میں سوچ رہا ہوں
Al-Risala, January 1982, pp. 34–36
By Maulana Wahiduddin Khan
راجہ راؤ ایک میسوری برہمن ہیں اور ہندوستان کے مشہور فلسفی ہیں۔ ہندوستان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد ۱۹۲۹ میں وہ مزید مطالعہ کے لئے پیرس گئے۔ میں پہلی بار امریکہ کا سفر کیا۔ ۱۹۷۰ء میں امریکہ کی ٹیکس یونیورسٹی میں ان کو فلسفہ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے اس قیام کے دوران ایک امریکی مصنفہ الزبتھ ووڈہل نے ان سے مفصل انٹرویو لیا۔ الزبتھ ووڈہل دو بار ہندوستان انٹرویو کا ایک فقرہ یہ ہے:
راؤ اپنی ذہنی زندگی کی حفاظت کرنے میں بڑے مستعد ہیں۔ وہ بغیر کسی احساس ندامت کے محض اس بنا پرکسی ملاقاتی سے ملنے سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ "سوچ" رہے ہیں۔ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ یہ کہنے کے لئے بھی امریکہ کی سرزمین چاہئے۔ ہندوستان میں اگر کوئی ایسا کہے تو اس کو پاگل کا خطاب ملے گا یا مغرور کا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے راز کو سمجھ لے
مولانا عبد الماجد دریا بادی (۱۸۹۲-۱۹۶۶) کے دادا مفتی محمد مظہر کریم صاحب اپنے وقت کے ایک ممتاز عالم تھے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ میں علماء نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا جو فتویٰ دیا، اس پر ان کے بھی اودھ کے دوسرے علماء مثلاً مولانا فضل حق خیر آبادی مفتی عنایت احمد (مؤلف علم الصیغہ) وغیرہ کے ساتھ انہیں بھی حبس دوام بعبور دریائے شور کی سزا ملی۔ قید کے زمانہ میں کوئی کام نہیں تھا۔ چنانچہ مولانا مظہر کریم صاحب نے ایک ضخیم عربی کتاب کا اردو ترجمہ کر ڈالا۔ وہاں کے انگریز افسر کو اس کی خبر ملی تو اس نے اس کو ایک علمی کارنامہ قرار دیا، اور اتنا خوش ہوا کہ حکومت سے ان کے حق میں پر زور سفارش کی۔ اس سفارش کے بعد اگرچہ فوری طور پر ان کی رہائی نہ ہو سکی تاہم ان کی قید کی میعاد میں کافی کمی کر دی گئی۔ سیاسی حریف کی حیثیت سے انگریز مولانا مظہر کریم کا دشمن تھا، علمی اور تعمیری کام کرنے والے کی حیثیت سے وہ ان کا دوست بن گیا۔ یہ چھوٹا سا واقعہ ہماری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ جن میدانوں میں ہمارے لئے کام کے مواقع تھے، وہاں کام کرنے سے ہم کو کوئی دلچسپی نہیں ہوئی، اور جس میدان میں کام کا موقع نہیں ہے، وہاں ہم اپنا سر ٹکڑا رہے ہیں۔ مزید نادانی یہ کہ اس لاحاصل کام کا نام ہم نے جہاد رکھ لیا ہے۔ یہ بے اعتمادی کی فضا یہ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کا واقعہ ہے۔ کی کھڑکی پر اپنا ٹکٹ لے رہا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اس کو کسی مقام کا ٹکٹ لینا تھا جس کی قیمت پانچ چھپیسے اس نے ریزگاری بکنگ کلرک کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنا ٹکٹ مانگا۔ مٹھی بھر ریزگاری دیکھ کر کلرک ”روپیہ لے آؤ۔ ہم کب تک اس کو گنتے رہیں گے! نے کہا اور دوسرے مسافر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دیہاتی آدمی کھڑکی سے نکل کر باہر آ گیا۔ کی حالت پر ترس آیا۔ میں اس کے قریب گیا اور اس سے کہا کہ یہ ریزگاری مجھ کو دے دو اور اس کے بدلے مجھ سے نوٹ دیہاتی نے کوئی جواب نہیں دیا نہ ایک لمحہ کے لئے اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر خاموشی سے ایک طرف روانہ ہو گیا۔
دیہاتی نے میری پیش کش کیوں قبول نہ کی۔ کی وجہ بے اعتمادی ہے کہ ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جہاں کسی کو دوسرے پر بھروسہ نہیں۔ آج اگر کوئی شخص کسی پر مہربان ہوتا ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لئے نہ کہ حقیقتاً دوسرے کی مدد کے لئے۔ دیہاتی نے غالباً یہ سوچا کہ میرے پاس کچھ خراب نوٹ ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر میں ان کو دیہاتی کی ریزگاری سے بدل لینا چاہتا ہوں۔
اور ہمارے عوامی حکمران ! حفاظتی عملہ یا افسروں کے غول کے بغیر تنہا گھومتے رہے۔ ان کی سواری ایک معمولی سائیکل رکشا تھا۔ غریب رکشے والا دن بھر کا تھکا ہوا اپنی معمولی کمائی پر افسردہ چلا جا رہا تھا ROYAL FARE FOR KATHMANDU, Nov 18.-King Birendra and Queen Aishwarya rode a cycle rickshaw through the border town of Birgunj, in eastern Nepal, says Samachar. An English daily, Mother- land, yesterday reported that as the tired rickshaw-puller was calling it a day after paltry earnings, he found a young couple briskly walking across the road and boarding his The passengers wanted to see the town and the rickshaw- puller was too pleased to show the "tourists" around. He ex- plained the various landmarks to them and talked about his hopes to earn a lot of money. After half-an-hour's ride the passengers got down and the rickshaw-puller stared in dis- belief when he was paid Rs 2,000 as fare. The Motherland reported that the King often travelled incognito to study the prob- lems of the poor. روپیہ کرایہ دیا گیا تو رکشہ والا حیرت میں رہ گیا۔ کہ ایک جوڑے نے اس کو روکا، جو سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا اور اس پر سوار ہو گئے۔ دونوں سواروں نے شہر کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور رکشے والا ان "سیاحوں" کو خوشی خوشی قصبہ کی سیر کراتا رہا۔ اور مختلف مقامات کے بارے میں ان کو بتاتا رہا۔ کی سواری کے بعد دونوں مسافر رکشے سے اتر گئے۔ کو اس وقت سخت حیرانی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ دونوں مسافروں نے اس کو کرایہ کے طور پر دو ہزار روپے دیے ہیں۔ مہاراجہ نیپال کے لئے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ وہ اکثر اسی بیرنج، نیپال کا ایک قصبہ ہے جو ریاست کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ نیپال کے مہاراجہ اور مہارانی یہاں طرح جیسی بدلی کر ریاست کے مختلف مقامات پر جاتے ہیں تا کہ غریب عوام کے مسائل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔ کے وقت لو پہ پچاس برس پہلے کی بات ہے جب کہ ساری دنیا میں یورپ کی مسیحی قوموں کا غلبہ تھا۔ قاہرہ کے ایک عیسائی مشنری مسٹر واٹسُن سے ایک شخص نے پوچھا : کتنے دنوں سے آپ مسیحی تبلیغ کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ "پچاس سال سے" پادری نے جواب دیا۔ "اتنے دنوں میں کتنے مسلمانوں نے عیسائیت کو " اس کا اگلا سوال تھا۔ "تقریباً ڈیڑھ سو " پادری اور پھر فوراً ہی بولا : " مگر پھر بھی آپ کو خبر دار رہنے کی ضرورت ہے"۔
سوال کرنے والے کے لئے پادری کا یہ جملہ غیر متوقع تھا۔ اس سے آپ کی کیا مراد ہے ، اس نے دوبارہ پوچھا ۔ کے بعد پادری نے جو جواب دیا وہ یہ تھا : They are apt to become Christian for material motives. Then at their death they recant. وہ مادی محرک کے تحت عیسائی ہوجاتے ہیں اور پھر موت کے وقت توبہ کرلیتے ہیں Security for a Failing World, Baha'i Publishing Trust P. O. Box 19, New Delhi 1 1971, P. 91