Roy Thomson of Fleet Street
Al-Risala, January 1982, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
سوانح نگار لکھتا ہے کہ ٹامسن کی واحد کمزوری یہ تھی کہ وہ ’’لارڈ‘‘ بننے کا بہت زیادہ حریص تھا۔ دیکھا کہ اپنے ملک کناڈا میں اس کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکے گی کیونکہ کناڈا نے لارڈ کا خطاب دینے کے برطانوی طریقے کو ختم کر دیا تھا۔ چنانچہ ٹامسن نے برطانوی شہریت اختیار کر لی۔
اسے یقین تھا کہ برطانیہ آنے کے بعد وہ ضرور لارڈ بننے کا خواب پورا کر سکے گا۔ مگر یہاں بھی ایک تیار نہ ہوا تو انھوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی بلکہ یہ کہہ کر معاملہ کو ختم کر دیا: What you say is your own province یعنی یہ تمھارے اپنے دائرہ کار کا معاملہ ہے تم کو اختیارت ہے کہ جو کچھ لکھنا چاہتے ہو لکھو۔
برطانوی شہریت اختیار کرنے کے باوجود ٹا مسن کے لیے اب بظاہر لارڈ بننے کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ ان کا اخبار برابر برطانوی وزیر اعظم پر تنقیدی مضامین شائع کر رہا تھا۔ مگر سر الیک ڈوگلاس ہوم نے بھی عالی ظرفی سے کام لیا۔ صاحب اقتدار ہوتے ہوئے بھی انھوں نے اپنے دل میں ٹامسن کے خلاف کوئی انتقامی جذبہ پیدا ہونے نہیں دیا اور ان کے لئے لارڈ کے اعزاز کی منظوری
یہی عالی ظرفی ہے جو افراد اور قوموں کو ترقی کے اعلیٰ مقام کی طرف لے جاتی ہے۔