خودنمائی کے شوق میں
Al-Risala, January 1982, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صابن ہے۔ اس کا اشتہار اخبارات میں ایک خاص منظر کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ اس منظر میں ایک لڑکی آبشار کے نیچے نہاتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر کسی آرٹسٹ کے برش نے نہیں بنایا ہے۔ وہ ایک حقیقی منظر ہے۔ 1969 میں شروع کی گئی اور برسوں کے بعد تکمیل کو پہنچی۔ اس مقصد کے لئے ایک خاص لڑکی کا انتخاب کیا گیا، سمندر اور دوسرے مقامات کا تجربہ کرنے کے بعد بالاخر آبشار کے غسل کو سب سے زیادہ موزوں سمجھا گیا۔ کیوں کہ آبشار کے گرتے ہوئے پانی میں نہانے کا منظر سب سے زیادہ عوامی کشش رکھتا تھا۔ مختلف آبشاروں کا جائزہ لینے کے بعد کو ڈائی کنال کو مقام غسل کے لئے چنا گیا۔
سب سے مشکل یہ تھا کہ یہ کام صرف جاڑوں میں ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اسی موسم میں پہاڑی آبشاروں میں تیز دھارا دوسری طرف اس مقصد کے لئے ایک نازک لڑکی کا انتخاب ضروری تھا جو نہاتے وقت "پانی کی پری" معلوم ہو۔ یہ ایک جان جوکھم منصوبہ تھا۔ مگر ماڈلنگ کے پیشے نے اس کو آسان بنا دیا۔ ایڈورٹائزنگ کمپنی کا عملہ جس کو انتظام کرنا اور فوٹو لینا تھا، مکمل طور پر گرم کپڑوں سے لدا ہوتا تھا۔ دوسری طرف ان کی پارٹی کی سب سے زیادہ نازک اور کمزور ممبر صبح 7 بجے ٹھٹھرتے ہوئے پانی کے ریلے میں چھلانگ لگاتی تھی۔ پھسلتی ہوئی چٹانوں پر پانی کے مسلسل گرتے ہوئے دریا کے نیچے اس کو اس طرح نہانا پڑتا تھا کہ اس کے چہرے پر صرف فرحت اور خوش گواری کی بہنی ہو۔ خوف اور گھبراہٹ کی کوئی علامت اس پر ظاہر نہ ہونے پائے۔ کیڑے مکوڑے اور پانی کے سانپ ان سب کے علاوہ تھے۔ کمپنی کے لوگوں کو بھی لڑکی کو جگانا وہ ہر روز صبح کو 5 بجے اپنے گھر پر تیار ملتی تھی۔
یہ واقعہ درجن سے زیادہ بار دہرایا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں فوٹو لئے گئے۔ پھر اس ایک فوٹو کا انتخاب ہوا جو آج لوگوں کو اخبار کے اشتہارات میں نظر آتا ہے۔ لڑکی کے لئے اس ایک فوٹو کی قیمت تھی پندرہ ہزار روپیہ — ماڈلنگ کا یہ پیشہ آج ساری دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر رائج ہے۔
"کیا چیز ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں کو ماڈلنگ کے اس سخت کام کی طرف راغب کرتی ہے؟ " ایڈورٹائزنگ کمپنی کے ایک افسر نے اس سوال کے جواب میں کہا:
It is, primarily, a case of vanity (Famina, 22.7.1978)
بنیادی طور پر اس کی وجہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد ہر طرف اس کو اخبارات ورسائل میں اپنا چہرہ چھپا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے ____ خود نمائی کا یہ جذبہ جو ایک "پروفیشنل ماڈل" کو جان جوکھم کام کی طرف لے جاتا ہے وہی ایک "لیڈر" کے کام کا محرک بھی ہے۔ اگرچہ اول الذکر کے مظاہروں کو پیشہ ورانہ نمائش کہا جاتا ہے اور ثانی الذکر کے اسی قسم کے مظاہروں کو قربانی کے پُر فخر نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ انسان کا حقیقی کمال یہ ہے کہ وہ خود نمائی کے شوق سے اوپر اٹھ جائے۔ اگر چہ تمام کاموں میں انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل کام یہی ہے۔
جب آپ دلدل میں ۱۹۰۹ء میں میرا تعلق ریاست باؤٹی کہ وہ (بدین کھنڈ) سے ہو گیا تھا۔ نواب ریاض الحسن خاں کا عہد حکومت اس وقت میرے بہنوئی محمد سلیمان خاں مودھا (ضلع ہمیر پور) کے تھانہ میں مامور تھے۔ اور میں ہر پندرہویں دن اپنی بہن کو دیکھنے وہاں چلا جاتا تھا۔ فاصلہ صرف دس بارہ میل کا تھا جسے میں گھوڑے پر طے کرتا تھا۔
میں شام کو کدورہ سے چلا۔ میں جاگیر بیری کے قریب پہنچا جو کدورہ سے صرف تین میل دور تھی تو آفتاب غروب ہو چکا تھا اور رات کا دھند لکا شروع ہو گیا تھا۔ ایک اونچی پہاڑی پر دریا کے کنارے واقع ہے اور مودھا جانے کے لئے اس دریا کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دریا کے دونوں کناروں پر دور دور تک ریت پھیلی ہوئی میں ریت کے اس حصے کو معمولاً پیدل طے کرتا تھا کہ گھوڑے پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ لیکن اس مرتبہ دیر ہو جانے وجہ سے میں گھوڑے پر سوار رہا اور اس کو تیز تر چلانے لگا۔ اس دریا کے متعلق مشہور تھا کہ اس کے کناروں پر کہیں کہیں چور بالو بھی پائی جاتی ہے۔ چور بالو سے مراد وہ رتیلا حصہ ہے۔ جو بظاہر صاف اور مسطح نظر آتا ہے لیکن پانی کی سطح سے قریب تر ہونے کی وجہ سے اس کے نیچے دلدل ہو جاتی ہے اور اس پر پاؤں رکھتے ہی آدمی ہو یا جانور اندر دھنسنے اس مرتبہ چونکہ مجھے جلدی تھی اس لئے معمولی راستہ سے ہٹ کر میں نے مختصر راستہ اختیار کرنا چاہا ۔ کو اسی طرف ڈال دیا۔ تھوڑی دور چل کر مجھے ایک رتیلی اور میں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تاکہ وہ اسے پھاند کر گزر جائے ۔ میں تاریکی میں اس کی چوڑائی کا صحیح اندازہ نہ کر سکا ۔ زیادہ سے زیادہ میں اسے تین گز کا سمجھتا تھا ۔ وہ چھ گز سے کم نہ تھا ۔ میرے ایڑ لگانے پر گھوڑے نے جست تو کی ، لیکن وہ اس فاصلہ کو عبور نہ کرسکا۔ اور اس کے اگلے پاؤں رتیلے حصے کے اندر ہی رہے۔ اس کے بعد دفعتاً گھوڑا اندر دھنسنے لگا تو مجھے پتہ چلا کہ میں چور بالو میں پھنس گیا ہوں۔ سے جان بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ اس سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں اس طرح آدمی اور اندر دھنستا چلا جاتا ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو بالو پر چت یا پٹ ڈال دیا جائے۔ گھوڑا سینہ تک دھنس چکا تھا اور میں بھی اس کے ساتھ گھٹنوں گھٹنوں بالو کے اندر غرق تھا۔ غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ گھوڑے کو بچانا تو ممکن نہیں اس لئے اس کے ساتھ اپنی جان کیوں گنوائی جائے ۔ میں نے آہستہ آہستہ اپنے دونوں پاؤں رکاب سے الگ کرکے اوپر نکالے اور فوراً چور بالو پر بے حس و حرکت لیٹ گیا۔ اتفاق کی بات کہ اس وقت میری کے دورا چوپت گھر لوٹتے وقت میرے پاس سے گزرے ۔ اور میں نے انہیں آواز دی ۔ دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی پگڑی کی کھول کر اس کا سرا میری طرف پھینکا تاکہ اسے مضبوط پکڑ لوں ۔ اور جب میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو انہوں نے مجھے آہستہ آہستہ گھسیٹنا شروع کیا۔ اور میں اس چور بالو سے نکل گیا۔ بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ گھوڑے کو کیوں کر نکالا جائے۔ کے لئے انہوں نے یہ ترکیب نکالی کہ پگڑی کا ایک سرا پھندا بنا اس کی گردن میں ڈالا جائے اور اس کو بھی گھسیٹا جائے ۔ میں لگام کا جھٹکا دینے لگا۔ مگر گھوڑا تھک کر اس قدر بے جان ہو گیا تھا کہ جھٹکے سے بھی اس کے جسم میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی۔ اور آخر کار وہ دھنستے دھنستے غائب ہو گیا