تذکیر القرآن
Al-Risala, March 1982, pp. 19–28
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مہاجرین و انصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں اور جنہوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اور تمہارے گردو پیش جو دیہاتی ہیں ان میں منافق ہیں اور مدینہ والوں میں بھی منافق ہیں۔ وہ نفاق پر جم گئے ہیں۔ تم ان کو نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں۔ ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے۔ پھر وہ ایک عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے ۱۰۱ - ۱۰۰ خدا کے دین کی دعوت جب بھی شروع کی جائے تو دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یا تو ماحول اس کا دشمن ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں دین کے لیے پکارنے والے اجنبی بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ کے اندر بے جگہ کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو مہاجر چھوڑنے والا) کہا جاتا ہے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ ماحول خدا کے دین کی دعوت کے لیے سازگار ثابت ہو۔ ایسے ماحول میں جو لوگ دین کے داعی بنتے ہیں ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آتا کہ ان کا سب کچھ ان سے چھن جائے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگر ایسا کریں کہ وہ پہلے لوگوں کا سہارا بن کر کھڑے ہو جائیں تو یہی انصار (مدد کرنے والے) قرار پاتے ہیں۔ دورِ اول میں مکہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو مہاجر بنا دیا اور مدینہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو انصار کی حیثیت دے دی۔ خدا کی رضا مندی اور اس کی جنت کسی آدمی کو یا تو مہاجر بننے کی قیمت پر ملتی ہے یا انصار بننے کی قیمت پر۔ یا تو وہ خدا کے لیے اتنا یکسو ہو کہ دنیا کے سرے اس سے چھوٹ جائیں۔ یا اگر وہ اپنے کو صاحب وسائل پاتا ہے تو اپنے وسائل کے ذریعہ وہ اول الذکر گروہ کی محرومی کا بدل بن جائے۔ دورِ اول کے مسلمان (صحابہ کرام) اس ہجرت و نصرت کا کامل نمونہ تھے۔ بعد کے مسلمانوں میں جو لوگ اس ہجرت و نصرت کے معاملہ میں اپنے پیش روؤں کی تقلید کریں گے وہ بالتبع اس مقدس خدائی گروہ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ خدا کچھ لوگوں کو محروم کرتا ہے تاکہ ان کے اندر انابت کا جذبہ ابھرے، اسی طرح خدا کچھ لوگوں کو محرومی سے بچاتا ہے تاکہ وہ محروموں کی مدد کر کے خدا کے لیے خرچ کرنے والے بنیں۔ یہ خدا کا منصوبہ ہے۔ جو لوگ اس کا ثبوت نہ دیں وہ ایسے لوگ ہیں جو خدا کے منصوبہ پر راضی نہ ہوئے اس لیے خدا بھی آخرت کے دن ان سے راضی نہ ہوگا ۔ ”وہ اللہ سے راضی ہو گئے“ یعنی جس کو اللہ نے ایسے حالات میں اٹھایا کہ اس کو سب کچھ چھوڑنے کی قیمت پر دین کو اختیار کرنا پڑا تو وہ اس میں ثابت قدم رہا۔ اسی طرح جس کے حالات کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ اپنے اثاثہ میں ایسے دینی بھائیوں کو شریک کرے جن سے اس کا تعلق صرف مقصد کا ہے نہ کہ رشتہ داری کا تو وہ بھی اس پر راضی ہو گیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی خوشی حاصل کی اور یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کئے جائیں گے۔ منافق وہ ہے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے مگر جب ہجرت اور نصرت کی قیمت پر دین دار بننے کا سوال ہو تو اس کے لئے اپنے کو راضی نہ کر سکے۔
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کئے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تم ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس سے تم ان کو پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔ اور تم ان کے لئے دعا کرو۔ بے شک تمھاری دعا ان کے لئے وجہ تسکین ہوگی۔ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے۔ اور اللہ تو یہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ کہو کہ عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے اور تم جلد اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو تمام کھلے اور چھپے کو جانتا ہے۔ وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کا حکم آنے تک ٹھہرا ہوا ہے، یا وہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۱۰۶۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگرچہ شر نہیں ہوتا۔ وہ معمول والے اعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتا ہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر دین دار بننے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے لئے نہیں دے پاتے جس طرح انہیں دینا چاہئے۔ قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے لئے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسے لوگ اگرچہ قصور وار ہوتے تاہم ان کا قصور اس وقت معاف کر دیا جاتا ہے جب کہ یاد دہانی کے بعد وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں ۔
اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر از سر نو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساس گناہ کو دھونے کے لئے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں پیش کریں۔ جب ان کی طرف سے ایسا رد عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انہیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تاکہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزوم و اعتماد میں تبدیل ہو جائے۔
خدا کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہو گیا اور جو شخص غلطی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کرلے وہ خدا کے نزدیک قابلِ معافی ٹھہرا۔
غلطی کرنے کے بعد آدمی ہمیشہ دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے دوسرا یہ کہ وہ ڈھٹائی کرنے لگے، جو شخص اپنی غلطی کا اعتراف کر لے اس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے۔ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ڈھٹائی کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے لئے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے لئے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے لئے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے لئے خدا کی سزا۔
اور ان میں ایسے بھی ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے اور کفر کے لئے اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس لئے تا کمین گاہ فراہم کریں اس شخص کے لئے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ رہا ہے۔ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی چاہی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کبھی کھڑے البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر پڑی ہے وہ اس لائق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے کنارے پر رکھی جو گرنے کو ہے۔ پھر وہ عمارت اس کو لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑی۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتارہ اور یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بنی رہے گی بجز اس کے کہ ان کے دل ہی ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں۔ ایک تقویٰ، دوسرے ظلم۔ پہلی صورت یہ ہے کہ خدا کے ڈر کی بنیاد پر زندگی کی عمارت اٹھائی جائے۔ آدمی کی تمام سرگرمیاں جس فکر کے ماتحت چل رہی ہوں وہ فکر یہ ہو کہ اس کو اپنے تمام قول وفعل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے جو کھلے اور چھپے سے باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کے حقیقی کارناموں کے مطابق جزا یا سزا دینے والا ہے۔ ایسا شخص گویا مضبوط چٹان پر اپنی عمارت کھڑی کر رہا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس قسم کے اندیشہ سے خالی ہو۔ وہ دنیا میں بالکل بے قید زندگی گزارے۔ وہ کسی پابندی کو قبول کئے بغیر جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ ایسے شخص کی زندگی کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ایسی کھائی کے کنارے اٹھادی گئی ہو جو بس گرنے ہی والی ہو اور اچانک ایک روز اس کا مکان اپنے مکینوں سمیت گہرے کھڈ میں گر پڑے ۔
جو لوگ ظلم کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں ان کے جرائم میں سب سے زیادہ سخت جرم وہ ہے جس کی مثال مدینہ میں مسجد ضرار کی صورت میں سامنے آئی۔ اس وقت مدینہ میں دو مسجدیں تھیں ۔ ایک آبادی کے اندر مسجد نبوی۔ دوسری مضافات میں مسجد قبا۔ منافق مسلمانوں نے اس کے توڑ پر ایک تیسری مسجد تعمیر کر لی۔ اس قسم کی کارروائی بظاہر اگر چہ دین کے نام پر ہوتی ہے مگر حقیقتاً اس کا مقصد ہوتا ہے اپنی قیادت اور پیشیوائی کو قائم رکھنے کی خاطر دعوت حق کا مخالفت بن جانا ۔ جو لوگ اپنی خود پرستی کی وجہ سے دعوت حق کو قبول نہیں کر پاتے وہ اس کے خلاف محاذ بناتے ہیں، اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کو درگزر ہوں میں بانٹ دیتی ہیں۔ اپنے تخریبی عمل کو دین کے نام پر کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ مسلمہ دینی شخصیتوں کو اپنے اسٹیج پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگوں کی نظر میں انھیں اعتماد حاصل ہو جائے۔
یہ لوگ اپنی اندھی دشمنی میں بھول جاتے ہیں کہ حق کی مخالفت دراصل خدا کی مخالفت ہے جو خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایسے لوگوں کے لئے جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ حسرت وافسوس کے ساتھ مریں اور اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائیں۔
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے، امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تم ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس سے تم ان کو پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔ اور تم ان کے لئے دعا کرو۔ بے شک تمھاری دعا ان کے لئے تسکین ہوگی۔ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے۔ اور اللہ تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ کہو کہ عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان تمھارے عمل کو دیکھیں گے اور تم جلد اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو تمام کھلے اور چھپے کو جانتا ہے۔ وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کا حکم آنے تک ٹھہرا ہوا ہے، یا وہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۱۰۶ - ۱۰۲ کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگر چہ شر نہیں ہوتا۔ وہ معمول والے دینی اعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتا ہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر دین دار بننے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے لئے نہیں دے پاتے جس طرح انھیں دینا چاہئے۔ قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے لئے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسے لوگ اگر چہ قصور وار ہوتے تاہم ان کا قصور اس وقت معاف کر دیا جاتا ہے جب کہ یاد دہانی کے بعد وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں ۔
اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر از سرِ نو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساس گناہ کو دھونے کے لئے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں پیش کریں۔ جب ان کی طرف سے ایثار و عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انھیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تا کہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزم و اعتماد میں تبدیل ہو جائے ۔
خدا کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہو گیا اور جو شخص غلطی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کر لے وہ خدا کے نزدیک قابل معافی ٹھہرا۔
غلطی کرنے کے بعد آدمی ہمیشہ دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ دوسرا یہ کہ وہ ڈھٹائی کرنے لگے ، جو شخص اپنی غلطی کا اعتراف کر لے اس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے۔ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ڈھٹائی کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے لئے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے لئے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے لئے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے لئے خدا کی سزا۔
اور ان میں ایسے بھی ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے اور کفر کے لئے اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس لئے تا کمین گاہ فراہم کریں اس شخص کے لئے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ رہا ہے۔ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی چاہی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کبھی کھڑے البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر پڑی ہے وہ اس لائق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے کنارے پر رکھی جو گرنے کو ہے۔ پھر وہ عمارت اس کو لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑی۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ اور یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بنی رہے گی بجز اس کے کہ ان کے دل ہی ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم وحکیم ہے۔
زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں۔ ایک تقویٰ، دوسرے ظلم۔ پہلی صورت یہ ہے کہ خدا کے ڈر کی بنیاد پر زندگی کی عمارت اٹھائی جائے۔ آدمی کی تمام سرگرمیاں جس فکر کے ماتحت چل رہی ہوں وہ فکر یہ ہو کہ اس کو اپنے تمام قول وفعل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے جو کھلے اور چھپے سے باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کے حقیقی کارناموں کے مطابق جزا یا سزا دینے والا ہے۔ ایسا شخص گویا مضبوط چٹان پر اپنی عمارت کھڑی کر رہا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس قسم کے اندیشہ سے خالی ہو۔ وہ دنیا میں بالکل بے قید زندگی گزارے۔ وہ کسی پابندی کو قبول کئے بغیر جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ ایسے شخص کی زندگی کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ایسی کھائی کے کنارے اٹھادی گئی ہو جو بس گرنے ہی والی ہو اور اچانک ایک روز اس کا مکان اپنے مکینوں سمیت گہرے کھڈ میں گرپڑے۔
جو لوگ ظلم کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں ان کے جرائم میں سب سے زیادہ سخت جرم وہ ہے جس کی مثال مدینہ میں مسجد ضرار کی صورت میں سامنے آئی۔ اس وقت مدینہ میں دو مسجدیں تھیں۔ ایک آبادی کے اندر مسجد نبوی۔ دوسری مضافات میں مسجد قباء۔ منافق مسلمانوں نے اس کے توڑ پر ایک تیسری مسجد تعمیر کرلی۔ اس قسم کی کارروائی بظاہر اگر چہ دین کے نام پر ہوتی ہے مگر حقیقتاً اس کا مقصد ہوتا ہے اپنی قیادت اور پیشوائی کو قائم رکھنے کی خاطر دعوت حق کا مخالف بن جانا۔ جو لوگ اپنی خود پرستی کی وجہ سے دعوت حق کو قبول نہیں کر پاتے وہ اس کے خلاف محاذ بناتے ہیں، اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیتی ہیں۔ اپنے تخریبی عمل کو دین کے نام پر کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ مسلمہ دینی شخصیتوں کو اپنے اسٹیج پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگوں کی نظر میں انہیں اعتماد حاصل ہوجائے۔
یہ لوگ اپنی اندھی دشمنی میں بھول جاتے ہیں کہ حق کی مخالفت دراصل خدا کی مخالفت ہے جو خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایسے لوگوں کے لئے جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ حسرت وافسوس کے ساتھ مریں اور اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں۔
بلا شبہ اللہ نے مومنوں سے ان کے جان اور ان کے مال کو خرید لیا ہے جنت کے بدلے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعوہ ہے، تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں ۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس تم خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے۔ اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی ۔ وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ عبادت کرنے والے ہیں۔ حمد کرنے والے ہیں ۔ خدائی راہ میں پھرنے والے ہیں۔ رکوع کرنے والے ہیں۔ سجدہ کرنے والے ہیں۔ بھلائی کا حکم کرنے والے ہیں۔ برائی سے روکنے والے ہیں۔ اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ اور مومنوں کو خوش خبری دے دو - ۱۱۱٢ - ١١ اللہ کا مومن بننا اللہ کے ہاتھ اپنے آپ کو بیچ دینا ہے۔ بندہ اپنا مال اور اپنی زندگی اللہ کو دیتا ہے تاکہ اللہ اس کے بدلے میں اپنی جنت اسے دے دے۔ یہ دراصل سپردگی اور سپردگی کی تعبیر ہے۔ کسی بھی چیز سے حقیقی تعلق ہمیشہ تواکی اور سپردگی کی سطح پر ہوتا ہے۔ تعلق کا یہی درجہ اللہ کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ جنت کی ابدی نعمتیں کسی کو کامل حواگی کے بغیر نہیں مل سکتیں ۔
جب آدمی خدا کے دین کو اس طرح اختیار کرتا ہے تو دین کا معاملہ اس کے لئے کوئی علیحدہ معاملہ نہیں رہتا۔ بلکہ وہ اس کا ذاتی معاملہ بن جاتا ہے۔ اب وہی اس کی دلچسپیوں اور اس کے اندیشوں کا مرکز ہوتا ہے۔ دین اگر مال کا تقاضا کرے تو وہ اپنا مال اس کے لئے حاضر کر دیتا ہے۔ دین کے لئے اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو وقف کرنا پڑے تو وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو اس کے لئے پیش کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ مرحلہ آجاۓ جب کہ اپنے وجود کو شاکر یا مال سے بے مال ہونے کا خطرہ مول لے کر دین میں اپنا حصہ ادا کرنا ہو تو اس سے بھی وہ دریغ نہیں کرتا۔ جو لوگ اس طرح اپنے کو اللہ کے حوالے کریں ان کے اندر کس قسم کے انفرادی اوصاف پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کی حساسیت اتنی بیدار ہو جاتی ہے کہ غلطی ہوتے ہی وہ اس کو جان لیتے ہیں اور فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ۔ وہ اللہ کے لئے کجھ جانے والے ہوتے ہیں ۔ وہ خدا کی عظمتوں کو اس طرح پالیتے ہیں کہ ان کے قلب اور زبان سے بے اختیار اس کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ وہ ساڑح ہو جاتے ہیں، یعنی انسانی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں جانا ان کے لئے زیادہ سکون کا باعث ہوتا ہے۔ خدا کے آگے جھکنا ان کے لئے محبوب چیز بن جاتا ہے۔ جو بھی ان کے ربط میں آتا ہے اس کو بھلائی کے راستہ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے سامنے کسی کو برائی کرتے دیکھتے ہیں تو اس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ خدا کی حد بندیوں کے معاملہ میں حد درجہ چو کنا ہو جاتے ہیں، دہ حدود اللہ کے اس طرح نگہبان بن جاتے ہیں جس طرح باغبان اپنے باغ کا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدائی انعامات کی خوش خبری ہے ۔
خدا کی جنت تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر خدا کی جنت ایک موعود انعام ہے ، وہ نقد انعام نہیں۔ جنت کی اسی موقلی نوعیت کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ جنت کو چھوڑ کر حقیر فائدوں کی طرف بھاگے جا رہے ہیں ۔
نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں روا نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی ہوں جب کہ ان پر کھل چکا کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا مانگنا صرف اس وعدہ کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کر لگویا تھا۔ پھر جب اس پر کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم بڑا نرم دل اور بردبار تھا۔ اور اللہ کسی قوم کو، اس کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں کرتا جب تک ان کو صاف صاف وہ چیزیں بتا نہ دے جن سے انہیں بچنا ہے، بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں میں اور زمین میں، وہ جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار ایک شخص کا فرد و مشرك ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خدا کے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہو جاتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا یا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی تردید کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی دعا سے منع کر دیا گیا۔ تاہم آیت میں مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ کا لفظ بتاتا ہے کہ اس حکم کا تعلق زمانہ رسالت کے مشرکین سے ہے جن کے بارے وحی کے ذریعہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ جہنمی ہیں۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ منافقین کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کریں (التوبہ ۸۴)۔ یہ بات مدینہ کے منافقوں کو بہت ناگوار ہوئی۔ انھوں نے اس کو لے کر آپ کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ وہ کہتے کہ یہ نبی تو نبی رحمت ہیں اور اپنے کو ابراہیم کا پیرو بتاتے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں اور اپنے رشتہ داروں کے لئے استغفار سے روکتے ہیں۔ حالاں کہ ابراہیم کا حال یہ تھا کہ اپنے مشرک باپ کے لئے بھی انھوں نے مغفرت کی دعا کی۔
جواب دیا گیا کہ ابراہیم بڑے درد مند اور انسانیت کے غم میں گھلنے والے تھے۔ اپنے اس جذبہ کے تحت انھوں نے عہد کر لیا کہ وہ اپنے مشرک باپ کے حق میں خدا سے دعا کریں گے۔ مگر جب وحی نے تنبیہ کی تو اس کے بعد وہ فوراً اس سے باز آگئے۔
اللہ نے ہر آدمی کے اندر برائی کی فطری تمیز رکھی ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک ایسا پیغام آتا ہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے تو اس کا وجود اندر سے اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے دل کے اندر ایک خاموش کھٹک پیدا ہوتی ہے۔ آدمی اگر اس کھٹک کو نظر انداز کر دے، وہ فطرت کی گواہی کے باوجود بچنے والی چیز سے نہ بچے تو اس کی فطری حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بالکل مردہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو گم راہ کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ "ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرنا" کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا خطرہ مسلمانوں کے لئے بھی اسی طرح ہے جس طرح غیر مسلموں کے لئے۔
اللہ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی جنہوں نے تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے۔ پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی۔ بے شک اللہ ان پر مہربان ہے رحم کرنے والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی اس نے توجہ فرمائی جن کا معاملہ اٹھارکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے بچنے کے لئے خود اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ پھر اللہ ان کی طرف پلٹا تا کہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ۱۸ - ۱۱۷ غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک گروہ وہ نکلا جس نے اپنا بہترین اثاثہ اسلام کے حوالے کر دیا۔ ان کی نفس کٹنے کے لئے تیار تھی مگر وہ اس کو چھوڑ کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہو گئے جس میں سخت گرمی کے تین سومیل طے کر کے وقت کی سب سے بڑی طاقت و سلطنت کا مقابلہ کرنا تھا۔ سامان کی کمی کا یہ حال تھا کہ ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمیوں کی باری لگی ہوئی تھی۔ کھانے کے لئے بعض اوقات صرف ایک کھجور ایک آدمی کے حصہ میں آتی تھی۔ تاہم یہ انتہائی سخت مرحلہ صرف ارادوں کے امتحان کے لئے سامنے لایا گیا تھا۔ جب ارادہ کرنے والوں نے ارادے کا ثبوت دے دیا تو خدا نے دشمن کے اوپر رعب طاری کر دیا۔ وہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ گئے اور مسلمان خون بہائے بغیر کامیاب و کامراں ہو کر واپس آگئے۔
دوسرا طبقہ معترفین (التوبہ (۱۰۲) کا تھا۔ یہ لوگ اپنے دنیوی مشاغل کی وجہ سے سفر پر روانہ نہ ہو سکے ۔ تاہم فوراً ہی بعد ان کو محسوس ہو گیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔ ان کے اندر اعتراف اور شرمندگی کی آگ بھڑک اٹھی۔ کے آنسوؤں کی کثرت نے ان کے عمل کی کمی کی تلافی کر دی۔ خدا نے ان کو بھی اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے دی۔ انھوں نے عاجزانہ طور پر اپنی غلطی کو مان لیا تھا ۔
تیسرا گروہ تخلفین (۱۱۸) کا تھا۔ یہ تین نوجوان کعب بن مالک ، مرارۃ بن ربیع، ہلال بن امیہ تھے۔ سفر پر نہ نکلنے کو اپنی کوتاہی سمجھتے تھے مگر ان کے اندر توبہ و انابت کا اتنا شدید احساس پہلے مرحلہ میں نہیں ابھرا تھا جو مطلوبہ معیار کے مطابق ہو۔ چنانچہ ان کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ کا معاملہ کیا گیا۔ یہ لوگ اس مقاطعہ کے باوجود مطمئن رہ سکتے تھے۔ وہ اپنے گھر اور اپنے باغوں میں مشغول ہو جاتے۔ وہ برہمی اور نافرداری کے راستوں پر چلنا شروع کر دیتے۔ وہ ناراض عناصر کے ساتھ مل کر اپنی علیحدہ جمعیت بنا لیتے ۔ وہ عام مسلمانوں سے الگ اپنا ایک جزیرہ بنا کر اس کے اندر اپنی خوشیوں کی دنیا بسا سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ خدا اور رسول سے دوری کے احساس نے ان کو اس قدر پریشان کر دیا کہ نہ باہر ان کے لیے سکون کی کوئی جگہ نظر آئی اور نہ اپنے دل کے اندر ان کے لئے سکون کا کوئی گوشہ بالفاظ دیگر ان کی پریشانی اختیاریانہ تھی نہ مجبوار نہ ۔ ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا دل پگھل اٹھا۔ ۵۰ دن میں وہ تو بہ و انابت کے مطلوبہ معیار پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد انھیں بھی معاف کر دیا گیا۔
اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ مدینہ والوں اور اطراف کے بد ویوں کے لئے زیبا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو اس کی جان سے عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ جو پیاس اور تھکان اور بھوک بھی ان کو خدا کی راہ میں لاحق ہوتی ہے اور جو قدم بھی وہ کافروں کو رنج پہنچانے والا اٹھاتے ہیں اور جو چیز بھی وہ دشمن سے چھینتے ہیں ان کے بدلے میں ان کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ۔ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اور جو چھوٹا یا بڑا خرچ انہوں نے کیا اور جو میدان انہوں نے طے کئے وہ سب ان کے لئے لکھا گیا تاکہ اللہ ان کے عمل کا اچھے سے اچھا بدلہ دے ۲۱ - ۱۱۹ انسانی زندگی اجتماعی زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کا اپنے ذوق اور رجحان کے اعتبار سے ایک حلقہ بن جاتا ہے جس میں وہ اپنے روز و شب گزارتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ایمان کے راستہ پر چلنا چاہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی صحبتوں اور ملاقاتوں کے لئے ان لوگوں کو چنیں جو سچے لوگ ہوں۔ جن کے دل کا خوف خدا ان کی زندگی کی روش بن گیا ہو۔ جن کے قول اور عمل کے درمیان مطابقت پائی جاتی ہو۔ سچوں کے ساتھ رہ کر آدمی سچا بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ جھوٹوں کا ساتھ پکڑے تو بالآخر وہ خود بھی جھوٹا بن جائے گا۔
آدمی کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ جان کو خطرہ میں ڈال کر اسلام کی خدمت کرنے کا سوال ہو۔ جب بھوک پیاس کا مقابلہ کر کے اسلام کے لئے اپنا حصہ ادا کرنا ہو۔ جب اپنے کو تھکا کر خدا کی راہ میں آگے بڑھنا جب دشمنوں کا خطرہ مول لے کر اپنے کو اسلام کی صف میں شامل کرنا ہو۔ جب اپنی پرسکون زندگی کو برہم کر کے خدا اور رسول کا ساتھ دینا ہو۔ ایسے مواقع پر آدمی احتیاط اور بچاؤ کا طریقہ اختیار کر کے پیچھے بیٹھ جانے کو پسند وہ بھول جاتا ہے کہ یہی تو وہ مواقع ہیں جب کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی ثبوت پیش کر سکتا جب کہ وہ جنت کے لئے اپنی اُمیدواری کو خدا کی نظر میں قابل قبول ثابت کر سکتا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہنے والوں میں ایک ابو خیمہ انصاری بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے بعد وہ اپنے باغ میں گئے۔ وہاں خوش گوار سایہ تھا، بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو ٹھنڈا کیا، چٹائی کا فرش بچھایا، تازہ کھجور کے خوشے لاکر سامنے رکھے اور ٹھنڈا پانی پینے کے لئے پیش کیا۔ ابو خیثمہ دنیوی آسانیوں ہی کی خاطر تبوک کے سفر پر نہ جاسکے تھے۔ مگر جب جانے والے اور رہنے والے کے درمیان فرق اس انتہائی نوبت کو پہنچ گیا جواب ان کے سامنے تھا تو ابو خیثمہ اس کو برداشت نہ کر سکے۔ انھوں نے کہا " میں یہاں باغ کے سایہ میں ہوں اور خدا کے بندے لو اور گرمی میں کوہ بیابان طے کر رہے ہیں " انھوں نے تلوار سنبھالی اور تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہو کر اسی وقت روانہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ گرد و غبار میں اٹے ہوئے قافلہ تبوک سے جا ملے۔
اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے ۱۲۲ قرآن کی یہ آیت ایک اعتبار سے زیر بحث صورت حال سے متعلق ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کلی حکم کو بتا رہی ہے۔ ایک طرف وہ بتاتی ہے کہ مدینہ کے اطراف میں بسنے والے دیہاتیوں کی تعلیم و تربیت کس طرح کی جائے۔ دوسری طرف اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تعلیمی نظام اور نئی نسلوں کے لئے اس کا تربیتی ڈھانچہ کن اصولی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے۔
تعلیم ایک ایسا کام ہے جس میں آدمی کو دوسری مشغولیتوں سے فارغ ہو کر شامل ہونا پڑتا ہے۔ اب اگر سارے لوگ بیک وقت تعلیمی کام میں لگ جائیں تو زندگی کی دوسری سرگرمیاں، مثلاً حصولِ معاش کی کوششیں، متاثر ہو جائیں اسلام کا یہ طریقہ نہیں کہ ایک کام کو بگاڑ کر دوسرا کام انجام دیا جائے، اس لئے حکم دیا گیا کہ باری باری کا اصول کچھ لوگ تعلیم کے مرکز میں آئیں تو کچھ اور لوگ دوسری سرگرمیوں کو انجام دینے میں لگے رہیں۔ دونوں کام بیک وقت انجام پاتے رہیں گے۔
اس آیت میں اسلامی تعلیم کے لئے تفقه فی الدین کا لفظ آیا ہے۔ اس سے مراد معروف فقہی تعلیم نہیں ہے جو شکل دین (مقابلہ روح دین) کے تفصیلی علم کا نام ہے اور جس کے نتیجہ میں دین کا علم مسائل کے علم کے ہم معنی بن گیا ہے۔ یہاں تفقہ فی الدین کا مطلب خدا کے اتارے ہوئے اساسی دین کو جاننا اور اس میں سمجھ حاصل کرنا ہے۔ اس سے مراد وہ علم ہے جو حق شناسی پیدا کرے، جو بنیادی حقیقتوں سے آدمی کو باخبر کرے اور آخرت کی بنیادوں پر زندگی کی تعمیر کرنا سکھائے۔
آیت میں تفقہ فی الدین (تعلیم دین) کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی قوم کے اوپر انذار کا کام کرنے کے قابل انذار کے معنی ہیں ڈرانا۔ قرآن میں یہ لفظ آخرت کے مسئلہ سے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے لئے آیا ہے۔ سے معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم سے ایسے افراد تیار ہوں جو قوموں کے اوپر خدا کی طرف سے منذر بن کر کھڑے تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور دنیا کی زندگی میں اس روش سے بچیں جو انہیں آخرت کے ابدی عذاب کی طرف لے جانے والی ہو۔ اسلامی تعلیم دعوت الی اللہ کی تعلیم کا نام ہے نہ کہ معروف معنوں میں صرف مسائلِ فقہ یا جزئیات شرع کی تعلیم کا۔
اس اعتبار سے اسلامی تعلیم کا نصاب دو خاص چیزوں پر مشتمل ہونا چاہئے :