Al-Risala · March 1982

ذہنی بیداری

Al-Risala, March 1982, pp. 9–14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بستیوں کے لوگ اگر ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے ۔ مگر انھوں نے جھٹلایا (الاعراف ۹۶) یہی بات یہود کے بارے میں کہی گئی ہے کہ انھوں نے نبی آخر الزماں کو جھٹلا دیا ، اگر وہ ان پر ایمان لاتے تو وہ اپنے اوپر سے بھی کھاتے اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی اپنا رزق حاصل کرتے (المائدہ ۶۶)

ایک رسول کا اقرار کرنے پر اتنی زیادہ برکتوں کی خوش خبری کیوں دی گئی ۔ بہت سے لوگ اس کی وجہ یہ سمجھتے ہیں کہ کلمہ ایمان میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں اور زبان سے اس کا تلفظ کرتے ہی اسی طرح تمام خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں جس طرح قدیم افسانوی کہانی میں "رسمِ بسم " کہنے سے ایک شخص کے لئے خزانوں کا محل کھل گیا تھا۔ مگر اس قسم کا خیال سراسر بے بنیاد ہے۔ اگر ان برکتوں کا تعلق کلمہ ایمان کی لفظی ادائیگی سے ہوتا تو آج مسلمانوں کی زندگیوں میں ہر زمانہ سے زیادہ اس کا ظہور ہو رہا کیونکہ کلمہ ایمان کا تلفظ کرنے والے آج ہر زمانہ سے زیادہ عظیم مسلم امت (ایک ارب) کی صورت میں زمین کے اوپر موجود ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ایمان کے مدعیوں کی بے پناہ کثرت کے باوجود آج ان کے لئے نہ آسمانی برکتوں کے دروازے کھل رہے ہیں اور نہ زمینی برکتوں کے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں ایمان کا لفظ فکری انقلاب کے ہم معنی ہے۔ اس وقت جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان کے لئے ایمان کا مطلب واضح طور پر ایک ذہنی فیصلہ تھا۔ اس حقیقت کو بآسانی اس وقت سمجھا جاسکتا ہے اگر یہ دیکھا جائے کہ جب یہ آیتیں اتریں اس وقت یہود کے لئے یا عرب کے لوگوں کے لئے ایمان لانے کا مطلب عملاً کیا تھا۔

آج جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہیں تو یہ لفظ بولتے ہی ہمارے ذہن میں وہ مسلمہ شخصیت آ جاتی ہے جس کے ساتھ ڈیڑھ ہزار برس کی تاریخی عظمتیں وابستہ ہو چکی ہیں۔ مگر بعثت کے وقت لوگوں کی نظر میں آپ صرف ” محمد بن عبداللہ “ تھے۔ اس وقت یہ ساری تاریخ ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپی لوگوں کو آپ عام انسانوں کی طرح بس ایک معمولی انسان نظر آتے تھے۔ مگر یہود کا اور مشرکینِ عرب کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ یہود کو ایک ایسے دین کا حامل ہونے کا فخر حاصل تھا جس کی حیثیت معروف ان کے دین کے ساتھ موسیٰ اور داؤد اور سلیمان علیہم السلام جیسے کتنے سابق پیغمبروں کے نام شامل تھے جو لمبی تاریخ کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر اپنی عظمت قائم کر چکے تھے۔ یہی حال عرب کے مشرکین کا تھا۔

وہ اپنے سلسلہ کو ابراہیم ؑواسماعیلؑ جیسے قدیم پیغمبروں سے جوڑے ہوئے تھے۔ وہ اپنے کو کعبہ کا وارث اور ملت ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے، اور یہ وہ چیزیں تھیں جن کی تاریخی اہمیت سیکڑوں برس کی روایات کے نتیجہ میں تسلیم شدہ بن چکی تھی۔ بالفاظ دیگر، پیغمبر اسلام اپنی تاریخ کے آغاز پر تھے اور یہود اور قبائل عرب اپنی تاریخ کے

ایسی حالت میں چودہ سو سال پہلے والے پیغمبر اسلام کو ماننا اور آپ کا ساتھ دینا ان لوگوں کے لئے کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ قائم شدہ دین سے نکل کر ایک ایسے دین کو اختیار کرنا تھا جو ابھی قائم نہیں یہ مفادات سے وابستہ سچائی کو چھوڑ کر مجرد سچائی کو اختیار کرنا تھا۔ یہ مادی عظمتوں سے اوپر اٹھ کر غیر مادی عظمتوں کا ادراک کرنا تھا۔ یہ حال کے پردہ میں مستقبل کا مشاہدہ کرنا تھا۔ یہ محسوس خداؤں سے گزر کر چھپے ہوئے خدا کو پالینا تھا۔

اس قسم کا واقعہ کسی انسان کی زندگی میں اس طرح پیش نہیں آتا جیسے وہ ایک کمرہ سے نکل کر دوسرے کمرہ میں چلا گیا ہو۔ اس قسم کا واقعہ آدمی کی زندگی میں ہمیشہ بھونچال بن کر داخل ہوتا ہے۔ یہ ایک شعوری انقلاب ہوتا ہے جب کہ آدمی سوچے سمجمے ارادہ کے تحت ایک چیز کو چھوڑتا ہے اور سوچے سمجھے ارادہ کے تحت دوسری چیز کو لے لیتا ہے۔ اس میں آدمی کی قوت فیصلہ متحرک ہوتی ہے۔ اس کے جذبات میں عظیم ہلچل پیدا اس کو قربانیوں کے پل کو پار کرکے ایک طرف سے دوسری طرف جانا پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی پوری زندگی اس طرح ہل جاتی ہے جیسے کوئی طوفان کسی درخت کو ہلا دے۔ جب کچھ لوگ اس طرح انقلابی انداز میں ایک نظریہ کو اختیار کریں تو اس کے بعد عین قانون قدرت کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ زمین پر بالکل نئے قسم کے انسان وجود میں آتے ہیں۔ اور ان کے ملنے سے وہ سماج بنتا ہے جس سے ایسے حیرت ناک نتائج برآمد ہوں جو اس سے پہلے آسمان نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ جب عرب میں اسلام کی آواز بلند کی تو اس وقت دوسرے ادیان کا حال یہ تھا کہ وہ پہلے سے چلے آرہے تھے اور اس بنا پر وہ جھے ہوئے مفادات کی بنیاد پر قائم ہوچلے اسلام ابھی ایک مجرد نظریہ تھا، جب کہ دوسرے ادیان نے منظم ادارہ (Institution) کی صورت اختیار کر لی تھی۔ ایسی حالت میں اسلام کو اپنا دین بنانا ماحول کے اندر بے قیمت ہو جانے کے ہم معنی تھا۔ دوسرے ادیان سے وابستہ ہوکر آدمی کے تمام مفادات محفوظ رہتے تھے۔ وہ سماج کا معزز رکن شمار ہوتا مگر اسلام کو اختیار کرتے ہی وہ ایک ایسے دین کا فرد بن جاتا تھا جس نے سماج کے اندر اپنی حیثیت مسلم نہیں کی تھی، جس کے ساتھ ابھی تک مفادات وابستہ نہیں ہوئے تھے۔ وہ پر فخر روایات والے

گرہ سے چھوٹ کر ایک ایسے گروہ کا جزربن جاتا تھا جس کے ساتھ ابھی پُر فخر روایات وابستہ نہ ہوئی ہوں۔ ایسی حالت میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کے لئے اسلام محض ایک کلمہ کا تلفظ نہ تھا بلکہ ایک انقلابی فیصلہ کے ہم معنی تھا۔ اسلام کی آواز نے ان کے خیالات کی دنیا میں ایک زبردست ہلچل پیدا کی۔ ان کی تمام فکری قوتیں جاگ اٹھیں۔ ان کے اندر شدت سے یہ ذہن ابھرا کہ اپنے آپ پر نظر ثانی کریں۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ انھوں نے بے پناہ ارادہ کے تحت ایک چیز کو چھوڑ اور بے پناہ ارادہ کے تحت دوسری چیز کو اختیار کر لیا۔ ایسا کرتے ہوئے انھوں نے تعصبات کے پردہ کو چاک کیا۔ مفادات اور مصلحتوں کو نظر انداز کیا۔ یہ خطرہ مول لیا کہ اپنے خاندان، اپنے قبیلہ اور اپنے سماج سے کٹ کر وہ دنیا میں اکیلے رہ جائیں۔ نے ایک شعوری فیصلہ کے تحت اپنے آپ کو تقلیدی زمین سے کھینچ کر ہٹایا اور شعوری فیصلہ کے تحت ایک زندہ عقیدہ کی زمین پر اپنے کو کھڑا کیا۔ دور اول کے مسلمانوں کے لئے ایمان ایک فکری انقلاب کے ہم معنی تھا اس لئے اس ایمان سے جو لوگ پیدا ہوئے وہ بھی انقلابی انسان تھے۔ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے ایمان ایک بے روح عقیدہ ہے اس لئے اس ایمان سے جو افراد تیار ہوتے ہیں وہ بھی بے روح انسان ہیں، ان میں نہ فکر کے اعتبار سے کوئی جان ہوتی ہے اور نہ کردار کے اعتبار سے۔ کتاب روپی دین اور سماج روپی دین حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور پھر وہ پہلے کی طرح اجنبی ہو جائے گا۔ پس مبارک ہے اجنبیوں کے لئے (بدأ الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ فطوبی للغرباء) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دور اول میں جس طرح اجنبی بننے کی قیمت پر لوگوں کو اسلام ملا تھا اسی طرح بعد کے دور میں بھی جس کو اسلام ملے گا اجنبی بننے کی قیمت پر ملے گا۔

غور سے دیکھئے تو آج تاریخ دوبارہ وہیں لوٹ آئی ہے جہاں سے وہ شروع ہوئی تھی۔ دین وہ ہے جو قرآن میں محفوظ ہے، دوسرا دین وہ ہے جو مسلمانوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ پہلے دین کو کتاب روپی دین کہہ سکتے ہیں اور دوسرے دین کو سماج روپی دین۔ کتاب روپی دین وہ ہے جو قرآن وسنت میں محفوظ ہے۔ یہ دین گویا آج پیغمبر کا نمائندہ ہے۔ مگر یہ دین آج ماحول کے اندر اسی طرح اجنبی بن گیا ہے جس طرح وہ چودہ سو سال پہلے اجنبی تھا۔ دوسری طرف سماج روپی دین اسی طرح مکمل طور پر ایک منظم ادارہ بنا ہوا ہے جس طرح قدیم زمانہ میں یہودیت تھی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں اسی دوسرے اسلام کی زمین پر چل رہی ہیں۔ بظاہر کوئی کلّی اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے اور کوئی جزئی مگر یہ تمام تحریکیں حقیقتاً سماج روپی دین کی سطح پر ابھری ہیں نہ کہ کتاب روپی دین کی سطح پر۔

صورت حال یہ ہے کہ آج اسلام میں اسی طرح گدیاں بن چکی ہیں جس طرح وہ پہلے یہودیت میں پائی جاتی تھیں ۔ اسلام اب ایک ایسا نام بن گیا ہے جس کے اوپر چندے اور عہدے ملیں۔ جس کے نعرے پر عوام کی بھیڑ جمع کی جاسکے۔ جس کی بنیاد پر شخصیات بنیں اور قیادتیں ابھریں ۔ اسلام آج ایک ایسا عنوان ہے جس کے سہارے ادارے قائم ہوں اور خطابات حاصل ہوں۔ اسلام آج ہر اعتبار سے ایک عظیم ترین مارکیٹ ہے جس سے وہ تمام مادی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں جو دنیا کے عام بازاروں سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کتاب روپی دین عملاً بے جگہ ہو چکا ہے ۔ وہ محض ایک ذہنی تخیل کے طور پر فضا میں باقی کوئی شخص اگر اس کتاب والے دین کو اپنائے تو فوراً وہ محسوس کرے گا کہ وہ اپنے ماحول کے درمیان اجنبی ہو گیا ہے۔ ایسے آدمی کو اپنے اسلام کی یہ قیمت دینی پڑے گی کہ وہ لوگوں کو نئے دین کا حامل معلوم ہو۔ وہ بڑی بڑی دینی مجالس میں شرکت کے لئے نااہل قرار پائے۔ اونچی گدیوں میں سے کوئی گدی اس کو نہ ملے۔ قرآن سے گہرا تعلق رکھنے کے باوجود اس کو قرآنی جشن کی صدارت کے لئے نہیں بلایا جائے گا۔ کا عالم ہونے کے باوجود وہ کسی دینی مدرسہ کا شیخ الحدیث نہ بن سکے گا۔ مخلص اور متقی ہونے کے باوجود اس کا شمار بزرگوں میں نہیں ہوگا۔ دین کا گہرا فہم رکھنے کے باوجود دینی مسائل میں اس سے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ خدا اور رسول کی خاطر اپنی زندگی وقف کر دینے کے باوجود اس کو کسی دینی خطاب کا اہل نہیں سمجھا جائے گا۔ اور ان سب کی وجہ یہ ہوگی کہ ایسا آدمی جس دین پر قائم ہے وہ کتاب وسنت والا دین ہے اور منظم مذہب (Institutionalized Religion) کو ماننے والوں کے درمیان خالص کتاب و سنت والا دین اجنبی بن چکا ہے۔ لوگ دین کے نام سے جس چیز سے واقف ہیں وہ کچھ خارجی نقشے ہیں نہ کہ گہری ربانی حقیقتیں۔ وہ واقعات انسانی سے اپنا دین لے رہے ہیں نہ کہ واقعات خداوندی سے۔ کیرم ایک گھریلو کھیل ہے۔ یہ کھیل ایک تختہ (بورڈ) پر کھیلا جاتا ہے ۔ ایک بڑے چو کور تختہ کے بیچ میں روپیہ جیسی 19 گوٹیں مرتب مجموعہ کی صورت میں سمیٹ دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد کھیل کا آغاز کرنے والا ایک خاص گوٹ (اسٹر ائکر) لے کر تختہ کے ایک کونہ سے گوٹوں کے درمیانی مجموعہ پر نشانہ لگا کر پوری قوت سے مارتا ہے۔ اس کی مار اگر چہ مجموعہ کے صرف ایک نقطہ پر پڑتی ہے۔ لیکن مار اگر کامیاب ہے تو وہ گوٹوں کے پورے مجموعہ کو متاثر کردیتی ہے۔ اب ایک ایک گوٹ اپنی جگہ سے ہٹ کر کھلاڑی کی زد میں آ جاتی ہے۔ ایسی کامیاب مار کو کیرم بورڈ کی اصطلاح میں شاہ ضرب (Master Stroke) کہتے ہیں۔ خدا کے دین کو از سرِ نو زندہ کرنے کے لئے بھی اسی قسم کے ایک شاہ ضرب کی ضرورت ہے۔

ضرب وہ ہے جو تنظیمی مذہب یا سماج روپی دین پر جمے ہوئے لوگوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے اور ان کو ذہنی اعتبار سے اس مقام پر لائے جہاں وہ کتاب وسنت والے دین کے مخاطب بن سکیں ۔ نبی صلی اللہ عل وسلم کے زمانہ میں یہی واقعہ پیش آیا تھا ۔ اب اسی واقعہ کو دوبارہ ظہور میں لانے کی کوشش کا نام تجدید دین ہے آج تجدید دین کا مطلب اسی کار نبوت کو دہرانا ہے۔ یہ نبی نے اپنے زمانہ میں سابقہ ادیان کی بنیاد پر قائم شدہ ڈھانچہ کے مقابلہ میں خدا کے دین کو زندہ کیا تھا۔ آج خود اسلام کی بنیاد پر قائم شدہ ڈھانچہ کے مقابلہ میں خدا کے خالص دین کو از سر نو زندہ کرنا ہے۔

اس عمل کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ لوگوں کا دینی جمود ٹوٹے۔ شخصیتوں اور اداروں میں اٹکے ہوئے لوگ براہ راست خدا کو اپنا مرکز توجہ بنا ئیں۔ جزئی مسائل کو دین سمجھنے والے اساسی امور کو دین سمجھیں اور طلسماتی فضائل پر بھروسہ کرنے والے لوگ حقائق کی بنیاد پر اپنے دین کی تعمیر کریں۔ جن لوگوں نے بے روح عملیات کو دین کے ہم معنی سمجھ لیا ہے وہ زندہ دین کی لذتوں سے آشنا ہوں ۔ جن کے یہاں دین ابھی تک چھنگلیا کی مانند ایک ضمیمہ بنا ہوا ہے وہ ان کی زندگیوں میں اس طرح داخل ہو کہ وہ ان کے کردار کے لئے قوت محرکہ بن جائے ۔ جو لوگ کچھ مصنوعی اعمال کو دین داری سمجھے ہوئے ہیں وہ حقیقی دین داری کی فضا میں داخل ہوں ۔ پھر اسی میں دور جدید کی اس سب سے بڑی خرابی کا حل بھی ہے جس نے اسلام کو تمام دنیا میں مسلمانوں کی قومی تحریکوں کا ضمیمہ بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کی زد میں آگئے ۔ اس کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کو دوسری قومیں ظالموں اور غاصبوں کے روپ میں دکھائی دینے لگیں ۔ ان کے اندر ہر جگہ مقابلہ آرائی کا ذہن ابھر آیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اب وہی باتیں اپیل کرتی ہیں جن میں ان کی دفاعی نفسیات کو تسکین ملتی ہو۔ مثلاً اسلام کی عسکری تعبیر، انبیاء کے مشن کو حکومت و سیاست کی اصطلاحوں میں بیان کرنا، دوسری قوموں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف ہنگامہ آرائی ، مصالحت (Adjustment) کے بجائے ٹکراؤ اور لڑائی کی باتیں ، وغیرہ ۔ یہاں تک پہنچی ہے کہ اب اگر خاموش تعمیر اور دعوت آخرت کی بات کی جائے تو اس کو لوگ اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے یہ کوئی سازش ہے جو ان کو اپنے دشمنوں کے محاذ سے ہٹا کر غیر متعلق چیزوں میں مصروف کرنے کے لئے کی دین کو اگر قومی نقشوں میں بننے والے ڈھانچہ سے الگ کر کے ابدی حقیقتوں کی بنیاد پر کھڑا کر دیا جائے تو اس قسم کے تمام خیالات اپنے آپ بے زمین ہو جائیں گے۔ اسلام کی قومی تشریحات کسی آدمی کو اسی وقت تک اپیل کرتی ہیں جب کہ اس کا فکر قومی حالات کے نقشہ میں اٹکا ہوا ہو۔ اگر وہ قومی حالات سے اوپر اٹھ کر خدا کی ابدی کائنات میں جینے لگے تو اس قسم کی تشریحات و تعبیرات خود بخود اس کے لئے

بہ کوشش ہو کر رہ جائیں گی۔

یہ ذہنی بیداری یا فکری انقلاب ہی آج ملتِ اسلامی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ کسی حقیقی کام کا واحد آغاز یہ ہے کہ ملت کے افراد جو سماج رُوپی اسلام کی زمین پر ٹھہرے ہوئے ہیں، ان کو اس سے ہٹا کر دوبارہ کتاب روپی اسلام کی زمین پر کھڑا کیا جائے۔ اس کام کے قابلِ حد تک انجام پانے کے بعد ہی ان کے اندر ربانی شعور اور الہی کردار پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ ابتدائی مقصود جب تک حاصل نہ ہو، کوئی بڑا اقدام کرنا یا تو غیر سنجیدہ انسان کا کام ہو سکتا ہے یا اس شخص کا جس کی عقل جاتی رہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری وہ تمام چیزیں جن کو ہم چاہتے ہیں وہ سب اسی فکری انقلاب کا ضمنی حاصل وہ سارے اہم ترین نتائج جن کے ہم منتظر ہیں وہ اسی ذہنی انقلاب کے بطن سے ظہور میں آتے ہیں۔ یہ فکری انقلاب توہمات کی زنجیروں کو توڑتا ہے جس سے علمی ترقیاں وجود میں آتی ہیں۔ فکری انقلاب افراد کے اندر حوصلہ مندی پیدا کرتا ہے جس کے بعد وہ مختلف میدانوں میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے لگتے ہیں۔ یہ فکری انقلاب لوگوں کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ غیر مفتوح کردار کے مالک بن جاتے ہیں۔ یہ فکری انقلاب اپنے متاثر افراد کے اندر ربانی شعور ابھارتا ہے جس کے بعد وہ ایسی بے پناہ منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جس کا توڑ کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔ انقلاب قوموں اور آبادیوں کو مسخر کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ماننے والوں کا دبدبہ زمین پر قائم خلاصہ یہ کہ یہ ذہنی انقلاب جہاں برپا ہوتا ہے وہاں بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے قدموں کے نیچے سے بھی رزق ابلتا ہے اور ان کے سروں کے اوپر بھی رزق برستا ہے۔ خدا اپنی دنیا بھی ان کے لئے لکھ دیتا ہے اور اپنی آخرت بھی۔

Printed page