Al-Risala · February 1982

سب سے بڑا اندیشہ

Al-Risala, February 1982, pp. 47–40

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ کون سا ڈر ہے جس کا اندیشہ سب کو ہو۔ اسے کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے، اور وہ موت ہے ، صرف موت ہی اس دنیا میں ایک ایسی چیز ہے جس کے اندیشے سے کوئی بھی شخص خالی نہیں۔

ایک غریب مزدور جو روز کماتا ہو اور روز کھاتا ہو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کسی دن مزدوری نہ ملی تو بھوکا رہنا ہو گا۔ مگر امیر آدمی کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک کمزور آدمی کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی معاملہ پڑ جائے تو مضبوط آدمی اس کو دبالے گا، مگر جو طاقت ور ہو اس کو اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شخص قانون نہ جانتا ہو تو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کی جائداد پر کوئی شخص غلط طریقہ سے قبضہ نہ کرلے۔ مگر جو قاعدے قانون سے واقف ہو اس کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شخص جس کی ملازمت ابھی عارضی ہو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کا افسر خفا ہو جائے اور اس کو برخاست نہ کر دے، مگر جو مستقل ہو چکا ہو اس کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شخص کی آمدنی کم ہو تو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر خرچ کی کوئی مد زیادہ نکل آئی تو کیسے کام چلے گا، مگر جس کی آمدنی زیادہ ہو اس اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک چھوٹے دوکان دار کو اندیشہ ہوتا ہے کہ بازار کا بھاؤ خراب ہو گیا تو اس کا نقصان ہو جائے گا مگر بڑے بڑے تاجر جو بازار بھاؤ پر حکومت کرتے ہیں ان کو اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ شخص مقدمہ میں پھنس جائے تو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں مقدمہ ہار نہ جائے۔ مگر جو سرکار رس ہو اور جو بڑے بڑے وکیلوں کی فیس ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو اس کو اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ کسی ملک میں جو شخص اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کی حق تلفی نہ کی جائے مگر اکثریتی فرقہ کے ایک فرد کے لئے اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔

غرض کوئی ایسا خطرہ اور اندیشہ نہیں ہے جو سب کے لئے یکساں ہو۔ ہر اندیشہ ایک کو ہوتا ہے تو دوسرے کو نہیں ہوتا۔ صرف موت اس دنیا میں ایک ایسی چیز ہے جس کے اندیشے سے کوئی بھی شخص خالی نہیں۔ آگے سارے لوگ بے بس ہیں۔ موت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو ہر ایک کو بہر حال تسلیم کرنی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو بھی آتی ہے جن کو نہ علاج کی سکت ہے اور نہ کوئی ان کی تیمار داری کرنے والا ہے، اور ان لوگوں کو بھی آتی ہے جن کی دیکھ بھال اور علاج کے لئے ڈاکٹروں اور نرسوں کی فوج لگی ہوتی ہے، اور جن کے لئے ہر وقت ہوائی جہاز کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بات ہو تو فوراً انہیں اڑا کر بہترین اسپتال اور بہترین صحت بخش مقام پر پہنچا دیں۔ کمزور کو بھی آتی ہے اور مضبوط کو بھی، مریض کو بھی اور تندرست کو بھی، بچہ کو بھی اور بوڑھے کو بھی، عورت کو بھی اور مرد کو بھی، رعایا کو بھی اور بادشاہ کو بھی، جاہل کو بھی اور سائنس داں کو بھی، کسی بھی شخص کو کوئی ایسی تدبیر نہیں

معلوم جس کے ذریعہ وہ موت سے بچ سکے۔ یا ایک دن کے لئے بھی موت کو ٹال سکے۔ وہ ہر حال میں، ہر جگہ اور ہر شخص کو آلتی ہے اور مجبور کرتی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے۔ ہر اندیشہ سے آدمی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی کے پاس ذریعہ آمدنی نہ ہو یا کم ہو اور اندیشہ ہو کہ اس کا کام نہیں چلے گا تو وہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی کمزور ہو تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ حاصل کرلے جو ضرورت کے وقت اس کی مدد کر سکتے ہوں۔ غرض ہر اندیشہ سے بچنے کا طریقہ ہے اور اس طریقہ کو اختیار کر کے آدمی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر کیا موت کے اندیشے سے بچنے کا بھی کوئی طریقہ ہے۔

لوگوں نے طرح طرح سے موت کے اندیشہ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ کے ایک شخص سینفرڈ بینٹ (Sanford Bannet) کو خیال ہوا کہ بڑھاپا موت کا اصل سبب ہے۔ اس لئے بڑھاپے کو روکو۔ اس نے اس موضوع پر زبردست مطالعہ کیا۔ مطالعہ سے معلوم ہوا کہ بڑھاپے کا اصل سبب ہے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہماری شریانوں اور وریدوں میں ایک فاسد ماوہ جمع ہونے لگتا ہے جس کو کولسٹرول (Cholestrol) کہتے اس کی وجہ سے ہماری خون کی نالیوں کی قدرتی لچک ختم ہو کر ان میں سختی آجاتی ہے۔ اسی صورت حال کا دوسرا نام بڑھاپا ہے۔ چنانچہ یہ امریکی محقق اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر جسم کے عضلات پر تناؤ اور ڈھیس کا عمل کر کے شریانوں اور وریدوں میں جمع شدہ مادے کو نکال دیا جائے تو دوبارہ شباب کی واپسی ممکن ہے۔ اب اس نے اس مقصد کے لئے ورزش شروع کی۔ بلکہ ورزشیں ایجاد کیں اور ۲۵ سال تک وہ اپنے قبل از وقت بڑھاپے کو دوبارہ جوانی کی طرف لوٹانے کے لئے مسلسل کوشش کرتا رہا۔ اس کوشش کے شان دار نتائج کو اس نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے جس کا نام ہے" بڑھاپا اور اس کا سد باب"۔ کتاب میں مصنف کی دو تصویریں ہیں۔ ایک پچاس سال کی اور دوسری پچھتر سال کی یہ پچاس سالہ عمر کی تصویر ایک ایسے شخص کا منظر پیش کرتی ہے جس کے چہرے پر افسردگی طاری ہے اور ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں۔ میں ایک بوڑھا شخص معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پچھتر سال کی عمر کی جو تصویر ہے اس میں اس شخص کی صورت اس طرح بدل گئی ہے کہ بالکل دوسرا تر و تازہ جوان بیٹھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ مگر وہ شخص جس نے چوتھائی صدی کی طویل جدوجہد کے بعد اپنے کو بڑھاپے سے نکال کر دوبارہ جوان بنا لیا تھا، عین اس "جوانی" کے عالم میں ایک روز اس طرح مر گیا کہ وہ سوچا بھی نہ سکا کہ اب اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ اسی طرح بہت سے ایسے بڑے بڑے لوگ بھی کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی، انھوں نے موت کے اندیشے سے بچنے کی تمام ممکن کوششیں کی ہیں۔ کسی نے سمجھا کہ اونچے محل میں رہ کر دہ موت سے بچ سکتا ہے،

چنانچہ اس نے پہاڑ کی چوٹی پر شاندار محل کھڑا کردیا اور اس میں زندگی گزارنے لگا۔ کسی نے سمجھا کہ دوا علاج سے موت سے بچنے کا راز ہے تو اس نے بہترین ڈاکٹروں اور طبیبوں کی فوج اپنے ساتھ لگادی۔ کسی کا خیال ہوا کہ وہ موت کا انکار کر کے موت کو ٹال سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ارادہ اور شعور کی پوری قوت کے ساتھ موت کا انکار کر دیا۔ کسی کا خیال ہوا کہ بہترین غذا میں ابدی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے چنانچہ اس نے دنیا بھر کی قیمتی غذائیں اپنے دستر خوان پر جمع کر دیں۔ کسی نے سمجھا کہ بیماروں سے دور رہ کر وہ موت سے بچ سکتا ہے تو اس نے سارے بیماروں کو اپنے سے اتنا دور کر دیا کہ قیاساً ان کی سانس سے نکلی ہوئی ہوا کا کوئی جزر اس کو چھونے نہ کسی نے سمجھا کہ سگریٹ اور شراب کو چھوڑ کر وہ موت سے بچ سکتا ہے تو اس نے سگریٹ اور شراب ہمیشہ کے لئے چھوڑ دی۔ کسی کی سمجھ میں آیا کہ وہ شادی نہ کر کے ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے تو اس نے تمام عمر شادی نہ کی اور عورتوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا۔

مگر کسی کی تدبیر نے کوئی کام نہ کیا اور موت اپنے وقت پر آکر رہی۔ اب تک کی تاریخ کا آخری فیصلہ یہ ہے کہ موت پر انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ موت انسانی زندگی کا ایک ایسا المیہ ہے جس کے مقابلے میں انسان بالکل بے بس ہے۔ موت نہ اپنا وقت بتاتی نہ ہم سے کچھ دریافت کرتی، وہ بالکل اچانک آتی ہے۔ آتی ہے تو کسی کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ اس کے چنگل سے اپنے کو نکال سکے۔ کوئی بھی علم، کوئی بھی طاقت، کوئی بھی ذریعہ ایسا نہیں ہے جو موت کے مقابلہ میں ذرہ برابر انسان کی کوئی مدد کر سکے۔ اس معاملہ میں فیصلہ کا سارا اختیار ایک فریق کو ہے دوسرے فریق کو کوئی اختیار نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موت کی آمد کو روکنے کی ساری باتیں احمقانہ ہیں۔ اصل بات سوچنے کی یہ نہیں ہے کہ موت کو کیسے روکیں ۔ بلکہ اصل بات سوچنے کی یہ ہے کہ موت کے بعد پیش آنے والے خطرہ سے کیسے اپنے آپ جب زلزلہ پیما آلہ خبر دے کہ زلزلہ آرہا ہے تو کوئی یہ سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتا کہ زلزلہ کو کیسے بلکہ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ زلزلہ کے ممکن نتائج سے کس طرح اپنے کو محفوظ رکھے۔ کیونکہ زلزلہ جب آرہا ہے تو وہ بہرحال آکر رہے گا، ہم اس کی آمد کو روک نہیں سکتے، ہمارے بس میں جو چیز ہے وہ صرف یہ کہ اپنے کو اس کے خطرات سے بچانے کی فکر کریں ، اسی طرح ہزاروں برس کے تجربات نے بتایا ہے کہ موت بہرحال آتی ہے اور ہر شخص کے لئے آتی ہے۔ اب ہم جو چیز کر سکتے ہیں وہ صرف یہ کہ موت کا اس طرح استقبال کریں کہ وہ ہمارے لئے کسی نئی مصیبت میں پڑنے کا سبب نہ بن جائے۔

یہاں ”موت کے بعد کیا ہے“ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ بلا شبہ موت کے اس پار دیکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ مگر موت ہی ایک ایسا واقعہ نہیں ہے جس کے اس پار داخل ہونے سے پہلے آدمی نہ دیکھ سکتا ہؤ

دوسری اسی نوعیت کی بہت سی صورتیں ہیں جو ہماری زندگی میں پیش آتی ہیں اور ہم ان میں ایک احتیاطی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وہی ہم کو موت کے معاملے میں بھی کرنا چاہئے۔

کسی اجنبی سڑک پر آپ تیزی سے چلے جا رہے ہوں اور یکایک ایک موڑ پر بڑے بڑے سرخ حرفوں میں لکھا ہوا نظر آئے ــــ خبردار (Caution) ایسے موقع پر آپ کیا کریں گے۔ یقیناً ایک شخص کے دل میں یہ خیال گزر سکتا ہے کہ موڑ کے اس پار مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ اس لئے میں کیسے مانوں کہ اس کی کوئی کیوں نہ میں سمجھوں کہ کسی نے یوں ہی تماشے کے لئے یہ لفظ لکھ دیا ہے۔ مگر عقلمند آدمی ہمیشہ ایسے مقام پر سوچے گا :

Printed page