محلہ کوٹ، بگراسی، ضلع بلند شہر
Al-Risala, January 1982, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے زندہ انسان ہمارے اندر کیوں نہیں ہندوستانی انجینئر غیر ضروری تعمیرات اور غیر ضروری ڈیزائنوں پر کروڑوں روپیہ ضائع کرتے ہیں، اس کی مثال دیتے ہوئے مسٹر کے۔ مالویہ (سابق وزیر پیٹرولیم) نے بتایا کہ مشرقی ہندوستان میں ایک پل پر کام ہو رہا تھا۔ دوران ڈرلنگ مشین کو پل پر لے جانے کی ضرورت ہوئی ۔ اس وقت موقع پر دو انجینئر تھے ۔ ایک روسی اور دوسرا ہندوستانی انجینئر نے کہا کہ ڈرل کرنے کی بھاری مشین پل کے اوپر لے جائی گئی تو پل ٹوٹ کر گر جائے گا ۔ اس لئے مشین اس وقت تک پل پر نہ چڑھائی جائے جب تک اس کے استحکام کا مزید انتظام نہ کر لیا جائے ۔ روسی انجینئر کو اس سے اختلاف تھا ۔ خیال تھا کہ ڈرلنگ مشین کو ہم پل پر لے جا سکتے ہیں اور اس سے پل کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ بحث بڑھی یہاں تک کہ یہ مسئلہ متعلقہ وزیر تک پہنچا۔ روسی انجینئر نے اپنے نقطہ نظر کی وکالت کرتے ہوئے وزیر سے کہا : "روس میں میری بیوی اور بچے ہیں ، اور میں ان سے محبت کرتا ہوں ۔ مگر میں اس کے لئے تیار ہوں کہ پل کے نیچے کھڑا ہو جاؤں جب کہ مشین پل کے اوپر چڑھائی جائے ۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے روسی انجینئر نے فی الواقع ایسا ہی کیا اور بے ضرر بچ کر نکل آیا ۔ کھنا ، مطبوعہ السٹریٹڈ ویکلی ، ۲۱ ستمبر ۱۹۶۵ء
کلاس میں صحت کی بات چھڑ گئی۔ صحت کے اصول لڑکوں کو سمجھارہے تھے۔ میں ایک طالب علم کھڑا ہوگیا۔ "ماسٹر صاحب" وہ بولا "اجازت ہو تو ایک بات دریافت کروں۔
"ماسٹر صاحب اس عمر میں آپ کی اتنی اچھی صحت ہے، اس کا راز کیا ہے؟
اس کے بعد ماسٹر صاحب نے اپنی کہانی بیان کرنی شروع کی۔ انھوں نے کہا۔ "یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ میں تم سے بھی چھوٹا تھا اس وقت میں کلکتہ میں تھا، میری صحت بہت خراب ہوگئی، میں اتنا دُبلا اور کمزور ہوگیا کہ چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ڈاکٹر بھی میرے علاج سے مایوس ہو گئے۔ ڈاکٹر نے کہا "اس کو گھر لے جاؤ۔ اب یہ بچ نہیں سکتا" تاکہ یہ مرے تو اپنے ماں باپ کے پاس مرے۔ "ڈاکٹر کو میری موت پر اتنا یقین تھا کہ اس نے میرے سامنے ہی یہ بات کہہ دی۔ مجھے ڈاکٹر کی بات سن کر بہت غصہ آیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا "مجھے زندہ رہنا ہے" اور میں نے اس کے فوراً بعد زندگی کی جدوجہد شروع کردی۔
"میں نے سوچا کہ سب سے پہلا کام مجھے یہ کرنا ہے کہ اپنے دماغ سے اس خیال کو نکال دوں کہ میں بیمار ہوں یا مر جانے والا ہوں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ ہو مجھے بہر حال جینا ہے۔ اس کے بعد اس کا ارادہ اس کی بیماری پر پر تیل کی مالش کرنا اور دن رات کے سارے اوقات کو ایک نظام کے تحت گزارتا۔
میرا ارادہ میری بیماری پر غالب آیا۔ دھیرے دھیرے اچھا ہونے لگا۔ میرے چہرے پر موت کے پیلے پن کے بجائے زندگی کی سرخی دوڑنے لگی۔ اب میں ایک تندرست نوجوان تھا جس کی صحت پر لوگ رشک کرتے تھے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، میں بچپن سے جوان ہوا اور جوانی کے بعد اب بڑھاپے کا دور شروع ہو گیا ہے لیکن ڈاکٹر کے اندازہ کے نہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس گیا اور نہ کوئی دوا کھائی، البتہ اپنی زندگی کو نہایت منظم کر لیا۔ میں روزانہ صبح کو کھلی ہوا میں ورزش کرنا، روزانہ نہاتا، روزانہ اپنے بدن خلاف نہ صرف یہ کہ میں زندہ رہا بلکہ پھر کبھی بیمار نہیں ہوا میں نے طے کیا تھا کہ مجھے زندہ رہنا ہے اور قدرت نے یہ الفاظ صحیح ثابت کردکھائے۔