Al-Risala · February 1982

اگر یہ انتباہ صحیح ہوا تو ........“

Al-Risala, February 1982, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دوسرے امکان کا اندیشہ اس کو مجبور کرے گا کہ وہ ٹھہر کر حقیقتِ حال دریافت کرے، اور پھر اگر اس کی واقعیت پر مطمئن ہو جائے تو اپنے سفر کو اس کے مطابق بنائے۔ موت بھی ایک قسم کا انتباہ ــ سب سے بڑا انتباہ ہے۔ وہ ہم کو ٹھہر کر سوچنے کی دعوت دے رہا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ قرائن اگر کسی احتیاطی روش کا تقاضا کرتے ہوں تو ہم پہلی فرصت میں اس کو اختیار کر لیں۔ جس طرح سڑک پر چلنے والا آدمی ” انتباہ “ کا بورڈ دیکھ کر صرف قرائن کی بنیاد پر اس کے صحیح ہونے کو مان لیتا ہے۔ اور اصل خطرے کو دیکھے بغیر اس کی ہدایات کے مطابق اپنی گاڑی چلانے لگتا ہے۔ اسی طرح اس معاملے میں بھی یہ کوئی عقلی روش نہیں ہوگی کہ ہم موت کے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے موت کے اُس پار دیکھنے پر اصرار کریں۔ ہم صرف قرائن کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہی ہمیں کرنا چاہئے۔

قرائن کا فیصلہ کیا ہے۔ قرائن کا فیصلہ یہ ہے کہ انسان موت کے بعد بھی باقی رہے۔ مادہ اگر مٹ کر تو توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جسمانی انسان فنا ہونے کے بعد کسی نئی زیادہ پائیدار شکل میں باقی نہ رہے۔ مزید یہ کہ موت صرف انسانی جسم پر وارد ہوتی ہے۔ بظاہر اس کا کوئی قرینہ نہیں کہ انسانی شعور بھی انسانی جسم کے مرنے کے ساتھ مر جاتا ہو۔

دوسری بات یہ کہ انسان، تمام دوسری چیزوں کے برعکس ایک اخلاقی وجود ہے۔ وہ خیر و شر کا احساس انسان کی یہ خصوصیت تقاضا کرتی ہے کہ اخلاقی تقاضوں کے مطابق اس کا فیصلہ ہو۔ اس کے عمل خیر کا بدلہ اس کو خیر کی صورت میں ملے اور اس کے عمل شر کا بدلہ اس کو شر کی صورت میں دیا جائے ــــ ان دونوں قرائن کا لحاظ کیا جائے تو موت کے بعد زندگی اور اسی کے ساتھ جنت و جہنم دونوں ثابت ہو جاتے ہیں (رمضان ۱۳۸۶ھ)

Printed page