بلند اخلاقی کی ایک مثال
Al-Risala, January 1982, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۷۷ ستمبر ۱۹۶۹ء کی بات ہے۔ پنڈی جولریں (چاندنی چوک دہلی) میں ایک صاحب سے ملاقات یہ سردار بشن سنگھ ہیں۔ ۲۸- بی ساؤتھ ایکسٹنشن پارٹ ۲، نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ وہ ضلع راولپنڈی کی باشندے تھے۔ تقسیم کے بعد یہاں چلے آئے۔ راولپنڈی سے ۳۰ میل کے فاصلہ پر گو جر خان ایک قصبہ ہے، وہاں ان کی زمین داری تھی۔ اسی کے ساتھ وہ اس وقت آنریری مجسٹریٹ بھی تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ کے انگریز افسران کے بہت سے واقعات بتائے۔ ان میں سے ایک واقعہ مسٹر مارسڈن (Marsdon) کا تھا جو اس وقت راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر تھے۔ ۱۹۴۳ء کا واقعہ ہے مسٹر مارسڈن سردار صاحب کے قصبہ میں آئے۔ ان کو گوجر خاں کی تحصیل کا معائنہ کرنا تھا۔ سے پہلے سردار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ سردار صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ دوپہر کا کھانا میرے مسٹر مارسڈن نے دعوت قبول نہ کی اور وہ تحصیل چلے گئے۔ کچھ دیر بعد دوبارہ مسٹر مارسڈن کی کار سردار صاحب کے مکان کے سامنے رکی۔ وہ باہر نکلے تو سردار صاحب نے کہا: اگر آپ میری دعوت قبول کرلی ہوتی تو اتنی دیر میں میں نے کھانا تیار کرا لیا ہوتا اور آپ کھانا کھا کر یہاں سے انگریز ڈپٹی کمشنر نے اب بھی سردار صاحب کے کھانے کی دعوت قبول نہ کی۔ البتہ اپنی لڑکی کو جو اس وقت ساتھ تھی سردار صاحب کے مکان پر چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ کل تک آپ کے یہاں رہے گی۔ آپ جو کچھ کھلانا چاہتے ہیں اس کو کھلائیے۔ سردار صاحب حیرت میں تھے کہ یہ معما کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب خود تو ایک وقت کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور لڑکی کو کئی وقت کے لئے چھوڑے جا رہے ہیں۔ متعجب دیکھ کر مسٹر مارسڈن نے کہا: اصل بات یہ ہے کہ راولپنڈی میں میرے کچھ عزیز آئے ہوئے ہیں مجھے وہاں پہنچ کر ان کے ساتھ کھانا کھانا ہے، کیونکہ میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں۔ مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ لوگوں پر یہ تاثر ہو کہ ڈپٹی کمشنر صاحب یہاں آئے اور انھوں نے آپ کے مکان پر کھانا نہیں کھایا، اس سے آپ کی عزت پر اثر پڑے گا۔ آپ کی عزت کو بچانے کے لئے میں لڑکی کو آپ کے یہاں چھوڑے جا رہا ہوں :