آہ یہ انسان
Al-Risala, March 1982, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی کے خاندانی حالات اور اس کے تعلقات کے اعتبار سے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ہر آدمی اپنے بنائے ہوئے حلقہ کے سہارے جیتا ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک یہ حلقہ آدمی کا ساتھ دیتا ہے، وہ ہر موڑ پر اس کا مددگار بنتا ہے، وہ ہر موقع پر اس کی طرف سے کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہ حلقہ یا ڈھانچہ ہر دور میں انسان کے لئے حق کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا جب بھی کوئی حق آدمی کے سامنے آتا ہے تو شعوری یا غیر شعوری طور پر آدمی کے سامنے یہ سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ اگر میں نے اس کا ساتھ دیا تو میرا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا۔ میرے ساتھی مجھ سے بچھڑ جائیں میرے مفادات کا تانا بانا بالکل منتشر ہو جائے گا۔ میں لوگوں کے درمیان اکیلا بن کر رہ جاؤں گا۔ اندیشہ آدمی کے ذہن پر اتنا غالب آتا ہے کہ وہ جانتے بوجھتے حق کا انکار کر دیتا ہے۔ وہ اپنے لئے اس دو عملی کو پسند کر لیتا ہے کہ اس کا ذہن ایک راستہ کے برحق ہونے کی گواہی دے مگر عملاً وہ اس کے سوا دوسرے راستہ پر چلتا رہے ۔
مگر یہ سب سے بڑی بھول ہے۔ حق کا ظہور بربادی کے لئے نہیں ہوتا بلکہ آبادی کے لئے ہوتا حق اس لئے آتا ہے کہ جو آدمی انسانوں کے سہارے کھڑا ہوا تھا اس کو وہ خدا کے سہارے کھڑا کر دے۔ جو شخص بے اصولی کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اس کو اصولی زندگی کی روشنی میں لے آئے۔ جو آدمی عارضی فائدوں میں کھویا ہوا تھا اس کو ابدی اور حقیقی فائدوں کی دنیا میں داخل کرے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ کسی چیز سے نصیحت نہیں پکڑتا۔ اس کے سامنے جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں مگر وہ ان سے منھ پھیر کر جہنم کے شعلوں میں کو د پڑتا ہے۔ خدا اس کے لئے اپنا آغوش پھیلاتا ہے مگر وہ خدا کو چھوڑ کر انسانوں کے آغوش میں رہنے پر راضی ہو جاتا ہے۔
آدمی اپنے جس دنیوی ڈھانچہ کی حفاظت کر رہا ہے اسی ڈھانچہ کے کھنڈر پر اس کے آخرت کا محل تعمیر ہونے والا ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی اپنے کھنڈر پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ وہ اس کو توڑنے نہیں دیتا تاکہ خدا کے فرشتے آئیں اور اس کی خاکی زمین پر اس کے لئے ایک نیا محل اٹھاکر کھڑا کردیں جس میں وہ ابدی طور پر عیش کرتا رہے ۔
جو آدمی اپنی غلطی کو جان لے اس نے سچائی کا آدھا راستہ طے کر لیا انصاف والا حقیقت میں وہ ہے جو شکایت کے وقت بھی انصاف پر قائم رہے ہر آدمی اصول کی زبان میں بات کرتا ہے حالانکہ بے اصولی کے سوا کسی کا کوئی مذہب نہیں گولی کی چوٹ سہنے والے بہادر بہت ہیں مگر لفظ کی چوٹ سہنے والا بہادر کوئی نہیں آدمی ایک ایسی مخلوق ہے جو قول کے معاملہ میں سب سے زیادہ فیاض ہے اور عمل کے معاملہ میں سب سے زیادہ بخیل اپنے حقوق کو جاننے کا ماہر ہر شخص ہے مگر دوسروں کے حقوق کو کوئی نہیں جانتا اخلاق کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کو تکلیف نہ دے مگر بہت کم اخلاق والے ہیں جو اس معیار پر پورے اتریں آدمی کیا ہے، اس کا اندازہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے نہ کہ معمول کے حالات میں بہت سے جواب صرف اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ آدمی کے پاس کوئی جواب ہی نہیں آدمی دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اکثر حالات میں وہ خود غلطی پر ہوتا ہے لوگوں کی اغراض ایک دوسرے سے وابستہ نہ ہوں تو دنیا میں کوئی کسی کا دوست نظر نہ آئے آدمی بظاہر ایک دلیل دیتا ہے حالانکہ وہ بے معنی الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا