Al-Risala · January 1982

کا میں انہماک

Al-Risala, January 1982, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

سرجا دو ناتھ سرکار (۱۹۵۸ء۔ ۱۸۷۰ء) کو مغل تاریخ کا کولمبس کہا جاتا ہے۔ یہ مقام انھیں کس غیر معمولی انہماک کے ذریعہ ملا، اس کا ایک ہلکا سا اندازہ ان کے خطوط سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے استاد ڈاکٹر رگھو بیر سنہ کو اپنی عمر کے آخری ۲۷ برسوں ۸۰ برس کی عمر کو پہنچ کر بھی ان کے اندر کام کا شوق اتنا بڑھا ہوا تھا کہ کلکتہ میں اپنے وسیع مکان کو چھوڑ کر وہ صرف اس لئے کام مشیت چلے گئے کہ کلکتہ کے ناموافق موسم کی وجہ سے وہ وہاں پوری طرح کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہ منتخب ۳۲۹ خطوط جس زمانہ (۱۹۵۸ء ۔ ۱۹۳۲ء) سے تعلق رکھتے ہیں اس میں ملک کے اندر اور باہر زبردست واقعات دوسری جنگ عظیم، ہندوستان کی آزادی مہاتما گاندھی کا قتل، وغیرہ۔ مگر خطوط میں ان واقعات کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ تاہم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کی خبر انھیں متاثر کرتی ہے " دیکھو ترکیب استعمال سمجھ لو۔ " حکیم صاحب نے مریض کو نسخہ دیتے ہوئے کہا۔

" ہاں ارشاد ہو ،"

" اس کو گرم پانی میں اچھی طرح جوش دے کر، چھان کر سوتے وقت پی لینا۔ اللہ نے چاہا تو پہلی ہی خوراک میں آرام محسوس ہوگا۔

"بہت اچھا حضور ،"

" اور دیکھو کل صبح آکر اطلاع دینا ،" "بہت اچھا "

دوسری صبح مریض پھر آیا، حکیم صاحب نے نبض پر ہاتھ رکھا اور پوچھا ، "کہو کچھ فرق محسوس ہوا۔ مریض نے کہا " نہیں حضور کچھ فرق نہیں بلکہ آج تو تکلیف اور بڑھ گئی ہے ! " حکیم صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے ، ماتھے پر ہاتھ رکھا ، لمبی سانس لی اور کچھ پاس آمیز لہجہ میں کہا اچھا لاؤ نسخہ دکھاؤ۔ " مریض بولا " حضور نسخہ تو آپ کے ارشاد 28 جون ۱۹۴۵ء کا اپنے ایک دوست کو لکھتے ہیں : " اگر تم اپنے لندن کے فوٹو گرافر کو خط لکھو تو اس کو ہدایت کرو کہ وہ برٹش میوزیم کے (فلاں) مخطوطہ کی فوٹو اسٹیٹ کاپی لے لے۔ یورپ میں امن قائم ہو جانے کی وجہ سے برٹش میوزیم نے اپنے مخطوطات کے ذخیرہ کو شاید دوبارہ نکال لیا ہو جو جنگ کے زمانہ میں ) تہ خانوں میں رکھ دیے گئے تھے " نے تقابیل کے بوس دے کر پہنا لیا ۔

حکیم صاحب نے گھبرا کر آنکھیں اوپر اٹھائیں کیا کہا ! نسخہ پی لیا “ جی حضور نسخہ جوش دے کر پی لیا جیسا کہ آپ نے بنایا تھا کہ اس کو ....... “ ارے بد بخت ،، حکیم صاحب غصہ سے بولے کہیں نسخہ بھی جوش دے کر پیا جاتا ہے ، نسخہ میں جو دوا لکھی جاتی ہے وہ استعمال کی جاتی ہے نہ کہ نسخہ کا کاغذ “

وہ اسلام پر کتاب لکھ رہے ہیں ڈاکٹر آر پی تر پاٹھی مغل تاریخ پر سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب ہسٹری آف دی مغلٹ نے اپنے موضوع پر غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔ وہ اردو، فارسی ہندی، سنسکرت اور انگریزی زبانوں سے بخوبی آج کل وہ لندن کے قریب اسکس میں مقیم ہیں اور اسلام پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں ۸۶ سال کی عمر کے باوجود وہ پار سال سے ہر روز کم از کم سات مکمل گھنٹے مطالعہ میں صرف کرتے ہیں تاکہ اس عظیم مذہب کے بارے میں اپنی کتاب کے لئے مواد جمع کر سکیں۔

ڈاکٹر ترپاٹھی کی ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں ہوئی ڈاکٹر ترپاٹھی کو پرنسپل کی بات پسند وہ مشہور پروفیسر لاسکی سے ملے اور ان کو ساری بات بتائی۔ پروفیسر لاسکی نے کہا کہ آپ کسی بھی اپنے پسندیدہ موضوع پر ایک مضمون لکھ کر مجھ کو دکھائے۔ انھوں نے مغل ایڈمنسٹریشن پر دس صفحات کا ایک مضمون لکھ کر پیش کیا۔ پروفیسر لاسکی کو وہ مضمون پسند آگیا۔ ان کے اسی مضمون پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور پھر لندن اسکول آف اکنا مکس میں ان کو ریڈر کی جگہ دلوادی جو اس زمانہ میں کسی ہندوستانی کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ ۲۰ سال تک اس اسکول میں ریڈ راور پھر

Dr. R.P. Tripathi جہاں ان کے والد سرکاری ملازمت میں تھے۔ یونیورسٹی سے انھوں نے ایم۔ اس کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں لکچرار کی جگہ مل گئی۔ زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک انگریز افسر نے اتفاقاً ان کا لیکچر سنا۔ اس لیکچر سے وہ متاثر ہوا اور اس نے اس کا اعتراف اس طرح کیا کہ لندن کے اسکول آف اورنٹیل اسٹڈیز میں ان کو یہ ۱۹۱۶ء کا واقعہ ہے مگر جب وہ لندن پہنچے تو اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ میں آپ کو براہ راست ریسرچ میں داخلہ نہیں دے سکتا۔ پہلے آپ کو ہمارے یہاں سے اے کا امتحان پاس کرنا ہوگا ۔

Printed page