Al-Risala · January 1982

یہ داستانیں

Al-Risala, January 1982, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور ہے کہ مہلہل کے یہاں جب اس کی لڑکی لیلیٰ پیدا ہوئی تو اس نے اس کو زندہ درگور کر دینے کا حکم مگر بچی کی ماں نے اس کو چھپا دیا۔ مہلہل نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اس کو بتا رہا ہے کہ اس کی لڑکی ایک قابل لڑکا بنے گی۔ صبح ہوئی تو اس نے لڑکی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اس کو بتایا گیا کہ وہ اس کے حکم کے مطابق زندہ دفن کردی گئی ہے۔ نے نہ مانا۔ اس نے مزید اصرار شروع کیا۔ آخر کار لڑکی اس کے سامنے پیش کی گئی۔ اس نے حکم دیا کہ اس کو عمدہ غذائیں کھلائی جائیں۔

اس لڑکی کی شادی کلثوم سے ہوئی۔ اکثر خواب دیکھنے لگی کہ کوئی شخص آتا ہے اور اس کے ہونے والے بچہ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں بتاتا ہے۔ بالآخر اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہی وہ مشہور شاعر ہے جس کو دنیا عمرو بن کلثوم کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ ادب کے ناقدین اس قصہ کو من گھڑت ان کے نزدیک یہ قصہ عمرو بن کلثوم کی شہرت کے بعد فرضی طور پر بنا لیا گیا ہے۔ مگر اسی قسم کے، اس سے زیادہ من گھڑت قصے ”بزرگوں“ کے بارے میں تصنیف کر لئے گئے ہیں اور ان کو لوگ اس طرح پڑھتے اور سنتے ہیں جیسے وہ وحی آسمانی ہو۔ جس چیز کے ساتھ تقدس کا عنصر شامل ہو جائے وہ ہر جانچ سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ بالکل بے اصل کہانیوں کو لوگ اس طرح ماننے لگتے ہیں جیسے وہ کوئی حقیقی تاریخ ہو۔ شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲ - ۱۱۹۳) کی عمر کا بیشتر حصہ بے سروسامان درویشوں کی طرح سفر میں گزرا۔ ایک مرتبہ دمشق میں تھے، وہاں کے لوگوں سے کسی بات پر ناراضگی ہوئی تو فلسطین کے بیابان میں چلے گئے۔ یہ صلیبی جنگوں کا زمانہ تھا۔ عیسائیوں نے ان کو پکڑ لیا اور طرابلس الشرق (لبنان) کے علاقہ میں خندق کھودنے کے کام پر دوسرے قیدیوں کے ساتھ لگادیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اس مشقت کو برداشت کرتے رہے۔ مدت کے بعد حلب کا ایک معزز آدمی اس طرف سے گزرا، وہ شیخ سعدی کو جانتا تھا، انہیں اس حال میں دیکھ کر اس کو بہت افسوس ہوا۔ دس دینار دے کر شیخ کو قید فرنگ سے چھڑایا اور اپنے ساتھ حلب لے گیا۔ عزّت کے ساتھ اپنے گھر رکھا اور مزید عنایت یہ کی کہ اپنی ناکتخدا بیٹی سے ان کا نکاح ایک سو دینار مہر موجل پر کر دیا۔ مگر بیوی سخت بد مزاج اور تیز زبان اس نے شیخ کو بے حد پریشان کر دیا۔ روز طعنہ دیتے ہوئے کہا: "تم وہی ہو جس کو میرے باپ نے دس دینار میں خریدا تھا! " شیخ سعدی نے فوراً جواب دیا :

"ہاں میں وہی ہوں جس کو آپ کے باپ نے دس دینار میں خریدا اور سو دینار میں آپ کے ہاتھ

تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔ لندن کی خواتین ہر وقت بس استعمال کا فرق ڈاکٹر پرمود ک دلی سے امراض نسواں (Gynaecology) میں خصوصی ڈگری لی اور اس کے بعد لندن (آکسفورڈ اسٹریٹ) میں اپنا مطب کھولا۔ روز ایک انگریز خاتون تیزی سے ان کے مطب میں داخل "ڈاکٹر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنی بات کو کس طرح بیان کروں۔ " اس نے کہا اور پھر ایک وقفہ کے بعد بولی: I think I have a touch of the sun ڈاکٹر کمار نے اس جملہ کا مطلب یہ سمجھا کہ خاتون غالباً کسی کھلے مقام پرگئی تھیں اور وہاں ان کو تیز دھوپ لگ گئی ہے۔ " آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں" ڈاکٹر نے مریضہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا " آپ ٹھنڈے مشروبات، خاص طور پر لیموں برف کے ساتھ لیجئے اور آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی"، اگر جلد پر کچھ اثر محسوس ہو تو زیتون کا تیل یا کریم مل لیجئے! خاتون پریشان چہرہ پر مزید حیرانی کے اثرات لئے ہوئے باہر نکل گئی اور ڈاکٹر کمار یہ سوچنے لگے " انگریز خواتین آخر اتنی معمولی معمولی باتوں کے لئے کیوں ڈاکٹر کے پاس آتی ہیں"

شام کو وہ اپنی قیام گاہ پہنچے۔ وہاں مسز گلوریا، ان کی انگریز بیوی نے ان کا استقبال کیا۔ کھانے کی میز پر اکٹھا ہوئے تو انگریز خاتون نے دوبارہ وہی جملہ کہا جس کو وہ اپنے مطب میں ابھی سن آئے تھے : Darling, I think I have a touch of the sun ڈاکٹر کمار نے حیرانی کے ساتھ کہا "د نہیں نہیں۔ سورج کی ہی بات کرتی ہیں۔ دیر تک الفاظ کے تبادلہ کے بعد گلوریا نے محسوس کیا کہ اس کا ہندوستانی شوہر اصل بات کو سمجھ نہیں رہا ہے، اس نے ہنستے ہوئے کہا "میرا مطلب یہ ہے کہ ہم جلد ہی تین ہونے والے ہیں "۔ انگریزی زبان میں ایک عورت اپنے حاملہ ہونے کو درجنوں طریقے سے بتا سکتی ہے۔ مذکورہ بالا جملہ بھی اسی قسم کا ایک استعاراتی انداز ہے۔ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ" مجھے سورج چھو گیا ہے۔

Printed page