حقائق غالب آئے
Al-Risala, January 1982, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کے لیڈروں کا خیال تھا کہ برصغیر کے مغرب میں جب وہ مسلم حکومت قائم کرلیں گے تو پورامغربی ایشیا اور خلیج فارس اور بحر احمر کے گرد واقع تمام ممالک جواٹھیں کی طرح مذہباً مسلمان ہیں، ان کے ساتھ ہوں گے اور وہ لقیہ بھارت کے مقابلہ میں چھوٹے ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں سے مل کر بہت بڑی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ صدرایوب کے زمانہ اقتدار (1958 - 1969)
میں یہ امید کسی درجہ میں پوری بھی ہوئی ۔ مگر بہت جلد زندگی کے حقائق غالب آگئے ۔ مغربی ایشیا کے مسلم ممالک کے یہاں پٹرول کا خزانہ برآمد ہوا۔ اب انہیں ضرورت ہوئی کہ اس دولت کے ذریعہ اپنے ملکوں میں ترقیاتی اسکیمیں چلائیں ، ان کے پاس روپیہ بافراط تھا، مگر فنی واقفیت (Technical Know How) کی اسی قدر کمی تھی ۔ یہ دوسری چیز انہیں پاکستان نہیں دے سکتا تھا۔ قو میں ہی دوسری تمام قوموں کے لئے خبر حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں ۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ 90 ملکوں میں قومی نیوز ایجنسیاں ہیں مگر یہ ممالک بھی اپنی ملکی خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچانے کے لئے پانچ عالمی نیوز ایجنسیوں کے محتاج ہیں۔ یہ چار عالمی نیوز ایجنسیاں کسی ملک کی جن خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچاتی ہیں، وہ عام طور پر اس قوم کے برے پہلو اور ان کی غیر نمائندہ خصوصیات ہی ہوتی ہیں ۔ گویا پانچ نیوز ایجنسیاں تمام اخباری دنیا کی شہنشاہ ہیں۔