Next time I'll do it differently
Al-Risala, February 1982, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
جب آپ ایسا کریں گے تو آپ گزرے ہوئے معاملے کو بھول جائیں گے۔ آپ کی توجہ جو اس سے پہلے ماضی کی بے فائدہ یاد میں لگی ہوئی تھی ، وہ مستقبل کے متعلق غور و فکر اور منصوبہ بندی میں لگ جائے گی ( ریڈر ز ڈائجسٹ ستمبر ۱۹۸۱ )
اس کا نقد فائدہ یہ حاصل ہو گا کہ آپ افسوس اور کڑھن میں اپنی قوتیں ضائع کرنے سے بچ جو چیز اس سے پہلے آپ کے لئے صرف تلخ یاد بنی ہوئی تھی ، وہ آپ کے لئے ایک قیمتی تجربہ کی حیثیت اختیار کرلے گی ، ایک ایسا تجربہ جس میں مستقبل کے لئے سبق ہے ، جس میں آئندہ کے لئے نئی
افسوس یا غم بیشتر حالات میں یا ماضی کے لئے ہوتے ہیں یا مستقبل کے لئے۔ آدمی یا تو کسی گزرے ہوئے نقصان کا افسوس کرتا رہتا ہے یا ایسے واقعہ کا غم جس کے متعلق اسے اندیشہ ہو کہ وہ آئندہ پیش آئے گا۔ مگر یہ دونوں ہی غیر ضروری ہیں۔ جو نقصان ہو چکا وہ ہو چکا۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ پھر اس کا غم کرنے سے کیا فائدہ ۔ اور جس واقعہ کا اندیشہ ہے وہ بہر حال ایک امکانی چیز ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جس خطرہ کا اندیشہ کرے وہ عین اس کے اندیشہ کے مطابق