{
  "metadata": {
    "month": "June",
    "year": "2015",
    "source_url": "http://cpsalrisala.blogspot.com/2015/06/JuneAlrisala.html",
    "scrape_timestamp": "2026-03-26T14:26:21.916152"
  },
  "content": [
    {
      "chapter_id": "C01",
      "chapter_title": "فطرت کا ایک قانون",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C01P01",
          "text": "قرآن کی سورہ البقرة میں فطرت کا ایک قانون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰہِ  وَاللہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ(2:249) یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ، اللہ کے اذن سے بڑے گروہ پر غالب آتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C01P02",
          "text": "اذن کے لفظی معنی اجازت کے ہوتے ہیں- یہ لفظ یہاں کسی پُراسرار معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فطرت کے قانون (law of nature) کے معنی میں ہے- فطرت کا یہ قانون کیا ہے- فطرت کا یہ قانون وہی ہے جس کو صبر کے لفظ میں بیان کیاگیا ہے- یہاں صبر کا مطلب یہ ہےکہ اگر اقلیتی گروہ منفی ردّ عمل میں مبتلا نہ ہو تو وہ اِس قابل ہوتاہے کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے سے بڑے گروہ پر سبقت لے جائے-اصل یہ ہے کہ جب کوئی گروہ اقلیت (minority)میں ہوتا ہے تو اُس کو اکثریتی گروہ (majority)کی طرف سے مسلسل چیلنج کا سامنا پیش آتاہے- یہ صورت حال، اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ (creative group) بنادیتی ہے- اِس طرح اُس کاشعور جاگتا ہے- وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ عمل کے نئے نئے میدان تلاش کرے- وہ اپنے ذرائع کو زیادہ بہتر طورپر استعمال کرے- وہ اپنے آپ کو اور زیادہ تیار کرسکے- وہ اپنے عمل کی زیادہ دور رس منصوبہ بندی (planning) کرے۔ اِس طرح اُس کا اقلیت میںہونا اُس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا سبب بن جاتا ہے- وہ اکثریت سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے- اور آخر کار اکثریت سے زیادہ ترقی حاصل کرلیتا ہے- یہ اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ نہیں، یہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہمیشہ اور ہر زمانے میں جاری رہتاہے- دوقوموں کے درمیان بھی، اور ایک قوم کے اندر داخلی طورپر بھی، حتی کہ دو افراد کے درمیان بھی- اس کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی بھی صورت حال میں منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو- وہ ہمیشہ صرف ایک کام کرے- فطرت کے قانون کو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا، یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے- دوسرا ہر طریقہ صرف تباہی میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ کامیابی تک پہنچانے والا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C02",
      "chapter_title": "شیطان کا وسوسہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C02P01",
          "text": "قرآن کی سورہ حم السجدہ میں اہلِ ایمان کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ اپنے حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنائیں-اس کے فوراً بعد یہ الفاظ آئے ہیں: وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ ط اِنَّہُ ہَوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(41:36) یعنی اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو تم اللہ کی پناہ مانگو- بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C02P02",
          "text": "اِس سیاق (context)میں، وسوسہ شیطان کا مطلب صاف طورپر یہ ہے کہ دشمن کے ساتھ جب حسن سلوک کرنے کا معاملہ پیش آئے اور تمھارا دل کسی شک میں پڑے یا کوئی تم کو فرضی اندیشہ بتا کر اس راہ سے ہٹانا چاہے، اس وقت تم اِس قسم کے خیال کو شیطان کا وسوسہ سمجھو اور شیطان کو اپنے سے دور بھگا کر اس معاملے میں اسلام کے اصول پر قائم رہو- اِس سیاقِ کلام میں، وسوسۂ شیطان کا مطلب ہے —  دشمن کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے طریقے پر شبہہ ڈالنا-"
        },
        {
          "para_id": "C02P03",
          "text": "مثال کے طورپر اگر ایسا ہو کہ کسی کو یہ طریقہ بتایا جائے کہ تم جس کو اپنا دشمن سمجھتے ہو، اس کی دشمنی سے بچنے کا قرآنی طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرو- اس کے بعد اگر وہ شخص یہ کہے کہ ایسا کرنے سے دشمن اور زیادہ جری ہوجائے گا، وہ ہمارے خلاف اور بھی زیادہ دشمنی کرے گا تو ایسا کرنا یقینی طورپر شیطان کا وسوسہ ہے- ایسا بول عقل کا بول نہیں ہے، بلکہ شیطان کا بول ہے- جو لوگ ایسا کہیں وہ اس کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے ہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C02P04",
          "text": "برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا محض ایک اخلاقی بات نہیں- وہ فطرت کے قانون کے مطابق ایک کارگر تدبیر ہے- یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب اس کے ساتھ جوابی طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ طورپر حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے تو اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے، وہ ندامت میں مبتلا ہوکر اپنی اصلاح آپ کرلیتا ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C03",
      "chapter_title": "ایک سنت ِ رسول",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C03P01",
          "text": "قال ابن عمر لعائشة: أخبرینا بأعجب شیء رأیتہ من رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فبکت وقالت: کلّ أمرہ کان عجباً (الترغیب والترہیب: 666) یعنی عبد اللہ ابن عمر نے عائشہ سے کہا کہ مجھ کو یہ بتائیے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے عجیب چیز کیا دیکھی- یہ سن کر وہ رو پڑیں، اور کہا کہ آپ کی ہر بات عجیب ہوتی تھی- عجیب یہاںاپنے لفظی معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک اعلی ذہنی صفت کے معنی میں ہے- وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات میں ایک نیا پن ہوتا تھا، آپ کی ہر بات تعجب خیز حد تک رواجی فکر سے مختلف ہوتی تھی-"
        },
        {
          "para_id": "C03P02",
          "text": "غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخلیقی فکر (creative thinking)کا معاملہ تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کامل درجے میں تخلیقی ذہن (creative mind) کی صفت رکھتے تھے- آپ کی اس صفت نے آپ کو اس قابل بنا دیا تھا کہ آپ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں- آپ چیزوں میں نئے پہلو کی نشاندہی کریں- آپ چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھیں، اور دوسروں کو اسے بتائیں-"
        },
        {
          "para_id": "C03P03",
          "text": "یہ تخلیقی فکر دراصل تدبر اور تفکر کا نتیجہ ہوتا ہے- آپ کی صفات کے بارے میں ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: کان ہو طویل الصمت دائم الفکر متواتر الأحزان (تاریخ دمشق لابن عساکر: 3/337)یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک خاموش رہتے تھے، آپ ہمیشہ غوروفکر میں رہتے تھے، آپ مسلسل طورپر غم کی کیفیت میں ہوتے تھے-"
        },
        {
          "para_id": "C03P04",
          "text": "اس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے، یعنی مسلسل طورپر غور وفکر (contemplation)کی حالت میں رہنا- غوروفکر کا یہ معاملہ صرف خصائص نبوی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ رسول اللہ کی ایک قابلِ تقلید سنت کا معاملہ ہے- اس غور وفکر سے آدمی کے اندر گہرائی آتی ہے- یہ فکری گہرائی آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتی ہے، جس کو تخلیقی فکر کہاجاتا ہے- ایسا آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے، وہ چیزوں کے نئے پہلو سے لوگوں کو باخبر کرے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C04",
      "chapter_title": "معرفت ایک تخلیقی عمل",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C04P01",
          "text": "دین میں سب سے زیادہ اہمیت معرفتِ الٰہی (realization of God) کی ہے- معرفت کوئی جامد چیز نہیں- معرفت مسلسل طورپر ایک اضافہ پذیر چیز ہے- اس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (8:2) کہا گیا ہے- اس اضافہ پذیر معرفت کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) موجود ہو- اس کا جذبہ معرفت اتنا بڑھا ہوا ہو کہ ہر چیز سے اس کو معرفت کی غذا ملتی رہے-"
        },
        {
          "para_id": "C04P02",
          "text": "آل انڈیا ریڈیو پر ہر گھنٹہ خبریں آتی ہیں- درمیان میں دوسرے پروگرام بھی آتے رہتے ہیں- ایک دن میں نے ریڈیو کھولا تو ایک گانے والا ایک گیت گارہا تھا، اس گیت کی ایک لائن یہ تھی:"
        },
        {
          "para_id": "C04P03",
          "text": "برباد میں یہاں ہوں، آباد تو کہاں ہے"
        },
        {
          "para_id": "C04P04",
          "text": "یہ الفاظ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا- مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے انسان درد کی حالت میں ہے اور وہ اپنے رب کو پکار رہا ہے- انسان اپنے خالق سے کہہ رہا ہے کہ تو نے پیدا کرکے مجھے ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا جو میرا ہیبی ٹیٹ (habitat)نہ تھا- اس دنیا میں درخت کو اس کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے، مچھلی کو اس کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے، حیوانات کو ان کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے- چنانچہ بقیہ دنیا میں احساس محرومی کا کوئی وجود نہیں-محرومی کا احساس صرف انسان کا تجربہ ہے- انسان کو پیدا ہونے کے بعد مسلسل طورپر احساس محرومی (sense of unfulfillment) میں جینا پڑتا ہے- وہ ذہنی سکون  سے محروم رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مرجاتاہے-"
        },
        {
          "para_id": "C04P05",
          "text": "یہ سوچتے ہوئے مجھے قرآن کی سورہ التین یاد آئی- اس سورہ پر غور کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے انسان، تیری یہ حالت اس لئے ہے کہ تو نے میرے کریشن پلان (creation plan)کو نہیں سمجھا- اگر تو میرے تخلیقی منصوبے کو دریافت کرتا تو تو یہ جان لیتا کہ میں نے تیرے لئے ایک اجر غیر ممنون (unending reward) تیار کررکھا ہے- اس دریافت کے بعد تو یہ کرتا کہ اپنی ساری توجہ اپنے آپ کو اس انعام کا مستحق بنانے میں لگا دیتا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C05",
      "chapter_title": "دعوت حق کے دو دَور",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C05P01",
          "text": "حضرت ابراہیم ایک پیغمبر تھے- ان کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے- ان کی ایک دعا وہ ہے جو انھوں نے تعمیر کعبہ کے وقت قدیم مکہ میں کی تھی- قرآن کے مطابق ان کے الفاظ یہ تھے: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ(2:128) یعنی اے ہمارے رب، ہم کو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل میں سے اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا-"
        },
        {
          "para_id": "C05P02",
          "text": "اس ابراہیمی دعا کا ذکر بائبل میں اس طرح آیا ہے —  (اور خداوند نے کہا) ابراہام سے یقیناً ایک بڑی اور زبردست قوم پیدا ہوگی اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی:"
        },
        {
          "para_id": "C05P03",
          "text": "(And the Lord said) since Abraham shall surely become a great and mighty nation, and all the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18: 18)"
        },
        {
          "para_id": "C05P04",
          "text": "تاریخی پس منظر کو شامل کرکے غور کیا جائے تو اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر ابراہیم تک بہت سے پیغمبر آئے تاکہ وہ امر حق کا اعلان کریں، لیکن اس پوری مدت میں یہ خدائی مشن ایک انفرادی مشن بن کر رہ گیا- اب اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ امت (team) کی سطح پر اس کو انجام دیا جائے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں ایک عمل (process) شروع ہوا- اس کے بعد ابراہیم اور اسماعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں سے ایک نسل (بنو اسماعیل) تیار ہوئی، جس کے اندر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے- ان کی دعوتی کوشش سے بنو اسماعیل میں ایک مطلوب ٹیم بنی، جس کو ایک حدیث میں العصابة (مسند احمد: 221) کہاگیاہے- اس العصابہ نے اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا-"
        },
        {
          "para_id": "C05P05",
          "text": "یہ روایتی دور (traditional age) کی بات تھی- اب سائنسی دور (scientific age) کے تحت نئے دعوتی مواقع پیدا ہوئے ہیں- اب دوبارہ ایک العصابہ کی ضرورت ہے جو جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے نئے دور میں امرِ حق کا اظہار کرے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C06",
      "chapter_title": "مطلوب رہنمائی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C06P01",
          "text": "سچا رہنما کون ہے، امت ِ موسیٰ کے حوالے سے قرآن میں اس کا جواب ان الفاظ میں دیاگیا ہے:  وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَىِٕمَّةً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا  وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (32:24) اور ہم نے ان میں امام بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا- اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے-قرآن کی اِس آیت میں ائمہ سے مراد مذہبی رہنما ہیں- یہاں یہ سوال ہےکہ قرآن میں ان کے لیے جعلنا کا لفظ کیوں آیا، یعنی اللہ کی طرف سے تقرری (appointment)- جیسا کہ معلوم ہے، اللہ کی طرف سے تقرری صرف پیغمبر کی ہوتی ہے- پھر غیر نبی امام کو اللہ کی طرف کیوں منسوب کیاگیا- اس سے مراد براہ راست تقرری نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد بالواسطہ تقرری ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C06P02",
          "text": "اس بالواسطہ تقرری کا درجہ ان لوگوں کو ملتاہے، جو صبر کا ثبوت دیں- اصل یہ ہے کہ رہنما دو قسم کے ہوتے ہیں- ایک وہ ہیں جو حالات کے رد عمل کے تحت (out of reaction) رہنمائی کے لیے کھڑے ہوجائیں- دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جو صابرانہ منصوبہ بندی (patient planning)کے تحت رہنمائی کے لیے اٹھیں- یہ دوسری قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک درست رہنما ہیں، ان کو اللہ کی طرف سے قبولیت (acceptance)حاصل ہوتی ہے- یہی وجہ ہے کہ ایسے رہنماؤں کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کیاگیا- امت کی رہنمائی کا معاملہ اصولی طورپر نظریہ کا معاملہ ہے، اور عملی طور پر وہ حالات کا معاملہ ہے۔ حالات کا رخ  انسان کی آزادی اور مسابقت (competition) سے تعلق رکھتا ہے- خارجی حالات کبھی اہلِ اسلام کے موافق نہیں ہوتے- حقیقت یہ ہے کہ رہنمائی نام ہے، ناموافق حالات میں اپنے لیے موافق راستہ تلاش کرنا-ایسی حالت میں رہنما ہمیشہ دوانتخاب (options) کے درمیان ہوتا ہے- ایک یہ کہ حالات کے خلاف رد عمل (reaction) کرتےہوئے کچھ جوابی سرگرمی شروع کردینا - ایسے لوگ اللہ کے نزدیک غیر مطلوب رہنما ہیں، وہ کبھی اللہ کے نزدیک ربانی امام کا درجہ نہیں پاسکتے- دوسرے رہنما وہ ہیں جو صابرانہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے عمل کا تعین کریں- یہی وہ لوگ ہیںجو اللہ کے نزدیک ربانی امام کا درجہ پائیں گے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C07",
      "chapter_title": "حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C07P01",
          "text": "لی کوان یئو  (Lee Kuan Yew) سنگاپور کے فاؤنڈر پرائم منسٹر تھے۔ وہ  91 سال کی عمر میں  23 مارچ  2015کو سنگاپور میں وفات پاگیے۔سنگاپور پہلے جغرافی اعتبار سے ملیشیا کا ایک سرحدی حصہ تھا۔ 1965 میں وہ ایک علاحدہ ملک (separate state)بنا۔ مسٹر لی سنگاپور کے پہلے پرائم منسٹر بنائے گیےتھے۔اُس وقت سنگاپور ایک غیر ترقی یافتہ ملک تھا، اور وسائل سے محروم بھی۔ مگر مسٹر لی نے سنگاپور کو صرف پہلی جنریشن میں اول درجے کا ترقی یافتہ ملک بنادیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P02",
          "text": "آج سنگاپور میں ہر طرف ڈیولپمنٹ کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔سنگاپور کے ایک تعلیم یافتہ باشندے نے ایک اخباری رپورٹرسے بات چیت کے دوران کہا کہ جو لوگ یہاں مسٹر لی کی یادگار (monument) دیکھنا چاہتے ہیں، سنگاپور کے لوگ فخر کے ساتھ ان سے کہیں گے کہ اپنے چاروں طرف دیکھو، سنگاپور کا ہر گوشہ مسٹر لی کی روشن یادگار ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P03",
          "text": "“To those who seek Lee Kuan Yew’s monument, Singaporeans can reply proudly: Look around you.” (The Times of India, Delhi,   March 30,  2015,  p.16("
        },
        {
          "para_id": "C07P04",
          "text": "سنگاپور کی ترقی جدید تاریخ کا ایک معلوم واقعہ ہے۔ مگر اس ترقی کو عام طور پر لوگ ایک شخص کا کارنامہ بتاتے ہیں، یعنی سنگاپور کے پہلے وزیراعظم کا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ ایک انسان کا شخصی کارنامہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک انسان کی اختیار کردہ درست پالیسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مسٹرلی ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص تھے۔انھوں نے اپنے مطالعے کے ذریعے ممکن (possible) اور ناممکن (impossible) کے فرق کو جانا۔ انھوں نےاس حقیقت کو دریافت کیا کہ سنگاپور کی ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی نیشنل پالیسی کو مثبت بنیادوں پر قائم کرے۔ سنگاپور نہ ملیشیا سے ٹکراؤ کرے، نہ وسائل کے مفقود ہونے کی شکایت کرے۔ نہ یہ کرے کہ کسی سازش (conspiracy) کودریافت کرکے اپنے مفروضہ دشمن کے ظلم کاتحریری اور تقریری پروپیگنڈہ کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P05",
          "text": "مسٹر لی نے اس قسم کی کسی منفی سوچ کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ سنگاپور کے دستیاب وسائل (available resource )کو دانش مندانہ پلاننگ کے ذریعے ڈیولپ کرنا شروع کیا۔ انھوں نے کسی غیر حاصل شدہ کو حاصل کرنے پر ایک دن بھی ضائع نہیں کیا۔ انھوں نے صرف حاصل شدہ کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنایا نہ کہ غیر حاصل شدہ کی بنیاد پر۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P06",
          "text": "اس پالیسی کا نام مثبت پالیسی ہے۔ یہی مثبت پالیسی تھی جس نے مسٹر لی کو یہ موقع دیا کہ وہ مختصر مدت میں ڈیولپمنٹ کا ایک ایسا کارنامہ انجام دیں، جس کی مثال کسی اور ملک میں مشکل سے ملےگی۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P07",
          "text": "یہ دنیا فطرت کے قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، ہر ایک کے لیے ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے اس ابدی قانون کودریافت کرے اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ جس طرح اس دنیا کا خالق خدا ہے، اسی طرح دنیا کا نظام بھی خالق کے منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔ اس دنیا کے بارے میں خالق کا مقرر کردہ قانون یہ ہےکہ فطری طور پر جو مواقع آدمی کو حاصل ہیں، ان کودریافت کرکے انھیں ترقی دینا، نہ کہ غیر حاصل شدہ مواقع کے لیے بے فائدہ پروٹسٹ کرنا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P08",
          "text": "سنگاپور نسبتاً ایک چھوٹا جزیرہ ہے،اس کی حیثیت صرف ایک سٹی اسٹیٹ کی ہے۔ اس اعتبار سے سنگاپور کا بظاہر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سنگاپور کا رقبہ بڑھایا جائے۔ لیکن سنگاپور کے دانش مند لیڈر نے اس حقیقت کو جانا کہ موجودہ زمانہ نئے امکانات کا زمانہ ہے۔موجودہ زمانے میں اگر آپ کے پاس محدود رقبۂ زمین ہے تو آپ ملٹی اسٹوری بلڈنگ کے ذریعے عمودی توسیع  (vertical growth) کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف ایک مقامی آفس ہے تو آپ ماڈرن کمیونی کیشن کے ذریعے اس کی پہنچ کو سارے عالم تک وسیع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اپنے ملک میں تجارت کے مواقع کم ہیں تو آپ سی پورٹ اور ایرپورٹ کے ذریعے اپنی تجارت کو عالمی دائرے میں پھیلاسکتے ہیں، وغیرہ ۔ سنگاپور کے دانش مند لیڈر نے نئے امکانات کو دریافت کیا اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کیا ،اوردنیا نے دیکھا کہ محدود مدت کے اندر سنگاپور ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P09",
          "text": "اسی کے ساتھ دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہونے کی بنا پر صرف یہ کررہے ہیں کہ انھوں نے دوسری قوموں کو اپنا دشمن فرض کر رکھا ہے۔ وہ اپنی طاقت دوسری قوموں سے لڑنے میں ضائع کررہے ہیں۔ وہ دوسروں سے صرف نفرت کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ نئے امکانات کوجانتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ نئے حالات نے دوسروں کو ان کا مددگار بنادیا ہے۔وہ دوسروں کا سپورٹ لے کر اپنے آپ کو اعلی ترقی کے منازل تک پہنچاسکتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P10",
          "text": "فطرت کے قانون کے مطابق اس دنیا میں ترقی کا راز یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے مفروضہ ظالموں کو دریافت کریں، آپ یہ دریافت کریں کہ آپ کے خلاف کیا کیا سازشیں ہورہی ہیں ۔ اس قسم کی دریافتیں صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے نہ فطرت کے قانون کو جانا، اور نہ زمانے کے مواقع (opportunities) کو سمجھا۔ آپ خدا شناسی سے بھی محروم ہیں، اور انسان شناسی سے بھی۔ مگر اس دنیا کے لیے اس کے خالق کا قانون یہ ہے کہ جو حقائق (realities) سے باخبر ہو ، وہ کامیابی کی تاریخ بنائے، اور جو شخص یا قوم حقائق سے بے خبر ہو وہ دنیا میں صرف شکایت اور احتجاج کرنے والاایک محروم گروہ بن کر رہ جائے ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C08",
      "chapter_title": "دورِ مواصلات",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C08P01",
          "text": "قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں ایک آیت آئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ  (17:70) یعنی ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی، اور سواری دی اس کو خشکی اور دریا میں-"
        },
        {
          "para_id": "C08P02",
          "text": "تمام حیوان اپنے پیروں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں، چڑیا کا سفر اپنے پرکے ذریعہ ہوتا ہے- یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ خارجی سواری کے ذریعہ اپنا سفر کرسکتا ہے- موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے سواری (transportation) کے تصور کو بہت بڑھادیا ہے- آج کے انسان کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ جسمانی حمل ونقل (physical transportation)سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرے اور اِسی کے ساتھ افکار کے حمل ونقل (transportation of ideas)کو بھی نہایت سرعتِ رفتار سے انجام دے سکے-"
        },
        {
          "para_id": "C08P03",
          "text": "قرآن کی مذکورہ آیت میں براہِ راست طورپر صرف حیوانی مواصلات کا ذکر ہے، مگر بالواسطہ طورپر اس میں ہر قسم کے مواصلات بشمول مواصلات بذریعہ ٹکنالوجی کا اشارہ موجود ہے- آدمی اگر اس آیت کو اس کے توسیعی مفہوم (extended meaning) کے ساتھ پڑھے تو یہ آیت اس کے لیے کائناتی معرفت کا ذریعہ بن جائے گی- اِس آیت میں وہ اللہ کی کائناتی نعمت کو دریافت کرے گا- یہ ایک آیت اس کے لیے بلین ٹریلین سے بھی زیادہ معانی کا خزانہ بن جائے گی-"
        },
        {
          "para_id": "C08P04",
          "text": "قرآن معروف معنوں میں کوئی معلوماتی کتاب نہیں- لیکن قرآن کے اندر وہ تمام معلومات موجود ہیں جن کا تعلق معرفت سے ہے- یہ معلومات زیادہ تر اشارات کی صورت میں ہیں- ان آیتوں پر غور کرکے ان کے اندر چھپے ہوئے معانی کی دریافت کی جاسکتی ہے- یہی تدبر اور تفکر وہ چیز ہے جس سے معرفت میں اضافہ ہوتاہے- یہی وہ چیزہے جو آدمی کے ایمان کو یقین کے درجے تک پہنچا دیتی ہے- یہی وجہ ہے کہ قرآن میں تدبر کو نصیحت کا ذریعہ بتایا گیا ہے (38:29)-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C09",
      "chapter_title": "دعوت فرضِ عین یا فرضِ کفایہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C09P01",
          "text": "عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام فرضِ کفایہ ہے، وہ فرضِ عین نہیں، یعنی اگر کچھ لوگ دعوت کا کام انجام دیں تو بقیہ لوگوں سے اُس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی- یہ تصور یقینی طورپر ایک بے بنیاد تصور ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C09P02",
          "text": "جہاں تک فرضِ عین کا تعلق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں- فرضِ عین وہ ہے جس کی ادائیگی ہر فرد کے لیے ضروری ہے اور جس کی ادائیگی کے بغیر کسی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں- مثلاً نماز فرض عین ہے اور متفقہ طورپر ترکِ نماز سے آدمی کی نجات یقینی طورپر مشتبہ ہوجاتی ہے- یہی معاملہ دعوت الی اللہ کا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C09P03",
          "text": "دعوت الی اللہ کیا ہے، وہ دراصل ’’ختم نبوت‘‘ کے عقیدے کا جز ہے- جب ایک صاحبِ ایمان یہ اقرار کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے تو اس کے بعد اُس کے اوپر یہ لازم آجاتا ہے کہ وہ خاتم النبیین کے بعد آپ کے پیغام کو بعد کی نسلوں میں جاری رکھے- نبوت بلا شبہہ ختم ہوگئی، لیکن کارِ نبوت بدستور جاری ہے- دعوت الی اللہ کا مقصد اِس کارِ نبوت کو مسلسل نسل درنسل جاری رکھنا ہے- اس لیے دعوت الی اللہ کا کام ایک مسلسل کام ہے نہ کہ کوئی وقتی کام-"
        },
        {
          "para_id": "C09P04",
          "text": "دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ کاسوال اس وقت ہوتا ہے، جب کہ دعوت کو محض اعلانِ غیر کے معنی میں لیا جائے - مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک شخصی عبادت ہے- دعوت کا نہایت گہرا تعلق انسان کی ذاتی تربیت اور ذاتی طورپر تعمیر شخصیت سے ہے- حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام کیے بغیر کسی مومن کی مومنانہ شخصیت کی تکمیل نہیں ہوتی، کسی مومن کے اندر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جو آخرت کے اعتبار سے مطلوب ہے- داعی ایک اعتبار سے دوسروں کو سچائی کا پیغام پہنچاتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنے آپ کو سچائی پر کھڑا کرتا ہے- وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آخرت میں اس کو مقعد ِصدق (seat of truth) پر جگہ پانے کا اعزاز حاصل ہو-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C10",
      "chapter_title": "شہادت امتِ مسلمہ کا مشن",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C10P01",
          "text": "شہادت ایک عظیم عمل ہے۔ جو لوگ شہادت کا عمل انجام دیں ، ان کے لیے اللہ کے یہاں عظیم درجات ہیں۔ ان کو جنت کے اعلیٰ درجات میں جگہ ملے گی۔ شہادت کیاہے۔شہادت عین وہی چیز ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو پرامن طور پر اللہ کے بندوں تک پہنچانا۔ زندگی کی حقیقت (reality of life) سے انسان کو اُس کی قابلِ فہم زبان میں باخبر کرنا ۔ شہادت یا دعوت کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص کے اندر طلب ہو وہ اللہ کے نقشۂ تخلیق کو جان لے۔ اور جس کے اندر طلب نہ ہو اس پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے، اس کو یہ موقع نہ رہے کہ وہ آخرت کے دن یہ کہہ سکے کہ ہم کو یہ خبر ہی نہ تھی کہ خالق کا مطلوب ہمارے بارے میں کیا تھا۔ شہادت یا دعوتی مشن کو قرآن میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، مثلاً تبلیغ (5:67) یاانذار و تبشیر (4:165)، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P02",
          "text": "شہادت کا لفظی مطلب گواہی دینا (to witness) ہے۔ شہادت اور دعوت دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے لیکن شہادت کے لفظ میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی دعوت کے کام کو اس طرح کامل صورت میں انجام دینا کہ آدمی کا پورا وجود دعوت کا مکمل اظہار بن جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P03",
          "text": "یہی شہادت ہے۔ شہادت کا یہ تصور قرآن میں اجنبی (alien)ہے کہ شہادت کے دو درجے ہیں— قولی شہادت اور عملی شہادت۔ یعنی تقریر اور تحریر سے شہادت کی ذمے داری ادا کرنا کافی نہیں۔ ضرورت ہے کہ مکمل نظام قائم کرکے لوگوں کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ یہ نظامی تصورِ شہادت نہ قرآن میں کہیں مذکور ہے، اور نہ پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر نے اس کو انجام دیا، حتیٰ کہ پیغمبر آخر الزماں نے بھی نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P04",
          "text": "پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شاہد (33:45) تھے ۔آپ نے بلاشبہ کامل معنوں میں شہادتِ حق کا کام انجام دیا۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ مکمل نظام کا عملی مظاہرہ کرکے شہادت کا فریضہ انجام دیں، نہ مکی دور میں نہ مدنی دور میں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت کا یہ کام ، ایک ایسا کام ہے جس کو  ـ’’ قول‘‘  کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ داعی کامل معنوں میں ناصح اور امین (7:68) ہو۔ یعنی مدعو کی نسبت سے کامل خیرخواہ(well-wisher)، اور اللہ کی نسبت سے کامل امانت دار (honest)۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P05",
          "text": "شہادت کا تصور"
        },
        {
          "para_id": "C10P06",
          "text": "قرآن میں شہادت کا لفظ مختلف مشتقات کی صورت میں 160 بار آیا ہے۔ہر جگہ وہ گواہی (witness) کے معنی میں ہے۔ قرآن میں شہادت کا لفظ مختلف نسبت کے ساتھ استعمال ہوا ہے، لیکن ہر بار وہ اسی گواہی کے مفہوم میں آیا ہے، کسی اور مفہوم میں نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P07",
          "text": "قرآن کے مطابق ، پیغمبر کا منصب یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اوپر اللہ کا گواہ بنے۔ وہ پر امن فکری جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو بتائے کہ اللہ نے ان کو کس لیے پیدا کیا ہے۔ اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ ہر پیغمبر کا مشترک مقصد یہی تھا، اور ہر پیغمبر نے شہادت کے اس عمل کو مکمل طور پر غیر سیاسی انداز میں انجام دیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P08",
          "text": "پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن کارِنبوت بدستور باقی ہے۔ خاتم النبیین کے بعد تمام انسانی نسلوں کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ ان کو پیغمبر کی نیابت میں اللہ کا پیغام بدستور پہنچایا جائے، اور قیامت تک پہنچایا جاتا رہے۔ یہ کام بعد کے زمانے میں امتِ محمدی کو انجام دینا ہے۔ یہ گویا نبی کے بعد نبی کے کارِ شہادت کا تسلسل ہے۔ اس عمل کی درست ادائیگی کی شرط یہ ہے کہ اس کو امانت اور خیرخواہی (7:68) کی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P09",
          "text": "امانت یہ ہے کہ اصل پیغامِ خداوندی میں کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ کی جائے۔ اور نصح یہ ہے کہ اس کام کویک طرفہ خیرخواہی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ تاکہ مخاطب کے لیے انکار کا کوئی معقول سبب باقی نہ رہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P10",
          "text": "امتِ محمدی کی اس ذمے داری کو قرآن کی سورہ نمبر 2میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (البقرۃ:143)۔ یعنی اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا:"
        },
        {
          "para_id": "C10P11",
          "text": "Thus We have made you a middle nation, so that you may act as witnesses for mankind, and the Messenger may be a witness for you."
        },
        {
          "para_id": "C10P12",
          "text": "امت ِ وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle ummah) ہے۔ یعنی امتِ محمدی کی حیثیت خاتم النبیین اور بعد کی انسانی نسلوں کے درمیان بیچ کے نمائندہ کی ہے۔ اللہ کے دین کو خاتم النبیین سے لینا اور اس کو بعد کی نسلوں تک کسی اجرت کی امید کے بغیر قیامت تک پہنچاتے رہنا۔ اس پہنچانے کا مطلب صرف اعلان (announcement) نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ اس کو قول بلیغ (4:63) کی زبان میں پہنچایا جائے۔ یعنی ایسے اسلوب میں جو لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P13",
          "text": "قرآن کی اس تعلیم کے مطابق موجودہ دنیا ہمیشہ کے لیے دارالدعوۃ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کے مطابق نبوت محمدی اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو نسبت ہے وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ امت کی حیثیت شاہد کی ہے، اور دوسرے انسانوں کی حیثیت مشہود(85:3)کی ۔ اس نسبت کو دوسرے الفاظ میں داعی اور مدعو کی نسبت کہا جاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P14",
          "text": "امت محمدی کی اس دعوتی ذمے داری کو حدیث میں ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے: المؤمنون شہداء اللہ فی الأرض (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2642)۔ یعنی اہل ایمان زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ شہادت کا یہ کام خالص پیغمبرانہ طریقے پر انجام دینا ہے۔ یہ ایک خدائی کام ہے جس میں کسی سیاسی یا قومی یا مادی مقصد کو شامل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کام میں کسی اور مقصد کو شامل کیا جائے تو وہ قرآن کے الفاظ میں رکون ہوگا جو انسان کو اللہ کے یہاں سخت مواخذہ کا مستحق بنا دیتا ہے۔وَلَا تَرْکَنُوْٓا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(11:113) یعنی ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیاورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے-"
        },
        {
          "para_id": "C10P15",
          "text": "دعوت قولِ بلیغ کی زبان میں"
        },
        {
          "para_id": "C10P16",
          "text": "شہادت یا دعوت کا یہ کام ایک ابدی قسم کا پیغمبرانہ مشن ہے۔ اس کو ہر زمانے میں مسلسل طور پر انجام دینا ہے۔ اس مشن کا اصل پیغام تو ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ لیکن زمانی تبدیلیوں کے اعتبار سے اس کی ادائیگی میں فرق ہوتا رہے گا۔ شہادت یا دعوت کے اس عمل کی ادائیگی کو موثر بنانے کے لیے اس طرح انجام دینا ہوگا کہ وہ ہرزمانے کے ذہن کو ایڈریس کرسکے۔ اس زمانی رعایت کے بغیر حجت کی شرط پوری نہیں ہوسکتی، جو کہ اس کام کی حسن ادائیگی کی لازمی شرط ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P17",
          "text": "دعوت دورِ تعقل میں"
        },
        {
          "para_id": "C10P18",
          "text": "دعوت یا شہادت کا یہ پیغمبرانہ مشن سفر کرتے ہوئے، اب پندرھویں صدی ہجری (اکیسویں صدی عیسوی ) میں داخل ہوچکا ہے۔ موجودہ زمانہ کو دورِ تعقل (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اب ضروری ہے کہ جدید ذہن (modern mind) کی نسبت سے اس کو عقلی طور پر مدلل صورت میں پیش کیا جائے۔ اس کے بغیر مطلوب معیار پر اس کام کی انجام دہی نہیں ہوسکتی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P19",
          "text": "شہادتِ اعظم"
        },
        {
          "para_id": "C10P20",
          "text": "بعد کے دور میں شہادت کا یہ دعوتی عمل عالمی سطح پر مزید اضافے کے ساتھ انجام پائے گا۔ اس دعوتی واقعے کو حدیث میں شہادت اعظم کہا گیا ہے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دور آئے گا جب کہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ کے اس کام کو حجت (reason) کی سطح پر انجام دینا ضروری ہوگا۔ اس وقت امت کے جو افراد وقت کے استدلالی معیار پر اس دعوتی کام کو انجام دیں گے، وہ اللہ کے یہاں بہت بڑے درجے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس دور میں اللہ کے جو بندے اس کام کو اس کے مطلوب معیار پر انجام دیں گے، ان کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہذا أعظم الناس شہادةً عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں کے اوپر سب سے بڑی شہادت (دعوت) ہوگی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P21",
          "text": "شہادت کے تصور میں تبدیلی"
        },
        {
          "para_id": "C10P22",
          "text": "اسلام کے ابتدائی دور میں شہادت کا یہی تصور تھا جو اوپر بیان کیا گیا۔ اس زمانے میں شہادت کا لفظ گواہی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جہاں تک اللہ کے راستے میں جان دینے کا معاملہ ہے، اس کے لیے معروف لغوی لفظ قتل استعمال ہوتا تھا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:  وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتٌ (2:154)۔ یعنی اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ان کو مردہ مت کہو-اس آیت کے مطابق ، اللہ کے راستے میں جان دینے والے کو مقتول فی سبیل اللہ کہا جائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P23",
          "text": "ایسے شخص کا اجر اللہ کے یہاں بلاشبہ بہت بڑا ہے۔ لیکن انسانی زبان میں اس کا ذکر ہوگا تو اس کو مقتول فی سبیل اللہ کہا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P24",
          "text": "اس جنگ میں صحابہ میں سے ستر آدمی مارے گیے۔ صحیح البخاری میں اس کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے: أنس بن مالک أنہ قال:   قُتِل منہم یوم أحُد سبعون (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4078)۔ یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ احد کے دن اصحابِ رسول میں سے ستر آدمی قتل ہوئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P25",
          "text": "رسول اللہ کے بعد صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسلام میں مستند زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں یہی طریقہ رائج تھا۔ بعد کے زمانے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ جس طرح دوسری تعلیمات میں تبدیلی آئی، اسی طرح شہادت کی اصطلاح میں بھی تبدیلی آئی۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے یہ حال ہوا کہ شہادت بمعنی دعوت کا تصور امت کے ذہن سے حذف ہوگیا۔ اس کے بجائے، شہادت اور شہید کا لفظ جانی قربانی (martyrdom) کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P26",
          "text": "بعد کے زمانے میں یہ رواج عام ہوگیا کہ اس قسم کے افراد کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ شامل کیا جانے لگا۔مثلا حسن البنا شہید، سیدقطب شہید، سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید، وغیرہ۔ اصحابِ رسول میں بہت سے لوگوں کے ساتھ جانی قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا لیکن کسی کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ شامل نہیں کیا گیا۔ مثلا َ عمر بن الخطاب شہید، عثمان بن عفان شہید، علی ابن ابی طالب شہید، سعد بن معاذ شہید، وغیرہ۔ صحابہ کا نام ہمیشہ ان کے آبائی نام کے ساتھ لکھا اور بولا گیا، نہ کہ شہید کے اضافے کے ساتھ۔ جیسا کہ بعد کے زمانے میں رائج ہوا۔ چناں چہ محدث البخاری نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کی کچھ روایات کے اوپریہ باب قائم کیا ہے: باب لا یقول فلان شہید (کتاب الجہاد والسیر)"
        },
        {
          "para_id": "C10P27",
          "text": "یہ سادہ بات نہیں ہے بلکہ اسلام کے ایک اہم اصول پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ لوگوں کو ان کے آبائی نام کے ساتھ پکارا جائے: اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاۗىِٕہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (33:5)یعنی ان کو ان کی آبائی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ نام کے ساتھ شہید یا اس طریقے کے دوسرے الفاظ کا اضافہ کرنا،اشخاص کے بارے میں غیر واقعی ذہن بنانے والا عمل ہے۔ یہ طریقہ اسلامی آداب کے مطابق نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P28",
          "text": "شہادت اور شہید کے معاملے میں یہ غیر اسلامی طریقہ موجودہ زمانے میں اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان تشدد کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کا اصل سبب یہی ہے۔ جو لوگ اس متشددانہ عمل میں ہلاک ہوتے ہیں، ان کو بطور خود شہید اور شہداء کا ٹائٹل دیا جاتا ہے۔ اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مرنے کے بعد فوراً جنت میں داخل ہو گیے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P29",
          "text": "یہ معاملہ اپنی عمومی صورت میں نوآبادیات (colonialism) کے دور میں رائج ہوا۔ اس دور میں مغربی قوموں نے مسلم علاقوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعداس دور کے مسلم مقررین اور محررین کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندرعام طور پر ان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوگیا۔ یہ ردعمل پہلے نفرت کی شکل میں جاری ہوا۔ اس کے بعدبتدریج اس نے تشدد کی صورت اختیار کر لی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P30",
          "text": "اس متشددانہ عمل کو مقدس بنانے کے لیے کہا گیا کہ جو لوگ اس مقابلے میں مارے جائیں، وہ شہید ہوں گے، اور بلا حساب کتاب فورا جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ مسئلہ تھا، جس کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری قوموں کے خلاف اس منفی ردعمل کی آخری تباہ کن صورت وہ ہے جو موجودہ زمانے میں خودکش بمباری (suicide bombing) کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس خودکش بمباری کو مقدس بنانے کے لیے کچھ علماء کی طرف سے غلط طور پراس کو استشہاد (طلبِ شہادت) کا ٹائٹل دے دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P31",
          "text": "اب حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں شہادت کے نام پر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ لیکن شہادت کا اصل کام ، دعوت الی اللہ کو انجام دینے کی تڑپ کسی کے اندر نہیں، نہ مسلم علماء کے اندر، نہ مسلم عوام کے اندر۔ شہادت کے اس خودساختہ تصور کے تحت وہ جن لوگوں پر حملے کرتے ہیں، وہ ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور مدعو کو ہلاک کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P32",
          "text": "سنتِ یہود کی پیروی"
        },
        {
          "para_id": "C10P33",
          "text": "حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امتِ محمدی بعد کے زمانے میں ضرور یہود کی کامل اتباع کرے گی: لتتبعُنَّ سَنَنَ من کان قبلَکم ، شبرًا بشبرٍ وذراعًا بذراعٍ ، حتى لو دخلوا جُحْرَ ضبٍّ تبعتُمُوہم. قلنا : یا رسولَ اللہِ ، الیہودُ والنصارى ؟ قال : فمَنْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر7320)۔ یہ سادہ طورپریہودکی اتباع کا مسئلہ نہیں ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P34",
          "text": "یہ دراصل ایک قانونِ فطرت کا معاملہ ہے، جس کو قرآن میں طول امدکے نتیجے میں قساوت کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ ۭ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ (57:16) یعنی لمبی مدت گزرنے کی بنا پر بعد کی نسلوں میں زوال آنا، اور زوال کی بنا پر ان کے اندر مختلف قسم کے بگاڑ کا پیدا ہوجانا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P35",
          "text": "سنتِ یہود کی پیروی کی سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے جو شہادت (witness) کے معاملے میں واقع ہوئی۔ یہود کو اللہ نے اپنے دین کا گواہ (witness) بنایا تھا۔ اس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے: خداوند فرماتا ہے تم میرے گواہ ہو، اور میرے خادم بھی جسے میں نے منتخب کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ، اور سمجھو کہ میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا  (یسعیاہ، 43:10)"
        },
        {
          "para_id": "C10P36",
          "text": "You are My witnesses, declares the Lord, and My servant whom I have chosen, so that you may know and believe Me and understand that I am He. Before Me no god was formed, nor will there be one after Me. (Isaiah 43:10)"
        },
        {
          "para_id": "C10P37",
          "text": "یہود پربعد کے زمانے میں جب زوال آیا تو انھوں نے خدا کے دین کی گواہی کی اس ذمے داری کو عملاً چھوڑدیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ان کے اندر قومی ذہن پیدا ہوگیا۔ ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوگئی جس کو یہود کی تاریخ میں یہودی احساسِ برتری (Jewish supremacism)کہا جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P38",
          "text": "چناں چہ ان کی دلچسپی تمام تر اپنی قوم تک محدود ہوگئی ، وہ دوسرے انسانوں کے خیرخواہ نہ رہے۔ بلکہ دوسروں کو عمومی طور پر انھوں نے اپنا دشمن سمجھ لیا۔کیوں کہ وہ قوم یہود کی خود ساختہ برتری کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے دینِ خداوندی کی گواہی کے کام کو چھوڑدیا، او ر اس کے بجائے دوسرے قومی کاموں میں مشغول ہوگیے۔ مگر اسی کے ساتھ خود پسندی (self-righteousness)کے جذبہ کی بنا پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ اب بھی اپنے پیغمبر موسیٰ کے بتائے ہوئے دین پر قائم ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P39",
          "text": "یہود کے اس معاملے کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُونَہُ فَنَبَذُوہُ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُونَ ۝  لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ۝(3:187-88)-"
        },
        {
          "para_id": "C10P40",
          "text": "ترجمہ: جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح لوگوں کے لیے ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے۔ مگر انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں ۔ جو لوگ اپنے اس عمل پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بَری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P41",
          "text": "دورِ جدید کے مسلمانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اس معاملے میںکامل طور پر یہود کے متبع بن چکے ہیں۔ انھوں نے دعوت الی اللہ کے کام کو عملاً چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بجائے وہ دوسرے قومی کام انجام دے رہے ہیں، لیکن ان کاموں کو وہ غلط طور پر دعوت کا کام بتاتے ہیں۔ انھوں نے شہادت کے تصور کو بدل کر جانی قربانی (martyrdom) کے معنی میںلے لیا۔ وہ قومی سیاست (communal politics) میں مشغول ہیں۔ اس خودساختہ عمل میں جب ان کے کچھ لوگ مارے جاتے ہیں تو وہ ان کو بطور خود شہید اور شہداء کا ٹائٹل دے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دعوت اور شہادت کا مطلوب کام انجام دے رہے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P42",
          "text": "انسان کوئی کام نفسیاتی محرک کے تحت کرتا ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لیےدوسروں کے ساتھ خیرخواہی کی اسپرٹ ضروری ہے۔ مگر دورِ زوال میں مسلم برتری (Muslim supremacism) کا ذہن جو مسلمانوں میں آیا اس کے نتیجے میں وہ دوسری قوموں کو کم تر اور اپنا حریف سمجھنے لگے۔ اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوموں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ان کے اندر باقی نہ رہا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر اسی قومی نفسیات کے شکار ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P43",
          "text": "یہی سب سے بڑی وجہ ہے، جس نے ان سے دعوت الی اللہ کا جذبہ چھین لیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان بظاہراپنی سرگرمیوں  کو’’نظامِ مصطفیٰ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔لیکن وہ جوکچھ کررہے ہیں، اس کا نظامِ مصطفیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P44",
          "text": "یہ طریقہ عین اسی طریقے کی اتباع ہے جس کو قرآن میں زوال یافتہ یہود کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یعنی  یُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا(3:188)- قرآن کے یہ الفاظ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر پوری طرح صادق آرہے ہیں۔ وہ اپنی قومی سرگرمیوں پر دعوت اور شہادت کا ٹائٹل لینا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ کے قانون کے مطابق ایسا کبھی ہونے والانہیں۔ اس قسم کی روش بلاشبہ قابلِ مواخذہ ہے نہ کہ قابلِ انعام۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P45",
          "text": "خود کش حملہ"
        },
        {
          "para_id": "C10P46",
          "text": "موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندران کی زوال یافتہ قومی نفسیات کے تحت ایک ایسا ظاہرہ پیدا ہوا ہے جو غالباً تحلیلِ حرام (یسمّونہا بغیر اسمہا فیستحلونہا:سنن الدارمی،حدیث نمبر2145) کی سنگین ترین صورت ہے، اور وہ ہے خودکش بمباری (suicide bombing)۔ یعنی مفروضہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے آپ کو بم سے اڑا دینا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P47",
          "text": "یہ طریقہ بلاشبہ نص شرعی کے مطابق ایک حرام فعل ہے۔ کچھ علماء نےبطورِ خود، خود کش بمباری کے اس فعل کو استشہاد (طلبِ شہادت) کہہ کر جائز قرار دیا ہے۔ مگر اس قسم کا استدلال گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی خود ساختہ فتویٰ خودکش بمباری جیسے صراحتاً ناجائز فعل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P48",
          "text": "ایک حدیث اس معاملے میں قطعی حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے، مثلا صحیح البخاری (حدیث نمبر3062)، صحیح مسلم (حدیث نمبر 112)، مسندامام احمد (حدیث نمبر8090) ، وغیرہ۔ ان مختلف روایتوں کے الفاظ تقریباً یکساں ہیں۔روایت کے مطابق، صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو ایمان لاچکا تھا۔ اس کا نام قزمان تھا۔ جنگ ہوئی تو یہ شخص شدید طور پر لڑا۔ لوگ اس کی بہادری کی تعریف کرنے لگے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کہا کہ وہ اہل جہنم میں سے ہے(إنّہ من أہل النّارِ)۔ لوگوں کو آپ کے اس قول پر یقین نہیں ہوا۔ آپ نے کہا کہ جاکر اس کی تحقیق کرو۔ جب لوگوں نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جنگ میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا تھا۔پھر زخموں کی تاب نہ لاکر اس نے اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے ہلاک کرلیا( فقَتل نفْسہ)۔ اس کے بعد آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایاکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P49",
          "text": "یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام میں خودکشی مطلق حرام کی حیثیت رکھتی ہے۔حتی کہ کوئی شخص بظاہر پیغمبر کا ساتھی ہو، اور وہ غزوہ میں لڑ کر بہادری دکھائے لیکن آخر میں وہ اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے مارکر اپنا خاتمہ کرلے تب بھی اس خودکشی کی بنا پر اس کی موت، حرام موت قرار پائے گی۔ کسی بھی عذرکی بنا پر اس کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P50",
          "text": "اگر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے، اور وہ لڑتے ہوئے مارے جائیں تو یہ جائز ہے۔ لیکن قصداً اپنے جسم کے ساتھ بم باندھنا، اور مفروضہ دشمنوں کے درمیان جاکر بم کا دھماکا کر دینا، جس میں وہ آدمی خود بھی مرے، اور دوسرے بھی مارے جائیں۔ یہ طریقہ صراحتاً خود کشی کا طریقہ ہے، اور وہ یقینی طور پراسلام میں ناجائز ہے۔ اہل ایمان کے لیے حملے کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے۔ اور اگر وہ مقابلہ کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں تو اس کے بعد ان کے لیے کرنے کا جو کام ہے، وہ صبر ہے، نہ کہ خود کش حملہ۔ مگراس معاملے میں موجودہ مسلمانوں کا آبسیشن (obsession) اتنا بڑھا ہوا ہے کہ کوئی اس پر سوچنے کے لیے تیار نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P51",
          "text": "بے فائدہ جنگ"
        },
        {
          "para_id": "C10P52",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لا تذہب الدنیا، حتى یأتی على الناس یوم لا یدری القاتل فیم قَتَل، ولا المقتول فیم قُتِل۔ فقیل: کیف یکون ذلک؟ قال: الہرج، القاتل والمقتول فی النار(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2908) ۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، دنیا ختم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا، جب کہ قاتل یہ نہیں جانے گا کہ اس نے کیوں قتل کیا، اور مقتول یہ نہیں جانے گا کہ اس کو کیوں قتل کیا گیا۔کہا گیا کہ ایسا کیوں کر ہوگا۔آپ نے فرمایا کہ ایسا ہرج (بے معنی قتل وقتال)کے زمانے میں ہوگا۔ قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P53",
          "text": "ہرج کا مطلب شارحین حدیث نےبتایا ہے :شدۃ القتل و کثرتہ (عمدۃ القاری،جلد نمبر7،صفحہ نمبر58)۔یعنی قتل و قتال کی شدت اور کثرت۔اس قسم کے مجنونانہ قتل وقتال کی صورت کسی گروہ میں کب پیش آتی ہے ۔جب وہ گروہ قوم پرستی میں دوسروں کے خلاف اندھی دشمنی تک پہنچ جائے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال ہے۔ ان کے اندر آخری حد تک یہ ذہن پیدا ہوگیا ہے کہ انھوں نےقومی حمایت میں دوسروں کو اپنا ابدی دشمن سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دوسری قومیں ان کے خلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتی ہیں۔ اس خود ساختہ سوچ کی بنا پردوسری قوموں کے خلاف ان کے دل میں جنون کی حد تک نفرت اور تشدد کا جذبہ پیدا ہوگیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر تشدد (violence) کا جو انتہاپسندانہ ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ وہ نہ صرف دوسری قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوگئے ہیں،بلکہ خود ان مسلمانوں کے خلاف بھی ، جن کے بارے میں وہ یہ فرض کرلیں کہ وہ ان کے دشمنوں کے حامی ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P54",
          "text": "موجودہ زمانے میں یہ حال ہے کہ مسلمانوں کے مختلف ٹیررسٹ (terrorist) گروپ بن گیے ہیں۔ وہ مختلف مقامات پر قتل و قتال کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں،حتی کہ اسکول کے بچوں، مسجد کے نمازیوں، اور قبرستان کے سوگوار افراد پر بھی۔ قتل و قتال کا یہ اَن جسٹیفائڈ (unjustified) ہنگامہ اتنا زیادہ ہے، جیسے کہ ان لوگوںنے قتال برائے قتال کو خود ایک مطلوب کام سمجھ لیا ہے۔ خواہ اس کے لیے ان کے پاس کوئی معقول سبب (justified reason)موجود نہ ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P55",
          "text": "مسئلہ کا حل"
        },
        {
          "para_id": "C10P56",
          "text": "امت مسلمہ کے اندر یہ جو سخت نامحمود صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، اس کا حل صرف یہ ہے کہ ان کو صحیح آئڈیالوجی دی جائے۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں غلط آئڈیالوجی کے شکار ہیں۔ اس کی اصلاح صرف اس طرح ہوسکتی ہے کہ ان کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر درست آئڈیالوجی سے واقف کرایا جائے۔اس سے کم درجے کی کوئی چیز اس صورتِ حال کی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P57",
          "text": "مثلاً ان لوگوں کو اس فطری حقیقت سے باخبر کرنا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:  وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ۝ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ۝ وَإِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۝ (41:34-36)۔  اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں ، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P58",
          "text": "قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں کے درمیان جو تفریق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ ہمارے دوست ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن ۔ بلکہ صحیح تفریق یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمارے واقعی دوست (actual friends) ہیں، اور کچھ لوگ ہمارے امکانی دوست (potential friends)۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P59",
          "text": "اس کے مطابق اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنا دشمن نہ سمجھیں، بلکہ بلاتفریق ہر ایک کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں— یہی دعوہ اسپرٹ ہے، اور اسی کا نام دعوت الی اللہ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P60",
          "text": "اسی طرح ان لوگوں کو قرآن کی وہ آیت یاددلاناہے، جس میں قتل کی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا (5:32)۔جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P61",
          "text": "اسی طرح ان لوگوں کو یہ بتانا کہ مسلمان کا مسلمان کو مارنا قرآن کے مطابق ایک جہنمی فعل ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا (4:93)۔ اور جو شخص کسی مومن کو جان کر قتل کرے تو اس کی سزاجہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P62",
          "text": "پیغمبر ِ اسلام کی آخری وصیت"
        },
        {
          "para_id": "C10P63",
          "text": "آج شدید ضرورت ہے کہ پیغمبر اسلام کے اس انتباہ کو تمام دنیا کے مسلمانوں کو یاد دلایا جائے جو آپ نے اپنے آخری زمانے میں حجۃ الوداع کے موقع پردیا تھا۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق اس کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم خطب الناس یوم النحر فقال: یا أیہا الناس أی یوم ہذا؟، قالوا: یوم حرام، قال: فأی بلد ہذا؟، قالوا: بلد حرام، قال: فأی شہر ہذا؟، قالوا: شہر حرام ، قال: فإن دماءکم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام، کحرمة یومکم ہذا، فی بلدکم ہذا، فی شہرکم ہذا، فأعادہا مرارا، ثم رفع رأسہ فقال:  اللہم ہل بلغت، اللہم ہل بلغت - قال ابن عباس رضی اللہ عنہما: فوالذی نفسی بیدہ، إنہا لوصیتہ إلى أمتہ، فلیبلغ الشاہد الغائب، لا ترجعوا بعدی کفارا، یضرب بعضکم رقاب بعض  (صحیح البخاری، حدیث نمبر1739)۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P64",
          "text": "ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو لوگوں کے سامنے ایک خطبہ دیا۔ آپ نے کہا کہ اے لوگو، آج کون سا د ن ہے- لوگوں نے کہا کہ یہ یومِ حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے- لوگوں نے کہا کہ یہ شہر حرام ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے- لوگوں نے کہا کہ یہ حرام کا مہینہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سن لو کہ تمھارا خون، تمھارے مال ، اور تمھاری عزت تمھارے اوپر حرام ہے، جیسا کہ آج کا دن حرام کا دن ہے، اور تمھارے اس شہر میں، اور تمھارے اس مہینے میں۔ آپ نے یہ کلمات بار بار فرمائے۔ پھر آپ نے سر اٹھایا، اور فرمایا کہ اے اللہ کیا میں نے پہنچادیا، اے اللہ، کیا میں نے پہنچادیا ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک یہ آپ کی وصیت ہے اپنی امت کے لیے، پس جو حاضر ہے وہ ان کو پہنچادے جو حاضر نہیں ہے، ( پھرابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ذکر کیا) تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجا نا کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P65",
          "text": "امت کے لیے کرنے کا کام"
        },
        {
          "para_id": "C10P66",
          "text": "موجودہ زمانے میں امت مسلمہ عام طور پر منفی ذہن میںمبتلا ہوگئی ہے۔ یہ صرف ان کی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پرہے۔ اپنی منفی سوچ کے تحت وہ دوسری قوموں کو اپنے دشمن کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں۔ کچھ لوگوں کے اندر یہ مزاج سوچ کی حدتک ہے، اور کچھ لوگ اپنی اس سوچ کے تحت قتل و قتال میں مشغول ہیں۔ یہ بلاشبہ وہی خطرناک علامت ہے، جس کی طرف احادیث میں پیشگی طور پر باخبر کیا گیا تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P67",
          "text": "آج فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے افراد اپنے اندر مثبت ذہن (positive thinking) پیدا کریں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھنے کا مزاج کلی طور پر ختم کردیں۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے کہ ان کی حیثیت ایک قوم کی نہیں ہے، بلکہ ایک اصولی گروہ کی ہے۔ ان کا مشن صرف ایک ہے، اور وہ پرامن دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کو انھیںیک طرفہ خیرخواہی کے تحت انجام دینا ہے۔ اگر دوسرے لوگ ان کے خیال کے مطابق ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کریں تب بھی انھیں اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئےیک طرفہ طور پر لوگوں کا خیرخواہ بننا ہے، اور ان کو اللہ کا وہ پیغام پہنچا نا ہے جو ان کے پاس قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا عمل ان کو آخرت کی پکڑ سے بچانے والا نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P68",
          "text": "اسلام کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے درمیان جو متشددانہ سرگرمیاں جاری ہوئیں، ان پر اب ایک صدی سے زیادہ مدت گزرچکی ہے۔ لیکن ان کی یہ سرگرمیاں ہر محاذ پر نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہوگئیں۔ وہ مسلمانوں کے حق میں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive)ثابت ہوئیں۔ ان متشددانہ سرگرمیوں کا یہ منفی انجام بتاتا ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کو اللہ کی مدد حاصل نہیں۔ اگر اس معاملے میںان کو اللہ کی مدد ملتی تو وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی سرگرمیوں پر نظر ثانی کریں۔ وہ تشدد کا طریقہ یک لخت چھوڑ دیں، اورپر امن دعوتی عمل (peaceful dawah work) میں مصروف ہوجائیں۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جو مسلمانوں کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنا سکتا ہے۔ (یہ مضمون کتابچہ کی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے)"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C11",
      "chapter_title": "قرآن کتاب ِتدبر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C11P01",
          "text": "قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: کِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰہُ إِلَیْکَ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا۟ ءَایَٰتِہِۦ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُوا ٱلْأَلْبَٰبِ.(38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں-"
        },
        {
          "para_id": "C11P02",
          "text": "اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبر کے ساتھ کرے- صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہوسکتا- مزید یہ کہ تدبر کے لیے تیارذہن (prepared mind) درکار ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P03",
          "text": "جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طورپر سمجھ سکے گا- اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ( 2:282) ہے- متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے-سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا-"
        },
        {
          "para_id": "C11P04",
          "text": "قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہیٰ- ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں- مثلاً سمع اور بصر وغیرہ- حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں،کچھ آیتیں براہِ راست طورپر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طورپر-"
        },
        {
          "para_id": "C11P05",
          "text": "مثلاً  إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ( 13:19) اور  إِنَّ فِى ذَٰلِکَ لَآیَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلنُّہَىٰ. (20:54)جیسی آیتوں میں براہِ راست طورپر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام سمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P06",
          "text": "جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P07",
          "text": "اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کرکے وسوسہ کو دریافت کرے- اِس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P08",
          "text": "یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے- مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)- غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غوروفکر کے ذریعہ ممکن ہے- اسی طرح، مثلاً قرآن میںحج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ( 2:197)-"
        },
        {
          "para_id": "C11P09",
          "text": "یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق- اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P10",
          "text": "اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-"
        },
        {
          "para_id": "C11P11",
          "text": "قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو عقل کا استعمال کرکے جاننے کی کوشش کی جائے-"
        },
        {
          "para_id": "C11P12",
          "text": "قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن معروف معنوں میں کوئی فقہی کتاب یا قانون کتاب نہیں ہے- قرآن میں کہیں بھی وہ اسلوب استعمال نہیں کیا گیا ہے جو فقہ کی کتابوں یا قانونی کی کتابوں میں اختیار کیا جاتا ہے- قرآن کے اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن وزڈم کی کتاب (book of wisdom) ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C12",
      "chapter_title": "گلوبل کمیونی کیشن کا دَور",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C12P01",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے جب کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالی نے یہ حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمھارے پاس آئیں گے پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیںگے ( 22:27) اس سلسلے میں ایک روایت آئی ہے- اس کے مطابق حضرت ابراہیم نے کہا کہ یا رب کیف أبلّغ الناس وصوتی لا ینفذہم فقال نادِ وعلینا البلاغ (تفسیر ابن کثیر: 3/216) یعنی اے میرے رب، میں اپنی آواز لوگوں تک کیسے پہنچاؤں گا، اور میری آواز ان تک پہنچنے والی نہیں ہے- اللہ نے فرمایا کہ تم پکارو، پہنچانا ہمارے ذمہ ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C12P02",
          "text": "کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد حضرت ابراہیم نے آواز دی- لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی آواز باہر کے لوگوں تک نہیں پہنچی- پھر اس کا مطلب کیا ہے-یہ بات حال کی خبر کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ مستقبل کے امکان کے معنی میں ہے-اس روایت میں دراصل اللہ کے ایک منصوبے (divine plan)کو بتایا گیا ہے- وہ یہ کہ حضرت ابراہیم اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانی تاریخ میں ایک عمل (process)جاری ہوگا- اس عمل کی تکمیل پر یہ واقعہ ہوگا کہ اللہ کا ایک بندہ مکہ میں یا کسی دوسرے مقام پر اللہ کی بات کہے گا اور اس کی بات بطور واقعہ ہر جگہ پہنچ جائے گی- یہ دور تاریخ میں آیا- اسی دور کو ابلاغ کا دور (age of communication) کہاجاتاہے- حضرت ابراہیم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالی کی خصوصی مدد سے، ایسے حالات پیداہوئے جن کے نتیجے میں انسان نے نئی نئی دریافتیں کیں اور آخر کار وہ دور وجود میں آگیا جس کو کمیونیکیشن کا دور کہا جاتا ہے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں صرف یہ ممکن ہوتا تھاکہ انسان اپنی زبان سے بولے اور اس کے قریب میں جو لوگ ہیں، اس کی آواز کو سنیں، لیکن اب ٹیکنالوجی کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان ایک مقام پر بولے اور عین اسی وقت پورے گلوب پر بسے ہوئے لوگ اس کی آواز بھی سنیں اور اس کی تصویر بھی دیکھیں- یہ نیا دور اللہ کی توفیق سے وجود میں آیا اور اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اس کو خدائی مشن کے لیے استعمال کیا جائے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C13",
      "chapter_title": "قرآن کی حفاظت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C13P01",
          "text": "قرآن کی کچھ آیتیں وہ ہیں جن کو احکام کی آیتیں کہاجاتا ہے- قرآن کی آیتوں کا دوسرا حصہ وہ ہے، جن کو حکمت (wisdom)کی آیات کہنا درست ہوگا- یہ حکمت کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے- اس سے مراد فطری حکمت (natural wisdom) ہے، یعنی حکمت کے وہ اصول جن پر دنیا کا نظام قائم ہے، اور جن کی پیروی کرکے کوئی انسان، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرسکتا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C13P02",
          "text": "قرآن واحد محفوظ الہامی کتاب ہے- اس حقیقت کا اظہار قرآن میں پیشگی طورپر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی یہ یاد دہانی (کتاب) ہم نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C13P03",
          "text": "قرآن کی حفاظت کا یہ کام ثابت شدہ تاریخ کے مطابق چار ادوار (periods) میں انجام پایا- پہلے دور میں یہ کام زیادہ تر حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوا- دوسرے دور میں حفاظت ِ قرآن کا یہ کام تحریر (writing) کے ذریعہ انجام پایا- لوگوں نے بڑی تعداد میں یہ کیا کہ حفظ قرآن کے ساتھ وہ جزئی یا کلی طورپر قرآن لکھتے رہے- کتابت کا یہ کام قدیم زمانے کی دستیاب چیزوں پر ہوتا رہا جن میں قدیم طرز کا کاغذ (قرطاس) بھی شامل ہے- اس کے بعد پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا-"
        },
        {
          "para_id": "C13P04",
          "text": "انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس ساری دنیا میں عام ہوگیا- اس کے بعد قرآن مطابع میں چھاپا جانے لگا- اس کے مجلد نسخے بڑی تعداد میں تیار کیے گئے- یہ مطبوعہ نسخے ہر جگہ پھیل گئے- اس کے بعد ٹکنالوجی کا زمانہ آیا، اور اب انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون پر پورا قرآن، تحریر اور آواز دونوں صورتوں میں محفوظ ہوچکا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C13P05",
          "text": "ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا، اس وقت پورے ملک عرب کی زبان عربی تھی- لیکن دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان کا بھی یہ حال تھا کہ مختلف علاقوں کے عرب قبیلے مختلف لہجے میں عربی بولتے تھے- اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام جب پورے عرب میں پھیل گیا تو ہرایک کا قرآن باعتبار متن ایک ہی قرآن تھا، لیکن قرآن کو پڑھنے کا لہجہ سب کا ایک نہ تھا- اس وقت لوگوں کی سہولت کے لیے یہ کہا گیا کہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے- اس کا مطلب یہ نہیں کہ باعتبار نزول قرآن کے سات لہجے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اپنے لہجے کے اعتبار سے قرآن کے پڑھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں، یہ ایک عملی بات تھی نہ کہ کوئی نظری بات-"
        },
        {
          "para_id": "C13P06",
          "text": "قرآن کے متن (text)کی حفاظت کے لیے صحابہ نے آخری انتہائی طریقہ اختیار کیا- مثلاً خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے حکم سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو کاغذ پر لکھ کر اس کا مصحف تیار کیا جس کو رَبعہ کہاجاتا تھا- یہ کام انھوں نے ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کے اصول پر کیا، یعنی لکھے ہوئے کو حفظ سے چیک کرنا، اور حفظ کو لکھے ہوئے سے چیک کرنا- اس طرح جو کاغذی نسخہ (ربعہ) تیار ہوا اس کو خلیفہ اول کے حکم سے رسول اللہ کی زوجہ حفصہ کے گھر پر رکھ دیا گیا-"
        },
        {
          "para_id": "C13P07",
          "text": "ایک مصحف (رَبعہ) کی صورت میں لکھے جانے سے پہلے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزا مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے موجود تھے- مستند مصحف تیار ہونے کے بعد خلیفہ اول کے حکم سے اور تمام صحابہ کی رائے سے یہ کیاگیا کہ ان تمام مختلف اجزا کو جلا دیاگیا-حرق مصحف کا یہی واقعہ دوسری بار خلیفہ ثالث حضرت عثمان کے زمانہ میں پیش آیا- اس مدت میں لوگوں نے بطور خود جزئی یا کلی طورپر مصاحف لکھ لیے تھے-"
        },
        {
          "para_id": "C13P08",
          "text": "ان مصاحف میں ان کے قبائل کی قرأت کا اسلوب شامل ہوگیا تھا- حضرت عثمان نے یہ کیا کہ زید بن ثابت انصاری کی قیادت میں صحابہ کی ایک کمیٹی بنائی- پھر انھوں نے حضرت حفصہ کے پاس جومصحف صدیقی محفوظ تھا اس کو منگوایا، اور صحابہ سے کہا کہ اس کی نقلیں تیار کرو- اس طرح مصحف صدیقی کی سات نقلیں تیار کی گئیں- پھر خلیفہ کے حکم سے ان نقلوں کو مدینہ اور دوسرے شہروں کی مسجدوں میں رکھوا دیا گیا- اس کے بعد حضرت عثمان نے مزید اہتمام یہ کیا کہ لوگوں نے بطور خود قرآن کے جو تحریری نسخے تیار کیے ـتھے، ان کو جمع کروایا اور پھر صحابہ کے اتفاق رائے سے ان تمام مصاحف کو جلا دیاگیا- یہ کام بہت جرأت کا طالب تھا-"
        },
        {
          "para_id": "C13P09",
          "text": "لیکن حضرت عثمان نے صحابہ کی رائے سے یہ جرأت مندانہ اقدام کیا- بعد کو جب خلیفہ ثالث کے خلاف کچھ شورش پسندوں نے ہنگامہ کیا، یہاں تک کہ ان کو قتل کردیاگیا، اس وقت شورش پسندوں نے خلیفہ ثالث کو بدنام کرنے کے لیے جو باتیں کہی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے خلیفہ ثالث کو حرّاق المصاحف قرار دیا تھا، یعنی قرآن کو جلانے والا- (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، خطبة الکتاب، ص: 54)"
        },
        {
          "para_id": "C13P10",
          "text": "قرآن کی تاریخ اور اس کی تدوین پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ قرآن اگر چہ قدیم زمانہ میں اترا، لیکن اس کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدام کیا گیا، حتی کہ سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C14",
      "chapter_title": "امت کا زوال",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C14P01",
          "text": "ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- سنن ابی داؤدکے الفاظ یہ ہیں: إنَّ أوَّلَ ما دخلَ النَّقصُ علَى بَنی إسرائیلَ کانَ الرَّجلُ یَلقى الرَّجلَ فیقولُ یا ہذا اتَّقِ اللَّہَ ودَع ما تصنَعُ فإنَّہُ لا یحلُّ لَکَ ثمَّ یَلقاہُ منَ الغَدِ فلا یمنعُہُ ذلِکَ أن یَکونَ أکیلَہُ وشریبَہُ وقعیدَہُ فلمَّا فعلوا ذلِکَ ضربَ اللَّہُ قلوبَ بعضِہِم ببعضٍ ثمَّ قالَ لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَى ابْنِ مَرْیَمَ إلى قولِہِ فَاسِقُونَ ثمَّ قالَ کلَّا واللَّہِ لتأمُرُنَّ بالمعروفِ ولتَنہَوُنَّ عنِ المنکَرِ ولتأخُذُنَّ علَى یدَیِ الظَّالمِ ولتَأطرُنَّہُ علَى الحقِّ أطرًا ولتقصرُنَّہُ علَى الحقِّ قصرًا(ابو داؤد: 4336)"
        },
        {
          "para_id": "C14P02",
          "text": "ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے اندر جو پہلا نقص آیا، وہ یہ تھا کہ ان کا ایک شخص اپنی قوم کے دوسرے شخص سے ملتا اور اُس سے کہتا کہ اے شخص، خدا سے ڈر اور جو کچھ تم کررہے ہو، اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ ایسا کرنا تمھارے لیے جائز نہیں- پھر وہ اگلے دن اُس شخص سے ملتا(اور وہ دیکھتا کہ وہ اپنی روش سے باز نہیں آیا ہے)- مگر یہ چیز اُس کو اِس سے نہ روکتی کہ وہ اس کے ساتھ کھانے اور پینے اور بیٹھنے میں اس کا شریک بنے- جب انھوں نے ایسا کیا تو اللہ نے ایک کے دل کو دوسرے کے دل جیسا کردیا- پھر آپ نے سورہ المائدة (سورہ نمبر 5)کی آیت78 تا 81  پڑھی-پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم، تم ضرور لوگوں کو معروف کا حکم دوگے، اور تم ضرور لوگوں کو منکر سے روکو گے، اور تم ضرور ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور تم اس کو ضرور حق کی طرف موڑ دوگے-"
        },
        {
          "para_id": "C14P03",
          "text": "یہ حدیث اصلاً یہود کی شکایت کے طورپر نہیں ہے، بلکہ وہ امت مسلمہ کی نصیحت کے طورپر ہے- اس حدیث میں امتوں کے بارے میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیاہے، اور وہ یہ کہ جب امت کی بعد کی نسلوں میں زوال آتا ہے تو ان کا کیا حال ہوتاہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی زوال کے ظاہرے کی نشاندہی فرمائی ہے، اور امت کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ اس وقت انھیں کیا کرنا چاہئے- غور کیجئے تو یہ حدیث مسلمانوں کے آج کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C15",
      "chapter_title": "نسخ کیا ہے",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C15P01",
          "text": "قرآن کی سورہ البقرة کی ایک آیت یہ ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا  ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر(2:106) یعنی ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیںیا بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری لاتے ہیں- کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C15P02",
          "text": "قرآن کی اِس آیت میں نسخ سے مراد الغاء (to abolish) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہٹانا (replacement) ہے- آیت میں اس عمل کو بظاہر اللہ کی طرف منسوب کیا گیاہے، لیکن یہ اسلوب کی بات ہے- اس سے مراد حقیقتاً اجتہاد کا عمل ہے، جس کو متقی اہل علم انجام دیتے ہیں- خیر سے مراد اچھا (better)نہیں ہے بلکہ اس سے مراد انسانی حالات کے اعتبار سے زیادہ قابلِ تطبیق (more applicable) ہونا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C15P03",
          "text": "قرآن کے مطابق، اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی (33:23)- مگر انسان ایک آزاد مخلوق ہے، اس بنا پر انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں- حالات کی اس تبدیلی کی بنا پر ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کے کسی حکم کو مطابقِ حالات بنانے کے لیے اس کو ری ڈیفائن (redefine)کیا جائے یا حالات کے مطابق اس کی نئی تفسیر (re-interpretation) کیا جائے- یہی وہ فطری ضرورت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میںنسخ سے تعبیر کیا گیا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C15P04",
          "text": "اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی کچھ آیتوں میںاہل ایمان کو قتال (war) کا حکم دیا گیا ہے- یہ حکم توحید کی طرح ابدی حکمکے معنی میں نہ تھا، بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب تھا- اب حالات مکمل طورپر بدل گئے ہیں- قدیم دور اگر جنگ کا دور تھا تو اب دنیا میں امن کا دور آچکا ہے، اب اسلام کے مقصود کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں- اس لیے اب قتال کی آیت کی تشریح نو (re-interpretation) کی جائے گی، اور یہ نئی تشریح بلا شبہہ قرآن کے مطابق قرار پائے گی-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C16",
      "chapter_title": "عورت اور مرد کا تعلق",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C16P01",
          "text": "جدید دور میں ایک نظریہ بہت زیادہ عام ہے، وہ ہے صنفی مساوات (gender equality) کا نظریہ- اس نظریہ کو دور جدید کی بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے- مگر یہ نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے- فطرت کے قانون کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان فرق پایا جاتا ہے- پیدائشی طورپر ہر عورت مس ڈِفرنٹ (Ms. Different) ہے، اور ہر مرد مسٹرڈِفرنٹ (Mr. Different)  -"
        },
        {
          "para_id": "C16P02",
          "text": "عورت اور مرد کے درمیان یہ فرق ایک گہری حکمت پر مبنی ہے- اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ دونوں اپنے اپنے اعتبار سے ایک دوسرے کے مشیر (adviser) بنیں-حقیقت یہ ہے کہ فطر ت کے نظام کے مطابق صنفی حصے داری (gender partnership) کا نظریہ زیادہ درست نظریہ ہے، نہ کہ صنفی برابری کا نظریہ-انسان کی زندگی مسائل (problems)کا مجموعہ ہے- یہ مسائل ہمیشہ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں- اس لیے بار بار یہ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے دو ساتھیوں میں دو مختلف صفات ہوں تاکہ ہر مسئلہ کو منیج (manage)کیا جاسکے- ہر ایک اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق مسائل حیات کے حل میں اپنا اپنا حصہ اداکرسکے- ایک شریک حیات ایک اعتبار سے اپنا حصہ اداکرے، اور دوسرا شریک حیات دوسرے اعتبار سے:"
        },
        {
          "para_id": "C16P03",
          "text": "There must be a partner who can deal with the problem differently."
        },
        {
          "para_id": "C16P04",
          "text": "فطرت کے نظام میں یکسانیت (uniformity)موجود نہیں، اس لیے اگر عورت اور مرد کےتعلق کو یکسانیت کے اصول پر قائم کیا جائے تو ہمیشہ جھگڑا ہوتا رہے گا- ہر ایک ذمے داری کو دوسرے فریق کے اوپر ڈالے گا، اور پھر نزاع کبھی ختم نہ ہوگا- اس کے برعکس، صنفی حصے داری کے اصول کو اختیار کرنے کی وجہ سے بلا اعلان تقسیم کار (division of labour) کا طریقہ رائج ہوجائے گا- دونوں خود اپنے فطری تقاضے (natural urge) کے تحت اپنے اپنے دائرے میں مصروف کار رہیں گے- ایک دوسرے سے الجھنے کا طریقہ ختم ہوجائے گا- اور ایک دوسرےسے معاونت کا طریقہ رائج ہوجائے گا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C17",
      "chapter_title": "دفاع یا دعوت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C17P01",
          "text": "سرولیم میور(William Muir)ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز تھا، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا- سرولیم میور نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ’’لائف آف محمد‘‘(The Life of Mahomet)تھا- یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع ہوئی-"
        },
        {
          "para_id": "C17P02",
          "text": "علماء کے نزدیک یہ کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ’’زہر‘‘ پھیلانے والی کتاب تھی- لوگ مصنف کو دشمن اسلام قرار دے کر اس کے سخت خلاف ہوگئے- سرسید احمد خاں کو اس پر غصہ آیا، انھوں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کروایا، پھر اس کے خلاف اردو زبان میں ایک کتاب لکھی، جو خطبات احمدیہ کے نام سے شائع ہوئی-"
        },
        {
          "para_id": "C17P03",
          "text": "اس طرح کے کام کو دفاع اسلام کا عنوان دے کر بہت اہم کام سمجھاجاتا ہے، مگر یہ طریقہ سنت کے مطابق نہیں- سنت ِ رسول کے مطابق اصل کرنے کاکام دعوت اسلام ہے، نہ کہ دفاع اسلام- یعنی مصنف کے لئے دعا کرنا، اس سے مل کر اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا- اس موضوع پر مثبت انداز میں تعارفی کتاب تیار کرکے چھاپنا- انگریزوں میں اور دوسرے لوگوں میں پر امن دعوتی مشن جاری کرنا- سنت رسول کے مطابق یہی کرنے کا اصل کام ہے- مگر یہ اصل کام نہ سرسید احمد خاں نے کیا، اور نہ علماء نے-"
        },
        {
          "para_id": "C17P04",
          "text": "سنت ِ رسول کے مطابق اسلام کا اصل مشن یہ نہیںہےکہ مفروضہ دشمنان اسلام کے خلاف مناظرانہ انداز میں تقریریں کی جائیں، جوابی انداز میں کتابیں شائع کی جائیں، یہ سب رد عمل (reaction) کے طریقے ہیں، اور رد عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں- اس قسم کے حامیان اسلام کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے غور کرنا چاہئے، یعنی انھیں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ ان کی جوابی کوششوں کا مثبت نتیجہ کیا ہوا، باعتبار نتیجہ اس سے اسلام کو فروغ ہوا یا نفرت کو فروغ ہوا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C18",
      "chapter_title": "قرآن وسنت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C18P01",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور آخر کی ایک حدیث ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال: ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ وسنة نبیہ (مؤطا  امام مالک: 1874) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھارے درمیان دوچیزیں چھوڑی ہیں، تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہوگے، وہ دو چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت-یہ حدیث اس معیار (criterion)کو بتاتی ہے جس کی روشنی میں بعد کے زمانے کے مسلمانوں کو جانچ کر یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ صراط مستقیم پر قائم ہیں یا وہ اس سے ہٹ گئےہیں- اس معاملے کا یہی واحد معیار ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا معیار اس معاملے میں درست نہیں-اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے درمیان پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference)قرآن وسنت ہو تو وہ ہدایت پر ہیں، اور جب ان کے درمیان پوائنٹ آف ریفرنس کچھ اور ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر قائم نہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C18P02",
          "text": "جب مسلمانوں کی کتابیں قرآن وسنت پر مبنی ہوں، جب ان کی مجلسوں میں قرآن وسنت کا چرچا ہو، جب وہ ہر معاملے میں قرآن وسنت سے رہنمائی لیتے ہوں، جب ان کا یہ حال ہو کہ وہ قرآن وسنت کے نام پر بولیں اور قرآن وسنت کے نام پر چپ ہوجائیں، تب سمجھنا چاہئے کہ وہ ہدایت پر ہیں اور جب ایسا نہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہدایت سے بھٹک گیےہیں-تاہم قرآن وسنت سے ہٹنے کی ایک اور صورت ہے، جو قرآن وسنت کا نام لینے کے باوجود باقی رہتی ہے، اوریہ وہی ہے جس کو حدیث میں تفسیر بالرائے کہاگیا ہے- تفسیر بالرائے کا مطلب ہے قرآن وسنت کی غلط تعبیر (misinterpretation) - غلط تعبیر وتشریح کا یہ امکان ہمیشہ باقی رہےگا- انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی دی گئی ہے- انسان جس طرح دوسری باتوں کے لیے آزاد ہے، اسی طرح وہ قرآن وحدیث کی غلط تشریح کے لیے بھی آزاد ہے، اس برائی سے بچنے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقوی ہے- تقوی انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ و ہ قرآن وحدیث کی خودساختہ تشریح کرے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C19",
      "chapter_title": "بدترازحیوان",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C19P01",
          "text": "قرآن کی سورہ الانفال میں ایک غیر مطلوب انسانی کردار کا ذکر ہے- آیت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ (8:22) قرآن کی اس آیت سے مراد کوئی مخصوص قوم نہیں ہے- اس سے مراد وہ افراد ہیں جو اس صفت کا مصداق ہوں- قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو : ان کے پاس عقل ہے جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں- وہ ایسے ہیں جیسے حیوان، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ، یہی لوگ غافل ہیں (8:179)-حق کے مقابلے میں اس منفی روش کا سبب، عام طورپر بالقصد انکار نہیںہوتا بلکہ اس کا سبب غفلت یا بے توجہی (negligence)ہوتا ہے- جب حق کی بات بتائی جائے تو ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم ہونے کی بنا پر اس کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے، وہ نہ اس کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں، اور نہ اہمیت کے ساتھ اس پر غور کرتے ہیں- وہ اس سے بے اعتنائی برت کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں- قرآن کے الفاظ میں وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ انھوں نے سنا ہی نہیں ( 45:8)-"
        },
        {
          "para_id": "C19P02",
          "text": "اصل یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کے لحاظ سے بطور خود کسی چیز کو اہم سمجھ لیتا ہے، اور کسی چیز کو غیراہم، وہ کسی چیز کو قابل غور سمجھتا ہے، اور اس کی نظر میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو قابل غور ہی نہیں- جن لوگوں کا یہ مزاج ہو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے باہر کسی بات کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ اس پر غور کریں- وہ اپنے سے باہر کسی بات کے بارے میں ایسی روش اختیار کرتے ہیں جیسے کہ انھوں نے اس کو سنا ہی نہیں- ان کے پاس عقل ہوتی ہے لیکن وہ اپنی عقل کو کہیں اور مشغول کئے ہوئے ہوتے ہیں- وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی نئی چیز کو اہمیت دیں، اور اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، ایسے لوگ حیوان کی مانند ہیں، کیونکہ حیوان بھی یہی کرتا ہے کہ اپنی مانوس چیزوں کے سوا کسی اور چیز کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس پر دھیان دے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C20",
      "chapter_title": "علم کا سفر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C20P01",
          "text": "قرآن خدا کی کتاب کی حیثیت سے ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اترا- اس وقت ساری دنیا میں توہم پرستی کا کلچر رائج تھا- قرآن کے بعد علمی دریافتوں کا سلسلہ شروع ہوا- یہ دور بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا- قرآن کی صداقت کا یہ علمی ثبوت ہے کہ بعد کی علمی تحقیقات قرآن کی باتوں کی تصدیق بنتی چلی گئیں- اس سلسلہ میں برٹش سائنسداں سرجیمس جینز کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C20P02",
          "text": "The stream of knowledge is heading towards a non-mechanical reality;kthe universe begins to look more like a great thought than like a great machine. (The Mysterious Universe, James Jeans, p. 137)"
        },
        {
          "para_id": "C20P03",
          "text": "یہ بات برٹش سائنسداںنے 1930 میں کہی تھی- اس کے بعد کی تمام دریافتیں اس بات کی تصدیق بنتی چلی گئیں کہ حقیقت کا جو تصور قرآن میں دیاگیا ہے، وہی درست تصور ہے- اس درمیان سائنسی دریافتوں کے ذریعہ ملحدانہ تصورات رد ہوتے چلے گئے- اور موحدانہ تصورات ثابت شدہ بنتے چلے گئے-"
        },
        {
          "para_id": "C20P04",
          "text": "مثلاً قدیم ملحدین یہ سمجھتے تھے کہ کائنات ابدی ہے، وہ جیسی آج ہے ویسی ہی وہ ابد سے چلی آرہی ہے، اس لیے کائنات کو خالق کی کوئی ضرورت نہیں- مگر بعد کی سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے- 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) کی صورت میں کائنات کا آغاز ہوا-"
        },
        {
          "para_id": "C20P05",
          "text": "اسی طرح قدیم ملحدین مانتے تھے کہ کائنات میں کوئی نظم نہیں،مگر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات میںایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے- حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی تمام دریافتیں مذہب توحید کی تصدیق کرتی ہیں، خواہ براہِ راست طورپر یا بالواسطہ طورپر-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C21",
      "chapter_title": "موت کے دروازے پر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C21P01",
          "text": "آدمی سمجھتا ہے کہ وہ زندگی میں جی رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد موت کے دروازے پر کھڑا ہوا ہے- جب موت کا کوئی وقت مقرر نہیں تو ہر لمحہ موت کا لمحہ ہے- انسان کا ہر اگلا قدم موت کی طرف جانے والاقدم ہے- زندگی ہر انسان کے لیے صرف آج کا تجربہ ہے، کل کا تجربہ نہیں- ہر آدمی کے لیے آج کا دن زندگی کا دن ہے اور کل کا دن موت کا دن-"
        },
        {
          "para_id": "C21P02",
          "text": "موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر کا نام ہے- آدمی روزانہ سفر کرتا ہے- کبھی چھوٹا سفر اور کبھی بڑا سفر، کبھی ملک کے اندرسفر اور کبھی ملک کے باہرسفر- یہ تمام اسفار ایک معلوم مقام سے چل کر دوسرے معلوم مقام تک جانے کے ہم معنی ہوتے ہیں-اس قسم کے سفروں سے آدمی اتنا زیادہ مانوس ہوچکا ہے کہ وہ اس کو کوئی سنگین چیز نہیں سمجھتا-"
        },
        {
          "para_id": "C21P03",
          "text": "لیکن موت کے سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے- موت کے سفر میں ایسا ہوتاہے کہ آدمی ایک معلوم دنیا سے نکل کر دوسری نامعلوم دنیا کی طرف جاتا ہے- یہ بلاشبہہ ہر آدمی کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے- مگر آدمی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کی سنگینی کو محسوس نہیں کرتا- وہ دنیا میں جن اسفار کا تجربہ کرتا ہے، ان سے وہ اتنا مانوس ہوجاتا ہے کہ وہ گہرے شعور کے تحت، موت کے سفر جیسے سفر کا ادراک نہیں کر پاتا - اسی بنا پر ہر آدمی کے لیے موت ایک دور کی خبر بنی ہوئی ہے، وہ اس کے لیے قریب کا کوئی واقعہ نہیں-"
        },
        {
          "para_id": "C21P04",
          "text": "آدمی اپنے مزاج کی بنا پر ہمیشہ کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے- یہی انسان کی بے حسی کا سب سے بڑا سبب ہے- موت کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آکر موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے شعور کو کامل طورپر بیدار کرے- اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی موت کی حقیقت کو سمجھے، جو بلاشبہہ ہر انسان کا سب سے زیادہ سنگین معاملہ ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C22",
      "chapter_title": "شکایت، اعتراف",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C22P01",
          "text": "نفسیات کے اعتبار سے کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ آسان کام دوسروں کی شکایت (complaint) ہے، اور سب سے زیادہ مشکل کام دوسروں کا اعتراف (acknowledgment) ہے-یہ بات انسان کی نسبت سے ہے- لیکن جہاں تک فطرت کے قانون کا تعلق ہے، فطرت کے قانون کے مطابق دوسروں کی شکایت کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلی شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے- اس کے برعکس، دوسروں کا اعتراف کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلیٰ شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیادہ معاون عنصر کی حیثیت رکھتا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C22P02",
          "text": "کیوں ایسا ہے کہ دوسروں کی شکایت نہایت آسان ہے اور دوسروں کا اعتراف بے حد مشکل- اس کا سبب یہ ہے کہ شکایت کا مطلب دوسروں کی نفی(negation) ہے، اور اعتراف کا مطلب خود اپنی نفی ہے- جب آدمی کسی دوسرے کی شکایت کرتاہے تو اس کو ایسا کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ دوسرا شخص براہے اور میں اچھا ہوں- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرنے کا مطلب یہ ہوتاہے کہ میں اچھا نہیں ہوں بلکہ دوسرا شخص اچھا ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C22P03",
          "text": "آدمی کی سب سے بڑی کمزوری خودی ہے- شکایت کرتے ہوئے آدمی کو اپنی خود ی کے جذبے کی تسکین حاصل ہوتی ہے- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرتےہوئے آدمی کی خودی کو ٹھیس پہنچتی ہے- یہی فرق ہے جس کی بنا پر لوگوں کے لیے شکایت کرنا سب سے زیادہ آسان کام بن گیا ہے، اور اعتراف کرنا سب سے زیادہ مشکل کام-"
        },
        {
          "para_id": "C22P04",
          "text": "حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں آدمی کے لئے امتحان کے پرچے ہیں- شکایت کا موقع بھی امتحان ہے، اور اعتراف کا موقع بھی امتحان- جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ دوسروں کی شکایت تو کرے مگر وہ دوسروں کا کھلا اعتراف نہ کرے، ایسا آدمی آزمائش میں ناکام ہوگیا- ایسا آدمی اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں بن سکتا-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C23",
      "chapter_title": "حقیقت پسندانہ سوچ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C23P01",
          "text": "دنیا میں جو برائیاں (evils) ہیںان سب کا سبب صرف ایک ہے- اور وہ ہے لوگوں میں اَیز اِٹ از تھنکنگ (as it is thinking) نہ ہونا- غصہ، نفرت، انتقام، عدم برداشت، تشدد وغیرہ سب کی اصل جڑ یہی ہے- ایز اٹ از تھنکنگ کا مطلب ہے مبنی بر حقیقت سوچ-"
        },
        {
          "para_id": "C23P02",
          "text": "غور کیا جائے تو یہی وہ چیز ہے جس کو شیطان کا کلچر (satanic culture) کہاگیا ہے- شیطان یا ابلیس جنوں کا سردار تھا- پیدائش آدم کے وقت اس نے یہ اعتراض اٹھایا کہ خدا نے انسان کو خلیفة الارض بنادیا اور جنات کو کچھ نہیں دیا- یہ انتخابی طرز فکر کی پہلی مثال تھی- جنّ کو جو اختیارات دیے گئے تھے اس کے لحاظ سے گویا وہ خلیفة الکون تھا- مگر ابلیس نے یہ کیا کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا تھا، اس کا اعتراف نہیں کیا، اور جو کچھ انسان کو دیاگیا تھا اسی کا ذکر یک طرفہ طورپر کیا- اسی یک طرفہ طرز فکر سے ساری برائیاں پیداہوئیں- ابلیس کا یہی کلچر آج تک ساری دنیا میں جاری ہے-"
        },
        {
          "para_id": "C23P03",
          "text": "سارے انسانوں کی مشترک برائی بتانا ہو تو وہ صرف ایک ہوگی- اوروہ انتخابی سوچ (selective thinking) ہے- ہر عورت اور مرد یہ کرتے ہیں کہ اپنے بارے میں ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں، اور دوسرے کے بارے میں دوسرے ڈھنگ سے- اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچتے ہیں، اور دوسرے کو دوسرے معیار سے- اپنی پسند کو لوگوں کا ذکر کرنا ہو تو وہ ان کی صرف اچھائیاں بیان کریں گے، اور اگر ان لوگوں کا ذکر کرنا ہو جو انھیں پسند نہیں ہیں تو ان کی صرف برائیاں بیان کریں گے- ایک قوم کے بارے میں وہ منفی رپورٹنگ (negative reporting) کریں گے، اور دوسری قوم کے بارے میں صرف مثبت رپورٹنگ (positive reporting)- ایک گروہ ان کو ظالم نظر آئے گا اور دوسرا گروہ مظلوم دکھائی دے گا- ایک کے لئے ان کے دل میں صرف نفرت ہوگی، اور دوسرے کے لئے صرف محبت  —  یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) سے محروم کردیا ہے-"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C24",
      "chapter_title": "خبر نامہ اسلامی مرکز— 234",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C24P01",
          "text": "1-  ترجمۂ کتب:"
        },
        {
          "para_id": "C24P02",
          "text": "—   اب گڈورڈ بکس سے قرآن کا ترجمہ اسپینش، فرنچ اور اٹالین زبان میں شائع ہوچکا ہے۔ چائنیز زبان میں ترجمہ کا کام ہو رہاہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P03",
          "text": "—    صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب The Prophet of Peace کا ترجمہ انڈونیشی زبان میں ہوچکا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P04",
          "text": "—   غیر مسلموں کو اسلام سےمتعارف کرانے والی صدر اسلامی مرکز کی ایک بہترین انگریزی کتاب What is Islam کو ان زبانوں میں ٹرانسلیٹ کیا جاچکا ہے، فرنچ، جرمن، اسپینش، اور فلپائن کے اکثریت کی زبان تغالوگ (Tagalog)، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P05",
          "text": "—   پیغمبر ِ اسلام کی دعوتی زندگی پر مشتمل صدر اسلامی مرکز کی کتاب مطالعہ سیرت کا سندھی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ جناب یوسف سندھی نے سی پی ایس پاکستان کے تعاون سےیہ ترجمہ کیا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P06",
          "text": "2-  دعوتی سرگرمیاں:"
        },
        {
          "para_id": "C24P07",
          "text": "—   دعوت کا ایک اہم مقام بک فیر ہے۔ اس لیے الرسالہ مشن سے وابستگی رکھنے والےداعی نیشنل اور انٹرنیشنل پیمانے پر منعقد ہونے والے بک فیر میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوںجن انٹرنیشنل بک فیر میں شرکت کی گئی، وہ یہ ہیں:شارجہ انٹرنیشنل بک فیر(5-15 نومبر2014) ،کراچی بک فیر(18-22دسمبر 2014 )،مسقط انٹرنیشنل بک فیر (27فروری تا 7مارچ 2015)، لاہور بک فیر (5-9 فروری 2015)،بنکاک انٹرنیشنل بک فیر (27مارچ تا 6اپریل 2015)۔انڈیا کے اندر جیسے دہلی ورلڈ بک فیر(14-22 فروری 2015)، علی گڑھ بک فیر، وغیرہ۔ ان تمام جگہوں پر لوگوں نے قرآن اور الرسالہ مشن کی دعوتی کتابوں کو کافی شوق سے حاصل کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P08",
          "text": "—   سہارن پور کے کمپنی گارڈن میں 14 مارچ 2015 کو ایک سرکاری پروگرام ہوا۔ پروگرام میں شریک ہونے والےتمام اعلی سرکاری افسران کو سی پی ایس سہارن پور کی جانب سے ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر کا ایک ایک سیٹ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P09",
          "text": "—   بہار کے دلسنگھ سرائے (سمستی پور) میں 1 مارچ 2015 کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں بہار سی پی ایس ٹیم کے جناب دانیال صاحب نے اسلام اور امن کے موضوع پر لکچر دیا۔ تقریر کے بعد تمام حاضرین کو ہندی ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P10",
          "text": "—   ممبئی ٹیم نے 14-15 مارچ 2015 کو بیڑ مہاراشٹر کا دو روزہ دعوتی دورہ کیا۔ یہ دورہ بہت ہی کامیاب رہا۔ ایک ہندو ڈاکٹر نے اس پیس مشن کو دیکھ کر کہا کہ آپ لوگوں کے آنے سے پہلے میں مسلمانوں کی انتہاپسندانہ حالت کو دیکھ کر بالکل مایوس ہوچکا تھا۔ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ایسے انتہاپسند لوگ پہلے غیرمسلموں کو قتل کریں گے، پھر آپس میں ایک دوسرے کو ماریں گے۔ آپ کے آنے سے میرے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے، میں بہت خوش ہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P11",
          "text": "—   سی پی ایس کولکاتا نے 21-22 مارچ 2015 کو آسنسول اور کلٹی کا دعوتی دورہ کیا۔ یہ پروگرام الرسالہ کے قارئین سے ملاقات کے لیےتھا۔ اس دورہ سے تحریک پاکر دونوں جگہوں میں مقامی ٹیم کا قیام عمل میں آیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P12",
          "text": "—   ڈاکٹر راجیش سروادنیا فاؤنڈر آف وویکانندا یوتھ کنکٹ (ممبئی) نے26  مارچ 2015 کو صدر اسلامی مرکز کی اسپریچولٹی پر ایک ویڈیو اسپیچ ریکارڈ کی- دوران تقریر صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں انڈیا اسپریچول سپر پاور بن کر ابھرے گا، نوجوانوں کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہئے-"
        },
        {
          "para_id": "C24P13",
          "text": "—   سی پی ایس انٹرنیشنل دہلی کے زیراہتمام 2 اپریل 2015 کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر دہلی میں گلوبل چیپٹرس میٹ رکھی گئی تھی۔ اس پروگرام کا افتتاح صدر اسلامی مرکز نے کیا۔ اس میں تین کتابوں کا رسم اجرا کیاگیا۔ یہ کتابیں ہیں: اسلام اینڈ ورلڈ پیس (انگریزی ترجمہ امن عالم)، اسلامی جہاد(کتابچہ) اور شہادت: امت مسلمہ کا مشن (کتابچہ)۔ اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک کے نمائندوں نے اپنے اپنے مقامات پر ہونے والی دعوتی سرگرمیوں اور تجربات سے لوگوں کو باخبر کیانیز مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال ہوا۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P14",
          "text": "3-  الرسالہ مشن کے متعلق تاثرات :"
        },
        {
          "para_id": "C24P15",
          "text": "—   مالدیپ اسلامی افیرس کے ڈپٹی وزیر محمدقباد ابوبکر  17 مارچ 2015 کو گڈ ورڈ بکس، چنئی میں آئے اور الرسالہ مشن کی آئڈیالوجی پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوران گفتگو انھوں نے یہ کہا کہ نوجوانی کے دنوں میں مجھے جماعت اسلامی کی باتیں اچھی لگتی تھیں، لیکن اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ الرسالہ مشن کی آئڈیالوجی ہی فطری آئڈیالوجی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P16",
          "text": "—   I have been distributing Maulana’s book, Khandani Zindagi among some women since the past two years. It has become very popular. Recently, I received a message from one of the women, who requested me to send more of Maulana’s books, including Tabir ki Ghalati and The Secret of a Successful Family Life."
        }
      ]
    }
  ]
}