Al-Risala · January 1982

اشتعال کے بغیر

Al-Risala, January 1982, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

جب غصہ دلانے والی بات کی جائے تو اس کے جواب کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی بھرا اٹھے اور ناقد پر لعن طعن کرنے لگے۔ دوسرا طریقہ یہ ناقد کی بات کو بالکل ٹھنڈ ے ذہن سے سنا جائے ۔ لوگوں کو بعض لوگوں پر چڑھايا تھا۔ یہ سن کر وہب نے کہا اللہ کی پناہ ۔ پھر دونوں چپ ہو گئے ۔ راوی سے پوچھا۔ کیا دونوں میں بحث ہوئی ۔ جواب دیا نہیں۔

مولانا احمد علی لاہوری کے صاحبزادہ مولانا حبیب اللہ لاہوری نے مولانا سید حسین احمد مدنی بات کے غیر متعلق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل بات کا جواب بالکل سادہ طریقے سے دے دیا جائے ۔ دونوں طریقوں میں صرف دوسرا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ ابن عبد البر اندلسی (م ۴۶۳ ھ) لکھتے ہیں : روینا ان طاؤ سا و وهب بن منبہ التقيا فقال طاؤس لوهب يا ابا عبد الله بلغنى عنك امر عظیم ۔ فقال ما هو - قال تقول ان الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض ۔ قال اعوذ بالله ، ثم سكتا قال فقلت هل اختصما قال لا ۔

جامع بیان العلم وفضلہ، جزء ثانی ، صفحہ ۹۵ ہم سے بیان کیا گیا کہ طاؤس اور وہب بن منبہ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا۔ (1879-1954) کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں مولانامدنی کے دورہ حدیث میں شرکائے درس میں سے کسی طالب علم کو شرارت اس نے مولانا کے پاس ایک رقعہ بھیجا اور اس کے ذریعہ تحریری طور پر یہ سوال کیا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ حرامی ہیں۔ مولانا مدنی نے رقعہ لے کر رکھ لیا اور پہلی نشست میں کوئی جواب نہیں دیا۔ میں جب طلبہ جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا "کسی دوست نے مجھے رقعہ لکھا ہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے"۔ یہ سنتے ہی تمام مجلس میں ہیجان برپا ہو گیا۔ غیظ وغضب سے بھر گئے کہ کس گستاخ نے یہ حرکت کی ہے۔ مولانامدنی نے فرمایا "خبردار کسی کو غصہ کرنے کی ضرورت میرا حق ہے کہ میں سوال کرنے والے کی تسلی کروں،" ابو عبد اللہ ، آپ کے بارے میں ایک بڑی سنگین بات انھوں نے پوچھا وہ کیا۔ طاؤس نے کہا، میں نے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے تو قوم لوط کے بعض پھر مجید ہی کے ساتھ فرمایا ہے کہ میں آباد عقبہ ٹانڈہ کارہنے والا ہوں۔ اس وقت بھی میرے والدین کے نکاح کے گواہ زندہ ہیں۔ خط بھیج کر سمجھ لیا جائے“۔

Printed page