Al-Risala · January 1982

درخواست کے بغیر

Al-Risala, January 1982, pp. 27–29

By Maulana Wahiduddin Khan

بھٹنا گر (۱۹۷۶ء)

نے ۱۹۴۳ء میں ایم ایس سی میں ٹاپ کیا تو گھر کوئی بھی شخص عہدہ کے لائق نہ ملا ۔

پروفیسر ہمایوں کبیر نے پروفیسرڈی۔ سے کہا جو کہ سلیکشن کمیٹی کے ممبر بھی تھے : ” کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس عہدہ پر بیٹھنے والوں کی بہترین تمنا یہ تھی کہ وہ آئی سی ایس کے مقابلہ میں بیٹھیں ۔ اس وقت ممتاز طالب علموں کے کے لئے سب سے زیادہ پرکشش چیز یہی تھی ۔ ڈاکٹر بھٹنا گر کے علمی شوق نے انہیں مجبور کیا کہ وہ آئی سی ایس افسر بننے کے بجائے ٹیچر اور اسکالر بننے کو ترجیح دیں ۔

۱۹۵۶کا واقعہ ہے پروفیسر ہمایوں کبیر وزارت تعلیم میں سکریٹری تھے ۔ ان کو ایک ایسے قابل ریاضی داں کی تلاش تھی جس کو انڈین انسٹی آف سائنس بنگلور میں اپلائیڈ میتھمیٹکس کے شعبہ کا صدر بنایا جا سکے ۔ انٹرویو کے لئے سلکشن کمیٹی مقرر ہوئی جس کے صدر خود ہمایوں کبیر تھے ۔ کمیٹی کو درخواست دہندگان میں کے لائق ہو" کوٹھاری نے کہا: "کم از کم ایک شخص تو مجھے معلوم ہے، اور وہ ڈاکٹر بھٹناگر ہیں۔ ہمایوں کبیر نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فورا ڈاکٹر بھٹناگر کے نام اپائنمنٹ لیٹر بھیج دیا، اگر چہ موصوف نے اس عہدہ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی تھی ۔ ڈاکٹر بھٹناگر نے ٹیچر کے مقابلہ میں صدر بننے کی پیش کش کو بہ جبر قبول کیا تھا۔ تاہم وہ ان کے لئے مزید عہدوں کا زینہ بنا۔ وائس چانسلر راجستھان یونیورسٹی اور جے پور یونیورسٹی ، ممبر یونین پبلک سروس کمیشن ۔ ۱۹۷۰ء میں ان کو پدم بھوشن کا خطاب دیا گیا ۔ یہ تقریب ڈاکٹر ذاکر حسین کے ہاتھوں انجام پائی تھی جو اس وقت صدر جمہوریہ ہند تھے ۔ ایک خاندان کے یہاں دوسرے فرقہ کا ایک آدمی ملازم تھا۔ اس نے چوری کی۔ نوجوان صاحبزادے جوش میں اس کو مارنے کے لئے دوڑے۔ باپ نے منع کیا۔ تم چوری کے لئے اس کو مارو گے " باپ نے کہا " اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ ، فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ اب گھر کے لوگ مارنے سے رک گئے اور مسئلہ کو حکمت کے ساتھ حل کیا۔ "حکمتِ عملی" کا یہ راز جو ایک معمولی آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں پاللیتا ہے ، اس کو پاکستان کے رہنما اسلامی تحریک کے معاملہ میں نہ جان سکے۔ وہ صورتِ حال کے تمام پہلوؤں کا اندازہ کئے بغیر بار بار ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ اصل مقصد (اسلامی نظام کا قیام) تو حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ ہنگامہ کے نتیجہ میں کچھ دوسرے شدید تر مسئلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئی نئی پیچیدگیاں ابھر کر راستہ کی مشکلات کو کچھ اور زیادہ بڑھا دیتی ہیں۔ مجیب ازم (بنگالیت) بھٹو ازم (پاکستانی نیشنلزم) ولی ازم (سرحدی علاقائیت) وغیرہ سب اسی قسم کے نادان اقدامات کے پیدا شدہ نتائج ہیں۔ "چوری" ختم نہیں ہوتی۔ البتہ "فرقہ وارانہ فسادات " نئے نئے عنوان سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کیسی عجیب ہے یہ سیاست اور کیسے عجیب ہیں یہ خادمانِ اسلام۔

بظاہر یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ سردار ہے۔ لڑائی میں رکشے والے نے لڑکے کو پٹک دیا۔

اور مارنے لگا۔ اتنے میں لڑکے نے پنجابی زبان میں رکشے والے کو برا بھلا کہا۔ یہ سن کر رکشے والا ٹھٹھک گیا ۔ نے پوچھا :

" تم کون ہو، تمھارا نام کیا ہے ؟

" وزیر سنگھ "

" کیا تم سردار ہو ؟

" ہاں "

اس کے بعد رکشے والا فورا اٹھ گیا ۔ " پہلے کیوں نہیں سردار سردار کو نہیں مارتا "۔ اس نے کہا اور دونوں گرد جھاڑتے ہوئے اپنے اپنے راستہ پر چلے گئے۔ سید حیدر علی ایم ۔ سی ( پیدائش ۴۲ ۱۹) دہلی لڑائی ختم ہوگئی جون ۱۹۴۵ کا واقعہ ہے۔ میں نینی تال کے ایک اسکول میں فرکس کا استاد تھا۔ ایک لڑکا میرے پاس ٹیوشن کے طور پر پڑھنے آتا تھا۔ اس کا نام وزیر سنگھ عمر تقریباً سترہ سال تھی ۔ ایک روز وہ کسی قدر دیر حال یہ تھا کہ قمیص پھٹی ہوئی ، ہونٹوں سے خون جاری ، بال بکھرے ہوئے ۔ اس کا یہ حلیہ دیکھ کر میں نے خیریت دریافت کی ۔

اس نے بتایا کہ وہ آ رہا تھا کہ راستہ میں ایک مقام پر ایک رکشے والے سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا ۔ اس کے بعد لڑکے میں اور رکشے والے میں تو تو میں میں ہوئی اور دونوں لڑگئے ۔ رکشے والا سردار تھا اور اپنے روایتی حلیہ میں تھا۔ مگر لڑکا بے داڑھی مونچھ اور بغیر پگڑی تھا۔ کمزور طاقت ور کے اوپر غالب آسکتا ہے یہ قوی ہیکل جوان امریکی ہوائیہ کا ایک افسر ہے جس کا نام میجر رچرڈ اڈگر جانسن ہے۔

دسمبر ۱۹۷۲ء میں شمالی ویت نام کی ایک معمولی ہوٹل نے اس کو پکڑا !

فرد کا جھکنا قوم کا سر بلند ہونا ہے لارڈ سالسبری (۱۹۰۳ء- ۱۸۳۰ء) ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ حکومت میں برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ اس زمانہ میں کار کا رواج نہ تھا۔ وزیر اعظم سالسبری اپنی سائیکل پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ ایک مقام پر وہ سڑک کے غلط رخ سے گزرنے لگے۔ سڑک پر متعین کانسٹیبل نے انہیں روکا۔ وزیر اعظم نے کانسٹیبل کو بتایا کہ میں وزیر اعظم ہوں اور چوں کہ مجھے عجلت تھی اس لئے مجھ سے ٹریفک کے ضابطہ کی خلاف ورزی کانسٹیبل نے جواب دیا کہ میں اپنی ڈیوٹی کو بجالانے والا کانسٹیبل ہوں۔ میرا فرض صرف یہ ہے کہ کہ ٹریفک کی خلاف ورزی نہ ہونے دوں۔ چوں کہ آپ ایک سفید ریش بزرگ ہیں، اس لئے میں صرف اتنی رعایت کر سکتا ہوں کہ آپ کا چالان نہ کروں، لیکن اتنا آپ کو بہ حال کرنا پڑے گا کہ آپ واپس جائیں اور جہاں سے سڑک شروع ہوتی ہے وہاں سے سیدھی سمت میں آئیں ۔ وزیر اعظم نے بے چون وچرا ٹریفک کانسٹیبل کا حکم مان لیا۔ نیز اس واقعہ کا ذکر ملکہ وکٹوریہ کے پرائیویٹ سکریٹری سے خود کر کے اس فرض شناس کانسٹیبل کو خراج تحسین پیش کیا۔ برطانیہ کے دوسرے وزیر اعظم مسٹر بالڈون (۱۹۴۷ء - ۱۸۶۷ء) کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی کار میں سفر کر رہے تھے۔ ایک چوراہا پر کار رکی۔ قطار میں ان کی گاڑی پیچھے تھی۔ راستہ کھلا تو ڈرائیور نے قبل اس کے کہ آگے کی موٹریں گزریں، وزیر اعظم کی موٹر آگے نکال لینے کی کوشش کی۔ نے فی الفور روکا۔ ڈرائیور نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب کو سرکاری کام کی وجہ سے جلدی ہے۔ کہا، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ موٹر نشین کون ہے ۔ قانون کی رو سے ٹریفک کی پابندی عام شہری اور وزیر اعظم دونوں پر لازم ہے۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے موٹر سے اتر کر کانسٹیبل سے معافی مانگی اور ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ کانسٹیبل کے حکم کی تعمیل کرے ۔ نیشنل ہیرلڈ جنوری ۱۹۷۸ء)

لیڈر اپنے اصول کے آگے جھکالے تو ساری قوم اصولوں کے آگے جھکنے والی بن جاتی ہے اور یہی کسی قوم کی طاقت کا سب سے بڑا راز ہے سیاست کا راز ابو فراس حمدانی عباسی دور کا شاعر ہے۔ اپنے ایک قصیدہ میں کہتا ہے :

اذا ما ارسل الامراء جيشنا الى الاعداء ارسلنا الكتا با یعنی ہماری دھاک کا یہ عالم ہے کہ جہاں دوسرے امراء کو مقابلہ کرنے کے لئے لشکر بھیجنا پڑتا ہے، وہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں اور وہی فیصلہ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔

یہاں ایک شعر میں شاعر نے سیاست کا راز بتا دیا ہے، سیاست یہ نہیں ہے کہ حریف سے لڑائی بھڑائی جاری رکھی جائے۔ سیاست یہ ہے کہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور اور مستحکم بنایا جائے کہ جب ضرورت پڑے تو صرف ایک " تحریر " بھیج دینا معاملہ کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو۔

Printed page