وقت میں نے اللہ سے اور بھی دعائیں مانگی۔ ایک دعا یہ تھی کہ اے اللہ، الرسالہ مشن خالص تیری دریافت پر کھڑا ہواہے۔ کیا تو اس کی حفاظت نہیں کرے گا۔ پھر میں نے کہا کہ اے اللہ، سب کچھ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اگر تو انھیں سمجھ دے تو لوگ سمجھ جائیں گے۔ اے اللہ، تو ان سب لوگوں کو ہدایت عطا فرما دے جو آج تیرے مشن کے مخالف بنے ہوئے ہیں۔ (مولاناعبد الباسط عمری، قطر)"
        }
      ]
    }
  ]
}