{
  "metadata": {
    "month": "December",
    "year": "2017",
    "source_url": "http://cpsalrisala.blogspot.com/2017/12/DecemberAlrisala.html",
    "scrape_timestamp": "2026-03-26T14:25:13.882624"
  },
  "content": [
    {
      "chapter_id": "C01",
      "chapter_title": "زوج یا ہیبیٹاٹ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C01P01",
          "text": "زوج یا ہیبیٹاٹ"
        },
        {
          "para_id": "C01P02",
          "text": "قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (51:49)۔یعنی اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو :"
        },
        {
          "para_id": "C01P03",
          "text": "We have created everything in pairs so that perhaps you may take heed."
        },
        {
          "para_id": "C01P04",
          "text": "قرآن کی اس آیت کا خطاب ان لوگوں سے ہے، جوتذکُّر کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یعنی غور وفکر کرنا اور نصیحت لینا۔ اس سے واضح ہے کہ اس آیت کا خطاب انسان سے ہے۔ وہ انسان سے کہہ رہی ہے کہ تم تخلیق پر غور کرو، اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔"
        },
        {
          "para_id": "C01P05",
          "text": "مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں زوج سے مراد وہی چیز ہے جس کو ہیبیٹاٹ (habitat) کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، سب کے لیے یہاں ان کا موافق ہیبیٹاٹ موجود ہے۔ مثلاً گردش کرتے ہوئے ستاروں کے لیے وسیع خلا (vast space)، نباتات کے لیے موافق زمین (soil)، حیوانات کے لیے جنگل ، مچھلیکے لیے پانی، وغیرہ۔ اس طرح کائنات میںموجود ہر مخلوق کے لیے اس کا موافق ہیبیٹاٹ موجود ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C01P06",
          "text": "مگر یہاں صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو ، اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ حاصل نہیں۔ انسان کو ایسی دنیا ملی ہے، جہاں وہ زندہ رہ سکے، لیکن انسان کو ایسی دنیا حاصل نہیں جہاں اس کے لیے ہر اعتبار سے فل فِل مینٹ (fulfilment) کا سامان موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اس طرح رہتا ہے کہ وہ ہمیشہ ماہیٔ بے آب (fish without water)کی طرح تڑپتا رہتا ہے۔ اس کو کبھی اپنے وجود کا زوج (habitat) حاصل نہیں ہوتا۔  انسان اس فرق پر غور کرے تو وہ جنت کو دریافت کرے گا، اور اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرے گا جو اس کو جنت کی منزل تک پہنچانے والا ہو۔ جنت کی دریافت تخلیق کی حکمت کی دریافت ہے۔یہی مطلب ہےقرآن کی اس آیت کا کہ  فَفِرُّوا إِلَى اللَّہِ  (51:50)۔  یعنی دوڑو اللہ کی طرف۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C02",
      "chapter_title": "امید کا سر چشمہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C02P01",
          "text": "قرآن و حدیث میں کئی ایسی آیتیں اور حدیثیں ہیں جو بندوں کے لیے امید کا سر چشمہ ہیں۔ ان میں سےچند حوالے یہ ہیں۔ اس قسم کی ایک آیت قرآن میں یہ ہے :قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P02",
          "text": "اس آیت کے بارے میں علی ابن ابی طالب کہتے ہیں: ما فی القرآن آیة أوسع من ہذہ الآیة۔ یعنی قرآن میں اس سےزیادہ گنجائش والی کوئی اور آیت نہیں ۔عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں: ہذہ أرجى آیة فی القرآن ۔یعنی یہ قرآن کی سب سے زیادہ امید والی آیت ہے۔ عبد اللہ ابن عباس ایک اور آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ قرآن میں سب سے زیادہ امید والی آیت (أرجى آیة فی القرآن) ہے۔ وہ آیت یہ ہے: وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِہِمْ(13:6) یعنی تمہارا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کو معاف کرنے والا ہے۔دیکھیے تفسیر القرطبی،القاھرۃ، 1969ء، 15/269۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P03",
          "text": "اس مضمون کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:عن أبی ہریرة رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: لما قضى اللہ الخلق کتب فی کتابہ فہو عندہ فوق العرش إن رحمتی غلبت غضبی (صحیح البخاری، حدیث نمبر3194)۔ یعنی حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نےاپنی کتاب میں لکھا۔ یہ کتاب اللہ کے پاس عرش کے اوپر ہے۔(اس میں اللہ نے یہ لکھا ہے) :میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P04",
          "text": "اس طرح کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں، جن سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت رحم و درگزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ بات اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اس لیے اللہ کی شان رحمت کا تقاضا تھا کہ انسان کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ عفو ودرگزر کا معاملہ کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P05",
          "text": "حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک جو چیز سب سے زیادہ ناقابل معافی ہے، وہ سرکشی ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جو حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا یدخل الجنة من کان فی قلبہ مثقال ذرة من کبر (صحیح مسلم، حدیث نمبر147)۔ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا، جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔ اس کے مقابلے میں جو آدمی عجز کا ثبوت دے، جو اپنے آپ کو انانیت (ego) سے خالی انسان بنائے۔ اس کے بارے میں اللہ سے قوی امید ہے کہ اللہ رب العالمین اس کے ساتھ رحمت اور مغفرت کا معاملہ کرے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P06",
          "text": "اصل یہ ہے کہ جب ایک شخص کے اندر تواضع (modesty) پائی جائےتو غلطی کرنے کے بعد وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ عجز سے بھری ہوئی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے قول اور عمل میں انکساری کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ برتری کے جذبے سے مکمل طور پر خالی ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ ایک نئی شخصیت اس کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ پورے معنوں میں ایک مزکّی انسان بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی جو اس کی شخصیت کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ یہی در اصل وہ چیز ہے، جو اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اس سے عفو و درگزر کا معاملہ کرتے ہوئے، اس کو جنت میں داخلہ دیا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C02P07",
          "text": "جنت اس کے لیے ہے جو جنتی کردار والی شخصیت لے کر آخرت میں پہنچے۔ جنت سے محرومی اور جنت کا ملنا ، دونوں کا تعلق کردار (character)سے ہے۔یہی وہ اصل چیز ہے جو کسی انسان کےلیے آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا سبب ہے۔ جنت سے محرومی بھی معلوم اسباب کی بنا پر ہوگی، اور جنت کا پانا بھی معلوم اسباب کی بنا پر ہے ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C03",
      "chapter_title": "ایک حدیث",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C03P01",
          "text": "ایک روایت سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میںآئی ہے۔ البخاری کے الفاظ یہ ہیں:عجِب اللہ من قوم یدخلون الجنة فی السلاسل(صحیح البخاری، حدیث نمبر3010) ۔یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں (بندھے ہوئے) داخل ہوں گے۔ بعض دوسری روایتوں میں یقادوناور  یساقون کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ کھینچتے ہوئے اور ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P02",
          "text": "اس حدیث میں کچھ اہل ایمان کے ساتھ جس معاملہ کا ذکر ہے وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ یہاں زنجیر کا لفظ دراصل مجبور کن حالات (compulsive situation) کی تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسے مجبورانہ حالات پیش آئیں گے کہ اُن کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا کہ وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کی زندگی اختیار کریں اور اس طرح گویا بندھے بندھے جنت میں پہنچ جائیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C03P03",
          "text": "یہ خوش قسمتی اُن افراد کے حصہ میں آئے گی جن کے دل میں اخلاص اور حسن نیت کی چنگاری موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے دل میں اس قسم کی استعداد دیکھے گا اُن کی قدر افزائی اس طرح کرے گا کہ اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کردے گا جو اُنہیں طوعاً و کرہاً خدا پرستانہ اعمال کی طرف لے جانے والے ہوں۔مصیبت کا جنتی زنجیر بن جانا اُس شخص کے حصہ میںآتا ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مصیبت جس کے دل کو اس طرح نرم کرے کہ وہ اللہ کی یاد کرنے والا بن جائے— مصیبت اگر لوگوں کے اندر فریاد اورشکایت کا ذہن بنائے تو مصیبت صرف تباہی ہے،اور اگر مصیبت لوگوں کے اندر محاسبۂ خویش کاذہن پیدا کرے تو وہ اُن کے لیے رحمت کا سبب بن جائے گی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C04",
      "chapter_title": "عالی شان مسجدیں",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C04P01",
          "text": "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ایک ان الفاظ میںآئی ہے: ما أمرت بتشیید المساجد۔ قال ابن عباس: لتزخرفنہا کما زخرفت الیہود والنصارى (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 448)۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ (اس  حدیث کو بیان کرنے کے بعد) عبداللہ ابن عباس نے کہا کہ تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کروگے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ایک اور روایت میںہے کہ رسول اللہ نے کہا کہ جب بھی کسی قوم کا عمل بگڑ جائے، تو وہ اپنی مسجدوں کو مزین کرنا شروع کردیتی ہے۔ (ما ساء عمل قوم قط، إلا زخرفوا مساجدہم)۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 741"
        },
        {
          "para_id": "C04P02",
          "text": "یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے، اورہر ملک میںاس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آبادہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جارہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکہ اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر ٹکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیشان مسجدیں بنانے کو اسلام میںکیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میںاضافہ ہوجاتاہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C04P03",
          "text": "عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود ونمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میںنمود ونمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات یہ ہے کہ انہوں نے پولٹیکل گلوری کو کھو دیا ہے۔ ایسی حالت میں درودیوار کی عظمت انہیں یہ فرضی تسکین دیتی ہے کہ اب بھی انہوں نے زمین پر اپنی عظمت کا نشان قائم کررکھا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C05",
      "chapter_title": "ہر حال میں خیر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C05P01",
          "text": "حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبا لأمر المؤمن، إن أمرہ کلہ خیر، ولیس ذاک لأحد إلا للمؤمن، إن أصابتہ سراء شکر، فکان خیرا لہ، وإن أصابتہ ضراء، صبر فکان خیرا لہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2999) ۔یعنی مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اُس کے لیے اُس کے ہر معاملہ میں بھلائی ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اُس کو کوئی خوشی ملتی ہے، وہ شکر کرتا ہے تووہ اُس کے لیے بھلائی بن جاتا ہے۔ اور اگر اُس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے ، وہ صبر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بھلائی بن جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C05P02",
          "text": "مومنانہ روش یہ ہے کہ آدمی کو خوشی ملے تو اُس کا سینہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے، اور اگر اُس کو تکلیف کا تجربہ ہو تو وہ اُس کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر اُ س پر راضی رہے۔اس کے برعکس، غیر مومنانہ روش یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو خوشی ملے تو وہ اُس پر فخر کرے، اور اگر اُس کو تکلیف پہنچے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجائے۔ یہ مطلوب روش نہیں ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن میں اس طرح تنبیہ کی گئی ہے: پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اُس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اُس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب وہ اُس کو آزماتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتاہے تو وہ کہتاہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا۔ (الفجر15-16:)"
        },
        {
          "para_id": "C05P03",
          "text": "موجودہ دنیا میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ آدمی نے بظاہر کس حال میں زندگی گزاری، اچھے حال میں یا بُرے حال میں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی جس حال میں بھی ہو اُس سے وہ تعلق باللہ کی غذا لے سکے۔ زندگی کا ہر تجربہ اُس کو اللہ سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔ اُس کی روح ہر صورتِ حال سے ربّانی غذا لیتی رہے۔ کائنات کے ہر مشاہدہ میں وہ اللہ کا جلوہ دیکھ سکے۔ زندگی کا ہر خوش گوار تجربہ اُس کو اللہ کی رحمت کی یاد دلائے، اور زندگی کا ہر تلخ تجربہ اُس کے لیے تقویٰ کا سبب بنتا رہے۔ ناکامی بھی اُس کو خدا کی یاد دلائے اور کامیابی بھی اُس کو خدا سے قریب کردے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C06",
      "chapter_title": "ایمانی کیفیات",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C06P01",
          "text": "ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عرض علی ربی لیجعل لی بطحاء مکة ذہبا. فقلت: لا، یا رب ولکن أشبع یوما وأجوع یوما، أو نحو ذلک، فإذا جعت تضرعت إلیک وذکرتک، وإذا شبعت حمدتک وشکرتک(مسند احمد، حدیث نمبر 22190)۔ یعنی اللہ نے مجھے یہ پیشکش کی کہ تمہارے لیے مکہ کی وادی کو سونابنا دیا جائے۔ میںنے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتاہوں کہ میں ایک دن سیر ہوکر کھاؤں اورایک دن بھوکا رہوں۔ پھرجب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اورتجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P02",
          "text": "ایمانی کیفیات کاتعلق براہ راست طورپر حالات سے ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو اس کے لحاظ سے مومن کے لیے ایمانی کیفیات کا سرمایہ موجود رہتا ہے۔ جس طرح احوال کی بہت سی قسمیں ہیں اسی طرح ایمانی کیفیات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں، اور ہر قسم میںاُس کے مطابق، آدمی کے اندر ایمانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔موجودہ دنیا میں آدمی کو امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہاں ہر عورت اور مرد کے ساتھ طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ایسا اسی لیے ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنی جانچ پرپورا اُترا اور کون اس میںناکام ہوگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C06P03",
          "text": "آرام کی حالت ہو یا تکلیف کی حالت ہو، دونوں حالتیں اضافی ہیں۔ دونوں حالتوں میںاصل اہمیت یہ ہے کہ اُس وقت کسی عورت یا مرد سے جومطلوب رویہ درکار تھا، اس کا ثبوت اُس نے دیا یا نہیں دیا۔ اصل اہمیت حالات کے مقابلہ میںردعمل کی ہے، نہ کہ خود حالات کی۔یہ حقیقت جس عورت اور مرد پر واضح ہوجائے، اُس کا حال یہ ہوجائے گا کہ اُس کی نظر آرام اور تکلیف پر نہ ہوگی بلکہ اس بات پر ہوگی کہ ملے ہوئے حالات میں اس نے کس قسم کے رد عمل کا ثبوت دیا۔ شکر کا یا ناشکری کا، صبر کا یا بے صبری کا۔ ایسے لوگ ہر حال میں اپنا احتساب کریںگے، نہ کہ خارجی حالات کا شکوہ کرتے رہیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C07",
      "chapter_title": "مثل قرآن",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C07P01",
          "text": "ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ألا إنی أوتیت الکتاب ومثلہ معہ، ألا إنی أوتیت القرآن ومثلہ معہ ، ألا یوشک رجل ینثنی شبعانا على أریکتہ یقول:علیکم بالقرآن، فما وجدتم فیہ من حلال فأحلوہ، وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ(مسند احمد، حدیث نمبر17174)۔یعنی سن لو، بیشک مجھے کتاب دی گئی ہے اور اسی کے ساتھ اس کے مثل۔ بیشک مجھے قرآن دیا گیاہے اور اسی کے ساتھ اس کے مثل۔سن لو ، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھا، کہے گا کہ تمہارے لیے قرآن کافی ہے، پس تم اس میں جو حلال پاؤ تو اسے حلال سمجھو اور جو اس میں تم حرام پاؤ تو اسے حرام سمجھو ۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P02",
          "text": "اس حدیث میں مثل سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں حکمت (البقرۃ129:) کہا گیا ہے،یعنی قرآن اور حکمت قرآن ۔حکمت سے مراد وزڈم (wisdom) ہے۔ قرآن کا ابتدائی مفہوم اس کے متن (text) کو پڑھ کر سمجھ میں آتا ہے، اور جہاں تک حکمت کا تعلق ہے، وہ تدبر (ص29:)کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے: کان متواصل الأحزان، دائم الفکرة، لیست لہ راحة، طویل السکت، لا یتکلم فی غیر حاجة (شرح السنۃ للبغوی، حدیث نمبر3705)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل حُزن میں رہتے تھے، وہ برابر سوچ میں رہتے، آپ کے لیے کوئی راحت نہیں ہوتی تھی، آپ دیر تک چپ رہتے ، ضرورت کے سوا کسی اور چیز کے لیے آپ نہ بولتے ۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P03",
          "text": "مذکورہ روایت میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ پانچوں الفاظ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ مسلسل طور پر تدبر اور تفکر میں رہتے تھے۔ حُزن سے مراد غم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کامل سنجیدگی (total seriousness) ہے۔ یعنی ہر وقت انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سوچتےرہنا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P04",
          "text": "مثلا ًقرآن کی 29 سورتوں کے آغاز میں وہ حروف آئے ہیں، جن کو حروفِ مقطعات کہا جاتا ہے۔ یہ حروف الگ الگ پڑھے جاتے ہیں، اسی لیے ان کو حروف مقطعات (disjointed letters or disconnected letters)کہا جاتا ہے۔ حروف مقطعات عربی زبان کے حروف تہجی (alphabets) پر مشتمل ہیں۔ اس سے مراد غالباً یہ ہے کہ قرآن اگر چہ بظاہر انسانی زبان میں اترا ہے، اس اعتبار سے اس کا ایک مطلب وہ ہےجو سطور میں ہے، لیکن اس کا دوسرا مطلب وہ ہے جو تدبر کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں آیا ہے :کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P05",
          "text": "غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر عربی زبان سے بخوبی واقف ہو، اور وہ قرآن کو پڑھے تو قرآن کے متن کے سطور (lines)میں جو بات ہے، اس کو وہ جان لے گا۔ لیکن قرآن کے جو عمیق معانی ہیں، وہ متن کے بین السطور (between the lines) ہیں۔ ان عمیق معانی کو جاننے کا ذریعہ صرف تدبر ہے۔ اگر آدمی حقیقی معنوں میںسنجیدہ اور ہدایت کا طالب ہوتے ہوئے قرآن میں غور و فکر کرے تو وہ قرآن کے گہرے معانی کو دریافت کرلے گا۔ وہ متن قرآن کے اندر چھپی ہوئی حکمت کی دریافت تک پہنچ جائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C07P06",
          "text": "مثلا ً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کو مشن کے معاملے میں صراط مستقیم کی ہدایت (الفتح2:) ملی۔قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو مذکورہ ہدایت کہیں الفاظ (وحی متلو)کی صورت میں نہیں ملے گی۔ پھر رسول اللہ کو اس ہدایت کی معرفت کیسے ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معرفت آپ کو تدبر کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہدایت یہ تھی —  وکٹمائزڈ کمیونٹی (victimized community) کے جذبات (sentiments) کو لے کر اپنی پلاننگ نہ کرنا، بلکہ وسیع تر دنیا میں جو مواقع (opportunities) ہیں، ا ن کو لے کر اپنے عمل کا پلان بنانا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C08",
      "chapter_title": "نیچر ورشپ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C08P01",
          "text": "توحید کیا ہے۔ اس کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِی خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (41:37)۔یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P02",
          "text": "قدیم زمانے میں نیچر ورشپ (nature worship) کا رواج چھایا ہوا تھا۔نیچر ورشپ کے کلچر میں قدیم انسان اتنا زیادہ مسحور ہوگیا تھا کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P03",
          "text": "وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔ اس حقیقت کا ذکر پیغمبر ابراہیم کی دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِی وَبَنِیَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ (14:35-36)۔یعنی اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا۔ اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔  اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C08P04",
          "text": "یہ نیچر ورشپ اس وقت پوری طرح ختم ہوگئی، جب کہ سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ نیچر عامل نہیں ہے، بلکہ وہ معمول ہے۔یعنی نیچر (فطرت) کسی بڑی طاقت کے کنٹرول میں ہے، اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔ اس تحقیق نے نیچر کو معبودیت کے مقام سے ابدی طور پر ہٹادیا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C09",
      "chapter_title": "ایک سنتِّ رسول",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C09P01",
          "text": "سن چھ ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فریق مخالف سے امن کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہوگئیں، اور ان کو کاغذ پرلکھا جانےلگا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھاتے ہوئے کہا:  اکتب یا علی، ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ ۔ فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مشترک ہے۔آپ نے بلابحث کہا: امح یا علی، اللہم إنک تعلم أنی رسولک،امح یا علی واکتب، ہذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔یعنی اے علی، اس کو مٹادو۔ اے اللہ ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹادو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پاگیا، اور آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P02",
          "text": "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا (48:2)۔ آپ کا یہ عمل بلاشبہ صراطِ مستقیم کا ایک جزء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دور اول میں اصول کو اختیار کرنے کے نتیجے میں فتح مبین (48:1) حاصل ہوئی۔ بعد کے دور میں بھی فتح مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتح مبین تک پہنچانے والا نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P03",
          "text": "منصوبہ بندی کایہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اہل ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر پہنچائیں۔ لیکن بار بار ایک رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کا انسان ، اظہار رائے کی آزادی (freedom of expression) کو انسان کا ایک مطلق حق (absolute right)سمجھتا ہے، اور اس کو وہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ حق کے اس استعمال کا دائرہ کبھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کے بارے میں آزادانہ اظہارِ خیال کرتا ہے، اور اس کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ مسلمان اس طرح کے واقعات پر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس کو شتمِ رسول (blasphemy) قرار دے کر چاہتے ہیں کہ شاتم کو قتل کردیں۔ آج کے لوگوں کے لیے مسلمانوں کی یہ روش قابل قبول نہیں۔ چناں چہ اس پر سخت نزاع شروع ہوجاتی ہے۔ اور دعوتِ اسلام کا کام جیو پرڈائز (jeopardize) ہوجاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P04",
          "text": "شتم رسول (blasphemy) پر ہنگامہ کرنا یا شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا، اصولاً اسلام کےخلاف ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا رسول کے کسی قول میں یہ حکم موجود نہیں۔ تاہم بالفرض اگر کسی کا اصرار ہو کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے تب بھی ضروری ہے کہ مسلمان اس طرح کے واقعے پر مشتعل ہونا مکمل طور پر چھوڑدیں۔ تاکہ دعوتِ اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P05",
          "text": "رسول کا رسول ہونا بلاشبہ اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ پھر بھی رسول اور اصحابِ رسول نے رسول اللہ کے لفظ کو کا غذ سے مٹادیا۔ اسی سنت پر مسلمانوں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی روش کو بدل دیں تاکہ اسلام کا پر امن مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اسی روش کا نام حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت، اسلام کا ایک لازمی اصول ہے۔ حکمت کے بغیر اسلام کا مشن کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتا۔"
        },
        {
          "para_id": "C09P06",
          "text": "٭ ٭ ٭٭٭٭ ٭ ٭ ٭٭"
        },
        {
          "para_id": "C09P07",
          "text": "میرا عام تجربہ ہے کہ اسکالر لوگوں میںفکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے، جب کہ مذہبی لوگوں میںاس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طورپر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میںاکثر سوچتا رہا ہوں کہ ا س کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں میںمسلسل فری ڈائلاگ جاری رہتاہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائلاگ کاعمل جاری نہیںہوتا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C10",
      "chapter_title": "جامع تعبیرِِ تاریخ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C10P01",
          "text": "برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (Arnold J. Toynbee)نے بارہ جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے، جو دنیا کی انیس تہذیبوں ( 19 world civilizations) کا مطالعہ ہے۔ اس کی آخری جلد 1961 ء میں چھپی۔تاہم یہ کتاب انسانی تاریخ کا جزئی مطالعہ ہے۔ ایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی ہے ، جو انسانی تاریخ کی جامع تعبیر (comprehensive interpretation of history)  پیش کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P02",
          "text": "میں نے اس موضوع کا مطالعہ کیا ہے۔ میرےمطالعہ کے مطابق، یہ موضوع ایک مشکل موضوع ہے۔ کیوں کہ ٹائن بی جیسے مؤرخین کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ تاریخ کے معلوم ریکارڈ کی بنیاد پر تاریخ کی ایک موضوعی تصویر پیش کرے۔ لیکن تعبیر (interpretation) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ یہ موضوع تجزیاتی مطالعہ (analytical study) کا موضوع ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ مصنف تاریخی معلومات کو سارٹ آؤٹ (sort out) کرکے اس کی بامعنی تعبیر پیش کرے۔ میرے مطالعہ کے مطابق، معلوم تاریخ چھ ادوار (periods) میں تقسیم ہوتی ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C10P03",
          "text": "1۔ مادی دنیا (material world) ، بگ بینگ (big bang) سے لے کر اب تک۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P04",
          "text": "2۔ شمسی نظام (solar system) ، جس کے اندر آخر کار انسانی دنیا بنی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P05",
          "text": "3۔ انسانی تاریخ (human history)"
        },
        {
          "para_id": "C10P06",
          "text": "4 ۔ پیغمبرانہ مشن(prophetic mission)"
        },
        {
          "para_id": "C10P07",
          "text": "5 ۔ تہذیبی تائید (civilizational support)"
        },
        {
          "para_id": "C10P08",
          "text": "6۔ آخری اعلان (final call)، یعنی انسان کے ایک دورِ حیات کا خاتمہ اور اس کے دوسرے دورِ حیات کا آغاز۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P09",
          "text": "رب العالمین نے تقریباً تیرہ بلین سال پہلے موجودہ کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے اس نے پارٹیکلس (particles) یعنی اجزاءِ کائنات کی تخلیق کی۔ پارٹیکلس کا یہ مجموعہ ابتداءمیں ایک عظیم کاسمک بال (cosmic ball) کی صورت میں خلا میں ظاہر ہوا۔ پھر اس کاسمک بال میں انفجار (explosion )ہوا۔ اس کے بعد تمام ستارے اور کہکشائیں (galaxies) وجود میں آئیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P10",
          "text": "دوسرے مرحلہ میں شمسی نظام بنا۔ پھر شمسی نظام کا ایک سیارہ زمین (planet earth)اپنی موجودہ شکل میں وجود میں آیا۔ اس سیارۂ زمین پر پانی، نباتات ، اور حیوانات وجود میں آئے۔ انسان اس زمین پر آباد ہوا۔ پھر انسانوں کے درمیان ایسے ربّانی افراد پیدا ہوئےجنھوں نے خدا کی خصوصی رہنمائی میں دنیا میں پیغمبرانہ مشن جاری کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P11",
          "text": "ختم نبوت کے بعد تاریخ کا اگلا دورآیا۔ اس دور میں صلیبی جنگوں (1096-1487)کا سلسلہ چلا۔ اس درمیان ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے تحت سائنسی ترقیاں شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ اس تہذیب نے انسان کے اوپر ترقی کے وہ دروازے کھولے جواگرچہ بالقوہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھے، لیکن بالفعل طور پروہ بند پڑے ہوئےتھے۔یہ تہذیب بظاہر ایک سیکولر تہذیب تھی، لیکن عملاً وہ پیغمبرانہ مشن کے موافق (pro-prophetic mission) تہذیب کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس تہذیب نے فطرت کے جو راز دریافت کیے، ان کو قرآن میں آفاق و انفس کا اظہار (فصلت53:) کہا گیا ہے۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیغمبر کے مشن کے لیے ایک مدد گار تہذیب تھی۔ یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائیدِ دین (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P12",
          "text": "جس خدا نے کائنات کی تخلیق کی۔ اسی خدا نے اپنی کتاب ،قرآن کو انسان کے پاس بھیجا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق، موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ یہاں انسان آزادانہ طور پر اپنا عمل کرے۔ انسان اپنے آپ کو ربانی شخصیت (Rabbani Personality) کی صورت میں ڈیولپ کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P13",
          "text": "انسانی تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation)میں صرف ایک چیز لوگوں کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر لوگ اپنے خود ساختہ معیار (self-styled criterion) سے انسانی تاریخ کو جانچتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسانی تاریخ کو خالق کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں پوری تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جائے گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P14",
          "text": "اصل یہ ہے کہ انسانی دنیا اور مادی دنیا میں ایک بنیادی فرق ہے۔ مادی دنیا فطرت کے لازمی قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ اس لیے فطرت کو سمجھنے کا ایک معلوم حتمی معیار موجود ہے۔ اس معیار کو برطانی سائنسداں نیوٹن نے فطرت کے مطالعہ پر کامیابی کے ساتھ منطبق کیا، اس کا انطباق (application) درست ثابت ہوا۔ لیکن انھیں قوانین کو کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے انسانی تاریخ پر منطبق کرنا چاہا تو وہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔خالق نے انسان کو استثنائی طور پر سوچنے اور عمل کرنے کی آزادی عطا کی ہے۔ اس بنا پر انسانی تاریخ کا واحد غیر متغیر نقشہ نہیں بن سکتا۔ انسانی تاریخ کے مطالعے میں یہ کرنا ہوگا کہ اس کے متعلق حصہ (relevant part)کو غیر متعلق حصہ (irrelevant part) سے الگ کیا جائے۔ یعنی تاریخ کے مختلف اجزاء کو سارٹ آؤٹ (sort out)کرکے دیکھا جائے، غیر متعلق اجزاء کو الگ کرکے متعلق اجزاء کی روشنی میں انسانی تاریخ کی تصویر بنائی جائے۔ اس عمل کے بغیر تاریخ کی بامعنی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔"
        },
        {
          "para_id": "C10P15",
          "text": "قرآن کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی تاکہ انسان فطرت کے قوانین کا مطالعہ کرے، اور ایک تہذیب وجود میں لائے۔ یہ کام اکیسویں صدی میں اپنی تکمیل تک پہنچ چکا۔ اب دوسرا کام یہ ہے کہ آلاءاللہ (الرحمٰن13:)پر مبنی ایک برتر ربانی تہذیب کی تشکیل دی جائے۔ اس برتر تہذیب کو وہ لوگ وجود میں لاسکتے ہیں، جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا ہو۔ آخرت کی دنیا میں پوری تاریخ سے ایسے تیار شدہ اشخاص (prepared personalities) کو منتخب کرکےجنت کی عظیم دنیا میں جمع کردیا جائے گا۔ تاکہ وہ اگلی برتر تہذیب میں زندگی گزاریں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C11",
      "chapter_title": "منسوخ، موقوف",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C11P01",
          "text": "دین کے احکام ممکن طور پر دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو قابل تنسیخ ہوں، اور دوسرا وہ جن کو منسوخ تو نہ کیا جاسکتا ہو، لیکن ان کو وقتی طور پر موقوف کرنا درست ہو۔ کسی شرعی حکم کو منسوخ (abrogate) کرنا ایک ا صولی معاملہ ہے۔ اور اصولی معاملہ میں تغیر کا حق صرف شارع کو ہے۔ اور جہاں تک موقوف (suspend) کرنے کا معاملہ ہے، وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، اور امت کے علماء دلائل شرعیہ کے ذریعہ بطور اجتہاد ایسا کرسکتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P02",
          "text": "ہجرت کے بعد وقتی طور پر قبلۂ یہود کو قبلۂ مسلمین قرار دے دیا گیا، لیکن بعد کو یہ حکم متروک ہوگیا (البقرۃ:   143-144)، اور کعبہ ابدی طور پر اہل اسلام کا قبلہ قرار پایا۔ اب کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس حکم میں تغیر کرے۔کسی حکم کو موقوف قرار دینے کا معاملہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ مثلاً اعداد قوت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس سےمراد تیر اندازی ہے۔ رسول اللہ  نے قرآن کی آیت پڑھی: وأعدوا لہم ما استطعتم من قوة[8:60] ، اورتین مرتبہ کہا:ألا إن القوة الرمی (صحیح مسلم، حدیث نمبر167) ۔موجودہ زمانے میں اس حکم کی حیثیت ایک موقوف حکم کی ہے، لیکن اگر کسی وقت حالات کا تقاضا ہو کہ رمی (تیراندازنی)کے طریقے کو دوبارہ اختیار کیا جائے، تو اس طریقے کو اختیارکیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ کسی حکم کا موقوف ہونا،ہمیشہ مشروط معنی میں ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C11P03",
          "text": "کسی حکم کو منسوخ قرار دینے کا اختیار صرف شارع کو ہے، یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کو ۔ اس کےبرعکس، جہاں تک موقوف قرار دینے کا معاملہ ہے، یہ ایک اجتہادی فعل ہے۔ امت کے علماء کو یہ حق ہے کہ وہ قانونِ ضرورت (law of necessity)کے تحت کسی حکم کو وقتی طور پر موقوف قرار دے دیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اصحاب رسول کے زمانے میں اہل فتنہ سے قتال کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ حکم چوں کہ شریعت کے متن میں موجود ہے، اس لیے کوئی شخص اس کو منسوخ نہیں قرار دے سکتا، البتہ ضرورت شرعیہ کے تحت بطور اجتہاد اس حکم کو موقوف قرار دیا جاسکتا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C12",
      "chapter_title": "رسول، صحابی، کافر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C12P01",
          "text": "کسی لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے، اور ایک اس کا اصطلاحی مفہوم۔ جب ایک لفظ ایک مخصوص اصطلاح (term) کے معنی میں بولا جانے لگے تو اس لفظ کو اس کے مخصوص اصطلاحی مفہوم ہی میں استعمال کیا جائے گا۔ کسی اور معنی میں اس کو استعمال کرنا درست نہ ہوگا۔ یہ اصول مذہب کے شعبوں میں بھی ہے اور سیکولر شعبوں میں بھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P02",
          "text": "اسلام میں رسول اور صحابی اور کافرکے الفاظ، اصطلاحی الفاظ کی حیثیت رکھتےہیں۔ اب ان کو ان الفاظ کے اصطلاحی معنی ہی میں استعمال کیا جائے گا، کسی اور معنی میں ان کا استعمال درست نہ ہوگا۔ اسلام میں رسول ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ اصطلاح کے اعتبار سے اس کا مفہوم ہے فرستادۂ خدا (messenger of God)۔ صحابی سے مراد رسول اللہ کا وہ معاصر انسان ہے جس نے براہ راست آپ سے دین کو پایا ہو، اور اس کو اخلاص کے ساتھ اپنا لیا ۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P03",
          "text": "اسی طرح اسلام میں کافر بھی ایک اصطلاحی لفظ ہے۔کافر کا لغوی مفہوم ہے انکار کرنے والا۔ مگر اصطلاحی اعتبار سے اس کا مطلب ہے منکر رسول۔ یعنی رسول اللہ کا وہ معاصر انسان جس نے براہ راست رسول سے دین کو پایا لیکن اس نے اس کا اعتراف نہیں کیا، بلکہ وہ اس کا منکر بن گیا۔ اس اعتبار سے اسلام میں کافر کا مطلب ہے، معاصر منکر رسول ۔"
        },
        {
          "para_id": "C12P04",
          "text": "کافر کوئی قومی لقب نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو مسلمان نہ ہو وہ کافر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلاً ہر آدمی ایک انسان ہے۔ دنیاوی تعلقات کے اعتبار سے ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں۔ فرق کا تعلق اللہ رب العالمین سے ہے۔ قیامت میں اللہ رب العالمین کسی انسان کو جو درجہ دے، وہی اس کا درجہ ہے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود کسی کو غیر قوم یا کافر قوم کہے۔ کافر کے لفظ کا رواجی استعمال، ہم اور غیر (we and they) کا تصور پیدا کرتا ہے۔ حالاں کہ اسلام کے مطابق، صحیح تعلق وہ ہے جو ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر قائم ہو۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C13",
      "chapter_title": "رسول اللہ کا کارنامہ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C13P01",
          "text": "جدید تعلیم یافتہ طبقہ اکثر یہ سوال کرتا ہے کہ انسانی تاریخ کی لیے پیغمبر اسلام کی دین (contribution)کیا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ کی دین خاص طور پر دو چیزیں ہیں— موحدانہ تصور خدا(monotheistic concept of God)، عملی آئڈیلزم (practical idealism)۔ یہ دونوں چیزیں انسانی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر تاریخ میں یہ دونوں چیزیں مفقود رہیں۔ انسان ہمیشہ سے خدا کو مانتا تھا، لیکن وہ خدا کے ساتھ مشرکانہ تصورات کو ملائے ہوئے تھا، وہ خالص توحید پر قائم نہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے انسان کوبے آمیز توحید پر قائم کیا۔ یہ بلاشبہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کا سب بڑا نظریاتی تحفہ تھا۔ کیوں کہ یہ صرف خالص توحید ہے جس کے ذریعہ خدا کا تصور صحیح بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C13P02",
          "text": "دوسری چیز عملی آئڈیلزم (practical idealism) ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ آئڈیلزم کو چاہنے والا بنا رہا۔ لیکن آئڈیلزم عملی طور پر کبھی انسان کو حاصل نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان نے اس راز کو نہیں جانا کہ اگر چہ وہ پیدائشی طور پر معیار پسند ہے۔ لیکن مختلف اسباب سے اس دنیا میں عملاً آئڈیلزم کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ انسان خوداپنے آپ کو معیار پسند (idealist) بنا سکتاہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں اس قسم کے معیار کا حصول ممکن نہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی عملی آئڈیلزم پر راضی ہوجائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصول کو نہ صرف بتایا بلکہ اپنی عملی زندگی میں اس کا کامل نمونہ بھی قائم کردیا۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اس اصول کا عملی نمونہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگرچہ آپ کو کامل یقین تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ لیکن معاہدۂ حدیبیہ کے وقت جب فریق مخالف نے اصرار کیا کہ معاہدہ کے متن سے محمد رسول اللہ کا لفظ نکال دیا جائے، اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھا جائے تو آپ فوراً اس پر راضی ہوگئے۔ آپ کی یہ رضامندی عملی آئڈیلزم کی بنیاد پر تھی، نہ کہ خالص آئڈیلزم کی بنیاد پر۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C14",
      "chapter_title": "رے آف ہوپ",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C14P01",
          "text": "تخلیق کے قانون کے مطابق، موت ہر عورت اور ہر مرد پر آتی ہے۔ موت کیا ہے۔ موت یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا سے مکمل طور پر جدا ہوجائے، اور اس دنیا میں پہنچ جائے جس کو آخرت کہا جاتا ہے۔یہ آخرت کی دنیا کیا ہے۔ یہ اللہ رب العالمین کی دنیا ہے۔ وہاں وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلَّہِ (الانفطار16:) کا اصول رائج ہے۔ موجودہ دنیا بھی اللہ کے حکم کے تحت ہے۔ لیکن یہاں سب کچھ غیب میں ہو رہا ہے۔ آخرت وہ جگہ ہے، جہاں اللہ کی ہستی ایک مشہود ہستی بن جائے گی۔ جہاں بندہ براہ راست طور پر اپنے رب کے سامنے اپنے آپ کو پائے گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P02",
          "text": "اللہ کا تصور یہ ہے کہ وہ ارحم الراحمین ہے۔ وہ تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ انسان پر جب موت آتی ہے تو اس کے لیے یہ ایک ایسے سفر کی طرف جانا ہوتا ہے، جہاں اس کی ملاقات اللہ رب العالمین سے ہونے والی ہے، جہاں بندہ اپنے آپ کو معبود کے سامنے کھڑا ہوا پائے گا۔ جب معبود رحمان و رحیم ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اور رب کی یہ ملاقات یقیناً ایک پُرامید ملاقات ہوگی۔ یہاں بندہ اپنے رب کی طرف سے وہ چیز پائے گا، جس کی امید وہ ایک مہربان رب سے کیے ہوئے تھا۔"
        },
        {
          "para_id": "C14P03",
          "text": "ایک حدیث قدسی میں آیا ہے:أنا عند ظن عبدی بی (مسند احمد، حدیث نمبر 9076)۔ یعنی میںبندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ جو انسان یہ یقین رکھتا ہو کہ رب العالمین ایک رحیم و کریم رب ہے، اس کی مہربانیاں ہر مخلوق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ایسا انسان ضرور یہ بھی مانے گا کہ جب اس کی ملاقات اللہ سے ہوگی تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسے رب کے سامنے کھڑا ہوا پائے گا، جو تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔بندے کا یہ احساس اس کو ضرور یہ یقین دے گا کہ میرا رب ایک مہربان رب ہے، وہ ضرور میرے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرے گا۔ یہ یقین کسی بندے کے لیے اس کی موت کو ایک مثبت موت بنا دیتا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C15",
      "chapter_title": "صبر کی عظمت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C15P01",
          "text": "ایک حدیث رسول صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں:عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ:إن ناسا من الأنصار سألوا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأعطاہم، ثم سألوہ، فأعطاہم، ثم سألوہ، فأعطاہم حتى نفد ما عندہ، فقال: ما یکون عندی من خیر فلن أدخرہ عنکم، ومن یستعفف یعفہ اللہ، ومن یستغن  یغنہ اللہ ومن یتصبر یصبرہ اللہ، وما أعطی أحد عطاء خیرا وأوسع من الصبر (صحیح البخاری، حدیث نمبر1469)۔ یعنی انصار کے کچھ لوگوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا۔ آپ نے ان کو دے دیا، انھوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا، انھوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا۔ یہاں تک کہ جو کچھ تھا آپ کے پاس وہ ختم ہوگیا۔ تو آپ نے فرمایا میرے پاس جو کچھ بھی مال ہوگا، میں تم سے بچا نہیں رکھوں گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے جو شخص غنا کا طریقہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے غنا میں اضافہ کرے گا اور جو شخص صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ نعمت نہیں ملی۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P02",
          "text": "اس کا مطلب یہ ہے کہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے سے مانگ کر حاصل کرلے۔ لیکن اس سے زیادہ اعلی طریقہ یہ ہے کہ آدمی محنت کرے، اور خود اپنی محنت کے ذریعہ حاصل کرے۔اس دنیا میں محنت کے ذریعہ پانے کے مواقع ہر ایک کے لیےکھلے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے، اس کو وہ اپنی محنت کے ذریعہ حاصل کرے۔"
        },
        {
          "para_id": "C15P03",
          "text": "محنت کے ذریعہ حاصل کرنا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بہت سے مزید فوائد کا ذریعہ ہے۔ آدمی جب ذاتی محنت سے حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ اپنی سوچ میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ منصوبہ بندی کا طریقہ دریافت کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سنجیدہ بناتا ہے۔ وہ اپنے شکر کے جذبات میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر ذہنی ارتقا کے عمل کو جاری کرتا ہے، وغیرہ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C16",
      "chapter_title": "اجتہاد کا فقدان",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C16P01",
          "text": "امت کےدور زوال کے بارے میں ایک پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔الفاظ یہ ہیں:تنزع عقول أکثر ذلک الزمان، ویخلف لہ ہباء من الناس لا عقول لہم(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3959)۔ یعنی اُس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور ذروں کی طرح لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے پاس عقلیں نہ ہوں گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P02",
          "text": "عقل (reason)تو فطرت کا ایک عطیہ ہے۔ عقل کے معاملے میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ ابتدائی نسلوں میں عقل رہے، اور بعد کی نسلوں میں وہ چھن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کا چھننا، عضویاتی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ سمجھ (understanding) کے معنی میں ہے۔ یعنی عقل تو موجود ہوگی، لیکن سمجھداری موجود نہ ہو گی۔ مزید غور وفکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوں میں اجتہادی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ حالات کے مطابق شریعت کی تطبیق نو (reapplication) کرکے اپنے حالات کے اعتبار سے اس کی پیروی کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P03",
          "text": "مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صلاحیت اجتہاد کا خاتمہ کلی طور پر نہ ہوگا۔ وہ اس معنی میں ہوگا کہ جہاں مجبوری (compulsion) کی صورت حال ہو، وہاں تو وہ اجتہاد پر عمل کریں گے۔ لیکن جہان مجبوری کی صورت حال نہ ہوگی ، وہاں وہ اپنے روایتی ذہن پر قائم رہیں گے، اور اجتہاد نہ کرسکیں گے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں حج کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَى کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ (22:27)۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر دور دراز راستوں سے آئیں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P04",
          "text": "اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاجیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مقامات سے اونٹ پر سفر کرکے مکہ پہنچیں۔ قدیم زمانے میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں جب مشینی سواری کا دور آیا تو اب کوئی حاجی ایسا نہیں کرتا کہ وہ اب بھی سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کرے، اور اس طرح مقامات حج تک پہنچے۔ بلکہ اب تمام حاجی یہی کرتے ہیں کہ دور کے مقامات سے وہ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، اور قریب کے مقامات سے کاروں اور بسوں پر۔ حالاں کہ اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا کہ علما نے جمع ہو کر یہ فتوی دیا ہو کہ اب زمانہ بدل گیا۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حیوانی سواری کے بجائے، مشینی سواری پر سفر کرکے مقام حج تک پہنچیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P05",
          "text": "واقعات بتاتے ہیں کہ زمانے کے حالات میں اور بہت سی تبدیلیاں ہوئیں۔ تاہم امت کے عوام یا علماء اس معاملے میں ایسا نہ کرسکے کہ وہ اجتہاد کریں اور قدیم طریقے کو چھوڑ کر نئے طریقے پر عمل کریں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جدو جہد کا طریقہ بدل گیا ہے۔ قدیم زمانے میں کسی مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ جدو جہد (violent struggle) کا طریقہ رائج تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ اب متشددانہ جدو جہد کا طریقہ غیر مؤثر بن گیا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ پر امن جدو جہد (peaceful struggle) کے ذریعہ ہر قسم کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ ایسی حالت میں اجتہاد کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان تشدد کے طریقے کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور امن کے طریقے کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان ایسا نہ کرسکے۔"
        },
        {
          "para_id": "C16P06",
          "text": "حالاں کہ اس معاملے میں حدیث رسول میں پیشگی طور پر رہنمائی موجود تھی۔ حضرت عائشہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتی ہیں : ما خیر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین، أحدہما أیسر من الآخر، إلا اختار أیسرہما (صحیح مسلم، حدیث نمبر2327)۔ یعنی آپ کو جب بھی دو کاموں میں ایک اختیار کرنا ہوتا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہوتا، تو آپ ان دونوں میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے۔ یہ ظاہر ہے کہ متشددانہ طریقۂ کار کے مقابلے میں پر امن طریقۂ کار آسان ہے۔ ایسی حالت میں حدیث رسول کے مطابق مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ متشددانہ طریقۂ کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف پر امن طریقۂ کار پر عمل کریں۔ مگر اجتہاد کے فقدان کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان ایسا نہ کرسکے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C17",
      "chapter_title": "رسول اور اصحابِ رسول",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C17P01",
          "text": "تمام پیغمبروں کےآخر میں اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا۔ حضرت علی، رسول اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو بھی آپ کو پہلی بار دیکھتا مرعوب ہوجاتا۔ جو ساتھ بیٹھتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر 3638)"
        },
        {
          "para_id": "C17P02",
          "text": "ایک حدیث (جامع الاصول، حدیث نمبر9317)میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں کہ میرے رب نے مجھے 9 باتوں کا حکم دیا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C17P03",
          "text": "1۔  کھلے اورچھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P04",
          "text": "2۔   غصہ میں ہوں یا خوشی میں ہمیشہ انصاف کی بات کہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P05",
          "text": "3۔    محتاجی اور امیری میں دونوں حالتوں میں اعتدال پر قائم رہوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P06",
          "text": "4۔  جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P07",
          "text": "5۔  جو مجھے محروم کرے میں اس کو دوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P08",
          "text": "6۔  جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P09",
          "text": "7۔  اور میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P10",
          "text": "8۔  میرا بولنا یادِ الٰہی کا بولنا ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P11",
          "text": "9۔  میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C17P12",
          "text": "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقل مند شخص کے لئے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں گزریں۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کررہا ہو اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانےپینے کی ضرورتوں کے لئے وقت نکالے۔ (ابن حبان، حدیث نمبر 361)"
        },
        {
          "para_id": "C17P13",
          "text": "حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ان کے گھر میں تھے، آپ نے خادمہ کو بلایا، اس نے آنے میں دیر کردی۔ آپ کے چہرے پر غصہ ظاہر ہوگیا۔ اُم سلمہ نے پردے کے پیچھے جاکر دیکھا تو خادمہ کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتےہوئے فرمایا: اگر قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا (لولا خشیة القود یوم القیامة، لأوجعتک بہذا السواک)۔الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 184"
        },
        {
          "para_id": "C17P14",
          "text": "بدر کی جنگ 2 ہجری میں ہوئی ۔ جو لوگ قیدی بن کر آئے وہ رسول اللہ کے بدترین دشمن تھے مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ اِن قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمرو تھا۔ وہ اپنی شاعری سے رسول اللہ کے بارے میں گستاخانہ تقریر کرتا تھا۔ حضرت عمر نے مشورہ دیا کہ اس کے سامنے والے دانت توڑ دیے جائیںتاکہ آئندہ یہ تقریر نہ کرسکے۔ لیکن آپ نے فرمایا: اگر میں ایسا کروں تو خدا میرا چہرہ بگاڑ دے گا اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں ( لا أمثل بہ فیمثل اللہ بی وإن کنت نبیا)۔سیرۃ ابن ہشام، 1/649"
        },
        {
          "para_id": "C17P15",
          "text": "حسن بصری تابعی نے ایک بار اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا: میں نے 70 بدری صحابیوں کو دیکھا ہے۔ ان کا لباس زیادہ تر صوف کا ہوتا تھا۔ اگر تم ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ مجنون ہیں (مجانین)۔اور اگر وہ تم کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے (ما لہؤلاء من خلاق)۔اور اگر وہ تمھارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتے (ما یؤمن ہؤلاء بیوم الحساب)۔حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 2/134"
        },
        {
          "para_id": "C17P16",
          "text": "عبد اللہ بن مسعود کہتےہیں کہ اصحابِ رسول اس امت کے بہترین لوگ تھے وہ بہت اچھے دل والے، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے(کانوا خیر ہذہ الأمة، أبرہا قلوبا، وأعمقہا علما، وأقلہا تکلفا)۔حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 1/305۔ رسول اور اصحاب رسول کی یہ زندگی اختیاری زندگی تھی، وہ کسی مجبوری کی بنا پر نہ تھی۔ یہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے بھی نمونہ ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C18",
      "chapter_title": "معاونِ اسلام تہذیب",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C18P01",
          "text": "تہذیب (civilization) کیا ہے۔ تہذیب ایک جدید اصطلاح ہے۔ اس سے مراد سوشل ترقی کا وہ اسٹیج ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ہو۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P02",
          "text": "Civilization is an advanced stage of human society, where people live with a reasonable degree of organization and comfort and can think about things like art and education."
        },
        {
          "para_id": "C18P03",
          "text": "کلچر ایک قومی ظاہرہ ہے۔ اس کے مقابلے میں تہذیب ایک عمومی انسانی ظاہرہ ۔ تاریخ میں بہت سی تہذیبیں شمار کی جاتی ہیں۔ لیکن مبنی بر فطرت ظاہرہ کے اعتبار سے ایک ہی واقعہ ہے جس کو تہذیب کہا جاسکتا ہے، اور وہ مغربی تہذیب (western civilization) ہے۔ دوسری تہذیبیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی کلچر تھیں، نہ کہ کامل معنوں میں تہذیب۔اس سلسلے میں ایک امریکی مصنف کی کتاب بہت مشہور ہوئی:"
        },
        {
          "para_id": "C18P04",
          "text": "Samuel P. Huntington: The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order  (1996)"
        },
        {
          "para_id": "C18P05",
          "text": "اس کتاب کا ٹائٹل میرے نزدیک کنفیوزن پیدا کرتا ہے۔ مصنف نے کتاب کا ٹائٹل تہذیبوں کا تصادم بنایا ہے۔ مگر کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا موضوع اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی انٹرسٹ ہے، نہ کہ تہذیبوں کا تصادم۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P06",
          "text": "مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے مغربی تہذیب نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مبنی بر فطرت تہذیب ہے۔ اس اعتبار سے وہ پوری انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ کچھ مقامی اثرات کی بنا پر اس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے۔ لیکن مقامی اثرات کو حذف کرکے دیکھا جائے تو وہ بلاشبہ ایک انسانی تہذیب ہے۔ ہر گروہ اس میں برابر کا حصہ دار ہے۔ حتیٰ کہ مسلم گروہ بھی۔ اضافی پہلوؤں کو نظر انداز کردیا جائے تو مغربی تہذیب کو اسلامی تہذیب کہنا بجا طور پر درست ہوگا۔دوسری تہذیبیں پولیٹکل اقتدار کے تحت بنیں۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب بنیادی طور پراس وقت بنی جب کہ غیرپولیٹکل سائنسدانوں نے کائنات کے فطری قوانین (laws of nature)کو دریافت کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P07",
          "text": "قرآن کی ایک متعلق آیت ان الفاظ میں آئی ہے:  وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہ ُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون (45:13)۔ اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P08",
          "text": "تسخیر کا مطلب ہے تابع بنا نا (to subject)۔ تابع کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو جس طرح چاہے اپنی خدمت کے لیے استعمال کرے۔ مثلا گھوڑا اور بیل میں پیدائشی طور پر یہ صفت ہے کہ انسان جب ان کو اپنا تابع بنا کر کوئی خدمت لینا چاہے تو وہ بآسانی انسان کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال تمام ان چیزوں کا ہے جو ہمارے آس پاس اس دنیا میں پائی جاتی ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P09",
          "text": "اس کی دوسری مثال ٹکنالوجی ہے۔ ٹکنالوجی گھوڑے کی طرح خارجی دنیا میں پیشگی طور پر موجود نہ تھی۔ وہ انسان کے لیے ایک ایسی چیز تھی، جس کو وہ دریافت کرے۔ اس کے بعد ہی وہ انسان کے لیے قابل استعمال بنتی ہے۔ انسان نے اپنی عقل کو استعمال کرکے یہ دوسرا کام کیا ۔ اس نے ٹکنالوجی کی مختلف صورتوں کو دریافت کیا، اور پھر تجربہ کے ذریعہ ان کو اپنے لیے قابل استعمال بنایا۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P10",
          "text": "اس اعتبار سے پوری کائنات انسان کے لیے ایک مسخر کائنات ہے۔ کچھ چیزیں براہ راست طور پر انسان کے قبضہ قدرت میں ہیں، مثلا گھوڑا۔ اور کچھ چیزیں بالواسطہ طور پر انسان کے لیے قابل استعمال ہیں، مثلا موٹر کار اور ہوائی جہاز، وغیرہ۔ اس اعتبار سے پوری دنیا کو معاون انسان دنیا کہا جاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C18P11",
          "text": "٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭"
        },
        {
          "para_id": "C18P12",
          "text": "کامل آرام یا کامل خوشی کسی کو اس دنیا میں نہیں مل سکتی ،"
        },
        {
          "para_id": "C18P13",
          "text": "کامل مسرت صرف آخرت ہی میں ممکن ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C19",
      "chapter_title": "تردیدی لٹریچر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C19P01",
          "text": "قرآن کی ایک تعلیم یہ ہے کہ دعوت حق کا کام مثبت انداز میں کیا جائے، منفی انداز میں نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی مندرجہ ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے:  وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ فَیَسُبُّوا اللَّہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P02",
          "text": "قرآن کی یہ آیت جب اتری تو اولاً اس کا خطاب اصحاب رسول سے تھا۔ حدیث و سیرت کے ذخیرے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس زمانے کے غیر مسلموں سے سبّ و شتم کی زبان بولتے تھے۔ سبّ و شتم کا لفظ یہاں شناعت کے اعتبار سے آیا ہے، نہ کہ واقعہ کے اعتبار سے۔ اصل میں جو واقعہ ہوا تھا ، وہ یہ کہ بعض صحابی نے غیر احسن مجادلہ کی زبان میں بعض یہود سے گفتگو کی۔ مثلا ایک یہودی نے کہا کہ موسی تمام عالم سے افضل ہیں۔اس کو سن کر ایک صحابی نے کہا کہ محمد تمام اہل عالم سے افضل ہیں۔ یہ بات بڑھی، یہاں تک کہ صحابی نے یہودی کو ماردیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P03",
          "text": "مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو اسی قسم کے غیر احسن مجادلہ سے روکا گیا ہے۔ کیوں کہ جب بھی غیر احسن انداز میں مجادلہ کیا جائے گا تو اس کا رد عمل (reaction) ہوگا۔ اس اصول کی روشنی میں تردیدی انداز دعوت ، یقینی طور پر غیر اسلامی انداز دعوت ہے۔ کیوں کہ اگر آپ ردّ عیسائیت اور ردّیہودیت کے اسلوب میں کتابیں لکھیں گے، تو دوسرا فریق بھی ردّ اسلام کے انداز میں کتابیں لکھے گا۔ تردیدی اسلوب کا ردّعمل ہمیشہ تردیدی اسلوب کی صورت میںظاہر ہوتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C19P04",
          "text": "تردیدی اسلوب کی کوئی حد نہیں۔ تردیدی اسلوب جس طرح دوسرےمذاہب کے خلاف ممکن ہے، ٹھیک اسی طرح وہ اسلام کے خلاف بھی ممکن ہے۔ یہ اسلوب کی بات ہے، نہ کہ حق و ناحق کی بات۔ موجودہ زمانہ میں مناظرہ (debate) کا طریقہ نتیجہ کے اعتبار سے اسی سبّ و شتم کا طریقہ ہے۔ دعوت کا موثر اسلوب صرف مثبت اسلوب ہے، تردیدی اسلوب ہرگز نہیں۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C20",
      "chapter_title": "دنیا کی تخلیق",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C20P01",
          "text": "سائنسی دریافت کے مطابق، تقریباً تیرہ بلین سال پہلے خلا (space)میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔اس دھماکے کے بعد ہماری دنیا کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد ایک منصوبہ بند پراسس (well-calculated planning) کے تحت پوری کائنات وجود میں آئی۔ کہکشائیں (galaxy) وجود میں آئیں، شمسی نظام (solar system) بنا، سیارۂ ارض کی تخلیق ہوئی، پانی ، ہوا، سبزہ اور حیوانات وجود میں آئے۔آخر میں انسان کی آبادی شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ موجودہ آباد دنیا وجود میں آئی۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P02",
          "text": "دنیا میں پیش آنے والے ان واقعات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی تخلیق ایک منصوبہ بند انداز میں ہوئی۔ دنیا کے آغاز سے لے کر اب تک جو باتیں پیش آرہی ہیں، وہ سب اس منصوبہ بند تخلیق کی تائید کرتی ہیں۔ اس کے سوا اس ظاہرے کی کوئی اور توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔"
        },
        {
          "para_id": "C20P03",
          "text": "اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کے اعتبار سے دنیا کا انجام کیا ہے۔ قرآن اس واقعہ کو جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ابتلا (الملک 2:)کے لیے پیدا کیا۔ یعنی ایک تربیتی کورس سے گزار کر ایسے لوگوں کو جاننا جوقابل انتخاب ہوں۔ آخر میں اللہ رب العالمین ایسے لوگوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر ان کو منتخب کرے گا، اور ان کو آخرت کی ابدی جنت میں داخل کرے گا۔ جنت میں داخلہ کسی اور بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ صرف اس بنیاد پر ہوگا کہ آدمی نےاپنی آزادی کا غلط استعمال کیا یا صحیح استعمال کیا۔ اس نے اپنے قول و عمل سے اپنے اندر جو شخصیت تعمیر کی، وہ جنت میں رہنے کے قابل ہے، یا اس میں رہنے کے قابل نہیں ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے لیے پرابلم پرسن بنے، یا وہ لوگوں کے درمیان پر امن طور پر رہے۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:یدخل الجنة أقوام، أفئدتہم مثل أفئدة الطیر(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2840) ۔ یعنی جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں ۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C21",
      "chapter_title": "تاریخ کاسفر",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C21P01",
          "text": "اللہ کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔ربً یربًُ کا مطلب عربی زبان میں ہوتا ہے:إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام (المفردات فی غریب القرآ ن للراغب الأصفہانى، رب)۔ یعنی کسی چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر اس کوکمال تک پہنچانا۔ رب العالمین کی اس صفت کا اظہار مادی کائنات میں بھی ہوا ہے، اور انسانی تاریخ میں بھی۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P02",
          "text": "قرآن میں سات بار یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں (ستۃ ایام) میں پیدا کیا ۔ چھ دنوں سے مراد چھ ادوار (six periods) ہیں۔ قرآن سے یا سائنس سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ چھ ادوار سے مراد کیا ہے ۔ لیکن قیاسی طور پر اس کا ایک نقشہ بیان کیا جاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P03",
          "text": "1  - مادی کائنات کا غالبا پہلا دور وہ ہے جس کو قرآن میں اشارۃ رتق اور فتق (الانبیاء30:) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دریافت ہونے والےاس عظیم کائناتی واقعہ کو فریڈ ہائل ( Fred Hoyle) نےبگ بینگ کا نام دیا ہے۔ اس کے مطابق کائنات اپنے آغاز میں ایک بہت بڑے ایٹم (super atom) کی شکل میں خلا میں پیدا ہوا۔ پھر اس گولے میں ایک دھماکہ ہوا ۔ جس کے بعد اس گولہ کے تمام پارٹیکل وسیع خلا میں پھیل گئے اور دھیرے دھیرے موجودہ کائنات بنی۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P04",
          "text": "2  -   دوسرا دور غالبا وہ ہے جس کو امریکی سائنسداں اَلَن بوس ( Alan Boss) نے لٹل بینگ کا نام دیا ہے۔یہ دور وہ ہے جو شمسی نظام (Solar System) سے شروع ہوا۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ اس سے مراد وہ پوری دنیا ہے جس کو شمسی نظام کہا جاتا ہے۔اسی نظام کے اندر ہماری زمین (planet earth) واقع ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P05",
          "text": "3   -  مادی دنیا میں غالباًپیش آنے والا تیسرا بڑا واقعہ وہ ہے جس کو واٹر بینگ کہا جاسکتا ہے۔ زمین کی فضا میں پائی جانے والی دو گیسوں کی ترکیب سے سیال پانی وجود میں آیا۔ جو زندگی کے تمام اقسام کی اصل ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P06",
          "text": "4  - مادی کائنات کا چوتھا واقعہ وہ ہے جس کو پلانٹ بینگ کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد زمین کی سطح پر ہرقسم کی ہریالی وجود میں آئی۔ اور زمین کا خشک کرہ ہر قسم کی ہریالی کے وجود میں آنے سے سر سبز و شاداب ہوگیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P07",
          "text": "5  -  اس کے بعد زمین پر وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو انیمل بینگ (animal bang) کہا جاسکتا ہے۔اس کے بعد زمین پر ہر قسم کے حیوانات وجود میں آئے، مثلاً مچھلی ، چڑیا، ہر قسم کے چوپائے، اور کیڑے مکوڑے، وغیرہ۔ایک اندازہ کے مطابق زمین پر زندہ انواع کی تقریبا 8.7 ملین قسمیں ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P08",
          "text": "6  - اس سلسلے میں وہ آخری واقعہ پیش آیا جس کو ہیومن بینگ (human bang) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی انسان کا پیدا ہونا، اور انسانی نسلوں کا زمین کے اوپر آباد ہونا۔ انسانی دور زمین کا آخری دور ہے ۔اس کے بعد جو دور آئے گا، وہ آخرت کا ابدی دور ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P09",
          "text": "انسانی تاریخ"
        },
        {
          "para_id": "C21P10",
          "text": "یہی معاملہ انسان کے ساتھ پیش آیا۔ اللہ رب العالمین جس طرح عالم مادی کی ربوبیت کررہا ہے، اسی طرح وہ انسانی تاریخ کو بھی مینج (manage) کر رہا ہے۔ تاکہ وہ درست سمت میں سفر کرتے ہوئے اپنی آخری مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P11",
          "text": "مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی تاریخ کے سفر کے بنیادی طور پر چھ مراحل ہیں۔ یہ تاریخ انسانِ اول آدم سے شروع ہوئی، اور اب اکیسویں صدی میں وہ غالباً اپنے سفر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ یہ مراحل ممکن طور پر حسب ذیل ہیں — انبیاء کا دور، ابراہیمی منصوبے کا دور، خاتم النبیین کا دور، امت مسلمہ کا دور، مغربی اقوام کا دور،فائنل دور۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P12",
          "text": "اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے اس کو سیارۂ ارض (planet earth) پر آباد کیا۔ اس طرح انسان کی تاریخ بننا شروع ہوئی۔ تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق،انسان کی آخری منزل جنت (Paradise) ہے۔ جنت گویا انسان کا ابدی ہیبیٹاٹ (eternal habitat) ہے۔ جنت وہ آفاقی جگہ ہے جہاں وہ لوگ ابدی طور پرر ہیں گے، جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت کے لیے اہل (competent) ثابت کریں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P13",
          "text": "تخلیقی منصوبہ کے مطابق، انسان کی زندگی دوادوار میں تقسیم ہے۔ موت سے پہلی کی دنیا اور موت کے بعد کی دنیا۔ موت سے پہلے کی دنیاگویا ایک تربیت گاہ (nursery) کی حیثیت رکھتی ہے، اور موت کے بعد کی دنیا اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ (habitat)ہے۔ جہاں اس کو کامل فل فِلمینٹ (fulfilment) کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔دوسرے الفاظ میں یہ کہ موجودہ دنیا انتخاب کی دنیا (selection ground) ہے، اور بعد کی دنیا وہ ہے جہاں منتخب افراد اپنے آئڈیل کے مطابق ابدی طور پر زندگی گزاریں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P14",
          "text": "رہنمائی کا انتظام"
        },
        {
          "para_id": "C21P15",
          "text": "اس تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کے لیے ایک رہنمائی (guidance) کی ضرورت تھی۔ تاکہ یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد صحیح راہ (right path) پر چلیں، اور غلط راہوں میں بھٹکنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اس کے لیے خالق نے ہر نوعیت کا انتظام فرمایا۔ جولوگ اس انتظام سے رہنمائی لیتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ یقینی طور پر غلط سمتوں میں بھٹکنے سے بچیں گے، اور اپنی زندگی کو فلاح کی زندگی بنانے میں کامیاب رہیں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P16",
          "text": "رہنمائی کے معاملے میں خالق نے مختلف سطحوں پر اعلیٰ انتظام کیا ہے۔پہلی سطح فطرت کی سطح ہے۔ فطرت کی سطح پر انسان کو پیدائشی طور پر نیک اور بد کی تمیز(الشمس8:) عطا فرمائی ہے۔ انسان اگر اپنے شعور کو زندہ رکھے تو یقینا فطرت کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہوجائے گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P17",
          "text": "دوسرا مرحلہ ارد گرد کی کائنات ہے۔ہمارے گرد و پیش جو مادی کائنات ہے، اس میں خالق نے ہر اچھی بات کے مادی نمونے (material illustrations) رکھ دیے ہیں۔ آدمی کا شعور اگر بیدار ہو تووہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں ہر دن اپنے لیے خاموش رہنمائی پاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P18",
          "text": "رہنمائی کی تیسری سطح یہ ہے کہ خالق نے ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اپنے پیغمبر بھیجے، جو لوگوں کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میںفلاح کا راستہ بتاتے رہے۔ ساتویں صدی میں خالق نے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور ان کے ذریعہ سے رہنمائی کی مستند کتاب (authentic book) بھیج دی۔ پیغمبر آخر الزمان کے بعد یہ رہنمائی اس طرح جاری ہے کہ ایک طرف قرآن اور پیغمبر کا اسوہ لفظی رہنمائی کی صورت میں موجود ہے۔ اور دوسری طرف اللہ کی توفیق سے زندہ رہنما برابر اٹھ رہے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P19",
          "text": "اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إن اللہ یبعث لہذہ الأمة على رأس کل مائة سنة من یجدد لہا دینہا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4292)۔ یعنی بے شک اللہ اس امت کے لیےہر سو سال کے سرے پر ایسے افراد بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید (revival) کرتے رہیں گے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P20",
          "text": "اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی آمد کا سلسلہ شخصی معنوں میں ختم ہوجائے گا، مگراس وقت بھی پیغمبرانہ رہنمائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امت میں ایسے اہل علم افراد پیدا ہوتے رہیں گے جو اللہ کی توفیق سے امت اور عام انسانوں کو خدائی سچائی سے باخبر کرتے رہیں ۔ ان مجددین اور ان کے ساتھیوں کی درست کارکردگی کی یہ ضمانت ہوگی کہ لوگوں کو ہمیشہ یہ موقع حاصل رہے کہ ایسے ہر فرد کے کام کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانچیں ، اور صرف اس رہنمائی کو قبول کریں جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ جو رہنمائی قرآن و سنت کے معیار (criterion) پر نہ اترے اس کو رد کردیا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C21P21",
          "text": "اس تشریح کے مطابق ، انسانی تاریخ کا یہ سفر اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرکے وہ عمل کریں جو آخرت میں ان کے کام آنے والا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C22",
      "chapter_title": "تعارفی ماڈل",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C22P01",
          "text": "ہر عورت اور مرد جو اس دنیا میں آتے ہیں، وہ فطری طور پر بہت سی خواہشات (desires) لے کر آتے ہیں۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ ان خواہشوں کی تکمیل کرے، لیکن ہر انسان آخر میں محسوس کرتا ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ فل فلمنٹ (fulfilment) سے محروم رہا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کو اس کا اپناہیبٹاٹ (habitat) نہیں ملا۔"
        },
        {
          "para_id": "C22P02",
          "text": "انسان دیکھتا ہے کہ اس دنیا میں چڑیوں کو ان کا ہیبٹاٹ ملا ہوا ہے، مچھلیوں کو ان کاہیبٹاٹ ملا ہوا ہے۔ لیکن انسان اپنے ہیبٹاٹ سے محروم ہے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ ایک مکمل کائنات ہے۔اس دنیا میں ہر طرف کامل ڈیزائن (design) ہے، اس دنیا میں ہر طرف اعلی منصوبہ ہے، اس دنیا میں ہر طرف ذہانت کے نمونے ہیں۔ مگر انسان کا ہیبٹاٹ وسیع دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ اس معاملے کو دیکھ کر ایک سائنسداں نے کہا تھاکہ بظاہر انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے، جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی:"
        },
        {
          "para_id": "C22P03",
          "text": "It appears that the world was not made for him"
        },
        {
          "para_id": "C22P04",
          "text": "انسان کا ہیبٹاٹ بظاہر اس دنیا میں ایک گم شدہ آئٹم (missing item) ہے۔ اب اگر آپ اس نظر سے قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ دریافت کریں گے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو اس گم شدہ آئٹم کی نشاندہی کررہی ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو قرآن کے علمی مطالعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن، صفحات 151)۔قرآن کے مطابق یہ گم شدہ آئٹم وہی ہے جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ اس لیے جنت کے بارے میں قرآن انسان کو خطاب کرتے ہوئے بتاتا ہے : اور تمہارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے(41:31)۔"
        },
        {
          "para_id": "C22P05",
          "text": "مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ سیارۂ ارض (planet earth) میں وہ تمام آئٹم موجود ہیں، جن کی خواہش انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ مگر یہ تمام خواہشیں غیر کامل حالت میں ہیں، کوئی بھی خواہش یہاں کامل حالت میں موجود نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے، اور وہاں کی تمام اعلیٰ چیزوں کا تجربہ کریں گے، تو وہ کہیں گےکہ یہ تو وہی ہے جو ہم کو دنیا میں ملا تھا، اور جنت دنیا کی متشابہ (similar) ہوگی(البقرۃ:  25)۔"
        },
        {
          "para_id": "C22P06",
          "text": "اس پورے معاملے پر غور کیجیے تو آپ یہ دریافت کریں گے — خالق نے انسا ن کو ایک مکمل وجود کی حیثیت سے پیدا کیا اور اس کو موجودہ زمین پر بسایا۔ مگر انسان اور اس زمین کے اندر ایک عدم مطابقت تھی۔ وہ یہ کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے فل فلمنٹ چاہتا تھا۔ لیکن اس دنیا میں انسان کو کوئی بھی چیز کامل فل فلمنٹ کے درجے میں حاصل نہیں ہے۔ اس دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملتی ہیں، وہ صرف بقدر ضرورت ملتی ہیں۔ وہ انسان کو بقدر فل فلمنٹ نہیں حاصل ہوتیں۔ اس محرومی کی بنا پر انسان اس دنیا میں ماہی ٔ بے آب (fish without water) کی طرح تڑپتا ہے، اور اسی حال میں مرکر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C22P07",
          "text": "مطالعے کے مطابق، موجودہ کائنات ایک مکمل کائنات ہے، اس میں کوئی نقص موجود نہیں۔ قرآن (الملک3:)بھی دعویٰ کی زبان میں کہتا ہے کہ اگر تم اس کائنات کا مطالعہ کرو تو تم پاؤگے کہ یہ ایک بے نقص کائنات (flawless universe) ہے۔ آپ کا مطالعہ ایک طرف یہ بتائے گا کہ موجودہ دنیا میں بظاہر انسانی تقاضے کے تمام آئٹم موجود ہیں، مگر یہ تمام آئٹم یہاںنامکمل حالت میں ہیں۔ ان کو حاصل کرنے کے باوجود انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو اپنے فطری تقاضوں کاکامل فل فلمنٹ نہیں ملا۔ قرآن کی روشنی میں آپ کا مطالعہ بتائے گاکہ انسان کا اصل ھیبٹاٹ تو موت کے بعد دوسری زندگی میں ہے، جو ابدی بھی ہے اور کامل بھی۔ موجودہ دنیا میں خالق نے بطور رحمت خاص ایساکیا ہے کہ انسان کے اصل ہیبٹاٹ کا ایک تعارفی ماڈل (introductory model) رکھ دیا ہے۔ تاکہ انسان موت سے پہلے کے دورِ حیات میں موت کے بعد آنے والے دورِ حیات کا ابتدائی تعارف حاصل کرسکے، اور پھر اس کے مطابق اپنی ابدی زندگی کی تعمیر کرے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C23",
      "chapter_title": "تصور دین",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C23P01",
          "text": "اسلام کی تاریخ ، اپنے آغاز کے بعد تقریباً ہزار سال تک smoothly چلتی رہی۔ اٹھارویں صدی عیسوی سے اس میں خلل واقع ہوا۔ اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حدیث کے الفاظ میں مسلمانوں کے اندر سیف (sword) داخل ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں سارا معاملہ جیوپرڈائز (jeopardize)ہوگیا۔ یہ سلسلہ اکیسویں صدی کے فرسٹ کوارٹر تک جاری ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P02",
          "text": "امام مالک نے اپنے استاد صالح بن کیسان کے حوالے سے کہا تھا کہ اس امت کا آخری حصہ بھی اسی طریقہ کو follow کرنے سے درست ہوگا جس طریقے کو follow کرنے سے اس کا ابتدائی حصہ درست ہوا تھا (مسند الموطا للجوہری، اثر نمبر783)۔ اس طریقے کو ایک لفظ میں منہج السلف کہا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسی منہج السلف کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P03",
          "text": "یہ منہج السلف کیا تھا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عہد رسالت کے بعد اسلامی تاریخ میں عہد خلافت آیا۔ یہ دور اسلام میں گولڈن پیریڈ تھا۔ یہ دور تقریباً چالیس سال تک جاری رہا۔ یہ دور شوریٰ (الشوریٰ38:) کے اصول پر قائم تھا۔ لیکن چالیس سال کے بعد مسلم دور خاندانی حکومت (dynasty) پر قائم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلسل طور پر یہی دور جاری رہا۔ تمام علماء سلف جن کو ہم اکابر کہتے ہیں۔ انھوں نے اس نظام کو قبول کرلیا۔ یہاں تک کہ ان کا اجماع ہوگیا کہ اس سیاسی نظام کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P04",
          "text": "ایک اعتبار سے یہی منہج السلف تھا۔ سلف نے ایسا کیوں کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ خاندانی حکومت کے تحت ایک چیز قائم ہوگئی جو عملاً حکومت کا اصل مقصد ہے۔ اس مقصد کو قرآن میں تمکین فی الارض(الحج41:) کہا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو سیاسی استحکام (political stability) کہا جاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P05",
          "text": "خاندانی نظام حکومت کے تحت جب سیاسی استحکام قائم ہوا تو پیس(peace) اور نارملسی (normalcy) قائم ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں تمام دینی کام کسی رکاوٹ کے بغیر ہونے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ قرآن محفوظ ہوا، حدیث کی جمع و تدوین ہوئی، فقہ سے متعلق سارے کام انجام پائے، اسلامی علوم کی تمام بنیادی کتابیں لکھی گئیں۔ مسجد اور مدرسہ اور حج کا نظام قائم ہوا۔ اسلام کی دعوت و اشاعت مسلسل طور پر جاری رہی، وغیرہ۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P06",
          "text": "جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد اسلام میںملوکیت آگئی، ان کا کہنا بلاشبہ غلط ہے۔ اس لیے کہ مسئلہ ظاہری ڈھانچے کا نہیں ہے، بلکہ معنوی پہلو کا ہے۔ حکومت سے اصل مقصود کسی ظاہری ڈھانچے کو قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ استحکام (stability) قائم کرنا ہے۔ کیوں کہ جب استحکام کی حالت قائم ہوجائے تو ہر قسم کا تعمیری کام کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کو قائم ہونے والا وہ دور جس کو خاندانی دور حکومت کہا جاتا ہے، تمام علمائے سلف نے قبول کرلیا، بلکہ اسی زمانے میں یہ مسئلہ بنا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P07",
          "text": "اسلام میں اصل اہمیت مقصد کی ہے، نہ کہ ڈھانچے کی۔ ڈھانچہ خواہ کوئی بھی ہو، اگر شریعت کا مقصد حاصل ہورہا ہے تو اس ڈھانچے کو درست کہا جائے گا۔مقاصد شریعت کی فہرست میں خودساختہ اضافہ کرکے اگر کوئی شخص کہے کہ شریعت کا فلاں مقصد حاصل نہیں ہورہا ہے تو یہ نظام ملوکیت کا نظام ہے، نہ کہ اسلام کا مطلوب نظام ۔ تو اس کا ایسا کہنا قابل قبول نہ ہوگا۔ کیوں کہ مقاصد شریعت میں استنباطی اضافہ کرنا، بذات خود ناقابل قبول ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C23P08",
          "text": "٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭"
        },
        {
          "para_id": "C23P09",
          "text": "ناریل کا درخت پورا کا پورا ایک عجیب قسم کا قدرتی کارخانہ ہے۔ اس کی ہر چیز مفید اور کار آمد ہے۔ ناریل کے درخت کی صفات اگر بیان کی جائیں تو پورا سفرنامہ اسی سے بھر جائے۔ ناریل کے جس خول کے اندر اس کا پانی رہتا ہے اس کی پیکنگ حیرت انگیز حد تک بامعنٰی ہوتی ہے۔ کئی تہہ کے اندر یہ پانی ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کا خول نہایت سخت ہوتا ہے۔ وہ بہت مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مگر اس نہایت سخت خول کے سرے پر حیرت انگیز طورپر ایک نرم سوراخ ہوتا ہے جو نہایت آسانی سے کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پانی نکال کر پیا جاسکتاہے۔ یہ سوراخ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عاقل اور باشعور ہستی ہے۔ اس سوراخ میںجو حکمت ہے وہ باشعور خالق کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C24",
      "chapter_title": "نظریاتی صحبت",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C24P01",
          "text": "جو اہل ایمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر تھے، جن کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر اسلام سے ملاقات کریں، اور براہ راست طور پر آپ سے دین کی تعلیم حاصل کریں، ان کو صحابہ یا اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کا یہ گروہ زیادہ تر قدیم عرب سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی تعداد عورت اور مرد کو ملا کرتقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ معلوم طور پر ابو الطفیل عامر بن واثلہ کنانی آخری صحابی رسول تھے ۔ ان کی وفات غالباً 100 ھـ میں مکہ میںہوئی۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P02",
          "text": "تاہم پیغمبر اسلام کی ایک توسیعی صحبت (extended companionship)وہ ہے، جس کو نظریاتی صحبت کہا جاسکتا ہے۔ صحبت کی یہ نسبت بعد کےز مانے میں بھی بدستور جاری ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محمد بن عبد اللہ کو رسول کی حیثیت سے دوبارہ دریافت کریں۔ جو آپ کی سنت کو اور آپ کے مشن کو اپنی زندگی میں کامل طور پر اپنائیں۔ یہ معاملہ ان کے لیے اتنا بڑا کنسرن (concern)بن جائے کہ وہ ہمیشہ اس سوچ میں رہیں کہ رسول اللہ کا طریقہ حقیقۃً کیا تھا، آپ نے اپنا مشن کس طرح چلایا۔ جو لوگ پیغمبر اسلام کو اس طرح اپنا کنسرن بنائیں، اور اپنی سوچ میں پیغمبر اسلام کو شامل کریں، وہ گویا کہ فکری اور نظری اعتبار سے رسول اللہ کی صحبت میں جی رہے ہیں۔ وہ آج بھی رسول اللہ کے فیض سے اپنا حصہ پارہے ہیں۔ وہ گویا کہ پیغمبر کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس کو دیکھ رہے ہیں، وہ گویا کہ پیغمبر کی صحبت میں نہ ہوتے ہوئے بھی پیغمبر کی صحبت کا فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نظریاتی معنوں میں اصحاب رسول کے گروہ میں شامل ہوئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C24P03",
          "text": "عملی معنوں میں صحبت رسول کی نسبت صرف ان لوگوں کو ملی جو آپ کے ہم زمانہ تھے۔ لیکن نظریاتی معنوں میں صحبت رسول کی نسبت ان شاء اللہ ان لوگوں کو بھی ملے گی، جو پیغمبر اسلام کو اپنا کنسرن بنائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعے پیغمبر کو دوبارہ دریافت کریں گے، اور نظریاتی معنوں میں وہ صحابیٔ رسول قرار پائیں گے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C25",
      "chapter_title": "سب سے بڑی قربانی",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C25P01",
          "text": "عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے اپنے دادا کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موسم میں ہماری قیام گاہ پر منیٰ میںآئے۔ ہم جمرۂ اولیٰ پر مسجد الخیف کے قریب ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اپنے اونٹ پر تھے اور اپنے پیچھے زید بن حارثہ کو بٹھائے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم کو توحید کی طرف دعوت دی۔ خدا کی قسم، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا اور ہم نے اچھا نہیں کیا۔ہم آپ کے بارے میں سن چکے تھے اور یہ بھی سن چکے تھے کہ آپ حج کے موسم میں لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ ہمارے پاس کھڑے ہوکر ہمیں دعوت دیتے رہے اور ہم چپ چاپ سنتے رہے۔اس وقت ہمارے ساتھ میسرہ بن مسروق العبسی بھی تھے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرہم اس آدمی کی تصدیق کریں اور اس کو لے جاکر اپنے قافلہ کے بیچ ٹھہرائیں تو یہ بڑا اہم فیصلہ ہوگا۔ خدا کی قسم، اس کا دین غالب ہوکر رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گا۔ قبیلہ کے لوگوں نے کہا کہ اس کو چھوڑو، تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو ہم میں سے کوئی ماننے والا نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C25P02",
          "text": "یہ بات سن کر رسول اللہ میسرہ کے بارے میں پُر امید ہوگئے۔ آپ نے ان سے مزید گفتگو کی۔ میسرہ نے جواب دیا کہ آپ کا کلام کتنا اچھا اور کتنا روشن کلام ہے۔ لیکن اگرمیں اس کو مان لوں تو میری قوم میری مخالف ہوجائے گی۔ اور آدمی ہمیشہ اپنی قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ قوم اگر مدد نہ کرے تو دشمنوں سے مدد کی کیا امید کی جاسکتی ہے ۔( السیرۃ النبویۃ لابن کثیر،2/170)"
        },
        {
          "para_id": "C25P03",
          "text": "سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم کی روش کے خلاف ایک روش اختیار کرے۔ وہ اپنی قوم کے عام مزاج کے خلاف کام کرے۔ وہ ایسی بات کہے جو قوم کے وقار سے ٹکراتی ہو۔ وہ ایسی پالیسی کی تبلیغ کرے جو قومی پالیسی سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ایساآدمی اپنی قوم سے کٹ جاتاہے۔ وہ خود اپنوں کے درمیان اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C26",
      "chapter_title": "ردّ عمل نہیں",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C26P01",
          "text": "جب کوئی بات آدمی کی پسند کے خلاف پیش آتی ہے تو ایسے موقع پر لوگ فوراً ردّ عمل (reaction) کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر غلطی کا اضافہ ہے۔ جب آپ ناپسندیدہ بات پر ردّعمل (reaction) کا اظہار کریں تو اس کے بعد ہمیشہ جوابی ردّعمل پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح ردّ عمل کا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے۔ یعنی چین ری ایکشن (chain reaction) ۔ اجتماعی زندگی میں یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ آپ ہر قیمت پر چین ری ایکشن سے اپنے آپ کو بچائیں، اور پھر آپ کی زندگی پرسکون زندگی بن جائے گی۔"
        },
        {
          "para_id": "C26P02",
          "text": "یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ اس حکمت کا تعلق فرد کی زندگی سے بھی ہے، اور اجتماع کی زندگی سے بھی۔ خاندانی زندگی سے بھی ہے اور سماجی زندگی سے بھی۔ ہر جگہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پہلی غلطی سے نہیں بچاتے، اور جب آپ پہلی غلطی کردیں تو اس کے بعد لازماً دوسری غلطی وجود میں آئے گی، اور پھر ایسا ہوگا کہ چین ری ایکشن کا سلسلہ قائم ہوجائے گا۔ جو صرف تباہی کی حد پر جاکر ختم ہوگا۔"
        },
        {
          "para_id": "C26P03",
          "text": "مسلم قومیں تقریباً دو سو سال سے نفرت اور تشدد کا شکار ہیں۔ اس کا سبب کوئی خارجی دشمن نہیں ہے، بلکہ خود مسلم قوموں میں اعلیٰ حکمت (high wisdom) کی کمی ہے۔ ہر جگہ یہی ہورہا ہے کہ لوگ پہلی غلطی کرکے چین ری ایکشن (chain reaction) کی صورت پیدا کردیتے ہیں، اور جب چین ری ایکشن ایک بار وجود میں آجائے تو اس کے بعد وہ نان اسٹاپ جاری رہتا ہے۔ چین ری ایکشن کو پہلے مرحلے میں روک دیجیے، تو اس کے بعد سب کچھ اپنے آپ ٹھیک ہوجائے گا، لیکن اگر آپ ایسا نہ کریں تو اس کے بعد لازماً یہی ہوگا کہ چین ری ایکشن شروع ہوجائے گا، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ حتی کہ اگر لوگ عملی طور پر اس کے قابل نہ رہیں تو وہ سوچ کی سطح پر اس برائی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ آخری تباہی سے پہلے کبھی یہ برائی ختم نہ ہوگی۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C27",
      "chapter_title": "کامیابی کا اصول",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C27P01",
          "text": "ایک مصنف نے لکھا ہے— وقت اور سمجھ دونوں اکثر ایک ساتھ نہیں آتے۔ جب وقت آتا ہے تو سمجھ نہیں ہوتی ہے، اور جب سمجھ آتی ہے تو وقت گزرچکا ہوتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے اندر سمجھ پیدا کریں تاکہ وقت آئے تو آپ اس وقت کو استعمال کرنا جانیں۔یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے وہ قابل عمل نہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C27P02",
          "text": "اصل یہ ہے کہ انسان پیشگی طور پر باتوں کو سمجھ نہیں سکتا، وہ تجربہ کے ذریعہ سیکھتا ہے۔ یعنی نقصان پہلے آتا ہے، اور عقل اس کے بعد آتی ہے۔ پہلے آدمی کچھ کھوتا ہے، اس کے بعد وہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو پانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ انسان پہلے اپنے اندازہ(assessment) کی غلطی کا تجربہ کرتا ہے، اور اس کے بعد وہ اس فن کو جانتا ہے کہ صحیح اندازہ کا اصول کیا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C27P03",
          "text": "اس لیے موجودہ دنیا میں کامیابی کاراز یہ نہیں ہے کہ آدمی غلطی نہ کرے۔ بلکہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی سے سبق حاصل کرے۔اس اعتبار سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی نے اگر پہلے موقع کو کھویا ہے تو وہ اپنا نیا منصوبہ زیادہ بہتر انداز پر بنائے تاکہ وہ دوسرے موقع کو نہ کھوئے۔ اسی اصول کا نام پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان پہلے موقع کو ضرور کھوتا ہے۔ دانش مند آدمی وہ ہے جو پہلے کھونے سے تجربہ حاصل کرے اور پھرزیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ وہ دوسرے موقع کو حاصل (avail)کرسکے۔"
        },
        {
          "para_id": "C27P04",
          "text": "وزڈم کی دو صورتیں ہیں۔ آئڈیل وزڈم (ideal wisdom) اور پریکٹکل وزڈم (practical wisdom)۔ آئڈیل وزڈم اپنی ذات کے لیے درست ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں آئڈیل وزڈم قابل حصول نہیں۔ اس لیے زندگی کے لیے صحیح اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کے معاملے میں آئڈیل وزڈم کو اپنائے، لیکن جب معاملہ اجتماعی زندگی کا ہو تو وہ پریکٹکل وزڈم پر راضی ہوجائے— صبر دراصل اسی پریکٹکل وزڈم کا نام ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C28",
      "chapter_title": "ذہن کا متحرک ہونا",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C28P01",
          "text": "ٹرگر (trigger)گن کا ایک پرزہ ہے، جس کو دبانے سے گن (gun)کا نظام نہایت تیزی کے ساتھ متحرک ہوجاتا ہے۔ اسی سے اس کا استعمال ذہن کے لیے ہونے لگا۔یعنی فلاں واقعہ نے آدمی کے مائنڈ کو ٹرگر کردیا۔ انسا ن کے اندر بڑی سوچ یا انقلابی سوچ ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس کا ذہن (mind) کسی واقعہ سے ٹرگر ہوجائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C28P02",
          "text": "مائنڈ ہر آدمی کے پاس ہوتا ہے، لیکن ہر آدمی کا مائنڈ ٹرگر نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مائنڈ کے ٹرگر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا ذہن تیارذہن (prepared mind) ہو۔ جس آدمی کے اندر تیار مائنڈ ہو، اسی کے ساتھ یہ واقعہ ہو گا کہ کسی تجربہ کے پیش آنے پر اس کا مائنڈ ٹرگر ہوجائے، اور اس کے اثر سے وہ کوئی بڑا کام کرڈالے۔"
        },
        {
          "para_id": "C28P03",
          "text": "مثال کے طور پر مہاتما گاندھی 1893 میں بحری سفر کرکے بمبئی سے ساؤتھ افریقہ پہنچے۔ اس وقت ساؤتھ افریقہ میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ سخت سردی کے موسم میںرات کےوقت ان کو پیٹرمارتسبرگ( Pietermaritzburg) اسٹیشن پر زبردستی اتاردیا گیا۔ اِس واقعہ سے مہاتما گاندھی کا مائنڈ ٹرگر ہوگیا۔ انھوں نے خود لکھا ہے کہ اس واقعہ نے میری زندگی کا اگلا کورس متعین کردیا۔ چناں چہ وہ انڈیا واپس آئے، اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں انقلابی رول ادا کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C28P04",
          "text": "آدمی کوئی بڑا کام اس وقت کر پاتا ہے جب کہ اس کا مائنڈ ٹرگر ہوجائے۔ لیکن مائنڈ کا ٹرگر ہونا، ایک ایسا واقعہ ہے جو صرف ایک تیار ذہن کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جس آدمی کا ذہن تیار ذہن نہ ہو ، اس کو تجربات پیش آئیں گے لیکن اس کا مائنڈ ٹرگر نہ ہوگا۔ اس بنا پر وہ کوئی بڑا کام بھی نہ کرسکے گا۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی میں چیلنج کا پیش آنا ایک رحمت معلوم ہوگا۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C29",
      "chapter_title": "ذہنی ارتقا کا معیار",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C29P01",
          "text": "ذہنی ارتقا (intellectual development) ہر آدمی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ذہنی ارتقا کے بغیر آدمی عملاً حیوانیت کی سطح پر رہتا ہے۔ وہ انسانیت کے اعلی درجے تک نہیں پہنچتا۔ ذہنی ارتقا کا معیار کیا ہے۔ ذہنی ارتقا کا معیار یہ ہے کہ آدمی کے اندر علمی مزاج (scientific temper) پیدا ہوجائے۔ وہ چیزوں کی صحت کو اپنے ذوق سے پہچان سکے۔"
        },
        {
          "para_id": "C29P02",
          "text": "اصل یہ ہے کہ فزیکل سائنس میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ریاضی کے اصول پر کسی چیزکی صحت کو معلوم کیا جاسکے۔ لیکن علوم انسانی (humanities) میں چیزوں کو جانچنے کے لیے اس قسم کا کوئی حتمی معیار ممکن نہیں ہوتا۔ یہاں کسی اہل علم کے لیے جو چیز فیصلہ کن بنتی ہے وہ آخری طور پر اس کا اپنا سائنٹفک ٹمپر ہوتا ہے:"
        },
        {
          "para_id": "C29P03",
          "text": "There are no established methods for determining the truth or falsity of a non-factual claim."
        },
        {
          "para_id": "C29P04",
          "text": "آدمی اگر سچے معنوں میں طالب حق ہو ، اور وہ غیر متعصبانہ انداز میں باقاعدہ طور پر زیر بحث موضوع کا مطالعہ کرے تو اس کے اندر وہ ذوق پیدا ہوجائے گا جس کو فرقان (criterion) کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے اعلی ذوق کی بنا پر یہ پہچان لے گا کہ حقیقی (factual) کیا ہے، اور غیر حقیقی (non-factual) کیا ہے۔ اسی پہچان کو سائنٹفک ٹمپر کہا جاتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C29P05",
          "text": "ایسا آدمی ہمیشہ متعلقہ موضوع کا مطالعہ کرے گا، لیکن اکثر حالات میں اس کامطالعہ صرف اس بات کی تصدیق کرے گا کہ اپنے اعلیٰ ذوق کی بنا پر اس نے جو رائے درست سمجھی تھی، وہ باعتبار حقیقت بھی درست ہے۔ کوئی علمی کام کرنے کے لیے آدمی کے اندر اس قسم کا سائنٹفک ٹمپر ضروری ہے۔ یہ علمی ذوق آدمی کے لیے اس کے مطالعے میں اس کا رہنما بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اس داخلی ذوق کی بنا پر فکری بھٹکاؤ سے بچ جاتا ہے۔"
        }
      ]
    },
    {
      "chapter_id": "C30",
      "chapter_title": "خبرنامہ اسلامی مرکز — 256",
      "sub_chapter": "",
      "paragraphs": [
        {
          "para_id": "C30P01",
          "text": "■  بہار اردو اکادمی، پٹنہ کے کانفرنس ہال میں20 مئی 2017 کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس کا عنوان تھا: قومی اتحاد، اور ہماری ذمہ داری۔ اس موضوع پر مسٹر ابو الحکم دانیال صاحب (صدر سینٹر فار پیس اینڈ آبجیکٹو اسٹڈیز، بہار و جھار کھنڈ، رابطہ نمبر  9852208744) نے خطاب کیا، اور سوال و جواب بھی ہوا۔ پروگرام کے بعد تمام شرکاء کو ترجمۂ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ بہار و جھارکھنڈ میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے کے لے مذکورہ نمبر پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P02",
          "text": "■  دور درشن چینل کےنمائندہ مسٹر مالک اشترنے صدر اسلامی مرکز کا 27 مئی 2017 کو ویڈیو انٹر ویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق روزہ سے تھا۔ دوران انٹرویو جو بات کہی گئی، ان میں سے ایک اہم بات یہ تھی کہ روزہ کا ایک مقصد لوگوں کو سچائی اور بھائی چارہ کی طرف لانا ہے۔ اسی تربیت کے لیے ایک مہینہ، رمضان منتخب کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگ اس مہینہ میں تربیت پاکر سال بھر سچائی کو مانیں اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں۔ آخر میں تمام کرو(crew) ممبرس کو ترجمۂ قرآن اور دیگر کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P03",
          "text": "■  جمشید پور کی سی پی ایس ٹیم نے 30 مئی 2017 کو جے آر ڈی ٹا ٹا اسٹیڈیم کا دورہ کیا، اور وہاں پر موجود کوچ، کھلاڑی اور دیگر لوگوں کو ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر دیے گئے۔ تمام لوگوں نے شکریہ ادا کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P04",
          "text": "■  31 مئی 2017 کو سی پی ایس انٹر نیشنل، دہلی نےاپنے آفس نظام الدین ویسٹ میں ایک پروگرام منعقد کیا۔ اس پروگرام کی وجہ یہ تھی کہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم کو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ریٹائرمنٹ ملا تھا، اور سی پی ایس کی دو ممبروں، مز سعدیہ خان، اور مز نغمہ صدیقی کو جامعہ ہمدرد سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی تھی۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک خطاب کیا، اور تینوں خواتین ممبران کو مومنٹو پیش کیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P05",
          "text": "■  کوڈلور (تامل ناڈو) کےایک مقام منگلم پٹائی میں مسلم ہائی اسکول ہے۔ اس کےپرنسپل مسٹر اوتھیراپتی (Uthirapathi) ایک ہندو ہیں۔ انھوں نے2 جون 2017 کو اپنے طلبہ کو ساتھ لے کر قصبہ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد گڈورڈ بکس سے چھپا ہوا تامل ترجمۂ قرآن اور دیگر تامل لیف لیٹس نمازیوں کے درمیان تقسیم کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P06",
          "text": "■  خواجہ کلیم الدین صاحب (امریکا) کی کوششوں سے 7 جون 2017 کو مشرقی امریکا کے شہر لاس ویگاس میں 2500 اسپینش ترجمۂ قرآن اور 3000 انگلش ترجمۂ قرآن کی کاپیاںپہنچائی گئیں۔یہ شہر گیمبلنگ کے لیے مشہور ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب نےایک مقامی مسجد الحراء کے امام ڈاکٹر روح الامین صاحب اور مسٹر جمی وہائٹ ہیڈ (عہدہ میئر کے مسلم امیدوار) سے ملاقات کرکے ان کو اس پر راضی کیا کہ وہ وہاں قرآن کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P07",
          "text": "■ 20 تا 23 جون 2017کو سی پی ایس کی کولکاتا ٹیم(رابطہ نمبر 9831345685) دہلی آئی۔ ان کی آمد کا مقصد صدر اسلامی مرکز سے استفادہ اور سی پی ایس (دہلی ٹیم) کے ساتھ دعوتی امکانات اور لائحہ عمل پرتبادلۂ خیال کرنا تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب، دی ایج آف پیس کا بنگلہ ترجمہ، نیز اردو کتاب، سوال وجواب (الرسالہ کے سوال وجواب کا مجموعہ)، اور چند انگریزی لیف لیٹس کے بنگلہ تراجم کا اجرا بھی کیا گیا۔یہ تمام کام کولکاتا ٹیم کی کاوش ہے۔ اس سفر میں دی ایج آف پیس کی بنگلہ ترجمہ نگار پروفیسر تنویر نسرین بھی اپنے شوہرکے ساتھ موجود رہیں۔ انھوں نے بھی صدر اسلامی مرکز اور سی پی ایس ٹیم کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P08",
          "text": "■  2 جولائی 2017 کو انڈین ینگ مسلم سوشل گروپ (اسماعیل پورہ، کامٹی)نے میمن ہال میں عید ملن کا انعقاد کیا تھا۔ اس تقریب میں مسٹر چندر شیکھر کرشنا راؤباونکولے (انرجی و ایکسائزوزیر، حکومت مہاراشٹر) کو مہمان خصوصی کے طور پرمدعو کیا گیا تھا۔ جناب ایم اے وحید (سی پی ایس ممبرناگپور و کامٹی ) نے ان کومراٹھی قرآن اور مراٹھی زبان میں دوسرے دعوتی لٹریچر پیش کئے۔ انھوں نے ان کو بہت ہی خوشی کے ساتھ قبول کیا، اور کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب مجھے اتنا قیمتی تحفہ ملا ہے۔ میں انھیں پہلی فرصت میں فلائٹ کے اندر پڑھوں گا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P09",
          "text": "■  8 اور 9 جولائی 2017 کو سی پی ایس ( ممبئی) نےسی پی ایس علماء ٹیم کے ساتھ امراوتی اور وروڈ کا دعوتی دورہ کیا۔ اس درمیان مختلف لوگوں سے دعوتی ملاقاتیں ہوئیں، اور ایک اسکول میں ٹیچروں کے ساتھ ایک پروگرام ہوا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P10",
          "text": "■  10 جولائی 2017 کی ڈاکٹر حسین مڈور (کیرلا) صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ وہ صدر اسلامی مرکز کی تحریرں کو پڑھتے ہیں اور کافی متاثر ہیں۔ موصوف اس سے پہلے صدر اسلامی مرکزکو کیرالا بلاکر اپنے پروگرام میں ان کی میزبانی کرچکے ہیں۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P11",
          "text": "■  11 جولائی 2017 کو سی پی ایس ناگپور کے ممبر جناب ساجد احمد خان (موبائل نمبر 8237006029) ایس کے پورول کالج میں بطور ممتحن گئے۔ وہاں انھوں نے کالج کے اساتذہ کو مراٹھی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن، واٹ از اسلام، موت کی یاد اور کچھ دوسرے دعوہ لٹریچر دئے۔ اسی کے ساتھ سی پی ایس کے پیس مشن کے متعلق ان سے گفتگو کی۔ انھوں نے خوشی خوشی نہ صرف اپنے لیا، بلکہ اپنے دوستوں کے لئے بھی کچھ سٹ حاصل کیے۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P12",
          "text": "■  13 جولائی 2017 کو صومالی سفارت خانہ کے ڈپٹی ہیڈ مسٹر احمد محمود کی سرکردگی میں صومالیہ کا ایک ڈیلیگیشن صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آیا۔ ان حضرات سے صدر اسلامی مرکز نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ آخر میں ان کوصدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ بطور ہدیہ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P13",
          "text": "■  14 جولائی 2017 کو افغانستان ایمبسی (انڈیا) کے ڈپٹی چیف محمد میر واعظ بلخی صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے۔ صدر اسلامی مرکز نے ان سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ دوران گفتگو انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے افغانستان میں مذہبی تشدد کو ختم کرنے اور مسلمانوں کودرست رہنمائی دینے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاںصدر اسلامی کی کتاب ’وومن بٹوین اسلام اینڈ ویسٹرن سوسائٹی‘ کا فارسی میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے، اور اب تذکیر القرآن کے فارسی ترجمہ کا کام چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی دیگر کتابوں کو فارسی زبان میں منتقل کرانے میں بھی دلچسپی ظاہرکی تاکہ تشدد پسندی کے خلاف وہ ان کتابوں سے مدد لے سکیں۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P14",
          "text": "■ افغان ایمبسی نے اپنے ماہانہ نیوز لیٹر میں درج بالا خبر کو شائع کیا تو نیشنل ہیرالڈ کے رپورٹر مسٹر دھیریا مہیشوری نے ذیل کا ای میل لکھا اور صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹر ویو لیا:"
        },
        {
          "para_id": "C30P15",
          "text": "I am trying to do a feature story on Maulana Sb's efforts in helping tackle radicalisation in Afghanistan. I have been informed that the Afghanistan government wants Maulana Sb to be involved with the youth of the country and guide them in the right direction. I was hoping to meet him sometime early next week and be able to get a bit of background on the development. I believe he has extensive experience in helping the youth of Kashmir. But Afghanistan, with its various tribal factions, may present a different challenge altogether. I would like to explore how he plans on going about this new venture of his. It would be much appreciated if I could be connected to him. Looking forward to hearing from you. (Dhairya Maheshwari, National Herald, New Delhi)"
        },
        {
          "para_id": "C30P16",
          "text": "■  16 جولائی 2017 کو نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) کی جانب سے کانوڑیوں کے لیے میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا گیا۔ دیوبند کے ایم ایل اے منوج چودھری، اور مسٹر مکیش مشراآئی پی ایس، وغیرہ اس افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ پروگرام کے بعد تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا، اورآنے والے کانوڑیوںکے درمیان علاج کے ساتھ ہندی ترجمۂ قرآن و ہندی بک لیٹس کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P17",
          "text": "■  کشمیر میں ناسازگار حالات کے باوجود حمید اللہ حمید اور ڈاکٹر مسعود صاحبان کی سرکردگی میں دعوتی کوششیں جاری ہیں۔ 16 جولائی 2017 کو بیروہ کے اپنا گھر میں ایک دعوہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس کے علاوہ رام بان مندر میں آنے والے زائرین کے درمیان  500 ترجمۂ قرآن تقسیم کیے گئے۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P18",
          "text": "■  16 جولائی 2017 کو ڈبلن یونیورسٹی (آئرلینڈ) کے طلباء اور اساتذہ کے ایک گروپ نے صدر اسلامی مرکز کے سنڈے کلاس میں شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز نے پیس اینڈ انٹرفیتھ ہارمنی کے موضوع پر انگلش میں خطاب کیا۔ آخر میں سوال وجواب کا سیشن ہوا اور تمام شرکاء کو انگلش ترجمۂ قرآن اور تعارف اسلام پر مشتمل لٹریچر دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P19",
          "text": "■  22 جولائی 2017 کو فلپائن کی پروفیسر بلنڈا اور ان کے شوہرمسٹر ہینری اسپریٹو نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ صدر اسلامی مرکز نے ان سے کافی دیر تک گفتگو کی اور سی پی ایس ممبران سے بھی ان کا انٹرایکشن ہوا۔وہ صدر اسلامی مرکز کی فکر سے کافی متاثر ہیں، اور فلپین میں صدر اسلامی مرکز کی فکر کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے فلپین کے اسکولوں میں قرآن کورسس متعارف کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P20",
          "text": "■  مز فرح ایمان، صوفیہ یونیورسٹی (Sophia University) اٹلی، سے اسلام اور عیسائیت میں انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔ اپنی پی ایچ ڈی کے لئے وہ جن اسکالرس کا مطالعہ کررہی ہیں، ان میں صدراسلامی مرکز بھی ہیں۔ 26 جولائی 2017 کو انھوں نے اس سلسلے میں صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی، اور تبادلۂ کیا۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P21",
          "text": "■  5 اگست 2017 کو ٹائمس آف انڈیا نے کوکیلابین دھیروبھائی امبانی ہاسپٹل (ممبئی)کے اشتراک سے  ہاسپٹل میںآرگن ڈونیشن کے موضوع پر ایک سمینار کا انعقاد کیا۔ اس میں سی پی ایس دہلی کی ممبر مس ماریہ خان نے اسلام کی نمائندگی کی ، اوراسلام میں آرگن ڈونیشن کی اہمیت پر ایک لکچر دیا۔ یہ پروگرام لائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ اس پروگرام میں ممبئی سی پی ایس ٹیم بھی شریک ہوئی، اور شرکاء کے درمیان ترجمہ قرآن و دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P22",
          "text": "■  مس ڈیزی خان (امریکا) نے مسلمانوں میں شدت پسندی کو ختم کرنے کی غرض سے ایک کتاب:وائزاپ (Wiseup) کے نام سے ترتیب دی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے 60 علماء کے مضامین شامل کئے ہیں۔ ان میں صدر اسلامی مرکز کا مضمون ‘ہو از پرافٹ محمد؟’ بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں وہ صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے 6 اگست 2017 کو نظام الدین ویسٹ آئی تھیں۔ یہاں انھوں نے مسلمانوں کے اندر موجود تشدد پسندی کو ختم کرنے پر گفتگو کی۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P23",
          "text": "■  سی پی ایس سہارنپور (رابطہ نمبر 9997153735)نے 6 اگست 2017 کوعلی گڑھ ہندو مہا سبھا آفس کا دورہ کیا، اور اس کے ذمہ داران بشمول چیئر پرسن مس پوجا سے ملاقات کرکے ان کو ترجمۂ قرآن، اسپرٹ آف اسلام، ریالٹی آف لائف اور دوسری کتابیں تحفہ میں دیں۔ ان لوگوں نے بہت خوشی سے یہ تحفہ قبول کیا ۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P24",
          "text": "■  8 تا 10 اگست 2017 کو ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ (حیدرآباد) نے سہ روزہ بین المذاہب مکالمے کا انعقاد کیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے مدعو تھے۔ سی پی ایس حیدرآباد نے اس میں اسلام کی نمائندگی کی۔ تقریر کے بعد ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے گیے۔ شرکاء میں موجود فادر فرانسس (چٹاگانگ، بنگلہ دیش) صدر اسلامی مرکز کی تحریر سے کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے امن اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینے والی کتابوں کی فرمائش کی تاکہ ان کا مقامی زبان میں ترجمہ کرکے ان کو برما اور بنگلہ دیش کے تشدد زدہ علاقوں میں پھیلایا جائے۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P25",
          "text": "■  14 اگست 2017 کو فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسرمسٹر ہرش نارائن نے صدر اسلامی مرکز کا امن کے موضوع پر ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ایک ڈاکومینٹری فلم کے لیے تھا، جس کو مختلف فلم فیسٹول میں دکھایا جائے گا۔ آخر میں تمام کرو (crew) ممبرس کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P26",
          "text": "■  17تا 22 اگست 2017 کوسی پی ایس کی علماء ٹیم، ممبئی ٹیم اور بنگلور ٹیم دہلی آئی۔ انھوں کے صدر اسلامی مرکز سے دعوتی امور میں استفادہ کیا، اور ایک نئے عزم کے ساتھ واپس گیے۔"
        },
        {
          "para_id": "C30P27",
          "text": "■  مسٹر آر بی گپتا، چارج مین، آرڈیننس فیکٹری، ناگپور، کو اتفاقاً قرآن کا ایک میسج ، جس میں اخلاق کی تعلیم کا حکم تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے ناگپور ٹیم کے مسٹر سہیل انجم سے یہ درخواست کی کہ ان کو ہندی ترجمۂ قرآن دیا جائے تاکہ وہ ان کو پڑھیں۔ ان کو ترجمہ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر بطور تحفہ دیا گیا، جس کا انھوں نے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔(مسٹر عرفان رشیدی، ناگپور)"
        },
        {
          "para_id": "C30P28",
          "text": "■  برما سے ملنے والی خبروں کے مطابق، حافظ شوکت صاحب برما کے اندر دعوتی مہم میں کافی سرگرم ہیں ،انہوں نے اپنے ذاتی خرچ ،دولاکھ کیات (برمی کرنسی)کی لاگت سے گاڈ ارائزز کا مقامی زبان میں ترجمہ کیا ہے ، اور اب یہ کتاب پریس میںجانے والی ہے۔ پازیٹو تھنکر فورم، بنگلورو سے ہرماہ ان کواسپرٹ آف اسلام کی 40کاپیاں اور الرسالہ کی 30 کاپیاں جارہی ہیں ۔جنا ب عبدالعزیز (وکیل صاحب) کےنگرانی میں یہ سارا کام چل رہا ہے۔(محمد عبد اللہ برمی، پازیٹو تھنکر فورم، بنگلورو)"
        },
        {
          "para_id": "C30P29",
          "text": "■  My husband is currently incarcerated and the institution he is in is in need of Quran. They have a population of about 40-50 individuals practicing Islam. We would greatly appreciate if you can make available to them as many Quran copies as possible. You can send them to the Chaplain at: Institution Chaplain Lin, ASP Fort Grant Unit, 896 S Cook Rd, Safford, AZ 85546"
        },
        {
          "para_id": "C30P30",
          "text": "■ Recently I met a gentleman on a flight to Mumbai. He was seated next to me on the plane. During the flight, I offered the Quran and a pamphlet titled The Purpose of Life to him. He graciously accepted them and when he saw Maulana Wahiduddin Khan’s name on the pamphlet, he said he reads his writings in the Speaking Tree column of The Times of India. He said the Maulana was very different from other religious scholars. His writings, he said, were rational, liberal and had a holistic perspective. I told him about the Maulana’s foundation, the Center for Peace and Spirituality, and about our activities at the foundation. He wished us his best wishes for our good endeavour! (Sufia Khan, New Delhi)"
        },
        {
          "para_id": "C30P31",
          "text": "■ Maulana Sahib, Jazakallah for a great lecture on the topic Realization of God. I learned from you that we need to be honest, sincere and serious to be able to find God. This is self-discovered truth. God is the Designer of this great universe and we should be able to perceive God from His creations (sun, galaxy, and earth and the precise structure of objects and the interconnecting processes). When we realize all this mind-boggling reality through deep contemplation, then God becomes our sole concern and then we can say,“God, please grant me a home near you!” (Kouser Izhar, New Jersey, US)"
        }
      ]
    }
  ]
}