کون کس کی جیب میں
Al-Risala, January 1982, pp. 37–44
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی جنگ عظیم کے بعد جس زمانہ میں خلافت تحریک کا زور تھا، علی برادران نے ملک کا دورہ کیا۔ ساتھ مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد بھی تھے۔ ان دنوں ترک موالات کی تحریک چلا رہے تھے۔ شوکت علی ان دنوں اکثر فخریہ انداز میں کہتے تھے "گاندھی جی میری جیب میں ہیں" کچھ دنوں بعد سیاسی اختلافات ہوئے اور علی برادران نے مہاتما گاندھی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنا راستہ الگ اختیار کیا۔ مولانا محمد علی لندن میں انتقال کر گئے ۔ اور مولانا شوکت علی محمد علی جناح کے ساتھ مل گئے ۔ ایک بار مسلم لیگ کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مولانا شوکت علی نے کہا : "مہاتما گاندھی کہاں ہیں جنہوں نے گول میز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو سادہ چک دینے کے لئے تیار ہیں" مہاتما گاندھی کو معلوم ہوا تو انھوں نے اپنی پرارستھنا کی تقریر میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا : "بڑے بھائی کو اپنی جیب دیکھنا چاہئے ۔ مجھ کو وہاں پائیں گے " (ریڈیئس ۲۷ نومبر ۱۹۷۸)
ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کو بھون کر کھائے گا خوشی صرف اس بات کی ہے کہ اس وقت میں زندہ نہیں رہوں گا۔
ملک امیر محمد خاں نے ستمبر ۱۹۶۶ میں گوزری سے استعفا دے دیا۔ اور اپنے آبائی وطن کالا باغ جہاں ان کے کھیت اور باغات تھے۔ ان کے گھر پر جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا ۔ ایک روز وہ خود اپنے بیٹے ملک محمد اسد خاں کے خلاف رائفل لے کر کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے پر گولی چلائی مگر وہ کندھے کو زخمی کرتی ہوئی نکل اب بیٹے کی باری تھی۔ اس نے چھ گولیاں اپنے باپ کے جسم میں اتار دیں۔ اور وہ وہیں موقع پر ختم
وہ شخص جس نے خاندانی منصوبہ بندی کو قتل قرار دے کر گورنری کے عہدہ کو چھوڑ دیا تھا، بالآخر خود اپنے بیٹے کے خلاف بندوق لے کر کھڑا ہوگیا اگر چہ اس مقابلہ میں جوان بیٹا بوڑھے باپ پر غالب آیا اور نتیجہ برعکس شکل میں برآمد ہوا۔ مغربی پاکستان کے سابق گورنر امیر محمد خاں (مستوفی ۱۹۷۶) نے یورپ میں زرعی سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ صدر ایوب کی حکومت کے زمانہ میں پاکستان میں جو سبز انقلاب آیا تھا اس کا سہرا دراصل ملک امیر محمد خاں ہی کے سر ہے جو اس وقت پاکستان کے غذائی و زرعی کمیشن کے صدر تھے اور بعد کو اپنی خدمات کے اعتراف میں گورنر بنا دیئے گئے ۔ وہ مشرقی تہذیب کا نمونہ تھے گورنر ہاؤس میں نماز روزہ کی سختی سے پابندی کرتے اور ان کے گھر کی خواتین ہمیشہ پردہ کے اندر رہتیں۔ جب پاکستان کے تیسرے منصوبہ میں خاندانی منصوبہ بندی کے لئے ۳۰ کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی تو انھوں نے اس کی سخت مخالفت بات بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب نے جھنجھلا کر کہہ دیا کہ اگر آبادی کی روک تھام نہ ہوئی تو ایک وقت وہ آئے گا جب اناج کی کمی کی وجہ سے توہم پرستی کہاں تک لے جاتی ہے اہل کارتھیج اور رومیوں کی مشہور جنگ میں جب کار تھیج کے باشندوں کو شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا یہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جو مولول دیوتا کی عبادت کے سلسلہ میں ان سے ہوتی رہی ہے۔ یہ دیوتا ان کے عقیدے کے مطابق ان کے اشراف کے لڑکوں کی قربانی پسند کرتا تھا۔ مگر کارتھیج کے اعلیٰ خاندانوں نے اپنے لڑکوں کو بچانے کے لئے کئی سال یہ کیا کہ وہ قربانی کے دن چپکے سے کسی معمولی لڑکے کو پکڑ کر اسے قربان کر دیتے تھے۔ جب انھیں شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی اس بدعنوانی کی وجہ سے دیوتا ناراض ہوگیا ہے۔ چنانچہ اعلیٰ خاندان کے کئی لڑکے مقدس آگ میں جھونک دئے گئے۔
خود را نصیحت دیگران را نصیحت ڈاکٹر محمد اقبال کی پاس ایک بزرگ وراثت کے معاملہ میں قانونی مشورہ کے لئے آیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب داڑھی نہیں رکھتے تھے، وہ اکثر داڑھی کی اہمیت پر وعظ کہتے۔ آخر ایک دن ڈاکٹر اقبال نے کہا: آپ کی وعظ و تلقین کا میرے اوپر بہت اثر ہوا ہے۔ اب میں نے طے کیا ہے کہ آپ سے ایک معاہدہ کروں۔ داڑھی نہ رکھنا ایک شرعی کو تاہی ہے، اپنی بہن کو وراثت سے محروم کرنا بھی اسی طرح شریعت کے خلاف ورزی ہے پہلے گناہ میں میں مبتلا ہوں تو دوسرے میں آپ مبتلا ہیں۔ آئیے طے کیجئے ۔ آج سے میں داڑھی رکھ لیتا ہوں اور آپ اپنی بہن کا وراثتی حصہ دے دیں۔ بزرگ اس معاہدہ کے لئے تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے نہ اپنی بہن کو وراثت کا حصہ دیا اور نہ ڈاکٹر اقبال کے چہرہ پر داڑھی اگ سکی۔ آدمی کو اپنی غلطیوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ البتہ وہ دوسرے کی غلطیوں سے خوب باخبر ہوتا ہے۔ حالاں کہ آدمی کو جو چیز سب سے زیادہ جاننا چاہئے وہ خود اپنی غلطی ہے۔ کیوں کہ اپنی غلطیوں کا جاننا ہی آخرت میں کسی کے کام آئے گانہ کہ دوسروں کی غلطیوں کو جاننا۔ آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوگی کہی تھی " اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک تم بھوک سے بے تاب نہ ہو جاؤ۔
غذایی میں انسان کی طاقت ہے مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ غذا ہی آدمی کی ساری بیماریوں کی جڑ ہے۔ غلط خوراک یا ناقص خوراک جتنی مضر ہے اتنی ہی مضر یہ بات بھی ہے کہ آدمی بھوک کے بغیر کھائے یا ضرورت سے زیادہ اپنے پیٹ کو بھرے۔ " صحت کا راز ایک لفظ میں صرف یہ ہے: صحیح خوراک معتدل مقدار میں !
اگر آدمی صرف اس ایک اصول کو پوری طرح پکڑلے تو اس کو زندگی بھر ڈاکٹر بتائی، یہی بات سقراط نے ان لفظوں میں کی ضرورت نہیں ہوگی۔
جنوب مغربی سمت سے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کرنا اب تک بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔ اگست ۱۹۵۳ء میں پہلی بار اس کو ایک برطانوی ٹیم نے سر کیا جس کے قائد کرس بونگٹن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی ٹیم کی اس کامیابی کا ا سبب ایک برطانوی فرم کی ایک ایجاد تھی۔ اس نے بہت ہلکے وزن کے آکسیجن سلنڈر بنائے ۔ ان سلنڈروں کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا کہ ایک سویٹر آکسیجن ایک ایسے سلنڈر میں رکھا جاسکے جس کا وزن صرف ۴٫۵ کلو گرام ہو۔ یعنی تقریباً بیگانہیں کے برابر۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی زندگی میں کس طرح ایک شعبہ میں کچھ لوگوں کے آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے شعبوں میں کچھ دوسرے لوگ آگے بڑھے ہوئے ہوں۔ جس قوم میں سارے لوگ صرف تقریرو تحریر کا کمال دکھانے لگیں ، وہ کبھی ترقی کے مقام پر نہیں پہنچ سکتی۔ ملک خدا بخش مشہور مسلم قانون داں گزرے ہیں۔ وہ انگریزی ہندوستان میں ایڈوکیٹ جنرل تھے ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۷ء تک لیجسلیٹو کونسل میں حزب مخالف کے لیڈر رہے۔ انھوں نے برطانوی صحافی ہورلی نکلس سے ایک ملاقات کے دوران بڑی شدت کے ساتھ کہا تھا : "ہندو اور اردو زبان کو ہٹا کر ہندوستانی کو اس کی جگہ بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اردو تیری سخت جان ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ لفظ "اردو" کیا معنی رکھتا ہے؟ اس لفظ کے معنی ہیں لشکر ۔ گویا یہ ایک لشکر ہے جس پر ہندوستانی زبان کبھی فتح نہیں پاسکتی۔ (ورڈکٹ آن انڈیا (۴۴-۱۹)
اس قسم کا استدلال صرف ادبی استدلال ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ حقیقت واقعہ بھی ادبی استدلال کے ساتھ موافقت کرے۔
شعر و شاعری اور خطابت کے رواج نے ہماری ذہنی زندگی میں جو خرابیاں پیدا کیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خالص حقیقت پسندانہ اور سائنٹفک انداز فکر ہمارے یہاں پیدا نہ ہو سکا۔ کتنے عالی دماغ لوگ اس قسم کے دلائل کے بھروسہ پر صدیوں جیتے یہاں تک کہ جب ان کی خیالی دلیل خارجی حقیقت سے ٹکرائی تو معلوم ہوا کہ وہاں سرے سے کوئی دلیل ہی موجود نہ تھی۔