Al-Risala · March 1982

شریعتوں میں فرق کی حکمت

Al-Risala, March 1982, pp. 14–18

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہبی جمود کو توڑنا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ مطلوب ہے کہ اس کے لئے اس نے ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کی شریعت میں فرق رکھا۔ مختلف پیغمبروں کا دین اگر چہ ایک تھا مگر ان کی شریعتوں میں باہم فرق رکھا گیا۔ کی خاص حکمت یہی تھی۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریق عمل مقرر کیا۔ اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا۔ مگر اس نے ایسا اس لئے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کریں (المائدہ (۴۸) ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کے وہ پیرو ہیں۔ پس وہ اس امر میں تم سے جھگڑا نہ کرو اور تم اپنے رب کی طرف

دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ (الحج ۶۸) یہی بات تحویل قبلہ کے ذیل میں اس طرح فرمائی گئی ہے : اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس ءکی طرف وہ مڑتاہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو (البقرہ ۱۴۸) اس سلسلہ میں مزید ارشاد ہوا ہے کہ جس قبلہ پر تم اب تک تھے اس کو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے (البقرہ ۱۴۳) شریعتوں میں فرق کی توجیہہ عام طور پر ارتقا کی اصطلاحوں میں کی جاتی ہے۔ یعنی خدا کی شریعت سادہ اور غیر کامل صورت سے ترقی کرکے کامل صورت تک پہنچی ہے اور شریعتوں کا باہمی فرق اسی سبب سے ہے۔ یہ توجیہہ سراسر بے بنیاد ہے۔ قرآن میں واضح طور پر تبدیلی شریعت کا سبب ابتلا بتایا گیا ہے نہ کہ ارتقاء۔ شریعت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے دینی عقائد کا زندہ اظہار ہے۔ مگر ایک طریقہ پر نسل درنسل عمل کرتے کرتے ایسا ہوتا ہے کہ شریعت سے اس کی روح نکل جاتی ہے۔ وہ ایک ایسا خشک ڈھانچہ بن جاتی ہے جس سے آدمی کا نفسیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہو۔ اس وقت خدا شریعت کے قدیم ڈھانچہ کو بدل دیتا ہے تاکہ تقلیدی عمل کا خاتمہ ہو اور لوگ زندہ احساس اور تازہ فیصلہ کے تحت نئی شریعت کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں۔ وقت کھل جاتا ہے کہ کون شعور کے تحت خدا کی عبادت کر رہا تھا اور کون جمود اور تقلید کے تحت۔ کے بجائے کعبہ کو قبلہ قرار دینا تبدیلی شریعت کی ایک مثال ہے۔ اور اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ کون رسول کا متبع ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ یعنی اس بات کا امتحان کہ کون حقیقت کا پیرو ہے اور کون تقلیدی روایات کا۔ تقلیدی روایات کا پیرو اپنی مانوس عصبیتوں سے چمٹا رہے گا اور جو حقیقت کا پیرو ہے وہ تقلیدی عمل کو چھوڑ دے گا اور فوراً اصلی حکم پر قائم ہوجائے گا۔ پروگرام کا سوال اکثر لوگ احیار اسلام کی مہم کو اس کے ”پروگرام“ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کو اسی وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ انہیں ایک متعین پروگرام بتا دیا جائے۔ مگر پروگرام کو تحریک کا بدل سمجھنا تحریک کی وسعتوں کی تصغیر (Underestimation) ہے۔ پروگرام ایک محدود نقشہ کار کا نام ہے اور انسانی زندگی اس سے زیادہ وسیع ہے کہ وہ کسی محدود نقشۂ کار کے دائرہ میں سما سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا پروگرام خود افراد کو پروگرام ساز بنانا ہے نہ کہ افراد کے ہاتھوں میں کوئی لگام بندھا پروگرام دینا۔ اسلامی دعوت یہی کام کرتی ہے۔ حقیقی اسلامی دعوت افراد کے ذہن کو اس طرح جگا دیتی ہے کہ وہ خود پروگرام ساز بن جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں صرف توحید کی دعوت پیش کی تھی۔ آپ نے اس قسم کی کوئی چیز لوگوں کو نہیں دی جس کو موجودہ زمانہ میں ”پروگرام“ کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود

ہر وہ شخص جو آپ کی دعوت سے متاثر ہوتا اس کو اپنے لئے مکمل پروگرام مل جاتا تھا۔ وہ آپ سے توحید کا شعور لینے کے بعد خود ہی سارا کام کرنے لگتا تھا۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ مکہ چھوڑ کر حبش میں گئے ان کو آپ نے معروف معنوں میں کوئی پر وگرام نہیں بتایا تھا۔ مگر انھوں نے حبش میں اسلام کی اتنی کامیاب نمائندگی کی کہ اسلام بین اقوامی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ آپ کی ہجرت سے پہلے جو مسلمان مدینہ گئے ان کو آپ نے قرآن کی سورتوں کے سوا اور کچھ نہیں دیا تھا۔ مگر انھوں نے مدینہ میں اسلامی دعوت کی مہم اس طرح چلائی کہ صرف چند سالوں میں مدینہ اس قابل ہو گیا کہ وہ دار الہجرت (اسلام کا مرکز) بن سکے۔ تقلیدی مذہب سے ہٹا کر شعوری مذہب پر لانے کی مہم سب سے بڑی انقلابی مہم ہے۔ وہ ایسے افراد وجود میں لاتی ہے جو اپنی ذات میں مکمل پر وگرام ہوتے ہیں۔ ایسی مہم کی زد انسان کے پورے وجود پر پڑتی ہے۔ وہ انسانی فطرت کو اس طرح جگاتی ہے کہ اس کے اندر ربانی حکمت کا چشمہ ابل پڑے ۔ اب ایسے انسان وجود میں آتے ہیں جو خدا کے پاؤں سے چلیں، جو خدا کے ہاتھ سے پکڑیں، جو خدا کی آنکھ سے دیکھیں اور خدا کے کان سے سنیں ۔ وہ حدیث کے الفاظ میں ، وہ بے پناہ انسان بن جائیں جس کی ہوش مندی ہر دوسری چیز سے بلند تر ثابت ہوتی ہے (اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله) ایسا آدمی خود ہر چیز کا بدل بن جاتا اس کے پاس ہر سوال کا صحیح ترین جواب ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع پر اپنے لئے کامیاب ترین راہ عمل تلاش کر لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں یہی حکمت ربانی جگادی تھی، اس کے بعد انھیں کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہی۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں وہ سب کچھ بھر دیا ہے جس کی اسے اپنی زندگی میں ضرورت عام حالات میں یہ فطرت ڈھکی ہوئی رہتی ہے۔ اسی انسانی فطرت سے جمود اور تعصب اور بے شعوری کے پر دوں کو ہٹانا اسلامی دعوت کا اصل کام ہے۔ ان پر دوں کے ہٹتے ہی انسانی فطرت اس آفاقی روشنی میں آ جاتی ہے جس سے تمام زمین و آسمان جگمگارہے ہیں ۔ اس کے بعد ہر چیز اس کو اپنے واقعی روپ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کے واقعی روپ میں دیکھ لے اس کے لئے پروگرام کا مسئلہ اتناہی آسان ہو جاتا ہے جتنا آنکھ والے ایک شخص کے لئے سیڑھی کے زینوں پر قدم رکھتے ہوئے کسی عمارت کے

تم جب ان کی طرف پلٹو گے تو وہ تمہارے سامنے عذرات پیش کریں گے ۔ کہہ دو کہ بہانے نہ بناؤ ۔ ہم ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے ۔ بے شک اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئے ہیں ۔ اب اللہ اور رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے ۔ اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے کا جاننے والا ہے ، وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے ۔ یہ لوگ تمہاری واپسی پر تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو ۔ پس تم ان سے درگزر کرو بے شک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ میں اس کے جو وہ کرتے رہے ۔ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ ۔ اگر تم ان راضی بھی ہو جاؤ تو اللہ نافرمان لوگوں سے راضی ہونے والا نہیں ۹۴ - ۹۶ " تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا دئے ہیں " کا فقرہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے اس سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیونکہ براہ راست وحی بخداوندی کے بذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانہ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا تھا۔ بعد کے زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ کل بیاسی افراد تھے جن کے نفاق کے بارے میں اللہ نے ذریعہ وحی مطلع فرمایا تھا۔

تاہم اس علم کے با وجود صحابہ کرام کو ان کے ساتھ جس سلوک کی اجازت دی گئی ، وہ تغافل اور اعراض تھا نہ کہ ان کو ہلاک کرنا۔ ان کو سزا یا عذاب دینے کا معاملہ پھر بھی خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اگرچہ اتنی سختی کی گئی کہ انہوں نے عذرات پیش کئے تو ان کے عذرات قبول نہیں کئے گئے ۔ حتیٰ کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے بعد زکوٰۃ پیش کی تو ان کی زکوٰۃ لینے سے انکار کر دیا گیا۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی آپ نے قتل نہیں عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ نے اپنے باپ کی منافقانہ حرکت پر سخت کارروائی کرنی چاہی تو آپ نے روک دیا اور فرمایا : انہیں چھوڑ دو، خدا جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے (دعہ فنعم ی نحسنت صحبته مادام بین اظهرنا، طبقات ابن سعد)

بعد کے زمانہ کے منافقین کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ دور اول کے منافقین سے ان کی حالت قلبی کی بنیاد پر معاملہ کیا گیا ، مگر بعد کے منافقین سے ان کی حالت ظاہری کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے ان سے اعراض و تغافل کا سلوک صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ ان کے عمل سے ان کی منافقت کا خارجی ثبوت مل رہا ان کی نیت یا ان کی قلبی حالت کی بنا پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ بعد کے لوگ عذر پیش کریں تو ان کا عذر بھی قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کے صدقات وغیرہ بھی۔ ان کے انجام کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ظاہری قانون کے مطابق کسی کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔ جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے با وجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیا گیا۔

دیہات والے کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور اسی لائق ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو کچھ اتارا ہے اس کے حدود سے بے خبر ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور دیہاتیوں میں ایسے بھی ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کو ایک تاوان سمجھتے ہیں اور تمھارے لئے زمانہ کی گردشوں کے منتظر ہیں۔ بری گردش خود انھیں پر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے یہاں قرب کا اور رسول کے لئے دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ہاں بے شک وہ ان کے لئے قرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقیناً اللہ بخشنے والا مہربان ہے ؂ ۹۹ - ۹۷ حدیث میں آیا ہے کہ جس نے دیہات میں سکونت اختیار کی وہ سخت مزاج ہو جائے گا (من سکن البادیۃ جفا) شہر کے اندر علمی ماحول ہوتا ہے، تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں۔ وہاں علم وفن کا چرچا رہتا ہے۔ جب کہ دیہات میں لوگوں کو اس کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اسی کے ساتھ دیہات کے لوگوں کے رہن سہن کے طریقے اور ان کے معاشی ذرائع بھی نسبتاً معمولی ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیہات کے لوگوں کے اندر زیادہ گہرا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت میں سختی اور ان کے سوچنے کے انداز میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ ان کے لئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ دین کی نزاکتوں کو سمجھیں اور ان کو اپنے اندر اتاریں۔

اللہ ہر بات کو جانتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔ وہ دیہات کے لوگوں، بالفاظ دیگر عوام، کی اس کمزوری سے باخبر ہے اور اپنی حکمت و رحمت کی بنا پر انھیں اس کی پوری رعایت دیتا ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں سے خدا کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ گہری معرفت اور اعلیٰ دین داری کا ثبوت دیں۔ وہ اگر نیک نیت ہوں تو خدا ان سے سادہ دین داری پر راضی ہو جائے گا۔

عوام کی دین داری یہ ہے کہ وہ سچے دل سے خدا کا اقرار کریں۔ اپنے اندر اس احساس کو تازہ رکھیں کہ آخرت کا ایک دن آنے والا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں اور یہ سمجھیں کہ اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی قربت اور برکت حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے پیغمبر کو خوش کر کے اس کی دعائیں لینے کے طالب یہ دین داری کی عوامی سطح ہے، اور اگر آدمی کی نیت میں بگاڑ نہ ہو تو اس کا خدا اس سے اسی سادہ دین داری کو قبول کرلے گا۔

لیکن اگر عوام ایسا کریں کہ وہ خدا اور اس کے احکام سے بالکل غافل ہو جائیں۔ ان کو دین سے اتنی بے تعلقی ہو کہ دین کی راہ میں کچھ خرچ کرنا ان کو جرمانہ معلوم ہونے لگے۔ اسلام کی ترقی سے انھیں وحشت ہوتی ہو، تو بلاشبہ وہ ناقابل معافی ہیں۔ عوام کی کم فہمی کی بنا پر ان کو یہ رعایت تو ضرور دی جاسکتی ہے کہ ان سے گہری دین داری کا مطالبہ نہ کیا جائے، لیکن ان کی کم فہمی اگر سرکشی اور اسلام کے ساتھ بے وفائی کی صورت اختیار کرلے تو وہ کسی حال میں بخشے

Printed page