{
  "metadata": {
    "month": "January",
    "year": "2016",
    "source_url": "http://cpsalrisala.blogspot.com/2016/01/JanuaryAlrisala.html",
    "scrape_timestamp": "2026-03-26T14:26:06.337266"
  },
  "content": [
    {
      "chapter_id": "C01",
      "chapter_title": "رول دریافت کیجیے",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C01P01",
          "text": "قرآن کی ہر آیت میں انسان کے لیے ایک رہنمائی ہوتی ہے۔ لیکن اس رہنمائی کو جاننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی قرآن کی آیتوں میں تدبر کرے۔ مثلاً قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ الَّذِی آتَیْنَاہُ آیَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَأَتْبَعَہُ الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِینَ ۔(7:175) یعنی اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C01P02",
          "text": "قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ خالق نے ہر انسان کو ایک مخصوص کردار (role) کے لیے پیدا کیا ہے۔ انسان اگر اپنے آپ پر غور کرکے اس فطری رول کو دریافت کرے تو اللہ کی نصرت اس کو ملتی ہے۔ فرشتے اس کے اوپر اترنے لگتے ہیں (41:30)، اس پر تمام راہیں کشادہ ہونے لگتی ہیں، وہ ادھر ادھر بھٹکے بغیر صحیح سمت میں سفر کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے فطری رول کو انجام دینے میں کامیاب ہوجا تا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C01P03",
          "text": "اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنے فطری رول کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ ایسے شخص کا ساتھی شیطان بن جاتاہے،یہاں تک کہ وہ اس کو ایک بھٹکا ہوا انسان بنادیتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کے نقشے کے مطابق صحیح سمت میں سفر نہ کرے، بلکہ بھٹک کر غلط راہوں میں چلا جائے۔ ایسا انسان اس دنیا میں بظاہر کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، لیکن فطرت کے نقشے کے مطابق ،وہ بلاشبہ ایک ناکام انسان ہوگا۔ آخرت کی دنیا میں وہ اس حال میں پہنچے گا کہ وہ وہاں صرف ایک محروم انسان ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C01P04",
          "text": "یہی وہ انسان ہے جس کا حال قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ بِقِیعَةٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا وَوَجَدَ اللَّہَ عِنْدَہُ فَوَفَّاہُ حِسَابَہُ وَاللَّہُ سَرِیعُ الْحِسَابِ۔ (24:39)"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C02",
      "chapter_title": "قرآن فہمی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C02P01",
          "text": "قرآن کو سمجھنے کے لیے مفسرین نے مختلف علوم کا ذکر کیا ہے، یہ درست ہے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کا ایک اور ذریعہ ہے، جو بلاشبہ سب سے زیادہ اہم ہے، اور وہ تقو ی ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:  وَاتَّقُوا اللَّہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللَّہُ (2:282)یعنی اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو علم دیتا ہے۔ تقوی آدمی کو اللہ سے قریب کرتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P02",
          "text": "تقوی آدمی کے اندر یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ ہر چیز کے لیے اللہ سے مدد کا طالب بنے۔ اللہ سے مدد کا طالب ہونا، بیک وقت دعا بھی ہے اور عبادت بھی۔ ایسی دعا سے قرآن فہمی میں بھی مدد ملتی ہے، اور اس کے ذریعے عبادت کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P03",
          "text": "قرآن فہمی کے لیے اللہ سے مدد کی دعا کرنا، بے حد اہم ہے۔یہ گویا کتاب کو سمجھنے کے لیے خود کتاب کے مصنف سے کنسلٹ (consult)کرنا ہے۔ یہ صرف قرآن کی صفت ہے کہ اس کا مصنف ہر لمحہ اور ہر مقام پر کنسلٹ کرنے کے لیے موجود ہے۔ اللہ کی طرف سے ہدایت بلاشبہ ہر انسان کے لیے آتی ہےلیکن یہ ہدایت لفظوں کی صورت میں نہیں آتی، بلکہ وہ انسپریشن (inspiration) کی صورت میں آتی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P04",
          "text": "قرآن سے ثابت ہے کہ اللہ آسمانوں کو الہام (41:12) کرتا ہے، اللہ شہد کی مکھیوں کو الہام(16:68) کرتا ہے، اللہ عام انسانوں کو بھی الہام (8:91) کرتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اللہ اس انسان کی مدد کرے جو اس سے قرآن فہمی کے لیے دعا مانگ رہا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P05",
          "text": "امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کوئی آیت ان کو مشکل نظر آتی تو وہ اللہ سے یہ دعا کرتے: یا معلم ابراہیم علمنی ( إعلام الموقعین عن رب العالمین، لابن قیم، جلد 4، صفحہ 198) یعنی اے ابراہیم کو تعلیم دینے والے میری تعلیم فرما۔ قرآن میں ابراہیم کو تعلیم دینے کا ذکر معنی ًسورہ الانبیاء آیت نمبر51 میں آیا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C03",
      "chapter_title": "دینِ مبین",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C03P01",
          "text": "ایک طویل حدیثِ رسول میں دین اسلام کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: قد ترکتکم على البیضاء لیلہا کنہارہا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 43، مسند احمد، حدیث نمبر17142) یعنی میں نے تم کو ایک روشن دین پر چھوڑا ہے، اس کی رات بھی اس کےدن کی طرح ہے۔پھر اسی روایت میں آگے یہ الفاظ ہیں:ومن یعش منکم فسیرى اختلافا کثیرا۔ یعنی تم میں سے جو زندہ رہے گا، وہ امت میں بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P02",
          "text": "یہاں یہ سوال ہے کہ جب دین صبح کی طرح روشن ہے تو اس میں اختلافات کیسے پیدا ہوجائیں گے۔ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک، اصل دین اور دوسرے، تفصیلاتِ دین۔ دونوں اگرچہ دین کا حصہ ہیں۔ لیکن دونوں کے درمیان نوعیت کے اعتبار سے فرق ہے۔ اصل دین میں توحد مطلوب ہے اور تفصیلاتِ دین میں تعدد۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے تو اختلاف کی برائی پیدا نہ ہوگی۔ جب اس حقیقت کو بھلادیا جائے تو اس کے بعد امت اختلافِ کثیر میں مبتلا ہوجائے گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P03",
          "text": "امورِ اتقافی میں توحد(یکسانیت) مطلوب ہے اور امورِ اختلافی میں تعدد اور توسع ۔ مگر فقہاء اس راز کو سمجھ نہ سکے ، انھوں نے خود ساختہ طور پر اصولِ ترجیح وضع کیا اور اس کے تحت امورِ اختلافی میں بھی توحد پیدا کرنے کی کوشش کی۔ چوں کہ امورِ اختلافی میں توحد ممکن نہ تھا۔ اس لیے عملاً یہ ہوا کہ امت واحدہ امت متفرقہ میں تبدیل ہوگئی۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P04",
          "text": "مثلا فرض نمازوں میں رکعات کی تعداد کا تعلق اتفاقی حصہ سے ہےاور ہاتھ کیسے باندھا جائے اس کا تعلق اختلافی حصہ سے۔ مگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت میں مسلکی اختلاف واقع ہوا۔ اور اس اختلاف کی بنا پر امت میں غیر ضروری طور پر کئی فرقے بن گیے۔ اس اختلاف نے بڑھتے بڑھتے شدت کی صورت اختیار کرلی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C04",
      "chapter_title": "امت کا مشن",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C04P01",
          "text": "قرآن مستند کتاب ِ ہدایت ہے۔ تبلیغِ قرآن پیغمبر کا مشن بھی ہے اور امت کا مشن بھی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا مطالعہ کیجیے:  وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَکُمْ بِہِ وَمَنْ بَلَغَ  ۔(6:19)یعنی میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو آگاہ کروں اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔ وَمَنْ بَلَغَ کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے تدبر قرآن میں درست طور پر لکھا ہے:یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ (قرآن) پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر اس کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C04P02",
          "text": "قرآن کی اس آیت کے مطابق، امت اپنی دعوتی ذمہ داری کے اعتبار سے نبی کی قائم مقام ہے۔ اللہ نے اپنی آخری کتاب، قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا۔ اس کے بعد ایسے اسباب فراہم کیے کہ قرآن پوری طرح ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اس بنا پر اب دنیا میں کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ پیغمبر کا دعوتی کام پیغمبر کے بعد اب پیغمبر کی امت کو انجام دینا ہے ۔امت پر فرض ہے کہ وہ قیامت تک تبلیغِ قرآن کے اس مشن کو ہر زمانے کے لوگوں کے درمیان جاری رکھے۔ پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک براہ راست قرآن کو پہنچایا۔ پیغمبر کے بعد امت کو ہر زمانے میں اپنے معاصر لوگوں تک قرآن پہنچاتے رہنا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C04P03",
          "text": "This Quran has been revealed to me so that through it I may warn you, and the Ummah may warn others through this Quran."
        },
        {
          "para_id": "C04P04",
          "text": "قرآن کی تبلیغ ہی دینِ اسلام کا اصل نشانہ ہے۔ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے ، اصحابِ رسول قرآن کو پڑھ کر سناتے تھے، اس لیے ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ اب پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ امت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں مطبوعہ صورت میں تیار کرے، اور اس کو ہر قوم کے لوگوں کے درمیان پہنچائے۔گویا کہ پیغمبر کا ہر صحابی قرآن کا مقری تھا، اب امت کے ہر فرد کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر بننا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C05",
      "chapter_title": "انسان کا المیہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C05P01",
          "text": "قرآن (17:70) کے مطابق انسان ایک مکرم مخلوق (honourable creature) کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ فطرت کے اعتبار سے انسان کے اندر غیر معمولی امکانات (potential) موجود ہیں۔ مگر بہت کم ایسے انسان ملیں گے جنھوں نے اپنے فطری امکان (potential)کو واقعہ (actual) بنایا ہو۔بیشتر انسان عملاً کمتر استعمال کا کیس (case of under-utilization) بن کر رہ گیے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِہَا وَلَکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ (7:176) ۔یعنی قانونِ فطرت کے مطابق، اس کو موقع تھا کہ وہ اپنے آپ کو انسانیت کے اعلی مقام پر پہنچائے، مگر وہ عملاً حیوان جیسی کمتر زندگی پر قانع ہو کر رہ گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C05P02",
          "text": "یہ تاریخ کا ایک حادثہ ہے۔ اور اس حادثہ کو بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ (greatest tragedy) کہا جاسکتا ہے۔ تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق ، محفوظ طور پر کہا جاسکتا ہےکہ بیشتر انسان نے دو میں سے ایک غلطی کاارتکاب کیا ۔ یا وہ اپنے کمتر استعمال کا کیس بن گیا اور کسی نےیہ شدید تر غلطی کی کہ اس نے اپنی صلاحیت کا غلط استعمال کیا۔اپنی اعلی صلاحیت کو انسانیت کی تعمیر کے بجائے انسانیت کی تخریب میں لگا دیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C05P03",
          "text": "دنیا کے فنکار (artist) اپنی تخلیقی صلاحیت کے کمتر استعمال کی مثال ہیں۔ انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت کا ایک ایسا استعمال کیا جس کو فطرت کے نقشہ کے مطابق، اعلی استعمال کے بجائے ادنیٰ استعمال کہا جاسکتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کی مثال دنیا کے تمام ڈکٹیٹر ہیں۔ ا ن کو فطرت نے غیر معمولی صلاحیت دی تھی۔ لیکن وہ فطرت کی آواز کو سن نہ سکے۔ انھوں نے صرف اپنی اَنا (ego) کو جانا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صرف تخریب کاری کی مثال قائم کرکے دنیا سے چلے گیے۔کامیاب انسان وہ ہے جو خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اپنے آپ کواستعمال کرے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C06",
      "chapter_title": "امانت کیا ہے",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C06P01",
          "text": "انسان کے مقصد تخلیق کے بارے میںقرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:  إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ أَنْ یَحْمِلْنَہَا وَأَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْإِنْسَانُ إِنَّہُ کَانَ ظَلُومًا جَہُولًا۔ (33:72)یعنی ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P02",
          "text": "امانت سے مراد یہاں اختیار کی آزادی (freedom of choice) ہے۔کائنات میں یہ آزادی صرف انسان کو حاصل ہے، انسان کے سوا کسی اور مخلوق کو یہ آزادی حاصل نہیں۔ ظلوم اور جہول کا لفظ اس آیت میں باعتبارِ نتیجہ ہے۔ یعنی انسان نے ایڈونچرزم (adventurism) کے تحت اس امانت کو قبول کرلیا، لیکن عملا وہ اس پر پورا نہیں اترے۔ اس بنا پر وہ باعتبار نتیجہ ظالم اور جاہل قرار پائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P03",
          "text": "انسان کو نفسیات کی زبان میں سوچنے والا حیوان (thinking animal)کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے یا غیر انسان۔ سوچ کا صحیح استعمال انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اور سوچ کا غلط استعمال انسان کو ہر اعتبار سے ناکام بنا دیتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P04",
          "text": "انسان کو سوچنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کا صحیح استعمال کرے، وہ تخلیق میں تدبر کرے،وہ تخلیق کی معنویت کو تلاش کرے، وہ تخلیق کی حکمت کو دریافت کرے، وہ تخلیق کے مقصد کو پائے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ یہی تدبر امانت کے صحیح استعمال کا آغاز ہے۔ اسی تدبر میں کامیابی کا نام کامیابی ہے، اور اسی تدبر میں ناکامی کا نام ناکامی ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں آخری حد تک فرض شناسی کا ثبوت دے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C07",
      "chapter_title": "تالیفِ قلب",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C07P01",
          "text": "تالیف قلب کا مطلب ہے دل میں نرم گوشہ (soft corner)پیدا کرنا۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں مؤلفۃ القلوب (9:60) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تالیف قلب کا تعلق دعوتی اخلاقیات سے ہے۔ مدعو کے ساتھ اس نوعیت کا حسنِ سلوک (friendly behaviour) جس سے مدعو کے دل میں اسلام سے قربت پیدا ہو، وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو سمجھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تجارتی تعلقات کے دائرے میں کسٹمر فرینڈلی بیہیویر (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P02",
          "text": "پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تالیف قلب کی ایک مثال وہ ہے جب کہ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی نماز کے لیے کعبہ کے بجائے یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالیا۔ مفسر النسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التاویل میں تالیف قلب کی پیغمبرانہ مثال دیتے ہوئے لکھا ہے: روى أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کان یصلی بمکة إلى الکعبة ثم أمر بالصلاة إلى صخرة بیت المقدس بعد الہجرة تألیفاً للیہود ثم حول إلى الکعبة (تفسیر النسفی، بیروت، 1998، جلد 1، البقرۃ آیت143) ۔ یعنی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ ٔ یہود صخرۃ کی طرف رخ کرکے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P03",
          "text": "تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مومن کے لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کو ئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل ایمان سے مطلوب ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P04",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی زمانے میں سورہ المدثر اتری۔ اس سورہ میں دعوت کا حکم دیتے ہوئےایک اصول یہ دیا گیا کہ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (74:6) یعنی اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اس حکم کا تعلق دعوت کے عمل سے ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کا کام اس طرح کرنا چاہیے کہ داعی کو یہ امید نہیں رکھنا چاہیے کہ مدعو کی طرف سے اس کو اچھا جواب ملے گا:"
        },
        {
          "para_id": "C07P05",
          "text": "Do good without expecting anything in return"
        },
        {
          "para_id": "C07P06",
          "text": "یہود کی تالیف کے لیے یہود کے قبلۂ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا،بتاتا ہے کہ تالیف قلب کی کوئی حد نہیں۔ اس کے لیے مومن کو ہر تدبیر اختیار کرنا جائز ہے۔ شرط اگر ہے تو صرف یہ کہ مومن کی نیت کسی ذاتی مفاد کو حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ مدعو کے دل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو، اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P07",
          "text": "پیغمبر اسلام  کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیف قلب کرنے کی کوشش کی۔ مثلا مکی دور میں کعبہ کے اندر بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچانا، کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا بغیر احتجاج کیے ہوئےجب کہ کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے، غزوہ حنین میں آپ کو بڑی تعداد میں مالِ غنیمت حاصل ہوا تھا، آپ نے اس کی بڑی مقدار ان لوگوں کو دے دی جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ایسا آپ نے ان لوگوں کی تالیف قلب کے لیے کیا تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P08",
          "text": "تالیف قلب کا ایک واقعہ وہ ہے جو حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت کے دورا ن پیش آیا۔ حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت تقریبا دو ہفتہ تک جاری رہی تھی۔ اس مدت میں تالیف کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی کنانہ کا سردار الحلیس بن علقمہ قریش کی طرف سے آپ سے بات چیت کے لیے آرہا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  اصحاب سے کہا کہ یہ قبیلہ قربانی کےاونٹوں کی تعظیم کرتا ہے، وہ اس کو الٰہ کا درجہ دیتا ہے۔ اس لیے تم اس کے استقبال کے لیے اونٹ لے کر نکلو۔ چناں چہ صحابہ نے ایسے ہی کیا ۔ وہ آدمی بہت خوش ہوا۔ اور واپس جاکر قریش کو بہت مثبت رپورٹ دی۔ یہ واقعہ صحیح البخاری حدیث نمبر 2731، اور مسند احمد، حدیث نمبر18928 میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سیرۃ ابن ہشام، مغازی الواقدی، سیرۃ ابن کثیر،الروض الانف وغیرہ کتب سیرت میں آیا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P09",
          "text": "اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان تالیف قلب کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا یہ فعل خالصۃ دعوت الی اللہ کے لیے ہو۔ اس حدیث کو اگر لفظا لیا جائے تو شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر کوئی مسلم لیڈر ہندستانیوں سے گفت و شنید کر رہا ہو، اور اس درمیان اس کو بتایا جائے کہ ایک ہندو لیڈر اس سے ملنے کے لیے آرہاہے۔ تو اس موقع پرمسلم لیڈر کے لیے یہ کرناجائز ہوگا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو کہے کہ اس ہندو لیڈرکے یہاں گائے کی پوجا کی جاتی ہے، اس لیے تم اس کا اس طرح استقبال کرو کہ اس کے پاس گائے لے کر جاؤ۔ تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P10",
          "text": "اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو نجران کے عیسائیوں کے ساتھ پیش آیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینہ آئے۔ یہاں انھوں نے مدینہ کی مسجد ِ نبوی کے اندر اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی ۔ روایت کے مطابق انھوں نے اپنی یہ عبادت مشرق کی طرف رخ کرکے کی(فصلوا إلى المشرق) سیرۃ ابن ہشام (1/574) ،جب کہ مدینہ سے کعبہ کا رخ اس سے مختلف تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P11",
          "text": "ملّی تعمیر کاکام سب سے پہلے ملّت کے افراد میں"
        },
        {
          "para_id": "C07P12",
          "text": "شعور پیدا کرنے کا کام ہے۔ اِس کی بہترین صورت یہ ہے کہ"
        },
        {
          "para_id": "C07P13",
          "text": "الرسالہ مشن کو ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں پہنچایا جائے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C08",
      "chapter_title": "شباب کا زمانہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C08P01",
          "text": "ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان سے کچھ باتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: وعن شبابہ فیم أبلاہ۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2416)یعنی یہ پوچھا جائے گاکہ اپنی جوانی کا دور اس نے کیسے گزارا۔جوانی کا دور کسی انسان کے لیے اس کی عمر کا سب سے اچھا دور ہے ۔ اس لیے جوانی کے دور کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ سوال ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P02",
          "text": "جوانی کا دور (youth age)کیا ہے۔ وہ صحت کے دور (age of good health) کا دوسرا نام ہے۔ صحت ہے تو سب کچھ ہے اور صحت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ جو آدمی تندرستی سے محروم ہوجائے، وہ گویا ہر چیز سے محروم ہوگیا۔ صحت کا دور کسی انسان کے لیے سب بڑے شکر کا آئٹم ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P03",
          "text": "ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں ہر عورت اور ہر مرد جوانی اور صحت سے محروم ہو۔ ایسی دنیا گویا ایک بہت بڑا اسپتال ہوگی۔ ایک ایسا اسپتال جہاں کوئی ڈاکٹر یا کوئی نرس موجود نہ ہو۔ جہاں علاج کی سہولتیں(health facilities)نہ پائی جاتی ہوں۔ جہاں ہر ایک علاج کا ضرورت مند ہو لیکن وہاں کوئی معالج موجود نہ ہو۔ ایسی دنیا ایک ناقابل برداشت مصیبت کی جگہ بن جائے گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P04",
          "text": "جوانی کے دور میں ہر انسان کو بھر پور طاقت حاصل رہتی ہے۔ اس لیے جوانی کے دور میں آدمی کو  مسائل کا تجربہ نہیں ہوتا۔ جوانی کا دور گویا بے مسئلہ دور ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے اس قیمتی دور پر آدمی نے خالق کے اس عطیہ کا شکر ادا کیا یا نہیں۔جوانی سے اس نے تکبر (arrogance) کی غذا لی یا تواضع (modesty) کی غذا۔وہ دوسروں کے لیے بے مسئلہ بن کر رہا یا بامسئلہ بن کر رہا۔ اس کے ذریعے دنیا کو خیر ملا یا لوگوں کو اس سے شر کا تجربہ ہوا۔ جوانی کی عمر انسان کے لیے اس کی زندگی کا بہترین دور ہے۔ جوانی کی عمر میں آدمی کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ جوانی کا دور عظیم شکر کا دور بھی بن سکتا ہے اور عظیم ناشکری کا دور بھی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C09",
      "chapter_title": "بڑا اجر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C09P01",
          "text": "ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:  إن عظم الجزاء مع عظم البلاء، وإن اللہ إذا أحب قوما ابتلاہم، فمن رضی فلہ الرضا، ومن سخط فلہ السخط (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2396 :) یعنی بے شک بڑا اجر بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، اور اللہ جن لوگوں سے محبت کرتا ہے،  ان کو وہ آزمائش میں ڈال دیتا ہے، تو جو راضی ہوگیا، اس کے لیے رضا مندی ہے، اور جو ناراض ہوگیا، اس کے لیے ناراضگی ہے۔ اس حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش ایمانی ترقی کا زینہ ہے۔ آزمائش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے ذہن میں ایک ہل چل پیدا ہوتی، اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگتی ہیں، اس کو طرح طرح کے شاک (shock)کا تجربہ ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P02",
          "text": "ان ناخوشگوار تجربات کے دوران جو آدمی منفی نفسیات میں مبتلا ہوجائے،جو نفرت اور غصہ کا شکار ہوجائے، جو شکایت اور جھنجھلاہٹ میں جینے لگے، وہ آزمائش میں ناکام ہوگیا۔ ایسے انسان کو آزمائش سے کچھ نہیں ملے گا۔ اس کے برعکس، جو انسان ذہنی بیداری کے ساتھ جیتا ہو، وہ آزمائش میں اعتدال پر قائم رہے گا،ناخوشگوار تجربہ کے باوجود وہ اپنی مثبت سوچ (positive thinking) کو باقی رکھے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس نے آزمائش سے خیر کی غذا حاصل کی۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P03",
          "text": "آزمائش بظاہر کسی نہ کسی مصیبت کی شکل میں آتی ہے۔جو لوگ مصیبت سے گھبرا اٹھیں، ان کو آزمائش سے شکایت اور مایوسی کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا، لیکن جو لوگ آزمائش کو اللہ کے منصوبے کا جزء سمجھیں، وہ آزمائش کا استقبال مثبت ذہن کے ساتھ کریں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آزمائش، ان کے اجر میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P04",
          "text": "اللہ کے یہاں انعامات کی کمی نہیں۔ لیکن کسی کو اللہ کا بڑا انعام ہمیشہ اس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ اس کے لیے بڑا استحقاق پیدا کرے۔ بڑے استحقاق کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت سوچ پر قائم رکھے۔ کوئی بھی واقعہ اس کی مثبت سوچ کو برہم کرنے والا نہ بنے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C10",
      "chapter_title": "شیطان اور فرشتہ کے درمیان",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C10P01",
          "text": "قرآن کے مطابق، ہر انسان ہر وقت دو طاقتوں کے درمیان ہوتاہے— فرشتہ اور شیطان۔ ہر موقعے پر فرشتہ اور شیطان دونوں متحرک ہوجاتے ہیں۔فرشتہ کے لیے انسان کے اندر داخلے کا راستہ (entry point) اس کا ضمیر (conscience) ہے۔ شیطان کے لیے انسان کے اندر داخلے کا دروازہ اس کا ایگو (ego) ہے۔ فرشتہ ہر موقع پر آدمی کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان ہر موقعے پر انسان کو غلط راستہ دکھاتا ہے۔ انسان جس کی رہنمائی سے متاثر ہوجائے ، اسی کی طرف وہ چل پڑے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P02",
          "text": "اس معاملے کی ایک تاریخی مثال وہ ہے، جس کا تعلق خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب سے ہے۔ ان کے زمانے میں مدینہ میں ایک نصرانی ابو لو ٔلو ٔ فیروز رہتا تھا۔ اس نے خلیفہ ثانی سے شکایت کی کہ میرا خراج زیادہ ہے۔خلیفہ ثانی نے اس سے خراج کی مقدار پوچھی۔ ابولو ٔلو ٔ فیروز نے بتایا ۔ پھر خلیفہ ثانی نے اس سے آمدنی پوچھی، تو اس نے بتایا۔ تو خلیفہ ثانی نے کہا کہ آمدنی کے لحاظ سے تمھارا خراج زیادہ نہیں ہے۔ ابولولو اس پر غصہ ہو گیا۔ وہ ایک دن فجر کے وقت مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا، اورخنجر مار کر خلیفہ ثانی کو قتل کردیا۔(ابن اثیر، الکامل فی التاریخ،طبعۃ بیروت:  1979 3/49-50)"
        },
        {
          "para_id": "C10P03",
          "text": "خلیفہ ثانی عمر بن خطاب بلاشبہ ایک عادل حکمراں تھے۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں امن اور قسط کا نظام قائم کیا تھا۔ لیکن ابولؤلؤ فیروز نے اتنے بڑے واقعے کو نہیں دیکھا۔ وہ ایک چھوٹے سے واقعہ پر غصہ ہوگیا، یہاں تک کہ اس نے خلیفہ کو قتل کردیا۔ اس وقت اس پر شیطان کا غلبہ ہوگیا تھا۔بڑا واقعہ اس کو چھوٹا نظر آیا، اور چھوٹا واقعہ اس کو بڑا دکھائی دیا۔حتی کہ ایک عادل حکمراں اس کی نظر میں ایک ظالم حکمراں بن گیا۔ اس واقعے میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے سبق ہے۔ جب بھی کوئی شخص غصہ ہوتو اس کو اس سے بچنا چاہیے کہ وہ معاملے کے بڑے پہلو کو چھوٹا سمجھے، اور معاملے کے چھوٹے پہلو کو بڑا سمجھنے لگے۔ اگر ایسا ہو تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ وہ شیطان کے قبضے میں آگیا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C11",
      "chapter_title": "زندہ قوم، زوال یافتہ قوم",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C11P01",
          "text": "زندہ قوم وہ ہے جس کے اندر فطری اوصاف پائے جائیں۔ اور زوال یافتہ قوم وہ ہے جس کے افراد کے اندر دھیرے دھیرے فطری اوصاف ختم ہوجائیں۔ فطری اوصاف سے مراد ہے سچائی، دیانت داری، اصول پسندی، واقعہ کا اعتراف، اور کھلاپن (openness)،وغیرہ۔ اس کے برعکس، جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے اندر جھوٹ بولنا عام ہوجاتا ہے، اس کے افراد اصول پسند کے بجائے مفاد پرست بن جاتے ہیں۔ زوال یافتہ قوم کے افراد حساسیت سے محروم ہوجاتے ہیں، اور جو لوگ حساسیت سے محروم ہوجائیں، ان کے اندر حق و باطل کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ایسے افراد تنگ نظری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P02",
          "text": "زندہ فرد قابلِ پیشین گوئی کیرکٹر (predictable character) کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ قوم کے افراد اس قسم کے کردار سے خالی ہوجاتے ہیں۔ زندہ انسان ہرے بھرے درخت کی مانند ہے، اور غیر زندہ انسان سوکھے درخت کی مانند۔ زندہ درخت ہمیشہ گرو (grow) کرتا رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو پھول اور پھل اور سایہ جیسی چیزیں دیتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس، سوکھا درخت ان میں سے کوئی چیز دوسروں کو نہیں دیتا۔ وہ ایک ایسا درخت ہے جو دینے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے۔ یہی حال زندہ انسان اور غیر زندہ انسان کا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P03",
          "text": "زندہ انسان دوسرے انسانوں کے لیے ایک سرمایہ (asset) ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر زندہ انسان ایک ایسا انسان ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے ایک بوجھ (liability) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے دوسرے انسانوں کو کچھ نہیں ملتا۔وہ اپنے گھر والوں کے لیے مسئلہ ہے ،اور اپنے سماج کے لیے مسئلہ ہے۔زندہ انسان اپنے سماج کے لیے دینے والا ممبر(giver member) ہوتا ہے۔ اور غیر زندہ انسان وہ ہے جو اپنے سماج کے لیے صرف لینے والا ممبر(taker member) بن جائے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C12",
      "chapter_title": "والدین کی ذمہ داری",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C12P01",
          "text": "اولاد کی تربیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظِ میں آئی ہے:  ما نحل والد ولداً من نَحل أفضل من أدب حسن۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر1952)کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P02",
          "text": "اس حدیث میں ادب حسن کا مطلب زندگی کا بہتر طریقہ ہے۔ بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وہ کامیاب ہوں، وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا بوجھ (liability)نہ بنیں بلکہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا سرمایہ (asset)بن جائیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P03",
          "text": "والدین اپنے بچوں کو اگر لاڈ پیار (pampering) کریں تو انھوں نے بچوں کو سب بُرا تحفہ دیا۔ اور اگر والدین اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کا کامیاب طریقہ بتائیں، اور اس کے لیے ان کو تیار کریں تو انھوں نے اپنے بچوں کو بہترین تحفہ دیا۔ مثلا بچوں میں یہ مزاج بنانا کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے سے بچیں۔ وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی تلاش کریں، وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کو درست کریں ، اور اس طرح اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں۔ وہ دنیا میں تواضع (modesty) کے مزاج کےساتھ رہیں، نہ کہ فخر اور برتری کے مزاج کے ساتھ۔ زندگی میںان کااصول حیات یہ ہو کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں، نہ کہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے وقت اور اپنی توانائی کو صرف مفید کاموں میں لگائیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P04",
          "text": "والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم غلطی کرو تو اس کی قیمت تم کو خود ادا کرنا ہوگا۔ کوئی دوسرا شخص نہیں جو تمھاری غلطی کی قیمت ادا کرے۔ کبھی دوسروں کی شکایت نہ کرو۔ دوسروں کی شکایت کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ ہمیشہ مثبت انداز سے سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ۔بری عادتوں سے اس طرح ڈرو، جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشش بنائیں، نہ کہ رائٹ(right) کانشش۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C13",
      "chapter_title": "رب العالمین کا عطیہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C13P01",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔اس کے بعد وہ وقت آیا، جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر یہاں سے چلے جائیں۔ اس وقت پیغمبر اسلام نے اپنے اصحابِ سے فرمایا:أمرت بقریة تأکل القرى، یقولون یثرب، وہی المدینة (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، او ر وہ مدینہ ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C13P02",
          "text": "اس روایت میںجو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق فضیلتِ رسول یا فضیلتِ مدینہ سے نہیں ہے بلکہ اس میں ایک عام سنت الٰہی کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی انسان کے ساتھ یک طرفہ طور پرظلم کا معاملہ کیا جائے، یا اس سے کوئی چیز ناحق چھین لی جائے تو ایسا شخص اللہ کی نصرتِ خاص کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اللہ ایسے بندے کو اپنی طرف سے اس سے بہت زیادہ دے دیتا ہے جو انسانوں نے اس سے ناحق طور پرچھینا تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C13P03",
          "text": "اللہ کا یہ خصوصی عطیہ اس انسان کو ملتا ہے جو اس عطیے کا استحقاق پیدا کرے۔ وہ استحقاق یہ ہے کہ ایسے موقعے پر وہ آخری حد تک بے شکایت انسان بنا رہے۔ اس کی نظر کسی حال میں اللہ رب العالمین سے ہٹنے نہ پائے۔وہ اپنے ظالموں کے لیے دعا کرے، اور خود اپنے لیے ہر حال میںاللہ سے امیدوار بنا رہے۔ جب کوئی انسان اس طرح مثبت رویے کا ثبوت دیتا ہے تو یہ اس کے لیے کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اس کے بعد اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے، ایک ایسی شخصیت جس کے اندر اپنے ظالموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہو، جو منفی تجربہ کے دوران بھی مثبت رویے پر قائم رہے، جو اپنے معاملے کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کردے۔جس کا سینہ ہر حال میں ربانی اسپرٹ سے بھرا رہے۔  جو اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہ کرے، بلکہ اپنے تمام معاملے کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو اللہ کی طرف سے وہ خصوصی عطیہ دیا جاتا ہے جس کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C14",
      "chapter_title": "اتھاریٹی صرف ایک",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C14P01",
          "text": "حدیث کی کتابوں میں ایک لمبی روایت آئی ہے، جس کا ایک حصہ یہ ہے:لو کان موسى حیا ما وسعہ إلا اتباعی ۔(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر174) یعنی اگر موسی زندہ ہوتے تو ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور جائز نہ ہوتا کہ وہ میری اتباع کریں۔ اس حدیث کو علماء نے عام طور پر فضیلتِ رسول کے معنی میں لیا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ فضیلتِ انبیاء کا تصور قرآن و حدیث سے ٹکراتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ  لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِہِ (2:285) یعنی ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:  لا تفضلوا بین أنبیاء اللہہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3414) یعنی اللہ کے پیغمبروں کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P02",
          "text": "اصل یہ ہے کہ اوپر مذکور حدیث میں شخصی فضیلت کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں ایک عام اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اتھاریٹی ہمیشہ ناقابلِ تقسیم ہوتی ہے۔ نظم کا تقاضا ہے کہ اتھاریٹی صرف ایک ہو۔ جہاں بھی اتھاریٹی دو یا دو سے زیادہ ہوگی، نظم (discipline) قائم نہ رہے گا۔ حضرت موسی کے زمانے میں دو پیغمبر تھے، موسی اور ہارون۔ لیکن اتھاریٹی کی حیثیت صرف موسی کی تھی، ہارون کو نہ تھی۔ حضرت ہارون کا کام حضرت موسی کی تصدیق کرنا تھا (28:34) ۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P03",
          "text": "تفضیلِ انبیاء کا عقیدہ بلاشبہ قرآن اور حدیث میں اجنبی ہے۔ انبیاء کے درمیان ایک فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ یہ فرق رول کے اعتبار سے ہے، نہ کہ فضیلت کے اعتبار سے۔ اس پہلو سے ہر پیغمبر نمونہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مختلف پیغمبروں کے حالات کا مطالعہ کرے۔ جس پیغمبر میں اس کو اپنے حالات کے اعتبار سے مطابقت ملے ، اس کو وہ اپنا لے۔ یہ پیروی طریقِ کار (method) کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک عقیدہ اور اصولِ دین کا سوال ہے، تمام پیغمبروں کا عقیدہ اور اصول دین ایک تھا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C15",
      "chapter_title": "ذہنی سانچہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C15P01",
          "text": "ہر آدمی کے اندر مختلف حالات کے تحت اس کا ایک مائنڈ سیٹ (mindset)یا ایک ذہنی سانچہ  (intellectual mould) بن جاتا ہے۔ آدمی اسی کے مطابق سوچتا ہے، آدمی اسی کے مطابق رائے بناتا ہے۔ حقیقتِ واقعہ خواہ بظاہر کچھ اور ہو، لیکن آدمی کے ذہن میں چیزوں کے بارے میں وہی تصویر بنتی ہے، جو اس کے اپنے ذہنی سانچے کے مطابق ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P02",
          "text": "انسان کے بارے میںیہ حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:  قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)یعنی علم الٰہی میں کسی چیز کی نوعیت خواہ کچھ ہو لیکن انسان اپنے خود ساختہ شاکلہ (mindset)کے مطابق چیزوں کے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے۔ اس کمزوری سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ  وہ چیزوں کو اللہ کی نظر سے دیکھ سکے۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P03",
          "text": "انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ دنیا میں ہر آدمی ایک سماجی ماحول کے اندر پیدا ہوتا ہے۔اس ماحول میں ہر وقت روزانہ مختلف قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ انسان خواہ چاہے یا نہ چاہے، وہ اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اس طرح ہر انسان کا کیس ایک متاثر ذہن کا کیس بن جاتا ہے۔ یہ متاثر ذہن دھیرے دھیرے اتنا پختہ ہوجاتا ہے کہ آدمی اسی کو درست سمجھنے لگتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P04",
          "text": "ایسےحالات میں ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ مسلسل طور پر اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ وہ دریافت کرتا رہے کہ کیا چیز فطری ہے۔ اوروہ کیا چیز ہے جس کو اس کے ذہن نےماحول کےاثر سے قبول کر لیا ہے۔ اسی ذہنی کوشش کا نام محاسبہ (introspection) ہے۔ یہی محاسبہ کا عمل وہ چیز ہے جو کسی انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ آدمی کے اندر غلط قسم کا ذہنی سانچہ بن جائے، اور وہ اس غلط سانچہ کے زیرِ اثر زندگی گزارنے لگے۔اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسب آپ بن جائے، وہ اپنی نگرانی خود کرنے لگے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C16",
      "chapter_title": "دنیا اور آخرت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C16P01",
          "text": "انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے درمیان شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا اس کے لیے حقیقی دنیا(real world)  ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیاimaginary world) )ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کی سطح پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کے لیے کوئی حقیقی جگہ باقی نہیں رہتی۔یہ انسان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے نہ کہ دنیا رخی سوچ۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P02",
          "text": "انسان کو اس معاملہ میں بے راہ روی سے بچانے کے لئے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسائل کی دنیا (دار الکبد) بنا دیا۔ یہ مسائل انسان کے لئے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لئے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P03",
          "text": "زندگی کی یہی حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیاہے:  وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ  (2:155)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرہ کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P04",
          "text": "زندگی کےامتحان میں صبر کا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہر صورتِ حال میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ وہ انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ درست راستے سے ہٹ کر کسی اور طرف چل پڑے۔ صبر آدمی کو ہر حال میں اصول کی روش پر قائم رکھتا ہے۔ صبر کے بغیر اس امتحان میں پورا اترنا ممکن نہیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C17",
      "chapter_title": "تاریخ کا سفر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C17P01",
          "text": "قرآن کی سورہ نمبر 93 کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَلْآخِرَةُ خَیْرٌ لَکَ مِنَ الْأُولَى (الضحیٰ :4)اور یقینا تمھارا اگلا، تمھارے لیے پچھلے سے بہتر ہے۔ قرآن کا یہ بیان کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انسانی تاریخ کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے تاریخ کا بعد کا دور ان کے پچھلے دور سے بہتر ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P02",
          "text": "قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا ۔ اس وقت اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا ہے۔  یہ عمل بڑھتا رہے گا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں ایک نیا دور آجائے، ایک ایسا دور جو اہل ایمان کے لیے پچھلے تمام ادوار سے بہتر حالات والا دور ہوگا۔ اکیسویں صدی اسی تبدیلی کا نقطۂ انتہا (culmination) ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P03",
          "text": "قدیم دور مذہبی جبر کا دور تھا، موجودہ دور مذہبی آزادی کا دور ہے۔ قدیم دور حافظہ اور کتابت کا دور تھا، اب پرنٹنگ پریس کا دور ہے۔ قدیم دور روایتی دور تھا، موجودہ دور سائنسی دور ہے۔ قدیم دور تنگ نظری کا دور تھا، موجودہ دور کھلے پن (openness)کا دور ہے۔ قدیم دور لوکل دعوت کا دور تھا، موجودہ دور ٹکنالوجی کے ذریعے عالمی دعوت کا دور ہے، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P04",
          "text": "اسی طرح قدیم دور جنگ اور تشدد کا دور تھا، موجودہ دور امن کا دور ہے۔ قدیم دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی چیز صرف لڑائی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے، موجودہ دور میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک بڑے مقصد کو مکمل طور پر امن ذریعے سے حاصل کیا جاسکے۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P05",
          "text": "اس فرق کا سب سے بڑا ظاہرہ دعوت اور تبلیغ کے میدان میں ہوا ہے۔ قدیم زمانے میں دعوت و تبلیغ کا کام پر امن طور پر کرنا ممکن نہیں تھا۔ موجودہ زمانے میں پر امن دعوت کا کام انتہائی حد تک ممکن ہوگیا ہے۔ قدیم زمانے میں دعوت کا کام صرف لوکل طور پر انجام دیا جاسکتا تھا، اب دعوت کا کام عالمی طور پر انجام دیا جا سکتا ہے، وغیرہ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C18",
      "chapter_title": "توسط اور اعتدال",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C18P01",
          "text": "حدیث میں آیا ہے :خیر الأمور أوساطہا۔(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر:  6175) یعنی معاملات میں درمیانی طریقہ خیر کا طریقہ ہوتا ہے۔ یعنی عملی رعایت کا طریقہ۔ دین میں اعتدال کی بہت اہمیت ہے مگر اعتدال کی اہمیت با اعتبار ابدی اصول نہیں ہے بلکہ اس کی اہمیت عملی حکمت (practical wisdom)کی بنا پر ہے۔ دوسرے الفاظ میںاعتدال کا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عملی ضرورت کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P02",
          "text": "ایک یہ کہ اعتدال کا تعلق عقائد سے نہیں ہے بلکہ معاملات سے ہے۔ اعتدال اصولی معاملات میں نہیں ہوتا بلکہ اعتدال عملی معاملات میں ہوتا ہے۔ جہاںتک اصول یا عقیدہ کامعاملہ ہے، اس میںہمیشہ معیار (ideal) مطلوب ہوتاہے۔ اور معیار کے معاملہ میں سچائی صرف ایک ہوتی ہے۔ اس میں کوئی متوسط راستہ یا غیر متوسط راستہ نہیں ہوتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P03",
          "text": "دوسری بات یہ ہے کہ اعتدال کی اہمیت عملی ضرورت کی بنا پر ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کو فکر کی آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر انسانوں کے درمیان عملی اختلافات پیدا ہوتےہیں۔ ان اختلافات کو ختم کرنا اور سارے انسانوں کوایک طریقہ کا پابند بنانا ممکن نہیںہوتا۔ اس بنا پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس طرح کے معاملہ میںاعتدال وتوازن (balance) کا طریقہ اختیارکرو کہ لوگوں کے درمیان ٹکراؤ نہ ہو اور زندگی کا نظام پرامن انداز میں چلتا رہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P04",
          "text": "اس اعتدال کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے بلکہ عمل سے ہے۔ عقیدہ ہمیشہ ابدی اصول پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں توسط کا سوال نہیں۔ عمل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ عمل کا تعلق ظاہری فارم سے ہوتا ہے۔ ظاہری فار م میں حالات کی نسبت سے ایڈجسٹمنٹ کیا جاسکتا ہے تاکہ ٹکراؤ کی صورت پیدا نہ ہو۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C19",
      "chapter_title": "امت مسلمہ کی اصلاح",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C19P01",
          "text": "امام مالک (وفات 197 ھ) دوسری صدی ہجری کے ایک عظیم مسلم اسکالر تھے۔ انھوں نے اپنے شیخ وہب ابن کیسان کے حوالے سے کہا : إنہ لا یصلح آخر ھذہ الأمۃ إلا ما اصلح أولھا (مسند الموطا للجوہری: 783) یعنی اس امت کے آخری حصہ کی اصلاح بھی اسی طریقہ پر ہوگی جس سے امت کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی تھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P02",
          "text": "اس قول کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ بعد کا زمانہ، بدلا ہوا زمانہ ہوگا۔ اس لیے اس قول سے بعد کے زمانہ میں رہنمائی کے لیے ضروری ہے کہ بعد کے زمانے کے اہل علم یہ دریافت کریں کہ بعد کے زمانے کے حالات کے اعتبار سے اس کا انطباقِ نو (reapplication) کیا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P03",
          "text": "اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں زمانہ کے فرق کو سمجھا جائے۔ مثلا ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ امت کا دورِ اول تھا۔ اس وقت دنیا میں تشدد کلچر (culture of violence) کا رواج تھا۔ اس لیے اس زمانے کے اہل ایمان کو دفاعی طور پر لڑائی کے میدان میں جانا پڑا۔ موجودہ زمانہ امن کلچر  (culture of peace) کا زمانہ ہے۔ اس لیے اب زمانے کے تقاضے کے مطابق اسلامی مشن کی منصوبہ بندی پر امن انداز میں کرنی ہوگی۔ اگر اس فرق کو نہ سمجھا جائے تو منصوبہ بندی غلط ہوجائے گی۔ اور غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P04",
          "text": "امت کی اصلاح بلاشبہ ایک اہم کام ہے۔ لیکن اصلاح کے لیے اٹھنے سے پہلے یہ دریافت کرنا ہوگا کہ حالات کی رعایت سے اصلاح کا موثر طریقہ کیا ہے۔ موثر طریقہ وہ ہے جس کا مثبت انجام برآمد ہو، جو کسی نئے مسئلے کو پیدا کیے بغیر امت کی اصلاح کا کام انجام دے۔ کوئی کام اصلاح کا ٹائٹل دینے سے اصلاح کا کام نہیں بن سکتا۔ اصلاح کا کام وہ ہے جو نتیجہ کے اعتبار سے اصلاح پیدا کرے۔ کسی کام کو جانچنے کا معیار نتیجہ ہے، نہ کہ دعوی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C20",
      "chapter_title": "تعلق باللہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C20P01",
          "text": "تعلق باللہ کے سلسلے میں جو آیتیں قرآن میں آئی ہیں ، ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (2:186)یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، مَیںپکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہئے کہ وہ میری بات کو مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P02",
          "text": "قرآن کی اس آیت میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ اللہ پکار کا جواب دیتا ہے۔ لیکن یہ جواب کس صورت میں آتا ہے، اس کا ذکر اس آیت میں نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت آنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بندے کو داخلی اعتبار سے شرحِ صدر ہوجائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P03",
          "text": "اس شرحِ صدر کو دوسرے الفاظ میں الہام(inspiration) کہا جاسکتا ہے۔ مثلا حضرت آدم کی یہ دعا قرآن میںان الفاظ میں مذکور ہوئی ہے: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ (7:23) ۔ اس دعاء کے بارے میں غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ دعا ء کوئی وحی نہ تھی، بلکہ وہ الہام یا القاء کی صورت میں حضرت آدم کو حاصل ہوئی۔ اسی طرح حضرت یونس کے بارے میں آیا ہے:  فَنَادَى فِی الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ (21:87) یہ دعاء بھی بظاہر وحی نہ تھی، بلکہ وہ حضرت یونس کے خود اپنے اندرسے اعترافِ خطا کے بعد سے نکلی۔ بندہ اگر سچے دل سے اپنے رب کو پکارے۔ پھر شرح صدر کی صورت میں اس کے دل میں کوئی بات آجائے، یا وہ کوئی واضح خواب دیکھ لے، یا اس کا ذہن کسی امر کی طرف منتقل ہوجائے توقرین ِ قیاس یہ ہے کہ اس طرح کا ہر تجربہ اللہ کی طرف سے بطور جواب آیا ہے۔ تاہم بندے کو ایسا سمجھنے کا حق صرف اس وقت ہے جب کہ اس کا ذہن اور اس کا ضمیر اور اس کا فہم دین پوری طرح اس کی صداقت پر مطمئن ہوجائے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C21",
      "chapter_title": "تحریک اور دعاء",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C21P01",
          "text": "تحریک (movement) دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ تحریک جو عوامی بنیاد (popular base) کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ یعنی ایک چیز جس کے لیے لوگوں کے اندر پہلے سے جذبہ موجود ہو، اس کے لیے تحریک برپا کرنا۔ ایسی تحریک میں نفسیاتی طور پر اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ داعی باخع النفس (26:3) بن کر اللہ سے دعا کرے۔ جو قائدعوامی جوش و خروش والے کام کے لیے کھڑا ہو اس کے پیچھے اپنے آپ لوگوں کی بھیڑ جمع ہوجائے گی۔ ایسی تحریک میں کامیابی کےلیے پرجوش خطابت کافی ہوتی ہے۔ چناں چہ جو لوگ ایسی تحریک کے لیے اٹھیں، ان کے اندر نفسیاتی طور پر یہ جذبہ پیدا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مشن کی کامیابی کے لیے اللہ سے دعا کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P02",
          "text": "مثلا ریلیف ورک، سوشل ورک، ملی ورک، فلاحی ورک، اور قومی کام ، وغیرہ ۔ یہ وہ کام ہیں جن کا تقاضا ہمیشہ پہلے سے لوگوں کے ذہن میں شدت سے موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اس طرح کے عوامی کام کے لیے لوگوں کو صرف کال (call)دینا کافی ہوتاہے۔ لوگ پکار سنتے ہی اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اس طرح کے اشو پر جب کوئی جلسہ کیا جائے تو ایسا جلسہ اپنے آپ ایک ’’عظیم الشان جلسہ‘‘ بن جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P03",
          "text": "دعوت الی اللہ کا کام اس کے برعکس کام کی مثال ہے۔ دعوت الی اللہ ایک ایسا کام ہے جس کے لیے پیشگی طور پر لوگوں کے اندر جوش و خروش موجود نہیں ہوتا۔ دعوت الی اللہ کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان اپنے اندر منفی سوچ کو ختم کرے، اور مثبت سوچ کو پیدا کرے۔ وہ لوگوں سے نفرت کے بجائے محبت کرنا سیکھے، وہ لوگوں کے ظلم کو بھلا کر یک طرفہ طور پر ان کا خیر خواہ بنے ۔ کسی دنیوی کشش کے بغیر صرف آخرت کے جذبے کے تحت لوگوں کو اللہ کی طرف پکارنے کے لیے اٹھے۔ وہ ظالم اور مظلوم کی مساوات (equation) کو کامل طور پر چھوڑدے، اور داعی اور مدعو کی مساوات (equation) کو دل سے اختیار کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P04",
          "text": "دعوت الی اللہ کا یہ کام عوامی ذوق کے خلاف ایک کام ہے۔ اس بنا پر بنی بنائی بھیڑ اس کے لیےکبھی موجود نہیں ہوتی۔ ایسی تحریک کا ساتھ صرف وہ لوگ دیتے ہیں جو تلاشِ حق کا جذبہ اپنے اندر رکھتے ہوں۔ ایسے لوگ کہیں ایک جگہ موجود نہیں ہوتے۔ وہ مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اکٹھا کرکے ایک ٹیم بنانا کسی انسان کے بس میں نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے دعوت الی اللہ کی تحریک اپنے آغاز ہی سے ایک مبنی بر دعاء تحریک بن جاتی ہے۔ داعی کو اول دن سے دعا کو اپنی تحریک کا لازمی جزء بنانا پڑتا ہے۔ کیوں کہ یہ صرف اللہ عالم الغیب ہے جو جانتا ہے کہ حق کے متلاشی افراد کہاں کہاں موجود ہیں۔ وہ اس قسم کے بکھرے ہوئے افراد کو منتخب کرکے  ان کو داعی کا ساتھی بنا دیتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P05",
          "text": "ہر تحریک کی ایک نفسیات ہوتی ہے۔ ہر تحریک اپنی نفسیات کے اعتبار سے تحریک کے داعی کے اندر مخصوص مزاج بناتی ہے۔ مثلاً عوامی تحریک عملا ایک انسان رخی تحریک ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ کس طرح وہ بات کہی جائے جو عوام کے اندر جوش خروش پیدا کرے، اور وہ تحریک کی حمایت کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اس کے برعکس، دعوت کی تحریک ایک خدا رخی تحریک ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ سے نصرت کی دعا کی جائے، زیادہ سے زیادہ اللہ کو اپنی مدد کے لیے پکارا جائے۔ دعوت کی تحریک میں جو درجہ اللہ کا ہوتا ہے، عوامی تحریکوں میں وہی درجہ عملا ًعوام کا بن جاتا ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام میں داعی کا کنسرن (concern)اللہ ہوتا ہے۔ جب کہ عوامی ذوق کا کام کرنے والوں کے لیے خود عوام اس کا کنسرن (concern) بن جاتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P06",
          "text": "عوامی تحریک کی کامیابی یہ ہے کہ عوام کی بھیڑ اس کے گرد جمع ہوجائے۔ اس کے نام پر بڑے بڑے جلسے ہونے لگیں۔چندا دینے والے اس کے نام پر اپنی جیبیں خالی کردیں۔ اس کے برعکس، دعوت الی اللہ کے کام کی کامیابی یہ ہے کہ وہ وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ (22:40) کی مصداق بن جائے۔اس کی مجالس میں فرشتے شرکت کریں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C22",
      "chapter_title": "خواص کی ذمہ داری",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C22P01",
          "text": "ایک حدیثِ رسول میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:من سن سنة حسنة فعمل بہا، کان لہ أجرہا ومثل أجر من عمل بہا، لا ینقص من أجورہم شیئا، ومن سن سنة سیئة فعمل بہا، کان علیہ وزرہا ووزر من عمل بہا، لا ینقص من أوزارہم شیئ (ابن ماجہ، حدیث نمبر 203)یعنی جس شخص نے  ایک اچھی سنت قائم کی پھر اس نے اس پر عمل کیا، تو اس کو اپنے عمل کا اجر ملےگا، اوراس کے برابر بھی جس نے اس طریقے پر عمل کیا، بغیر اس کے کہ دوسرے عمل کرنے والےکے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جس نے ایک بری سنت قائم کی اور اس پر عمل کیا، تواس پر اس کا بوجھ ہوگا، اور ان لوگوںکا بوجھ بھی جنھوں نے اس کے طریقے پر عمل کیا، بعد والوں کے بوجھ میں کسی کمی کے بغیر۔"
        },
        {
          "para_id": "C22P02",
          "text": "اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عام لوگوں کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ خواص کی نسبت سے ہے۔ یعنی ایسے اشخاص کی نسبت سے جو لوگوں کے لیے قابل تقلید بن جائیں، اور بعد کے لوگ ان کے نمونے کی پیروی کریں۔ آج کل کی زبان میں ایسے افراد کو ٹرینڈ سیٹر (trendsetter) کہا جاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C22P03",
          "text": "اس سے معلوم ہوتا ہےکہ کسی گروہ کے خواص کی ذمے داری بہت زیادہ ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ کوئی کام کرنے سے پہلے بہت زیادہ سوچیں۔ کیوں کہ وہ جس کام کو کریںگے، دوسرے لوگ خود بھی ویسے ہی کرنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ وہ رواج بڑھتا رہے گا، اور یہ ناممکن ہوجائے گا کہ لوگوں کو اس سے روکا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواص کی ذمے داری عوام کی ذمے داری سے بہت زیادہ ہے۔ہر سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ افراد کو خواص کا درجہ مل جاتا ہے۔ جن کی تقلید دوسرے لوگ کریں۔ ایسے لوگوں کو اپنے عمل کے معاملے میں بےحد محتاط ہونا چاہیے۔اس معاملے میں کوئی عذر ان کے لیے عذر نہیں بن سکتا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C23",
      "chapter_title": "با اصول زندگی کی قیمت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C23P01",
          "text": "مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ با اصول زندگی کی بنا پر اس کو جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اس کو قرآن میں ایمانی آزمائش کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے یہ ہیں: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تمھارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اﷲ کی مدد قریب ہے۔ (2:214) کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو ان سے پہلے تھے، پس اﷲ ان لوگوں کو جان کر رہے گا جو سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی ضرور معلوم کرے گا۔ (29:2-3)"
        },
        {
          "para_id": "C23P02",
          "text": "اہل ایمان پر یہ آزمائش بارش کی طرح آسمان سے نہیں آتی، بلکہ روز مرہ کی زندگی میں معمول کے حالات کے تحت آتی ہے۔ مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس آزمائش کو پہچانے اور اس میں صبر کا ثبوت دے تاکہ وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P03",
          "text": "قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس لیے یہ آزمائشی حالات اکثر تشدد کی صورت میں پیش آتے تھے۔ اب مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔اب اہل ایمان پر جو آزمائش آئے گی، اس کی صورت مختلف ہوگی۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P04",
          "text": "موجودہ زمانے میں اہل ایمان پر جو آزمائش آئے گی، وہ زیادہ تر نفسیاتی معنی میں ہوگی۔ یعنی ایسے حالات جو انسان کی ایگو (ego) کو بھڑکائیں، ایسے حالات جو انسان کے اندر نفرت کا جذبہ پیدا کریں، ایسے حالات جو انسان کو حق کے راستے سے دور کرنےوالے ہوں، ایسے حالات جو انسان کو بددل کرنے والے ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کے حالات میں انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائے، اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت سوچ پر قائم رکھے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C24",
      "chapter_title": "گفتگو کا علمی انداز",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C24P01",
          "text": "دو پتھروں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جائے تو اس ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ظہور میں آتی ہے، اور وہ چنگاری (sparking) ہے۔ یہی معاملہ انسانی دماغ کا ہے۔ دو دماغ اگر باہم ٹکرائیں تو وہاں بھی ایک تیسری چیز ظہور میں آئےگی۔یہ ایک نیا تصور (new idea) ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کہا جاتا ہے۔ ذہنی ارتقا کبھی پر سکون حالات میں پیدا نہیں ہوتا۔ ذہنی ارتقا ہمیشہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کہ کسی دھماکے سے کسی انسان کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) وجود میں آئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P02",
          "text": "اس معاملے میں فکری اختلاف (dissent) کا بہت بڑا رول ہے۔ دو انسانوں کے درمیان فکری اختلاف ہو اور پھر دونوں کے درمیان انتہائی آبجیکٹیو (objective) انداز میں کھلا تبادلۂ خیال (open discussion) ہو۔ دونوں کسی ریزرویشن کے بغیرخالص علمی انداز میں اپنا اپنا نقطۂ نظر بیان کریں۔ دونوں میں سے کوئی مشتعل نہ ہو، بلکہ دونوں خالص دلائل کی روشنی میں تبادلۂ خیال کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P03",
          "text": "اس قسم کی گفتگو کو علمی تبادلۂ خیال (scientific discussion) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی گفتگو اگر کامل غیر جذباتی انداز میں کی جائے تو اس کے بعد ہمیشہ یہ ہوگا کہ ایک تیسرا آئیڈیا ایمرج (emerge) کرے گا جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) کرتی ہے۔اس مثبت اختلاف کی شرط صرف یہ ہے کہ دونوں فریقوں میں سے ہر فریق خالص دلائل کی روشنی میں اظہارِ خیال کرے، وہ الزام تراشی کی زبان ہر گز اختیار نہ کرے۔اس قسم کی گفتگو کو قرآن میںمجادلۂ احسن (16:125) کہا گیا ہے۔مجادلۂ احسن وہ ہے جس میں اپنی بات کو کنڈیشننگ سے اوپر اٹھ کرریزن (reason) کی بنیاد پر کہا جائے، اوردوسروں کی بات کو کنڈیشننگ سے اوپر اٹھ کر ریزن (reason) کی بنیاد پر سنا جائے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C25",
      "chapter_title": "سپورٹنگ رول",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C25P01",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب انسان (آدم) کو پیدا کیا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم انسان کے آگے سجدہ کرو۔ یہ سجدہ، سجدۂ عبادت نہ تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ انسان کو زمین پر آباد کیا جائے گا اور فرشتوں کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ انسان کے ساتھ سپورٹنگ رول اداکریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C25P02",
          "text": "حضرت نوح نے جب کشتی بنائی تو اس وقت اللہ نے ان سے کہا :  وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا(11:37) یعنی اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق تم کشتی بناؤ۔یہ صرف ایک کشتی کا معاملہ نہ تھا بلکہ وہ انسان کے ساتھ کیا جانے والاعام معاملہ تھا۔ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو وہ فرشتوں کے سپورٹ سے کرتا ہے۔ فرشتوں کے سپورٹ کے بغیر انسان کوئی کام نہیں کرسکتا۔ موجودہ زمانے میں انسان نے جو تہذیب بنائی ہے، وہ بلاشبہ انسان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ یہ کارنامہ بھی بلاشبہ فرشتوں کے سپورٹ سے انجام پایا ۔ گویا کہ تہذیب کے آغاز میں اللہ نے انسان سے کہا : اصنع الحضارۃ بأعیننا و وحینا یعنی تہذیب کی تشکیل کرو، فرشتے اس معاملے میں تمہاری مدد کریں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C25P03",
          "text": "فطرت کا یہی اصول انسان اور انسان کے درمیان بھی مطلوب ہے۔ انسان جب کوئی بڑا کام کرتا ہے تویہ کام بہت سے لوگوں کے تعاون سے انجام پاتا ہے۔فطرت کے نظام کے مطابق، اس تعاون میں کسی انسان کا قائدانہ رول ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کا سپورٹنگ رول۔انسانی سپورٹ کے بارے میں اس اصول کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:  وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا (43:32) یعنی اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں ۔"
        },
        {
          "para_id": "C25P04",
          "text": "انسانوں کے درمیان صلاحیتوں کا فرق ہے۔ یہ فرق اسی لیے ہے کہ لوگوں کے درمیان باہمی تعاون وجود میںآئے۔ اگر تمام لوگ یکساں صلاحیت کے ہوں تو تعاون ممکن نہ ہوگا۔ لوگوں کو چاہیے کہ فطرت کے اس نظام کو سمجھیں، اور اپنی صلاحیت کے مطابق اپنا رول ادا کرنے پر راضی ہوجائیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C26",
      "chapter_title": "چمنستانِ معرفت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C26P01",
          "text": "جنت (Paradise) کیا ہے۔  جنت کی سب سے اعلی صفت یہ ہے کہ وہ معرفت خداوندی کا چمنستان ہے۔ موجودہ دنیا بھی دنیائے معرفت ہے اور جنت بھی دنیائے معرفت ۔ مگر فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے مقابلے میں جنت اعلی ترین معرفت کا مقام ہے۔ یہ ابدی بھی ہے اور معیاری معنوں میں دنیائے معرفت بھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C26P02",
          "text": "انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک متلاشی (seeker) مخلوق ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے کسی اعلی چیز کو پانا چاہتا ہے۔ یہ اعلیٰ چیز بلاشبہ انسان کا خالق ہے۔ شعوری یا غیرشعوری طور پر انسان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کو پائے، وہ اپنے خالق کو دریافت کرے، وہ اپنے خالق کی معرفت کے سائے میں زندگی گزارے، وہ ایک ایسی دنیا کو پالے جہاں اس کے اور خالق کے درمیان غیب کا پردہ باقی نہ رہے۔ وہ اپنے خالق کو اسی طرح کامل معنوں میں پالے جس طرح اس کی فطرت اس کو پانا چاہتی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C26P03",
          "text": "انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ خوشی(happiness) کا طالب ہے۔  مگر یہ خوشی اس کو موجودہ دنیا میں نہیں ملتی۔یہ خوشی اپنے کامل معنوں میں جنت میں صرف ان خوش نصیب انسانوں کو ملے گی جو اللہ کی رحمت سے جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔جنت خدا کے ظہور کا مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی خدا اپنے صفات کے ساتھ ظاہر ہے۔ مگر موجودہ دنیا میںانسان کو دیدار الٰہی کا کامل تجربہ نہیں ہوتا ۔ اس کا سبب انسان کی اپنی کوتاہی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C26P04",
          "text": "موجودہ دنیاایک ناقص دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں جنت کی دنیا انتہائی حد تک کامل دنیا ہوگی۔ اس لیے جنت میں اُس اعلی معرفت کا حصول ممکن ہوجائے گا جس کا حصول موجودہ دنیا میں ممکن نہ تھا۔ اہل جنت کو صرف جنت میں داخلہ ہی نہیں ملے گا، بلکہ وہ اعلیٰ خصوصیت بھی ملے گی جو ان کو جنت کے اعلی معیار پر صاحبِ معرفت بنادے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C27",
      "chapter_title": "اچانک زلزلہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C27P01",
          "text": "26اکتوبر2015 کو ایک زلزلہ آیا۔ اس کا مرکز ہندوکش پہاڑ تھا۔ اس زلزلے کے جھٹکے پاکستان، افغانستان، نیپال اور انڈیا میں محسوس کیے گیے۔ زلزلے کےجھٹکے محسوس کرتے ہی لوگ خوف زدہ ہوگیے اور اپنے گھروں اور اپنے دفتروں سے باہر نکل آئے۔ بعض مقامات پر جانی اور مالی نقصان بھی پیش آیا۔ زلزلہ انسان کے لیے ایک بھیانک تجربہ ہے۔ زلزلہ ہمیشہ بالکل اچانک آتا ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے میں پیشگی طور پر احتیاطی تدبیر ممکن نہیں ہوتی۔"
        },
        {
          "para_id": "C27P02",
          "text": "ہمیشہ سے انسان یہ سوچتا رہا ہے کہ وہ زلزلہ سے پیشگی طور پر آگاہ ہوجائے تاکہ اس سے بچنے کی تدبیر کی جاسکے۔ موجودہ سائنسی دور میں مزید اضافہ کے ساتھ اس معاملے کی تحقیق کی گئی۔ مگر ابھی تک اس معاملے میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ 1970کی دہائی میں سائنس داں یہ سمجھتے تھے کہ وہ زلزلے کی پیشگی علامت کو دریافت کرلیں گے۔ مگر تحقیق میں مسلسل ناکامی کے بعد 1990 کی دہائی میں یہ مان لیا گیا کہ زلزلہ کے آمد کی پیشگی خبر سائنسی طور پر جاننا ناممکن ہے، حتی کہ ایک سکنڈ پہلے بھی نہیں:"
        },
        {
          "para_id": "C27P03",
          "text": "In the 1970s, scientists were optimistic that a practical method for predicting earthquakes would soon be found, but by the 1990s continuing failure led many to question whether it was even possible... many others now maintain that earthquake prediction is inherently impossible."
        },
        {
          "para_id": "C27P04",
          "text": "قرآن میں قیامت کو بڑازلزلہ (22:1)  بتایا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قیامت کا زلزلہ بالکل اچانک (43:66) آئے گا۔اس کے مطابق،زمین پر آنے والے موجودہ زلزلے گویا چھوٹے زلزلے ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں قیامت ایک زلزلۂ عظیم ہے۔ زلزلۂ صغیر اس لیے آتا ہے کہ انسان بیدار ہوجائے، اور زلزلۂ عظیم کی پیشگی تیاری کرے۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ زلزلۂ عظیم اچانک آجائے جب کہ انسان نے اس کی کوئی تیاری نہ کی ہو۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C28",
      "chapter_title": "پست ہمتی نہیں",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C28P01",
          "text": "قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ۔ (3:146)یعنی اللہ کی راہ میں جو مشکلات ان پر آئیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ ا ٓیت میں سبیل اللہ سے مراد سبیل الجہاد نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے حالات سے ہے۔ یعنی ناموافق حالات میں صبر کی روش پر قائم رہنا اور کسی حال میں پست ہمت نہ ہونا۔"
        },
        {
          "para_id": "C28P02",
          "text": "میدانِ جنگ (battlefield) کا مسئلہ تو کبھی پیش آ تا ہے ،اور کبھی پیش نہیں آتا ۔ اس آیت کا تعلق اس قسم کے اتفاقی واقعے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق روز مرہ کی زندگی سے ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس بنا پر دنیا ہمیشہ مسائل کا جنگل بنی رہتی ہے۔ ایسی دنیا میں ایک بااصول انسان کے لیے زندگی گزارنا گویا جھاڑی کے درمیان سفر کرنا ہے۔ بااصول انسان اگر حالات سے گھبراجائے تو وہ اپنے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، مسائل پر صبر کرنا اور اپنے ذہن کو ہمیشہ اصول پر جمائے رکھنا۔"
        },
        {
          "para_id": "C28P03",
          "text": "صبر کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام معاملے سے ہے— درست طور پر سوچنا، درست طور پر بولنا، درست طور پر عمل کرنا، لوگوں کے ساتھ تعلقات میں درست رویہ پر قائم رہنا۔ ہر چیز کا تعلق صبر سے ہے۔ صبر کا مطلب عزم سے ہے۔ باعزم انسان وہ ہے جو صابر انسان ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایک باعزم انسان بنے ۔ وہ کسی بھی معاملے میں اپنے عزم کو نہ کھوئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C28P04",
          "text": "صبر با مقصد انسان کے لیے ایک اعلی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔صبر کے بغیر، بامقصد زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ صبر واحد چیز ہے جوایک بامقصد انسان کو ہر حال میں اپنے مقصد پر قائم رکھتا ہے۔صبر نہیں تو بامقصد زندگی بھی نہیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C29",
      "chapter_title": "فکر کی تشکیل",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C29P01",
          "text": "اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی فکری شخصیت کیسے بنی۔ وہ کون عالم یا مفکر ہے جس سے آپ سب سے زیادہ انسپائر (inspire)  ہوئے۔ آپ کی فکر کی تشکیل میں سب سے زیادہ اثر کس شخصیت کا ہے۔ میرا جواب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی مسلم یا غیر مسلم اسکالر یا تھنکر ایسا نہیں ہے جس کے مطالعے سے میری فکر ی شخصیت کی تشکیل ہوئی ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C29P02",
          "text": "میری پرورش ابتداء ً فطرت (nature) کے ماحول میں ہوئی۔ اس کے بعد میں نے اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کتابوں کا وسیع مطالعہ کیا۔ یہ مطالعہ غیر متعصبانہ انداز میں تھا۔ میں یہ کہہ سکتاہوں کہ اس مطالعے نے مجھ کو جو سب سے بڑا تحفہ دیا، وہ موضوعی طرز فکر (objective thinking) کا تحفہ تھا۔ اس طرز فکر کو دوسرے الفاظ میں ایز اٹ از تھنکنگ(as it is thinking) کہا جاسکتا ہے۔ مذہبی مطالعہ اور سیکولر مطالعہ، دونوں قسم کے مطالعہ میںیہی اصول میرا رہنما اصول رہا ہے۔ اسی اصول سے میں نے اسلام کو اس کے گہرے معنی کے اعتبار سے سمجھا ۔ اسی اصول کی بنا پر مجھے مغربی فکر (Western thought) کی صحیح معرفت حاصل ہوئی۔"
        },
        {
          "para_id": "C29P03",
          "text": "ابتداء ًیہ اصول مجھے مغربی سائنس کے مطالعے سے ملا تھا۔ مزید مطالعے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ یہ اصول ایک حدیث رسول میں نہایت واضح انداز میں موجود ہے۔ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے اپنی دعا میں فرمایا  اے اللہ، ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور ہم کو اس کی اتباع کی توفیق دے، اے اللہ، ہمیں باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور ہم کو اس سے بچنے کی توفیق دے۔اور اے اللہ، ہمیں چیزوں کو ویسے ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C29P04",
          "text": "میں اپنے تجربے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ موضوعی تفکیر (objective thinking) بے حد مشکل کام ہے۔ اس کو درست طور پر حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی کامل معنوں میں اپنی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرے۔ یہی حقیقت کو پانے کا اصل سرا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C30",
      "chapter_title": "کوئی دشمن نہیں",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C30P01",
          "text": "پچھلے زمانے میں کوئی کسی کا دوست ہوتا تھا ، اور کوئی کسی کا دشمن۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب کوئی نہ کسی کا دوست ہے، اور نہ کوئی کسی کا دشمن۔ اب ہر آدمی پرو سیلف (pro-self) ہے۔ ہر آدمی کا ایک ہی کنسرن (concern) ہے۔ اور وہ اس کا اپنا انٹرسٹ ہے۔ آج کا انسان اپنے انٹرسٹ میں اتنا گم ہے کہ اس کو کسی اور کے خلاف سوچنے کی فرصت نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P02",
          "text": "اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا فرق کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مواقع (opportunities)بہت محدود ہوتے تھے۔ مواقع پر ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) کا قبضہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں اصولی طور پر یہ صورتِ حال ختم ہوگئی ہے۔ اب تمام مواقع ہر آدمی کے لیے کھل گیے ہیں۔ اس لیے ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کے لیے دوڑ رہا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے اس دوڑ میں کسی کے پاس دوسرے کے خلاف سوچنے کا وقت نہیں۔ کسی کے پاس دوسرے کے خلاف دشمنی اور سازش کرنے کا وقت نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P03",
          "text": "حقیقت یہ ہے کہ دشمنی کا لفظ دور جدید کی ڈکشنری سے عملاً حذف ہوچکا ہے۔ اب اگر کوئی کسی کا دشمن بنتا ہے تو وہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو’’پتھر‘‘ مار کر اس کو مشتعل کردیا جائے۔ اگر آپ آبیل مجھے مار کی سیاست اختیار کرکے کسی کے ایگو (ego)کو چھیڑ دیں تو وہ ضرور آپ کو سینگ مارے گا۔ اگر آپ مکمل طور پر پر امن بن جائیں تو کوئی شخص نہ آپ کا دشمن ہوگا، اور نہ کوئی شخص آپ کے خلاف سازش کرے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P04",
          "text": "ایک حدیث رسول موجودہ زمانے میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہے: الفتنۃ نائمۃ لعن اللہ من أیقظھا (کنز العمال، حدیث نمبر 30891) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو جو اس کو جگائے— ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزاریے، اور پھر آپ کو کسی سے دشمنی کا تجربہ نہ ہوگا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C31",
      "chapter_title": "دردِ جنت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C31P01",
          "text": "ذوق دہلوی (وفات: 1854)ایک اردو شاعر تھے۔ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے ان کو خاقانِ ہند کا لقب دیا تھا۔ذوق دہلوی کا ایک شعر یہ ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C31P02",
          "text": "دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو  ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں"
        },
        {
          "para_id": "C31P03",
          "text": "دردِ دل ایک منفی صفت ہے۔ انسان جیسی اعلیٰ مخلوق کا مقصد حیات یقینی طور پر کوئی مثبت نشانہ ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے غور کیجیے تو انسان کا نشانہ صرف جنت ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا:"
        },
        {
          "para_id": "C31P04",
          "text": "دردِ جنت کے واسطے پیدا کیا انسان کو"
        },
        {
          "para_id": "C31P05",
          "text": "ہر انسان پیدائشی طور پر ایک اعلیٰ زندگی کی تلا ش میں ہوتا ہے۔ مگر وہ اس اعلی زندگی کو پائے بغیر مرجاتا ہے۔ یہ اعلی زندگی، جنت کی زندگی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان طالب جنت کی حیثیت سے اس دنیا میں آتا ہے، لیکن وہ ساری کوشش کے باوجود جنت کو نہیں پاسکتا ۔"
        },
        {
          "para_id": "C31P06",
          "text": "ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلی کو اگر صحرا (desert) میں ڈال دیا جائے تو وہ وہاں تڑپے گی۔ پھر اگر اس کو پانی میں ڈال دیا جائے تو اس کی تڑپ ختم ہوجائے گی۔ مچھلی اپنی فطرت کے اعتبار سے پانی کی طالب تھی۔ پھر جب اس کو پانی مل گیا تو وہ ایسی ہوگئی، جیسے اس کو سب کچھ مل گیا۔ اس دنیا کے خالق نے جس چیز کو مچھلی کے لیے مقدر کیا ہے، وہ مطلوب انسان کے لیے مقدر نہیں۔ یقینا انسان کے لیے بھی اس کا’’پانی‘‘ مقدر ہے۔ لیکن وہ مستحق انسان کے لیے موت کے بعد کے عرصۂ حیات میں ہے، نہ کہ موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں ۔"
        },
        {
          "para_id": "C31P07",
          "text": "لوگوں کو جنت کا علم ہے، لیکن انھیں جنت کا شعوری ادراک نہیں۔ اگر ان کو جنت کا شعوری ادراک ہو تو جنت کے سوا کوئی اور چیز ان کو مطمئن نہ کرے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C32",
      "chapter_title": "اچانک پیشی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C32P01",
          "text": "موت لازما ہر انسان پر آتی ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بیمار ہوتا ہے، وہ حادثے کا شکار ہوتا ہے، وہ خرابیٔ صحت کی بنا پر بیڈ ریڈن (bedridden) ہوجاتا ہے۔اور آخر میں پھر مر جاتا ہے۔ مگر کچھ موتیں ایسی ہیں جو اچانک آتی ہیں۔ جیسے انڈیا کے مشہور سائنسداں ڈاکٹر عبدالکلام جو 27 جولائی 2015 کو اچانک شیلانگ میں وفات پاگیے۔ اس وقت وہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر اپنا لکچر دے رہے تھے۔ آخری جملہ وہ مکمل نہیں کر پائے تھے کہ ان کا خاتمہ ہو گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C32P02",
          "text": "اچانک موت کا مطلب اچانک پیشی ہے۔اچانک موت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے اچانک مالک یوم الدین کی عدالت میں حاضر کردیا جائے۔ ایک ایسے مقام پر جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے :ما منکم من أحد إلا وسیکلّمہ اللہ یوم القیامة، لیس بین اللہ وبینہ ترجمان (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6539)۔ یعنی تم میں سے ہر ایک سے ضرور اللہ کلام کرے گا، اس طرح کہ اللہ اور انسان کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C32P03",
          "text": "ہر آدمی پر لازما موت کا لمحہ آنے والا ہے۔ خواہ وہ لمحہ اچانک آئے یا تاخیر کے ساتھ آئے۔ یہ تصور انسان کو ہلا دینے والا ہے کہ وہ بے اختیار و مددگار حالت میں  ایک دن اپنے آپ کو اس طرح پائے گا کہ ایک طرف وہ ہے اور دوسری طرف اللہ رب العالمین۔ اس پیشی کے بارے میں عمر بن خطاب نے فرمایا: تجہّزوا للعرض الأکبر (الزھد والرقائق لابن المبارک:306) یعنی بڑی پیشی کے لیے تیاری کرو۔"
        },
        {
          "para_id": "C32P04",
          "text": "بڑی پیشی کے لیے تیاری یہ ہے کہ آدمی اس سوچ کے ساتھ جئے کہ اس کو کوئی ایسی بات نہیں کرنا ہے جو اللہ رب العالمین کی عدالت میں قبول ہونے والی نہ ہو۔ وہ اپنے قول اور اپنے عمل کا اس اعتبار سے نگراں بن جائے ۔وہ اپنا محاسبہ آپ کرنے لگے۔ وہ شام کو سوئے تو اسی احساس کے ساتھ سوئے ، اور صبح کو جاگے تو اسی احساس کے ساتھ جاگے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C33",
      "chapter_title": "سازش کیا ہے",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C33P01",
          "text": "سازش (conspiracy)منفی کارروائی کی ایک قسم ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف خاموش تدبیر کرنا:"
        },
        {
          "para_id": "C33P02",
          "text": "Secret planning for some harmful purpose."
        },
        {
          "para_id": "C33P03",
          "text": "یہ طریقہ پوری تاریخ میں جاری رہاہے۔ کسی مشن کے مخالفین ہمیشہ دو طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک ہےکھلے طور پر اس کے خلاف عداوتی کارروائی کرنا۔ اور دوسرا ہے خاموش تدبیر کے ذریعے اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دونوں قسم کی مخالفت کی مثالیں ملتی ہیں۔ قدیم مکہ کے قریش نے آپ کے خلاف کھلی دشمنی کی۔قدیم مدینہ کے یہود بھی آپ کے مخالف تھے لیکن انھوں نے اپنی مخالفانہ کارروائیاں خاموش تدبیر کے انداز میں کیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C33P04",
          "text": "سازش دراصل بزدلانہ مخالفت کا دوسرا نام ہے۔ سازش ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو منافقانہ کردار کے حامل ہوں۔ یعنی اوپر سے بظاہر اچھے بنے رہنا، مگر اندر سے عناد (malice)رکھنا، اور عناد کے جذبے کے تحت خاموش انداز میں منفی تدبیریں کرنا۔ منفی تدبیر کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی بظاہر اچھا بنا رہے، لیکن اندر سے وہ منصوبہ بند انداز میں معاندانہ کارروائی کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C33P05",
          "text": "قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سازش کا طریقہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا(35:10)۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سازش کرنے والاخود تو اپنے عناد کی بنا پر، اپنی سازشی تدبیر کی کمزوری سے بے خبر رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگ جو کہ عناد کی نفسیات سے خالی ہوں، وہ اس کی بات کو عقل (reason) کی سطح پر جانچتے ہیں۔ جب وہ پاتے ہیں کہ اس کی باتوں میں کوئی معقولیت نہیں ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ معاند کو اپنے عناد کی بنا پر جو خامی نظر نہیں آتی، وہ غیرمعاند کو اپنی بے آمیز نفسیات کی بنا پر بآسانی دکھائی دیتی ہے۔ اس بنا پر سازشی انسان کی سازش دوسروں کی نسبت سے عملاً غیر موثر ہوکررہ جاتی ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C34",
      "chapter_title": "ذہین انسان کا مسئلہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C34P01",
          "text": "لارڈ کرزن (Lord Curzon)  1899سے 1905تک انڈیا میں برٹش وائسرائے تھے۔ وہ نہایت ذہین آدمی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ کسی کو اپنا برابر (equal)نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ اکثر ان کا لوگوں سے جھگڑا (quarrel) ہوجاتا تھا۔اپنی آخری عمر میں لارڈ کرزن شدید قسم کی بیماریوں کا شکار ہوئے۔وہ مایوسی کی حالت میں لندن میں 20مارچ 1925کو وفات پاگیے۔بوقت وفات ان کی عمر66 سال تھی ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ جو شخص زیادہ ذہین ہو، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھ لیتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کو اپنا ہم سر دکھائی نہیں دیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں سے نصیحت لینے اور دوسروں سے سیکھنے کا مزاج اس کے اندر ختم ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے آپ میں جینے لگتا ہے۔ چناں چہ ذہانت کے باوجود وہ کوئی بڑا کام نہیں کرپاتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C34P02",
          "text": "ذہانت فطرت کا ایک قیمتی تحفہ ہے، مگر ذہین آدمی اسی وقت کوئی بڑا کام کرپاتا ہے کہ جب کہ ذہانت کے ساتھ اس کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پائی جائے۔ جس انسان کے اندر ذہانت ہو، مگر اس کے اندر تواضع نہ ہو، وہ اپنے آپ کو درست طور پر استعمال (utilise) نہیں کرپائے گا۔ اس کو دوسروں سے صرف شکایت ہوگی۔ وہ ہر ایک سے نفرت کرنے لگے گا۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر ذہانت کے ساتھ تواضع کی صفت پائی جائے، وہ اس قابل ہوگا کہ اپنی ذہانت کو بھرپور طور پر استعمال کرے۔ وہ دوسروں کے لیے بڑے پیمانے پر کوئی مفید کام انجام دے۔تواضع وہ ہے جو کہ حقیقی تواضع ہو، نہ کہ ظاہری تواضع۔"
        },
        {
          "para_id": "C34P03",
          "text": "ذہانت خالق کی ایک عظیم نعمت ہے، جو کسی انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ مگر صرف ذہانت کافی نہیں۔ ذہانت کسی آدمی کو خالق کی طرف سے ملتی ہے، لیکن دوسری ضروری صفات آدمی کو خود اپنی کوشش سے اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً تواضع کی صفت، دوسروں سے سیکھنے کا جذبہ، دوسروں کے لیے خیرخواہ ہونا،دوسروں سے معتدل انداز میں ملنا، ہر ایک کوقابلِ عزت سمجھنا، وغیرہ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C35",
      "chapter_title": "اعترافِ حقیقت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C35P01",
          "text": "شاہ فاروق مصرکی علوی سلطنت کے بادشاہ تھے۔ آخری زمانے میں ان کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی۔ 1952میں ان کو تخت سے محروم کرکے اٹلی بھیج دیا گیا۔ جہاں 1965 میں ان کی وفات ہوئی۔ جب ان کی بادشاہت ان سے چھن گئی تو اس وقت انھوں نے ملک چھوڑتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اب دنیا سے بادشاہت کا دور ختم ہوگیا، آئندہ دنیا میں صرف پانچ بادشاہ ہوں گے— چار تاش کا اور ایک برطانیہ کا:"
        },
        {
          "para_id": "C35P02",
          "text": "‘The whole world is in revolt, soon there will be only five kings left: the king of spades, the kingof clubs, the king of hearts, the king of diamonds, and the king of England.’"
        },
        {
          "para_id": "C35P03",
          "text": "شاہ فاروق کی تخت سے معزولی کو عام طور پر فوجی انقلاب (military coup) کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ عالمی سیاسی انقلاب کا نتیجہ تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں جمہوری انقلاب آیا۔ اس کے بعد شخصی بادشاہت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ شاہ فاروق عربی زبان کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ انھوں نے دورِ حاضر کا مطالعہ کیا تھا۔ وہ تاریخ کے بارے میںاپنے مطالعہ کے ذریعے  جان چکے تھے کہ اب شخصی بادشاہت کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اس واقفیت کی بنا پر انھوں نے اپنی معزولی کو ایک ہونے والا واقعہ سمجھا۔ اس لیے انھوں نے اس کو ایک حقیقت کے طور پر مان لیا۔ اس اعترافِ حقیقت کی بنا پر وہ منفی نفسیات کا شکار ہونے سے بچ گیے۔ انھوں نے اپنی بقیہ عمر جلاوطنی میںپرسکون طور پر گزاری۔"
        },
        {
          "para_id": "C35P04",
          "text": "یہی زندگی کا راز ہے۔ زندگی میں آخری طور پر جو چیز باقی رہتی ہے، وہ ہماری آرزوئیں اور خواہشیں نہیں ہیں بلکہ فطرت کا قانون ہے۔ یہ قانون ہر فرد اور گروہ پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔ اگر انسان اس حقیقت کو جان لے تو وہ غصہ اور شکایت اور احتجاج اور تشدد سے اپنے آپ کو بچالے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C36",
      "chapter_title": "اعراض کی حکمت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C36P01",
          "text": "اعراض (avoidance) زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اعراض کا تعلق دعوتی مشن سے بھی ہے اور زندگی کے دوسرے معاملات سے بھی۔ اعراض کے اصول کو اختیار کیے بغیر اس دنیا میں کوئی بھی کام درست طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C36P02",
          "text": "اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر فرد اور ہر قوم کو خالق کی طرف سے آزادی حاصل ہے۔ ہر آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق اپنی آزادی کا استعمال کرے۔ زندگی کا یہی وہ معاملہ ہے جس کی بنا پر لوگوں کے درمیان اختلافات (differences) پیدا ہوتے ہیں۔ اختلاف اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے جس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C36P03",
          "text": "ایک شخص جس کی زندگی کا ایک مشن ہو، اس کو جاننا چاہیے کہ مشن کا لازمی اصول یہ ہے کہ آدمی اختلافی امور کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مشن چلائے۔ وہ دوسرے لوگوں سے الجھے بغیر مثبت ذہن کے ساتھ اپنے منصوبے کی تکمیل میں لگا رہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C36P04",
          "text": "اعراض کے اصول کی اہمیت جتنی دوسرے معاملات میں ہے، اس سے بہت زیادہ دعوت کے معاملے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام اعراض کے بغیر عملاً ممکن نہیں۔ دعوت کا نشانہ لوگوں کو آخرت سے باخبر کرنا ہے۔ اس مشن کو درست طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ داعی کے اندر یکسوئی کا مزاج ہو۔اس کےاندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اہل دنیا کی طرف سے چھیڑے ہوئے مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز (ignore) کرے۔ اور پوری یکسوئی کے ساتھ لوگوں کو آخرت کی طرف پکارتا رہے۔جو لوگ دعوت کانام لیں لیکن وہ اہل دنیا کی طرف سے چھیڑے ہوئے مسائل میں الجھے رہیں، وہ کبھی خدا کے یہاں داعی کا مقام حاصل نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگوں کی کوششیں دنیا میں حبطِ اعمال (18:104) کا شکار ہوجائیں گی، وہ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃ (22:11) کا مصداق ہوکر رہ جائیں گی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C37",
      "chapter_title": "سوال و جواب",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C37P01",
          "text": "عام تاثر یہ ہے کہ پوری دنیا کی غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے درپے ہیں، اور مسلم دنیا سازشوں کے نرغے میں ہے۔کیا یہ صحیح ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو اس کا حل کیا ہے۔ ( ایک کشمیری، سری نگر)"
        },
        {
          "para_id": "C37P02",
          "text": "اس قسم کی سوچ بلاشبہ غلط ہے۔ کیوں کہ وہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا کو امتحان کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے انسان کو خود خالق نے مکمل آزادی عطا کی ہے۔ اور جب آدمی اپنی آزادی کو استعمال کرے گا تو وہ صرف اپنے انٹرسٹ کو دیکھے گا، وہ دوسرے کے انٹرسٹ کو دیکھ کر اپنا منصوبہ نہیں بنائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کی آزادی دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں دوسرے انسان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلے کو چیلنج سمجھے۔ اور دوسرے سے لڑائی یا نفرت کیے بغیر اپنے لیے ترقی کا راستہ نکالے۔"
        },
        {
          "para_id": "C37P03",
          "text": "یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے:  وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ ۔ (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اورتقویٰ کا طریقہ اختیار کرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچا ئے گی۔ اس آیت میں جو رہنمائی دی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر تم کو دوسروں کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو سازش بتاکر احتجاج (protest) نہ کرو۔ بلکہ صورتِ حال کا بے لاگ مطالعہ کرکے مثبت بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ زندگی کے مواقع جس طرح ایک شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ دوسرے شخص کے لیے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ اس لیے کرنے کا اصل کام مواقع کو استعمال کرنا ہے ، نہ کہ دوسرے کے خلاف چیخ و پکار کرنا۔"
        },
        {
          "para_id": "C37P04",
          "text": "کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف چیخ و پکار کرنا، باعتبار نتیجہ صرف اپنی تباہی میں اضافہ کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔اس دنیا میں کامیابی کا راز صرف ایک ہےاور وہ ہے—  حالات کے مطابق درست منصوبہ بندی۔"
        },
        {
          "para_id": "C37P05",
          "text": "دعوۃ ورک اور سوشل ورک میں فرق کیا ہے،کیا انبیاء نے دعوۃ دورک کے ساتھ سوشل ورک بھی کیا ہے؟  (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمرآباد، تامل ناڈو)"
        },
        {
          "para_id": "C37P06",
          "text": "سوشل ورک انسانی خدمت کے اعتبار سے ایک اچھا کام ہے۔ لیکن سوشل ورک امتِ مسلمہ کا اصل مشن نہیں ۔ سوشل ورک لوگوں کو مسائلِ دنیا سے بچانے کے لیے ہوتا ہے۔ جب کہ پیغمبر کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو مسائلِ آخرت سے بچایا جائے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے جس کا ترجمہ یہ ہے: وہ بلند درجوں والا، عرش کا مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی بھیجتا ہے، تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے(40:15) ۔ اس مضمون کی آیتیں قرآن میں کثرت سے آئی ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ امت کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ یااُس ہدایت کو لوگوں تک پہنچانا ہے جو اللہ کی طرف سے لوگوں کے لیے اتاری گئی  ہے۔(5:67)"
        },
        {
          "para_id": "C37P07",
          "text": "دونوں قسم کےکاموں میں جو فرق ہے ، ان میں سے ایک اہم فرق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام میں داعی کے اندر تعلق باللہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اپنے عمل کے دوران وہ اللہ کو یاد کرتا ہے، اللہ سے دعائیں کرتا ہے، اللہ سے رہنمائی کا طالب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، سوشل ورک میں تعلق بالناس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، ساری توجہ انسانوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام میں اگر خدا رخی ذہن بنتا ہے تو سوشل ورک میں فطری طور پر انسان رخی ذہن کی پرورش ہوتی ہے۔دعوت الی اللہ کے کام میں اگر فرشتوں کی صحبت حاصل ہوتی ہے تو سوشل ورک میں ساری توجہ کا مرکز انسان بن جاتا ہے۔ دعوت الی اللہ میں مشغول لوگوں کے اندر اگر جنت اور جہنم کا چرچا ہوتا ہے تو سوشل ورک میں مشغول لوگوں کے اندر انسانوں سے متعلق خبروں کا چرچا ہونے لگتا ہے۔دعوت الی اللہ کے کام میں اگر کیفیت (quality) کی اہمیت ہوتی ہے تو سوشل ورک میں ساری اہمیت کمیت (quantity) کی ہوجاتی ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C38",
      "chapter_title": "خبرنامہ اسلامی مرکز — 240",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C38P01",
          "text": "1-  اگر دعوت کا کام پرامن انداز میں کیا جائے تو موجودہ دور میں مدعو خود آپ کو بلائے گا۔ اس کی ایک مثال دیکھیے۔4  جون 2015 کوسہارن پور کے ڈی آئی جی جناب ڈاکٹر اشوک کمار راگھو (آئی پی ایس) نے سی پی ایس ٹیم کو اپنے آفس میں انوائٹ کیا۔اس مناسبت سےسی پی ایس (سہارن پور) ٹیم کی محترمہ الپنا تلوار اور سوامی پریم وکرم ، ڈاکٹر ذوالفان،دانش خان اور مز جیوتی ، وغیرہ وہاں گیے۔انھوں نے ڈاکٹر اشوک کمار کو انگلش تذکیر القرآن دیا۔ اورساتھ ہی ان کے سٹاف کے لئے بھی ہندی کا ترجمۂ قرآن دیا۔ بہت ہی اچھے ماحول میں تقریباً ایک گھنٹے تک سائنس آف گاڈ کے ٹاپک پر گفتگو ہوتی رہی جو کہ کافی نتیجہ خیز رہی۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P02",
          "text": "2 -  15 اگست 2015 کو الحمد اسکول اور بلگچھیا اینگلو - اردو پرائمری اسکول کےاساتذہ سے کولکاتا سی پی ایس ٹیم کی ایک ممبر محترمہ شبینہ علی نے انٹرایکشن کیا اور ان کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیا - یہ پروگرام بہت ہی نتیجہ خیز رہا۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P03",
          "text": "3-  عید الاضحی کے موقع پر25 ستمبر کو صدراسلامی مرکز نے ایک خطاب کیا۔ اس میں سی پی ایسی دہلی کے ممبران شریک ہوئے-اس موقع پر آپ نے جوخطاب کیا اس کو سی پی ایس کی ویب سائٹ پر سنا جاسکتا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C38P04",
          "text": "http://www.cpsglobal.org/content/interview-eid-ul-adha-september-25-2015"
        },
        {
          "para_id": "C38P05",
          "text": "4-  نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور )کی جانب سےکانوڑیوں کے لئے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا-اس موقع پر بیمار کانوڑیوں نے ا پنا علاج کرواتے وقت ہندی قرآن اور صدر اسلامی مرکزکی کتاب ’’ستیہ کی کھوج‘‘حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ کالج کی ایڈمشن کاؤنسلر مسز الکا چودھری اور ڈاکٹر محمد اسلم خاں نے ان کو صدر اسلامی مرکز کا ہندی ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر پیش کیاجن کو ان لوگوں نے بہت ہی خوشی کے ساتھ قبول کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P06",
          "text": "5- یکم اکتوبر 2015 تا 11 اکتوبر 2015  لکھنؤ میں بک فیئرلگا۔ اس بک فیئرکا افتتاح جناب رام نائیک (گورنر آف یوپی) کے ہاتھوں ہوا۔ اس بک فیر میں سی پی ایس لکھنؤ کی ٹیم نے سی پی ایس سہارنپور کے تعاون سے ایک اسٹال لگایا- اس اسٹال پر مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں آئے۔ان کے ساتھ سی پی ایس ٹیم نے انٹرایکشن کیا اور ان کے درمیان بڑی تعداد میں دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔ اس درمیان اتر پردیش کے گورنر کے علاوہ جن اہم لوگوں کو دعوۃ لٹریچراور صدر اسلامی مرکز کی نئی کتاب دی ایج آف پیس دی گئی وہ ہیں، یوپی گورنمنٹ کےکیبنٹ منسٹر جناب آر کے چودھری، آئی ایف ایس ڈاکٹر اے کے دیویدی اور یوپی گورنمنٹ کے جوائنٹ سکریٹری جناب اوم پرکاش، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P07",
          "text": "6-  22اکتوبر 2015کو صدر اسلامی مرکز، سی پی ایس ممبر پروفیسر نجمہ صدیقی کے گھر (ماڈل ٹاؤن )تشریف لے گئے۔ صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس (دہلی) کی ایک ٹیم بھی تھی۔اس مناسبت سے صدر اسلامی مرکز نے ’’تلافیٔ مافات کا قانون‘‘کے عنوان سے ایک تقریر کی۔یہ تقریر سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر اس لنک پر سنی جاسکتی ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C38P08",
          "text": "http://www.cpsglobal.org/content/law-recovery-october-22-2015"
        },
        {
          "para_id": "C38P09",
          "text": "7- چند فلسطینی نوجوانمسجد اقصی اور اس کے اطراف میں سیاحوں اور نان مسلموں کے درمیان صدر اسلامی مرکز کا انگلش ترجمہ قرآن اور’’وہاٹ از اسلام‘‘ تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ خبر دی ہے کہ’’وہاٹ از اسلام‘‘ کو اسرائیل کے یہودبہت پسند کرتے ہیں۔اور انھوں نے ازخود اس کتاب کا عبرانی زبان میں ترجمہ کیا ہےاور لوگوں کو دینے کے لیے انھوں نے اسے طبع کروایا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P10",
          "text": "8-  ناگپور کامپٹی الرسالہ ٹیم کے ممبران نے ناگپور کے انگریزی روزنامہ ’دی ہتوادا‘ کے ایڈیٹرجناب وجے پھانسلکار(Vijay Phansilkar) سے ملاقات کی اور ان کو انگلش ترجمۂ قرآن اور دوسری مولانا کی کتابیں پیش کیں۔ ایڈیٹر موصوف نے ان کو بے حدمسرت اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں مولانا کا بہت احترام کرتا ہوں، اور ان سے ممبئی میں ایک بار مل چکا ہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P11",
          "text": "9-   پونا بک فیئر 15 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک منعقد ہوا۔ اس میں پونا سی پی ایس ٹیم کے عبد الصمد صاحب نے ممبئی سی پی ایس ٹیم کے تعاون سے ایک بک اسٹال لگایا۔اس مناسبت سےیہاں تشریف لانے والے وزیٹرس اوراسٹال مالکان کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کئے۔ممبئی ٹیم سے ڈاکٹر جنید، اجمل خان صاحب، فاروق فیصل صاحب نے اس بک فیئر میں شرکت کی۔ یہاں بہت سارے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو صدر اسلامی مرکز کو آن لائن انگلش ڈیلی دی اسپیکنگ ٹری کے حوالے سے جانتے ہیں۔ جیسےکمل کوٹھاری صاحب ، وغیرہ یہ لوگ صدر اسلامی مرکز کی تحریروں کو پڑھتے ہیں، اور اپنے متعارفین کے درمیان پھیلاتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P12",
          "text": "10-  آرین ٹی وی نیوز چینل نے 13 اکتوبر 2015 کی شام8  بجے ’’یونی فارم سول کوڈ‘‘ پر ایک لائیوڈسکشن (live discussion)کا پروگرام منعقد کیا۔اس میں انھوں نے اسلام کے نمائندے کے طور پر سی پی ایس بہار و جھارکھنڈ کے صدر جناب دانیال صاحب کو مدعو کیا تھا۔پروگرام کے بعد تمام لوگوں کے درمیان ترجمۂ قرآن، وہاٹ از اسلام اور دوسرے دعوتی لٹریچر تقسیم ;کئے گئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P13",
          "text": "11-  گورنمنٹ ڈگری کالج، پونچھ ، میں سرسید ڈے کے موقع پرایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں جج، سیاست دان، پروفیسرس ، اساتذہ ، سوشل ورکرز ، اسکالرز اور کالج کے طلباء وغیرہ شامل ہوئے تھے۔اس موقع پر سی پی ایس (جموں) کی جانب سے تمام لوگوں کو ’دی ایج آف پیس،اسپرٹ آف اسلام، انڈین مسلم ‘ ، اورصدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون’’سرسید فارمولاـ‘‘ اور دوسری کتابیں بطور تحفہ دیاگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P14",
          "text": "12-  ٹورنٹو (کناڈا)سے ملنے والی خبر کے مطابق، انسٹی ٹیوٹ آف دی لنگویج آف دی قرآن، ٹورنٹو نے صدر اسلامی مرکز کے انگلش ترجمۂ قرآن کو اپنے دعوہ پیک میں شامل کیا ہے جو کہ کناڈا میں لوگوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تقسیم کیاجائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P15",
          "text": "13-  سی پی ایس امریکا کے ڈاکٹر وقار عالم اور خواجہ کلیم الدین صاحبان نے ایک کتاب ـ\"اسلام ناٹ آئی ایس آئی ایس\"نامی کتاب کے اجراء کے ایک پروگرام میں صدر اسلامی مرکز کے نمائندہ کی حیثیت سےشرکت کی ۔ یہ کتاب عورتوں کی ایک آرگنائزیشن وائز (WISE)نے کمیونٹی گائڈ کے طور پر تیار کی ہے۔ یہ پروگرام یو این او (UNO)پلازا میں منعقد ہوا تھا۔اس پروگرام میں مختلف مذاہب کے 100 سے زائد لوگوں نے ، خاص طورپر عیسائی اور یہودی حضرات، نے شرکت کی۔ ان تمام لوگوں کو \"ایج آف پیس\" بطور تحفہ دی گئی-خوشی کی بات یہ ہے اس تقسیم کے عمل میں دو آرگنائزیشن نے تعاون پیش کیا۔بہت سے لوگوں نے اس کتاب کو زیادہ تعداد میں حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P16",
          "text": "14-  قارئین الرسالہ حلقہ ناگپور و کامٹی کے ایک ممبر محمد اکرم صاحب نے اپنا ایک واقعہ بتایا جو کہ بہت حوصلہ افزا ہے ـ۔ موصوف نے بتایا کہ حال ہی میں وہ ممبئی سے لوٹ رہے تھے۔دورانِ سفر وہ صدر اسلامی مرکز کے تحریر کردہ کتابچہ جیون کا ادّیش (ہندی) پڑھنے لگے۔ـ ایک صاحب بڑی دیر سے انھیں دیکھ رہے تھے۔ ـ کچھ دیر بعد مذکورہ صاحب نے اکرم صاحب سے کتابچہ مانگا اور اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے موبائل پر اس کا فوٹو لینے لگے۔ ـ اکرم صاحب نے کہا آپ یہ کیا کر رہے ۔انھوں نے کہا کہ اس میں بہت ہی عمدہ باتیں لکھی ہوئی ہیں، میں نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں ایسی باتیں نہیں پڑھیں۔ ـ میں ۱۳ اسکولوں کا مینیجنگ ڈائرکٹر ہوں اور میرے انڈر میں سیکڑوں ٹیچرس ہیں ۔میں اس میں لکھی ہوئی باتیں انھیں بتاؤں گا ـ۔ اکرم صاحب نے انھیں مذکورہ کتاب کے علاوہ ہندی ترجمہ قرآن بھی پیش کیا ـ۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P17",
          "text": "15-  ڈاکٹر اے کیو سوداگر( دھارواڑ،کرناٹک ) نے ای ٹی وی اردو پر سی پی ایس سہارن پورکے ذریعہ ترجمہ قرآن اور دوسرے پیس لٹریچر کو تقسیم کرتے ہوئے دیکھا تو اپنے وطن سے سہارن پور آئے تاکہ وہ سی پی ایس کے طریقِ کار کو جان سکیں۔ اس موقع پر ان کو ایج آف اسلام ، اسپرٹ آف اسلام اور ترجمۂ قرآن، وغیرہ کرناٹک میں تقسیم کرنے کے لئے دیے گیے ۔انھوں نے ڈاکٹر محمد اسلم کو کرناٹک آنے کی دعوت دی۔ یہ یقینی طور پر دعوت اور امن کے قیام میں کافی معاون ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C38P18",
          "text": "16-  صدر اسلامی مرکز کے مضامین مختلف نیوزپیپرس اور میگزین میں آتے رہتے ہیں۔ جن کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ذیل میں ایک تاثر نقل کیا جاتا ہے جو دی ٹائمس آف انڈیا کے آن لائن اسپریچول میگزین دی اسپیکنگ ٹری میں ایک صاحب نے لکھا:"
        },
        {
          "para_id": "C38P19",
          "text": "It is very good to read Maulana Wahiduddin Khan's articles on the true teachings of Islam in The Times of India. (Mr. Mindian)"
        },
        {
          "para_id": "C38P20",
          "text": "17-  اس کے علاوہ واٹس ایپ ( 9999944119)سے روزانہ صدر اسلامی مرکز کی مختصر تقریر ، انگریزی تفسیر اور مضامین بھیجے جاتے ہیں۔ اس پر ایک صاحب نے اپنا تاثر نقل کیا ہے:جب سے میں آپ سے جڑا ہوں، میری طرز زندگی تبدیل ہونے لگی ہے. شکریہ( جاوید اقبال)"
        }
      ]
    }
  ]
}