روش
Al-Risala, January 1982, pp. 14–16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ۳۱ جنوری ۱۹۷۶ء کا واقعہ ہے کہ راقم الحروف لیبیا جاتے ہوئے ۳۶ گھنٹہ کے لئے روم (اٹلی) میں ٹھہرا تھا۔ روم کی یا دوں میں سے ایک یاد وہ جرمن پادری ہے جس سے وہاں میری ملاقات ہوئی: Dr. Hans Georg Asmussen P r o p s t Beselerstrabe 28-2240 Heide بھول گئے یا انھوں نے کتاب روانہ کی اور وہ کسی وجہ سے مجھ تک نہیں پہنچی۔ مگر فروری ۱۹۷۷ کی ایک تاریخ کو ڈاک میں ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو اس کے اندر پرانے اور نئے عہد نامہ پر مشتمل "الکتاب المقدس" کا ایک نیا نسخہ موجود تھا۔ فولڈنگ جلد کے ساتھ بائبل پیپر پر چھپا ہوا یہ خوبصورت نسخہ ۷۸۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ Beselerstraße 26-2240 Heide Telefon (0481) 3220 چھپا ہوا ہے۔ یہ خوبصورت صفحہ ۴۸ اسحامات پر مشتمل ہے۔ اس کو دیکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ روانی میں ایک موقع پر میں نے دیکھا کہ موصوف ع دئی انجیل کا مطالعہ تاریخ کا امریکی رسالہ کا تھا یہ رینٹ لان کے مطابق مائل ایک موقع پر میں نے دیکھا وہ موصوف عربی میں مطالعہ کر رہے ہیں، اس سے میں نے سمجھا کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے بائبل اور اس سے متعلقہ لٹریچر کے مطالعہ کا شوق ہے، میرے پاس انگریزی میں چھپی ہوئی چیزیں موجود ہیں۔ مگر میں بائبل کا مکمل عربی ترجمہ حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا مقصد صرف ناشر کا پتہ پوچھنا تھا تا کہ وہاں سے عربی بائبل منگائی جا سکے ۔ مگر پادری موصوف نے ناشر کا پتہ بتانے کے بجائے خود میرا پتہ دریافت کیا اور اپنی ڈائری میں میرا پتہ نوٹ کرتے ہوئے کہا: میں آپ کو عربی بائبل بھجواؤں گا ۔
اس واقعہ کو تقریباً ایک برس گزر چکا تھا اور میں نے سمجھ لیا تھا کہ پادری صاحب یا تو اپنا وعدہ تاخیر کا امکانی سبب لکھا ہے۔ پرنٹ لائن کے مطابق یہ باب کا یہ عربی نسخہ کوریا میں ابھی ۱۹۷۶ میں چھپا ہے ، غالباً پادری موصوف کے پاس یا ان کے ادارہ میں عربی نسخے ختم ہو گئے تھے اور جب کوریا سے چھپ کر وہ نہیں پہنچے ہیں تو حسب وعدہ انھوں نے فوراً اس کی روانگی کا انتظام کیا۔
پادری موصوف کے نام جب میں نے شکریہ کا خط روانہ کیا تو خیال آیا کہ کاش ہم بھی اسی طرح ”شکریہ کے خطوط وصول کرنے کی پوزیشن میں ہوتے۔ ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو قرآن کو اپنی زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم ان کو قرآن کے ترجمے ان کی زبان میں اس طرح فراہم نہیں کر سکتے جس طرح مسیحی حضرات دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی مقدس کتاب کو
دوسروں تک پہنچارہے ہیں۔
قرآن کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بنی آدم کی طرف خدا کے آخری منذر (آگاہ کرنے والے) آپ نے قرآن کے ذریعے انذار کی یہ ذمہ داری ادا فرمائی اور اپنے بعد کتاب اللہ کو محفوظ حالت میں چھوڑ گئے کہ وہ قیامت تک لوگوں کے لئے آگاہی کا ذریعہ
آپ کے بعد یہ قرآن کس طرح لوگوں تک پہنچے گا۔ کا ذریعہ امت محمدی ہے۔ امت محمدی کی پہلی اور لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کی آواز کو تمام اقوامِ عالم تک مگر افسوس کہ آج ساری دنیا میں کوئی بھی ادارہ خاص اس مقصد کے لئے قائم نہیں۔ حتیٰ کہ مسلمان اپنی اس ذمہ داری کے شعور تک سے غافل ہو چکے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ کہا تھا کہ میں "بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں" کے پاس بھیجا گیا ہوں، مگر آپ کے پیروؤں کے جوش تبلیغ نے مسیحیت کو ساری دنیا کے لئے قابل مطالعہ بنا دیا۔ اس کے برعکس پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ میری بعثت سارے عالم کے لئے ہے مگر آپ کے پیروؤں کے اندر یہ آگ نہیں بھڑکتی کہ آپ کے پیغام کو سارے عالم تک پہنچائیں ـــ جرمن پادری کی طرف سے میں نے عربی بائبل کا نسخہ وصول کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: "دیکھو تم اسلام کا پیغام پھیلانے میں نا کام رہ گئے اور ہم ساری دنیا میں مسیحیت کا پیغام
وحید الدین خاں (پیدائش ۱۹۲۵)
جمعتیہ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ۔ خارجی ختم ہو گئے خارجیت زندہ ہے ایک بار خارجی فرقہ کے چالیس آدمیوں نے ابن زیاد کے دو ہزار سپاہیوں کو مار بھگایا تھا۔ پر ایک خارجی شاعر نے فاتحانہ نظم لکھی۔ چند اشعار یہ ہیں: أألفا مومن فيما زعمتم ديقتلكم بأسك اربعونا كذبتم ليس ذاك كما زعمتم ولكن الخوارج مومنونا هى الفئة القليلة تدعلتمم على الفئة الكثيرة ينصر ونا کیا تم اپنے گمان کے مطابق دو ہزار مومن تھے اور تم کو مقام آسک پر صرف چالیس نے مار بھگایا، تم جھوٹے ہو اور تمہارا خیال غلط ہے، در حقیقت خوارج مومن ہیں، تم نے جان لیا کہ یہی وہ تھوڑی جماعت ہے جو بڑی جماعت پر غالب آتی ہے۔
خارجی شاعر کی اس دلیل کو آج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی ہمارے درمیان بے شمار لوگ ہیں جو اس قسم کی وقتی اور ظاہری کامیابیوں کو اپنی صداقت کا لازمی ثبوت سمجھتے ہیں ۔ خارجی فرقہ دنیا سے ختم ہو گیا، مگر خارجیت آج بھی دنیا میں زندہ ہے۔
یہ ۳۱ جنوری ۱۹۶۷ کا واقعہ ہے جب کہ راقم الحروف لیبیا جاتے ہوئے ۳۹ گھنٹہ کے لئے روم (اٹلی) میں ٹھہرا تھا۔ روم کی یادوں میں سے ایک یاد وہ جرمن پادری ہے جس سے وہاں میری ملاقات ہوئی: Dr. Hans Georg Asmussen P r o p s t Beselerstrabe 28-2240 Heide Telefon (0481) 3220 ایک موقع پر میں نے دیکھا کہ موصوف عربی انجیل کا مطالعہ کر رہے ہیں، اس سے میں نے سمجھا کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے بائبل اور اس سے متعلقہ لٹریچر کے مطالعہ کا شوق ہے۔ انگریزی میں چھپی ہوئی چیزیں موجود ہیں۔ مگر میں بائبل کا مکمل عربی ترجمہ حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا مقصد صرف ناشر کا پتہ پوچھنا تھا تاکہ وہاں سے عربی بائبل منگائی جاسکے۔ مگر پادری موصوف نے ناشر کا پتہ بتانے کے بجائے خود میرا پتہ دریافت کیا اور اپنی ڈائری میں میرا پتہ نوٹ کرتے ہوئے کہا : میں آپ کو عربی بائبل بھجواؤں گا ۔
اس واقعہ کو تقریباً ایک برس گزر چکا تھا اور میں نے سمجھ لیا تھا کہ پادری صاحب یا تو اپنا وعدہ بھول گئے یا انھوں نے کتاب روانہ کی اور وہ کسی وجہ سے مجھ تک نہیں پہنچی۔ مگر فروری ۱۹۷۷ء کی ایک تاریخ کو ڈاک میں ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو اس کے اندر پرانے اور نئے عہد نامہ پر مشتمل ”الکتاب المقدس“ کا ایک نیا نسخہ موجود تھا۔ فولڈنگ جلد کے ساتھ بائبل پیپر پر چھپا ہوا یہ خوبصورت نسخہ ۴۸۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کو دیکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ روانگی میں تاخیر کا امکانی سبب کیا تھا۔ پرنٹ لائن کے مطابق بائبل کا یہ عربی نسخہ کو ریا میں ابھی ۱۹۷۶ء میں چھپا ہے۔ پادری موصوف کے پاس یا ان کے ادارہ میں عربی نسخے ختم ہو گئے تھے اور جیب کوریا سے چھپ کر وہ نہیں پہنچے ہیں تو حسب وعدہ انھوں نے فوراً اس کی روانگی کا انتظام کیا۔
پادری موصوف کے نام جب میں نے شکریہ کا خط روانہ کیا تو خیال آیا کہ کاش ہم بھی اسی طرح ”شکریہ کے خطوط“ وصول کرنے کی پوزیشن میں ہوتے۔ ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو قرآن کو اپنی زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم ان کو قرآن کے ترجمے ان کی زبان میں اس طرح فراہم نہیں کر سکتے جس طرح مسیحی حضرات دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی مقدس کتاب کو