Al-Risala · February 1982

اپنا احتساب

Al-Risala, February 1982, pp. 18–30

By Maulana Wahiduddin Khan

کھیت میں جب فصل بوئی جاتی ہے تو فصل کے ساتھ طرح طرح کے گھاس پھوس بھی اگتے ہیں۔ کے ہر پودے کے ساتھ ایک خود رو گھاس بھی نکلتی ہے اور سرسوں کے ہر درخت کے ساتھ ایک نکما پودا بھی بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ یہ اپنے آپ نکلنے والے گھاس پھوس فصل کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں، وہ کھیت کے پانی اور کھاد میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ وہ اصلی فصل کو بھر پور طور پر بڑھنے نہیں دیتے۔ کسان اگر ان خود رو پودوں کو بڑھنے کے لئے چھوڑ دے تو وہ ساری فصل کو خراب کر دیں۔ کھیت میں دانہ ڈال کر کسان نے جو امیدیں قائم کی ہیں وہ بھی پوری نہ ہوں۔ اس لئے کسان یہ کرتا ہے کہ وہ کھیت میں نلائی (Weeding) کا عمل کرتا ہے۔ وہ ایک ایک خود رو پودے کو نکالتا ہے تا کہ کھیت کو ان سے صاف کر دے اور فصل کو بڑھنے کا پورا موقع ملے۔ ہر کسان جانتا ہے کہ کھیت میں دانہ ڈالنا ہی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فصل کے ساتھ اگنے والی دوسری گھاسوں کو چن چن کر نکال دیا جائے، ورنہ کھیت سے مطلوبہ فصل حاصل نہیں ہو سکتی۔

یہ نلائی کا عمل جو کھیت میں کیا جاتا ہے یہی انسانی زندگی میں بھی مطلوب ہے اور اس کا شرعی نام انسان کا معاملہ بھی یہی ہے کہ اس کو جب کوئی خوبی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ ایک نکمی گھاس" بھی اس کے اندر سے اگنا شروع ہوتی ہے۔ اس نکمی گھاس کو جاننا اور اس کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کا انجام وہی ہو گا جو بغیر نلائی کئے ہوئے کھیت کا۔ کسی کو اسباب و وسائل ہاتھ آ جائیں تو اس کے اندر بے جا خود اعتمادی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ مل جائے تو گھمنڈ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح دولت کے ساتھ بخل، علم کے ساتھ فخر، مقبولیت کے ساتھ ریا اور سماجی عزت کے ساتھ نمائش کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ تمام چیزیں گویا خود رو گھاس ہیں جو کسی آدمی کی خوبیوں کو کھا جانے والی ہیں۔ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اس اعتبار سے اپنا نگراں بن جائے اور جب کبھی اپنے اندر کوئی "نکمی گھاس" اگتے ہوئے دیکھے تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دے۔ جو شخص اپنے اوپر محاسبہ کا عمل نہ کرے گا وہ یقینی طور پر اس دنیا میں برباد ہو جائے گا۔ وہ ایسا کھیت ہوگا جس کی فصل تباہ ہو گئی، وہ ایسا باغ ہوگا جس کی ساری بہار خزاں میں تبدیل ہو گئی۔

اور ان میں وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنہ میں نہ ڈالئے۔ سن لو، وہ تو فتنہ میں پڑچکے۔ اور بے شک جہنم منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اگر تمہیں کوئی اچھائی پیش آتی ہے تو ان کو دکھ ہوتا ہے اور اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور وہ خوش ہو کر لوٹتے ہیں۔ کہو، ہمیں صرف وہی چیز پہنچے گی جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ وہ ہمارا کارساز ہے اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ کہو تم ہمارے لئے صرف دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو۔ مگر ہم تمہارے حق میں اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تم پر عذاب بھیجے اہل طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ پس تم انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہیں ۵۲ - ۴۹ مدینہ میں ایک شخص جدبن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے لئے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ عملیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھئے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر ایسے مواقع پر عذر پیش کرنا بجائے خود فتنہ میں پڑنا ہے۔ کیونکہ نازک مواقع پر آدمی کے اندر دین کی خاطر فدا ہو جانے کا جذبہ بھڑکنا چاہئے نہ کہ عذرات تلاش کر کے پیچھے رہ جانے کا۔ پھر ایسے کسی عذر کو دینی اور اخلاقی رنگ دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیونکہ یہ بے علی پر فریب کاری کا اضافہ ہے۔

اس قسم کا مزاج حقیقۃ آدمی کے اندر اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز تر خطرات کے موقع پر ایسے لوگ دین کی راہ میں آگے بڑھنے سے رکے رہتے ہیں۔ پھر جب سچے حق پرستوں کو ان کی غیر مصلحت اندیشانہ دینداری کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا کہ ہم نے اپنے لئے حفاظتی پہلو اختیار کر لیا تھا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ سچے حق پرست خطرات کا مقابلہ کریں اور اس میں انہیں کامیابی ہو تو ان لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایسا کوئی واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔

سچے اہل ایمان کے لئے اس دنیا میں ناکامی کا سوال نہیں۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ خدا ان سے راضی ہو اور یہ ہر حال میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ مومن پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے دل کی انابت کو بڑھاتی ہے۔ اگر اس کو کوئی سکھ ملتا ہے تو اس کے اندر احسان مندی کا جذبہ ابھرتا ہے اور وہ شکر کر کے خدا کی مزید عنایتوں کا مستحق بنتا ہے۔

تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں، بظاہر مومنین کا کلمہ ہے۔ مگر حقیقہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ ان لوگوں سے تہدیدی انداز میں کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اپنی حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالانکہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انہیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمہارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمہارے جرم کو آخری حد تک ثابت کر کے تم کو دائمی طور پر رسوائی اور عذاب کے حوالے کر دیا جائے۔

کہو تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم نافرمان لوگ ہو۔ او وہ اپنے خرچ کی قبولیت سے صرف اس لئے محروم ہوئے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور یہ لوگ نماز کے لئے آتے ہیں تو گرانی کے ساتھ آتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے ساتھ۔ تم ان کے مال اور اولاد کو کچھ وقت نہ دو۔ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے انھیں دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالاں کہ وہ تم میں سے نہیں۔ بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے ڈرتے ہیں۔ اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پائیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ تو وہ بھاگ کر اس میں چھپیں مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طور پر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہلِ ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو حقیقی ایمان اور سچے تعلق باللہ کا تقاضا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں کو منافقین کہا جاتا ہے۔ یہ منافقین زیادہ تر مدینہ کے مال دار لوگ تھے اور یہی مال داری ان کے نفاق کا اصل سبب تھی۔ جس کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ ہو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ اس اسلام کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس میں اپنا سب کچھ کھو دینا پڑے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کھونے کے لئے ہو وہ عام طور پر مصلحت اندیشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسلام کے بے ضرر احکام کی تعمیل تو وہ کسی نہ کسی طرح کر لیتے ہیں۔ مگر اسلام کے جن تقاضوں کو اختیار کرنے میں جان و مال کی محرومی دکھائی دے رہی ہو، جس میں قربانی کی سطح پر مومن بننے کا سوال ہو ان کی طرف بڑھنے کے لئے وہ اپنے کو آمادہ نہیں کر پاتے۔

مگر قربانی والے اسلام سے پیچھے رہنا ان کے "نماز روزہ" کو بھی بے قیمت کر دیتا ہے۔ مسجد کی عبادت کا بہت گہرا تعلق مسجد کے باہر کی عبادت سے ہے۔ اگر مسجد سے باہر آدمی کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہو تو مسجد کے اندر بھی اس کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہوگی اور ظاہر ہے روح عمل کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ خدا سچے عمل کو قبول کرتا ہے نہ کہ جھوٹے عمل کو۔

کسی آدمی کے پاس دولت کی رونقیں ہوں اور آدمیوں کا جتھا اس کے گرد و پیش دکھائی دیتا ہو تو عام لوگ اس کو رشک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ بدقسمت لوگ ہیں۔ عام طور پر ان کا جو حال ہوتا ہے وہ یہ کہ مال و جاہ ان کے لئے ایسے بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی طرف بھر پور طور پر نہ بڑھ سکیں، وہ خدا کو بھول کر ان میں مشغول رہیں یہاں تک کہ موت آجائے اور بے رحمی کے ساتھ ان کو ان کے مال ور جاہ سے جدا کر دے۔

اور ان میں ایسے بھی ہیں جو تم پر صدقات کے بارے میں عیب لگاتے ہیں۔ اگر اس میں سے انہیں دے دیا جائے تو راضی رہتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے فضل سے ہم کو اور بھی دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم کو تو اللہ ہی چاہئے۔ صدقات (زکوٰة) تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان کارکنوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مقرر ہیں۔ اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہے۔ نیز گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تا وان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور مسافر کی امداد میں۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ یہاں زکوٰة کے مصارف بتائے گئے ہیں۔ یہ مصارف قرآن کی تصریح کے مطابق آٹھ ہیں :

فقراء جن کے پاس کچھ نہ ہو مساکین جن کو بقدر حاجت میسر نہ ہو عاملین جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات کی وصولی اور اس کے حساب کتاب پر مامور ہوں مولفۃ القلوب جن کو اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو یا جو اسلام میں کمزور ہوں رقاب غلاموں کو آزادی دلانے کے لئے یا اسیروں کا فدیہ دے کر انہیں رہا کرنے کے لئے غارمین جو مقروض ہو گئے ہوں یا جن کے اوپر ضمانت کا بار ہو سبیل اللہ دعوت دین اور جہاد فی سبیل اللہ کی مدد میں ابن السبیل مسافر جو حالت سفر میں ضرورت مند ہو جائے خواہ اپنے مکان پر مستغنی ہو اجتماعی نظم کے تحت جب زکوٰة و صدقات کی تقسیم کی جائے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو حق تلفی یا غیر منصفانہ تقسیم کی شکایت ہو جاتی ہے۔ مگر ایسی شکایت اکثر خود شکایت کرنے والے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ تقسیم کا ذمہ دار خواہ کتنا ہی پاکباز ہو، لوگوں کی حرص اور ان کا محدود طرز فکر بہر حال اس قسم کی شکایتیں نکال لے گا۔ مزید یہ کہ اس قسم کی شکایت سب سے زیادہ آدمی کے اپنے خلاف پڑتی ہے، وہ آدمی کے فکری امکانات کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ آدمی اگر شکایتی مزاج کو چھوڑ کر ایسا کرلے کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اس پر وہ راضی ہو جائے اور اپنی سوچ کا رخ اللہ کی طرف کرے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ اس کے اندر نئی ہمت پیدا ہوگی۔ کے اندر چھپی ہوئی ایجابی صلاحیتیں جاگ اٹھیں گی۔ وہ ملی ہوئی رقم کو زیادہ کار آمد مصرف میں لگائے گا ۔ انحصار کرنے کے بجائے اس کے اندر اپنے آپ پر اعتماد کرنے کا ذہن ابھرے گا ۔ وہ خدا کے بھروسہ پر نئے اقتصادی مواقع کی تلاش کرنے لگے گا۔ دوسروں سے بیزاری کے بجائے دوسروں کو ساتھی بنا کر کام کرنے کا جذبہ اس کے اندر پیدا ہوگا، وغیرہ۔

اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے۔ کہو کہ وہ تمہاری بھلائی کے لئے کان وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور وہ رحمت ہے ان کے لئے جو تم میں اہل ایمان ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ و ہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کریں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اس کو راضی کریں اگر وہ مومن ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ بڑی رسوائی ہے مدینہ کے منافقین اپنی نجی مجلسوں میں اسلامی شخصیتوں کا مذاق اڑاتے۔ مگر جب وہ مسلمانوں کے سامنے آتے تو قسم کھا کر یقین دلاتے کہ وہ اسلام کے وفادار ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان مدینہ میں طاقت ور تھے۔ کو نقصان پہنچانے کی حیثیت میں تھے۔ اس لئے منافقین مسلمانوں سے ڈرتے تھے۔

اس سے منافق کے کردار کا اصل پہلو سامنے آتا ہے۔ منافق کی دینداری انسان کے ڈر سے ہوتی ہے نہ کہ خدا کے ڈر سے۔ وہ ایسے مواقع پر اخلاق و انصاف والا بن جاتا ہے جہاں انسان کا دباؤہو یا عوام کی طرف سے اندیشہ لاحق مگر جہاں اس قسم کا خطرہ نہ ہو اور صرف خدا کا ڈر ہی وہ چیز ہو جو آدمی کی زبان کو بند کرے اور اس کے ہاتھ پاؤں کو روکے تو وہاں وہ بالکل دوسرا انسان ہوتا ہے۔ اب وہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس کو نہ با اخلاق بننے سے کوئی دل چسپی ہو اور نہ انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت۔

جو لوگ مصلحتوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور اس بنا پر تحفظات سے اوپر اٹھ کر خدا کے دین کا ساتھ نہیں دے۔ پاتے وہ عام طور پر معاشرہ کے صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں۔ اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے لئے وہ ان لوگوں کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے اسلام کو لے کر اٹھے ہیں۔ وہ ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم ان کو طرح طرح سے بدنام کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں بے بنیاد قسم کے اعتراضات

ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ بے حد سنگین بات ہے۔ یہ اہل ایمان کی مخالفت نہیں بلکہ خود خدا کی یہ خدا کا حریف بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنی معصومیت ثابت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرتے اور کم از کم دل سے اسلام کے داعیوں کے خیر خواہ ہوتے تو شاید وہ قابل معافی ٹھہرتے۔ مگر ضد اور مخالفت کا طریقہ اختیار کر کے انھوں نے اپنے کو خدا کے دشمنوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اب رسوائی اور عذاب کے سوا ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔

اللہ کا ڈر آدمی کے دل کو نرم کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں کو بھی خاموشی کے ساتھ سن لیتا ہے، یہاں تک کہ نادان لوگ کہنے لگیں کہ یہ تو سادہ لوح ہیں، باتوں کی گہرائی کو سمجھتے ہی نہیں۔

منافقین ڈرتے ہمیں کہ کہیں مسلمانوں پر ایسی سورہ نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کہو کہ تم مذاق اڑالو، اللہ یقیناً اس کو ظاہر کر دے گا جس سے تم ڈرتے ہو۔ اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ کہیں گے کہ ہم تو ہنسی اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو، کیا تم اللہ سے اور اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی دل لگی کر رہے بہانے مت بناؤ، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو تو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں (۴۴-۶۴ غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں یہ فضا تھی کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ ارباب عزیمت شمار ہو رہے تھے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے وہ منافق اور پست ہمت سمجھے جاتے تھے۔ والے منافقین نے رسول اور اصحاب رسول کے عمل کو کم تر ظاہر کرنے کے لئے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا:کسی نے کہا : یہ قرآن پڑھنے والے ہیں تو اس کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتے کہ وہ ہم میں سب سے زیادہ بھوکے ہیں، ہم میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ بزدل ہیں (ما رای قرء ارنا هؤلاء الا ارغبنا بطونا و اکذبنا السنة واجبننا عند اللقاء) کسی نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ رومیوں سے لڑنا بھی ویساہی ہے جیسا عربوں کا آپس میں لڑنا۔ خدا کی قسم کل یہ سب لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے نظر آئیں گے (اتحسبون جلاد بنی الاصفر كقتال العرب بعضهم بعضا والله لكانا بكم غد اًمقرنین في الحبال) کسی نے کہا: یہ صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ روم کے محل اور ان کے قلعے فتح کرنے جا رہے ہیں، ان کی حالت پر افسوس ہے (ليظنن هذا ان يفتح قصور الروم وحصونها، هيهات هيهات، تفسیر ابن کثیر)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا۔ وہ کہنے لگے: ہم تو صرف ہنسی کھیل کی باتیں کر رہے تھے (انما كنا نخوض ونلعب) اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اللہ اور اس کے احکام اور اس کے رسول کے معاملہ میں تم ہنسی کھیل کر رہے تھے۔

اللہ اور رسول کی بات ہمیشہ کسی آدمی کی زبان سے بلند ہوتی ہے۔ یہ آدمی اگر دیکھنے والوں کی نظر میں بظاہر معمولی ہو تو وہ اس کا استہز ا ءکرنے لگتے ہیں۔ مگر یہ استہزاء اس آدمی کا نہیں ہے خود خدا کا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں، ان کی جھوٹی تاویلیں ان کی حقیقت کو چھپانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

نفاق اور ارتداد دونوں ایک ہی حقیقت کی دو صورتیں ہیں۔ آدمی اگر اسلام اختیار کرنے کے بعد کھلم کھلا منکر ہو جائے تو یہ ارتداد ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ ذہن اور قلب کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور ہو مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرے تو یہ نفاق ہے، ایسے منافقین کا انجام خدا کے یہاں وہی ہے جو مرتدین کا ہے، الآیۃ کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی غلطیوں کا اقرار کر کے اپنی اصلاح کر لیں۔

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔ وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرنے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بے شک منافقین بہت نافرمان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے جہنم کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ان کے لئے بس ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہے۔ جس طرح تم سے اگلے لوگ، وہ تم سے زور میں زیادہ تھے اور مال واولاد کی کثرت میں تم سے بڑھے ہوئے تھے تو انھوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا، جیسا کہ تمھارے اگلوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نے بھی وہی بحثیں کیں جیسی بحثیں انھوں نے کی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو گئے اور یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔ کیا انھیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ــــــــ قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اصحاب مدین اور الٹی ہوئی بستیوں کی۔ ان کے پاس ان کے رسول دلیلوں کے ساتھ تو ایسا نہ تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ۔ ۷۰ - ۶۷۔ پہلے لوگوں کو خدا نے جاہ و مال دیا تو انھوں نے اس سے فخر اور گھمنڈ اور بے حسی کی غذالی۔ تاہم بعد والوں نے ان کے انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انھوں نے بھی دنیا کے ساز و سامان سے اپنے لئے وہی حصہ پسند کیا جس کو ان کے پچھلوں نے پسند کیا تھا۔ یہی ہر دور میں عام آدمی کا حال رہا ہے۔ وہ حق کے تقاضوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مال و اولاد کے تقاضے ہی اس کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہوتے ہیں۔

منافق کا حال بھی باعتبارِ حقیقت یہی ہوتا ہے۔ وہ ظاہری طور پر تو مسلمانوں جیسا نظر آتا ہے۔ مگر اس کے جینے کی سطح وہی ہوتی ہے جو عام دنیا داروں کی سطح ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض نمائشی اعمال کو چھوڑ کر حقیقی زندگی میں وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسے عام دنیا دار ہوتے ہیں۔ منافق کی قلبی دلچسپیاں دیندار کے مقابلہ میں دنیا داروں سے زیادہ وابستہ ہوتی ہیں۔ آخرت کی مد میں خرچ کرتے سے اس کا دل تنگ ہوتا ہے مگر بے فائدہ دنیوی مشغولوں میں خرچ کرنا ہو تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتا ہے۔ حق کا فروغ اس کو پسند نہیں آتا البتہ ناحق کا فروغ ہو تو اس کو وہ شوق سے گوارا کرتا ہے۔ ظاہری دین داری کے باوجود وہ خدا اور آخرت کو اس طرح بھولا رہتا ہے جیسے اس کے نزدیک خدا اور آخرت کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ایسے لوگ اپنے ظاہری اسلام کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ دنیا میں ان کے لئے لعنت ہے اور آخرت میں ان کے لئے عذاب۔ دنیا میں بھی وہ خدا کی رحمتوں سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی۔ خدا کے ساتھ کامل وابستگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے عمل میں قیمت پیدا کرتی ہے۔ کامل وابستگی کے بغیر جو عمل کیا جائے، خواہ وہ بظاہر دینی عمل کیوں نہ ہو، وہ آخرت میں اسی طرح بے قیمت قرار پائے گا جیسے روح کے بغیر کوئی جسم، جو جسم سے ظاہری مشابہت کے باوجود عملاً بے قیمت ہوتا ہے۔

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے باغوں کا کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ، ان میں وہ ہمیشہ ۔ اور وعدہ ہے ، ستھرے مکانوں کا ہمیشہ کے باغوں میں ، اور اللہ کی رضا مندی جو سب سے بڑھ کر ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے ۔

منافقانہ طور پر اسلام سے وابستہ رہنے والے لوگوں میں جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ہیں آخرت سے غفلت ، دنیوی ضرورتوں سے دل چسپی ، بھلائی کے ساتھ تعاون سے دوری اور نمائشی کاموں کی طرف رغبت۔ مشترک خصوصیات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے خوب ملے جلے رہتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کو مشترک دل چسپی کا موضوع گفتگو دیتی ہیں۔ اس سے انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا میدان حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان کے لئے باہمی تعلقات کا ذریعہ بنتا ہے۔

یہی معاملہ ایک اور شکل میں سچے اہلِ ایمان کا ہوتا ہے، ان کے دل میں خدا کی لگن لگی بوئی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی چیزوں سے بطورِ ضرورت تعلق رکھتے ہیں نہ کہ بطور مقصد۔ کی پسند کا کام ہو رہا ہو تو ان کا دل فوراً اس کی طرف کھنچ اٹھتا ہے۔ برائی کا کام ہو تو اس سے ان کی طبیعت ابا کرتی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا اثاثہ سب سے زیادہ خدا کے لئے ہوتا ہے نہ کہ اپنے لئے۔ وہ خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔

اہلِ ایمان کے یہ مشترک اوصاف انھیں ایک دوسرے سے قریب کر دیتے ہیں۔ سب کی دوڑ خدا کی طرف ہوتی ہے۔ سب کی اطاعت کا مرکز خدا کا رسول ہوتا ہے۔ جب وہ ملتے ہیں تو یہی وہ باہمی دلچسپی کی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ بات کریں۔ انھیں اوصاف کے ذریعہ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر ان کے آپس کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے انھیں وہ مقصد ہاتھ آتا ہے جس کے لئے وہ متحدہ کوشش کریں ۔ اسی سے ان کو وہ نشانہ ملتا ہے جس کی طرف سب مل کر آگے بڑھیں۔

دنیا میں اہلِ ایمان کی زندگی ان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل ہے۔ دنیا میں اہلِ ایمان اس طرح جیتے ہیں جیسے ایک باغ میں بہت سے شاداب درخت کھڑے ہوں۔ ہر ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کر رہا ہو۔ درختوں کو فیضان خدا وندی سے نکلنے والے آنسو سیراب کر رہے ہوں ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا اس طرح خیر خواہ اور ساتھی ہو کہ پورا ماحول امن و سکون کا گہوارہ بن جائے ۔ رہی ربانی زندگی آخرت میں جنتی زندگی میں تبدیل ہو جائے گی۔ وہاں آدمی نہ صرف اپنی ہوئی ہوئی فصل کاٹے گا بلکہ خدا کی خصوصی رحمت سے ایسے انعامات پائے گا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن جاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۔ وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے نہیں کہا۔ حالاں کہ انھوں نے کفر کی بات کہی اور وہ اسلام ءکے بعد کافر ہو گئے اور انھوں نے وہ چاہا جو انھیں حاصل نہ ہو سکی۔ اور یہ صرف اس کا بدلہ تھا کہ ان کو اللہ اور رسول نے اپنے فضل سے غنی کر دیا۔ اگر وہ توبہ کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اعراض کریں تو خدا ان کو درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور زمین میں ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ مددگار ۴ - ۷۴۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تقریباً منافقین مدینہ میں موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین سے جس جہاد کا حکم دیا گیا ہے وہ جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ ان منافقین کا خاتمہ کر دیتے ۔ اس سے مراد دراصل وہ جہاد ہے جو زبان اور برتی اور شدت احتساب کے ذریعہ کیا جاتا ہے (امر بالجهاد مع المنافقين باللسان وشدة الزجر والتغليظ، قرطبی عن ابن عباس) چنانچہ جمہور امت کے نزدیک منافقین کے مقابلہ میں جہاد بالسيف مشروع نہیں ہے منافقت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اس طرح اختیار کرے کہ وہ اس کو مفادات اور مصلحتوں کے تابع کئے ہوئے ہو۔ اس قسم کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کچھ خدا کے بندے غیر مصلحت پرستانہ انداز میں اسلام کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں تو ایسا اسلام انھیں اپنے اسلام کو بے وقعت ثابت کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ایسے داعیوں سے انھیں سخت نفرت ہو جاتی ہے۔ وہ ان کو اکھاڑنے کے درپے ہو جاتے ہیں جس اسلام کے نام پر وہ اپنی تجارتیں قائم کرتے ہیں اسی اسلام کے داعیوں کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ منافقین کی یہ دشمنی سازش اور استہزا کے انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر کسی وجہ سے سچے اسلام کے داعیوں کے بارے میں مخالفانہ جذبات ہیں تو وہ اس کو ابھارتے ہیں تاکہ وہ ان سے لڑ جائے۔ وہ مخلص اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے ان کی مستربانیاں بے حقیقت معلوم ہونے لگیں۔ وہ ان کی معمولی باتوں کو اس طرح بگاڑ کر پیش کرتے ہیں کہ عوام میں ان کی تصویر خراب ہو جائے۔ تبوک کے سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک پڑاؤ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی کچھ مسلمان اس کو تلاش کرنے کے لئے نکلے۔ یہ بات منافقوں کو معلوم ہوئی تو انھوں نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا: یہ صاحب ہم کو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں۔ مگر ان کو اپنی اونٹنی کی خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہے ۔ منافق مسلمان سچے اسلام کے داعیوں کو ناکام کرنے کے لئے شیطان کے آلہ کار بنتے ہیں۔ مگر سچے اسلام کے داعیوں کا مددگار ہمیشہ خدا ہوتا ہے۔ وہ منافقوں کی تمام سازشوں کے باوجود ان کو بچا لیتا ہے۔ اور منافقین کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا جرم ثابت کر کے اس کے مستحق بنتے ہیں کہ ان کو دنیا میں بھی عذاب دیا جائے اور آخرت میں بھی۔

اور ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اس نے ہم کو اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم صالح بن کر رہیں گے۔ پھر جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا تو وہ بخل کرنے لگے اور برگشتہ ہو کر منہ پس اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا اس دن تک کے لئے جب کہ وہ اس سے ملیں گے اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔ خبر نہیں کہ اللہ ان کے راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور اللہ تمام چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے۔ وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں ان مسلمانوں پر جو دل کھول کر صدقات دیتے ہیں اور جو صرف اپنی محنت مزدوری سے انفاق کرتے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ تم ان کے لئے معافی کی درخواست کر دیا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ انہیں معاف کرنے کی درخواست کرو گے تو اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کا انکار کیا اور اللہ نافرمانوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ ۸۰ - ۷ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لئے دعا کیجئے کہ خدا مجھے مال دیدے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کر سکو۔ مگر ثعلبہ نے باربار درخواست کی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا ثعلبہ کو مال دے دے۔ اس کے بعد ثعلبہ نے اس کی نسل اتنی بڑھی کہ مدینہ کی زمین ان کی بکریوں کے لئے تنگ ہو گئی۔ ثعلبہ نے مدینہ کے باہر ایک وادی میں رہنا شروع کیا۔ اب ثعلبہ کے اسلام میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ پہلے ان کی جماعت کی نماز چھوٹی۔ پھر جمعہ چھوٹ گیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ لینے کے لئے گیا تو ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور کہا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے (ماھٰذ ہ الا جزية، ما هذه الااخت الجزية) وہ شخص خدا کی نظر میں منافق ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ مال کے لئے خدا سے دعائیں کرے اور جب خدا اس کو مال والا بنا دے تو وہ اپنے مال میں خدا کا حق نکالنا بھول جائے۔ آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا تو وہ مال والوں کو برا کہتا ہے کہ یہ لوگ مال کو غلط کاموں میں برباد کرتے ہیں۔ اگر خدا مجھ کو مال دے تو میں اس کو خیر کے کاموں میں خرچ کروں۔ جب اس کے پاس مال آتا ہے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا اور کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ مال کو اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر تنہا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ خدا کا حق ادا کرنا اسے یاد نہیں رہتا۔

اس قسم کے لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ کسی نے زیادہ دیا تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خدا کو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انہیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں۔

رہ جانے والے اللہ کے رسول سے پیچھے بیٹھ رہنے پر بہت خوش ہوئے اور ان کو گراں گزرا کہ وہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اوں نے کہا کہ گرمی میں نہ نکلو۔ کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں سمجھ ہوتی۔ پس وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ، اس کے بدلے میں جووہ کرتے تھے۔ پس اگر اللہ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لائے اور وہ تم سے جہاد کے لئے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ کبھی نہیں چلو گے اور نہ میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑو گے ۔ تم نے پہلی بار بھی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا پس پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر تم کبھی نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے ۸۳ - ۸۱ غزوہ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ نے کہا کہ ایسی تیز گرمی میں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔ یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے آپ کو شدید تر خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دھوپ سے بھاگ کر آگ کے شعلوں کی پناہ لی جائے۔ جو لوگ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اور اپنے مال کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں وہ جب اپنی خوبصورت تدبیروں سے اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ مسلمان بھی بنے رہیں اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور ان کے مال کو کوئی خطرہ نہ لاحق نہ ہو تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کو عقل مند سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو بیوقوف کہتے ہیں جنہوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے کو ہلکان کر رکھا ہو۔

مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ یہ ایسا ہنسنا ہے جس کا انجام رونے پر ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں اس قسم کی ہوشیاری " سب سے بڑی نادانی ثابت ہوگی۔ اس وقت آدمی افسوس کرے گا کہ وہ جنت کا طلب گار تھا مگر اس نے اپنے اثاثہ کی وہی چیز اس کے لئے نہ دی جو دراصل جنت کی واحد قیمت تھی۔ اس قسم کے منافق ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی تحفظاتی پالیسی کی وجہ سے اپنے گرد مال و جاہ کے اسباب جمع کر لیتے ہیں اس بنا پر عام مسلمان ان سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ ان کی شان دار زندگیاں اور ان کی خوبصورت باتیں لوگوں کی نظر میں ان کو عظیم بنا دیتی ہیں۔ یہ کسی اسلامی معاشرہ کے لئے ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو عزت کا مقام دیا جانے لگے۔ جن لوگوں کے بارے میں پوری طرح معلوم ہو جائے کہ وہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر حقیقتاً وہ اپنے مفادات اور اپنی دنیوی مصلحتوں کے وفادار ہیں ان کو حقیقی اسلامی معاشرہ کبھی عزت کے مقام پر بٹھانے کے لئے راضی نہیں ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں۔ اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے لئے وہ نا اہل قرار پائیں۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کا عزت کا مقام ملا ہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہو سکتا۔

اور ان کے مال اور ان کی اولاد تم کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ منکر ہوں۔ اور جب کوئی سورہ اترتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو چھوڑ دیجیے کہ ہم یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں۔ انھوں نے اس کو پسند کیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی پس وہ کچھ نہیں سمجھتے لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے مال اور جان سے جہاد کیا اور انھیں کے لیے ہیں خوبیاں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ ان کے لیے اللہ نے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے ۸۹ - ۸۵ منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے اُس پاس دنیا کا ساز و سامان جمع کر لیتا ہے۔ ساتھ مددگاروں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیزیں سطحی قسم کے لوگوں کے لیے مرعوب کن بن جاتی ہیں۔ لیکن گہری نظر سے دیکھنے والوں کے لئے اس کی ظاہری چمک دمک قابل رشک نہیں بلکہ قابل عبرت ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں جن لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ ان کے لئے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو کسی تحفظ اور کسی مصلحت کے بغیر خدا کی طرف بڑھے۔ مگر جو لوگ دنیا کی رونقوں میں گھرے ہوئے ہوں وہ ان سے اوپر نہیں اٹھ جب بھی وہ خدا کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ان کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔ وہ اس قربانی کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اس لئے وہ خدا کے وفادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی دنیوی ترقیاں ان کو اس بربادی کی قیمت پر ملتی ہیں کہ آخرت میں وہ بالکل محروم ہو کر یہ حاضر ہوں۔

ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدا کا دین کہتا ہے کہ اپنی انا کو دفن کر کے خدا کو پکڑ لو تو وہ اپنی بڑھی ہوئی انا کو دفن نہیں کر پاتے۔ جب خدا کا دین ان سے شہرت اور مقبولیت سے خالی راستوں پر چلنے کے لئے کہتا ہے تو وہ اپنی شہرت و مقبولیت کو سنبھالنے کی فکر میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جب خدا کے دین کی جدوجہد زندگی اور مال کی قربانی مانگتی ہے تو ان کو اپنی زندگی اور مال اتنے قیمتی نظر آتے ہیں کہ وہ اس کو غیر دنیوی مقصد کے لئے قربان نہ کر سکیں ۔

یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کے دل کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ بے حسی کا شکار ہو کر اس تڑپ کو کھو دیتے ہیں جو آدمی کو خدا کی طرف کھینچے اور غیر خدا پر راضی نہ ہونے دے۔ اس کے برعکس جو سچے اہل ایمان ہیں وہ سب سے بڑا مقام خدا کو دے ہوتے ہیں اس لئے دوسری ہر چیز انھیں خدا کے مقابلہ میں ہیچ نظر آتی ہے۔ وہ ہر قربانی دینے کر خدا کی طرف بڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں۔ ان کے اور خدا کی ابدی جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز حائل نہیں۔

بدو کی عربوں میں سے بھی بہانہ کرنے والے آئے کہ انہیں اجازت مل جائے، اور جو اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولے وہ بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنہوں نے انکار کیا ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا۔ کوئی گناہ کمزوروں پر نہیں ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جو خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی کریں۔ پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب تمہارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس غم میں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں۔ الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو تم سے اجازت مانگتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں۔ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی، پس وہ نہیں جانتے ۔ ۹۳ - ۹۰۔

دعوت دین کی جدوجہد جب لوگوں سے ان کی زندگی اور ان کے مال کا تقاضا کر رہی ہو اس وقت صاحب استطاعت ہونے کے باوجود عذر کر کے بیٹھ رہنا بدترین جرم ہے۔ یہ دینی پکار کے معاملہ میں بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایک مسلمان کے لئے اس قسم کا رویہ خدا اور رسول سے غداری کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے لوگ خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ پانے کے حقدار نہیں ہیں۔ پاس جو کچھ تھا اس کو جب انہوں نے خدا کے لئے پیش نہیں کیا تو خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ کس لئے انھیں دیدے گا۔ کئے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں مل سکتی۔

تاہم معذورین کے لئے خدا کے یہاں معافی ہے۔ جو شخص بیمار ہو اور جس کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو، جو اسباب سفر نہ رکھتا ہو، ایسے لوگوں سے خدا درگزر فرمائے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود سب کچھ ان کے خانہ میں لکھ دیا جائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی راستہ نہیں چلے اور تم نے کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ برابر تمہارے ساتھ رہے (ان بالمدینة اقواماً ما قطعتم واديا ولاستم سيرا الا بهم معكم)

یہ خوش قسمت لوگ کون ہیں جو نہ کرنے کے باوجود کرنے کا انعام پاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معذور ہونے کے ساتھ تین باتوں کا ثبوت دیں ________ نفع ، یعنی علی شرکت نہ کرتے ہوئے بھی قلبی شرکت۔ احسان ، یعنی عدم شرکت کے باوجود کم از کم زبان سے ان کے بس میں جو کچھ ہے اس کو پوری طرح کرتے رہنا۔ حزن ، یعنی اپنی کوتاہی پر اتنا شدید رنج جو آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑے۔

کوئی آدمی جب اپنی عملی زندگی میں ایک چیز کو غیر اہم درجہ میں رکھے اور بار بار ایسا کرتا رہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اہمیت کا احساس اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس چیز کے تقاضے اس کے سامنے آتے ہیں مگر دل کے اندر اس کے بارے میں تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھ نہیں پاتا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو بے حسی کہا جاتا ہے اور اسی کو قرآن میں دلوں پر مہر کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Printed page