Al-Risala · January 1982

چند واقعات

Al-Risala, January 1982, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نہایت خوبصورت اور وجیہہ شخص تھا۔ ایک روز اس نے سبز جوڑا پہنا اور سبز عمامہ باندھا۔ پھر اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھ کر بولا "میں ایک جوان بادشاہ ہوں" اتنے میں اس کی ایک کنیز اس کی طرف دیکھنے لگی۔ سلیمان نے پوچھا تو کیا دیکھ اس نے جواب میں یہ اشعار پڑھے:

انت نعم المتاع لو كنت تبقی غيران لا بقاء للانسان لیس فيما علمته فيك عيب كان فى الناس غير انك فان ترجمہ: تو بہترین سرمایہ ہے، کاش تجھے بقانصیب ہوتی، مگر انسان کے لئے بقا نہیں جہاں تک مجھے علم ہے، تجھ میں کوئی عیب نہیں جو لوگوں میں پایا جاتا ہو، بجز اس کے کہ تو فانی ہے۔ اس واقعہ پر ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ سلیمان کا انتقال ہو گیا۔ یہ واقعہ ۱۰ صفر ۹۹ھ کا ہے۔ نے تقریباً پونے تین سال حکومت کی اور ۴۵ سال کی

۲- مصر کے فرعون (Tutankhamen) کا مقبرہ ۱۹۲۳ء میں کھولا گیا۔ مصری علوم کے ماہر لارڈ کارنارون (Carnarvon) مقبرہ کے اندر داخل ہوئے تو فوراً بیمار پڑ گئے اور چند ہفتے کے اندر مر گئے۔ کچھ دنوں بعد آر تھر میں (Arthur Mace) اور جارج بینیڈائٹ (George Benedite). مقبرہ میں گئے، وہ دونوں بھی چند دنوں بعد اچانک مر گئے۔ جب عوام میں مشہور ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ لوگ فرعون کی لعنت سے ہلاک ہوئے۔ بعد کو ڈاکٹر جارج ڈین نے مقبرہ میں تین مہینے تک کام کیا۔ انہوں نے تحقیق کر کے بتایا کہ ہزاروں برس سے ابابیلیں اس مقبرہ کو اپنا گھونسلا بنائے ہوئے تھیں ۔ ان کے بیٹ کی بدبو سے مقبرہ بھر گیا تھا۔ مذکورہ افراد اس سخت بدبو میں سانس لینے کی وجہ سے ہلاک ہوئے)

۳- کرنل اسٹافن برگ (Stauffenberg)

نے ہٹلر کے خلاف نہایت کامیاب منصوبہ بنایا تھا۔ ۱۹۴۴ء میں اس نے ایک بریف کیس میں ایک ٹائم بم رکھ کر ہٹلر کے کیمپ ہیڈ کوارٹر میں پہنچا دیا۔ اگر بروقت یہ بم پھٹ گیا ہوتا تو برلن میں مقیم تھوڑے سے جرمن فوجی افسر ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر لیتے اور نازی لیڈر کے خاتمہ کا اس قسم کے واقعات بزرگی کا ثبوت نہیں سکھ دیوپر شاد بسمل الہ آبادی (۱۹۶۵- ۱۸۹۳) اردو کے شاعر تھے۔ ۲۳ نومبر کو انھوں نے ایک غزل لکھی جس کا شعر تھا :

بسمل آیا ہے اکیلا بسمل جائے گا اکیلا اگلے روز ۲۴ نومبر ۱۹۶۵ کو ان کا انتقال ہو گیا ۔

اعلان کر کے جرمنی کی حکومت پر قبضہ کر لیتے ۔ مگر ٹائم بم اس وقت پھٹا جب کہ شڈلر کیمپ سے باہر آ چکا تھا ۔ -۱۹۴۷ء میں کشمیر کے وزیر اعظم مسٹر مہر چند مہاجن تھے ۔ انھوں نے اپنی کتاب " لوکنگ بیک " (Looking Back) میں الحاق کی کہانی بتاتے ہوئے لکھا ہے : پاکستان کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر کو اور مجھ کو اغوا کر لیا جائے اور سنگین کی نوک پر ہم سے الحاق کی منظوری پر دستخط کرا لئے جائیں۔ ہم نے بھیم بر کے ڈاک بنگلہ میں دن کا کھانا کھایا اور ۱۰ بجے رات کو جموں پہنچے۔ اس کے بعد جیسا کہ طے تھا، ۲۱ اکتوبر کو بھیم بر کا ڈاک بنگلہ گھیر لیا گیا۔ ہم اس سازش کا شکار ہو جاتے، اگر ہم نے اصل پروگرام کے مطابق سفر کیا ہوتا۔ مہاراجہ کی پیش اندیشی نے ہم کو پاکستان کے قبضہ میں جانے سے بچا لیا۔ چین کے سابق وزیراعظم مسٹر چو این لائی احقاق کے مسودہ پر کبریٰ دستخط کرائے جائیں۔ یہ تھا کہ ہم کو بھیم بر کے ڈاک بنگلہ میں اس وقت گرفتار کرلیا جائے جب کہ ہم وہاں پہنچ کھار ہے ہوں۔ (۱۹۲۴-۱۸۹۸ء) کے آبی وں کے آخری چند دن پہلے شمالی ویت نام کے ایک کمیونسٹ لیڈر سے اسپتال میں ملاقات کی تھی۔ دونوں کمیونزم کے بعض فکری پہلوؤں بالکل پاکستان کی سرحد پر ہے اور کشمیر کو جانے والی مشہور مغل روڈ پر واقع ہے۔ اس روڈ کے ایک طرف کشمیر ہے اور دوسری طرف پاکستان۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہم ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۴ء کو کٹھوعہ کا دورہ کریں گے اور ۲۱کو بھیم بر اور میرپور کی طرف جائیں گے۔ پاکستان کے لوگوں نے ایک ہتھیار بند موٹر تیار کر رکھی تھی جو ۲۱ کو ہماری گرفتاری کے لئے پھینبہ پر پہنچنے والی تھی۔ مگر واقعات کی ایک پر بحث کرتے رہے۔ جب دمیٹ نامی لیڈر جانے لگا تو چاؤ نے ہنس کر کہا: "اب میں اس مسئلہ کو خود کارل مارکس سے سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ کیونکہ چند ہی دن میں میں اس کے پاس جانے والا ہوں" اور فی الواقع اس کے چند دن بعد ۶ جنوری کی شام کو ان کا انتقال ہو گیا۔ چنگیز خاں کے پوتے قبلائی خاں (۱۲۹۴-۱۲۱۶) نے ۱۲۸۱ء میں جاپان پر حملہ کیا۔ اس نے ایک عظیم جنگی بیڑہ غیر متوقع کروٹ نے ہم کو بچا لیا۔ ۲۰ اکتوبر کی صبح کو جب ہم کٹھوعہ کے لئے روانہ ہوئے اور ایک چورستہ پر پہنچے ، جہاں سے ایک سڑک کٹھوعہ کی طرف اور دوسری اکھنور اور بھیم بر کی طرف جاتی تھی، مہاراجہ نے اچانک جیپ ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ کٹھوعہ کے بجائے گاڑی کو بھیم بر کی طرف میں نے عرض کیا ، کٹھوعہ میں سرکاری افسران اور عوام ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے اور بھیم بر کے لئے ہم نے کوئی پرو گرام نہیں بھیجا ہے اور اس وقت وہاں کوئی انتظام نہیں ہوگا۔ مہاراجہ نے میری گزارش کو نظر انداز کر دیا اور کہا کہ وہ کسی پرو گرام کے پابند نہیں ہیں۔ اس لئے ہم اکھنور اور بھیم بر کی طرف روانہ ہوئے اور مہور نہ پہنچ سکے۔ تیار کر کے ان جزائر کو فتح کرنے کے لئے روانہ کیا۔ وقت جاپان ایشیا کے ایک کمزور ملک کی حیثیت رکھتا قبلائی خاں جیسے فاتح کی فوج سے مقابلہ کرنے کی طاقت ان میں بالکل نہیں تھی، تاہم ان کو اپنے خداوند (آفتاب) پر بھروسہ تھا جس کی وہ اپنے کو اولاد کہتے ہیں۔ جیسے ہی خطرہ کا احساس ہوا، ان کا مذہبی پیشوا اٹھا اور لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ سب لوگ دعائیں مانگھ انھوں نے رات دن اپنے دشمن کے مقابلہ میں اپنے خدا کو پکارنا شروع کیا۔ ابھی قبلائی خاں کی فوج جاپان کے ساحل پر اتری بھی نہ تھی کہ زبردست سمندری طوفان آیا اور تمام بحری بیڑہ سمندر کی ہولناک لہروں میں غرق ہو گیا۔

Printed page