Al-Risala · March 1982

۱۔ قرآن و سنت

Al-Risala, March 1982, pp. 28–30

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ علوم جو مدعو کی نسبت سے ضروری ہوں۔ مثلاً مخاطب کی زبان، اس کے طرزِ فکر اور اس کی نفسیات،

اے ایمان والو، ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اند رسختی پائیں اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب کوئی سورہ اترتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کر دیا۔ پس جو ایمان والے ہیں ان کا اس نے ایمان زیادہ کر دیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے تو اس نے بڑھادی ان کی گندگی پر گندگی۔ اور وہ مرنے تک کافر ہی رہے۔ لوگ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر سال ایک بار یا دو بار آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ سبق حاصل کرتے ہیں۔ اور جب کوئی سورہ اتاری جاتی ہے تو یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھتا تو نہیں، پھر چل اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اس وجہ سے کہ یہ سمجھ سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ "قریب کے منکروں سے جنگ کرو" کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلامی جد و جہد کوئی بے منصوبہ جد و جہد نہیں ہے بلکہ اس میں ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ پہلے قریب کی رکاوٹوں پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی اور اس کے بعد دور کی رکاوٹوں سے نپٹا جائے گا۔ اسی سے یہ بات بھی نکلی کہ سب سے پہلا مجاہدہ خود اپنے نفس سے کیا جانا چاہئے۔ آدمی کے سب سے قریب اس کا اپنا نفس ہوتا ہے۔ باہر کے دشمنوں کی باری اس کے بعد آتی ہے۔ پھر اسلام دشمنوں سے بھی اولاً جو چیز مطلوب ہے وہ سختی (غلطہ) ہے یعنی وہ مضبوطی جو دشمنوں کے لئے رعب کا باعث بن جائے (اذ کان ذلك يوقع المهابة لنافي صدورهم والرعب في قلوبهم (تفسیر جصاص)

اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ دشمنوں سے مقابلے کی ساری کارروائی تقویٰ کی بنیاد پر کی جائے۔ خدا) کی روش ہی مسلمانوں کے لئے نصرت خداوندی کی ضامن ہے تقویٰ سے ہٹتے ہی وہ خدا کی مدد سے محروم ہو جائیں گے۔ قرآن نے اپنی یہ خصوصیت بیان کی ہے کہ اس کی آیتوں کو سن کر مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایمان کا تعلق آدمی کی اپنی قلبی صلاحیت پر ہے نہ کہ صرف آیتوں کے سن لینے پر۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے جب قرآن اترا تو اس کے الفاظ ابھی صرف الفاظ تھے، وہ تاریخی واقعہ نہیں بنے تھے۔ اس وقت قرآن کی اہمیت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو حقیقت کو اس کی مجرد صورت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ظاہر پرست منافقین کے اندر یہ صلاحیت نہ تھی، ان کو قرآن کے الفاظ صرف الفاظ معلوم ہوتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ چند الفاظ کا مجموعہ کسی کے یقین و اعتماد میں اضافہ کا سبب کیسے بن جائے گا۔ چنانچہ جب کوئی نئی آیت اترتی تو وہ یہ کہہ کر مذاق اڑاتے کہ عربی کے ان الفاظ نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا۔

خدا ایسے لوگوں کو بار بار مختلف قسم کے جھٹکے دیتا ہے تاکہ ان کے دل کی حساسیت بڑھے اور وہ باتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ پکڑنے کے قابل ہو جائیں۔ مگر جب آدمی خود نصیحت نہ لینا چاہے تو کوئی خارجی چیز اس کی نصیحت کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔ نصیحت لینے والی بات سامنے آئے اور آدمی اس کو نظر انداز کر دے تو اس کا یہ عمل اس کو نصیحت کے معاملہ میں بے حس بنا دیتا ہے۔

تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے۔ تمھار نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے۔ وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے۔ ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیریں حو کہہ دو کہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا ۲۹ - ۱۲۸ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر بتائی گئی ہے کہ اسلام کی جدوجہد میں ان کا سارا اعتماد صرف ایک اللہ پر ہے۔ وہ لوگوں کو جس خدا کی طرف بلانے کے لئے اٹھے ہیں وہ ایسا خدا ہے جو سارے اقتدار کا مالک تمام خزانوں کی کنجیاں اس کے پاس ہیں۔ رسول اسی ایمان و یقین کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ اس لئے بالکل فطری ہے کہ اس کا سارا بھروسہ صرف ایک خدا پر ہو۔ وہ ہر قسم کی مصلحتوں اور اندیشوں سے بے پروا ہو کر حق کی خدمت میں

پھر یہ بتایا کہ خدا کا رسول لوگوں کے حق میں حد درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ وہ دوسروں کی تکلیفوں پر اس طرح کڑھتا ہے جیسے کہ وہ تکلیف خود اس کے اوپر پڑی ہو۔ وہ حرص کی حد تک لوگوں کی ہدایت کا طالب ہے۔ کی جدوجہد کے لئے اس کو جس چیز نے متحرک کیا ہے وہ سراسر خیر خواہی کا جذبہ ہے نہ کہ کوئی شخصی تو صلہ یا قومی مسئلہ ۔ امام احمد نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ پروانوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کی کمر پکڑ کر ان کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں (الادانی آخذ بحجز كم ان تنها نتوا في النار كتها نتفت الفراش

رسول کی اس تصویر کی شکل میں حق کے داعی کی تصویر ہمیشہ کے لئے بتادی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے داعی کے اندر دو خاص صفات نمایاں طور پر ہونی چاہئیں ایک یہ کہ اس کا بھروسہ صرف ایک اللہ پر دوسرے یہ کہ مدعو کے لئے اس کے دل میں شفقت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو، اس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے طرح طرح کی شکایتیں پیش آتی ہیں۔ اس کے اور داعی کے درمیان قومی اور مادی جھگڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ مطلوب ہے کہ داعی ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرے اور مدعو کے لئے رحمت و رأفت کے سوا کوئی اور جذبہ اپنے اندر پیدا نہ ہونے دے۔

ابتداء اسلام میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ان کے لئے آپ کا ساتھ دینا اپنی بنی بنائی زندگی کو اجاڑ دینے کے ہم معنی بن گیا۔ اس سے کچھ لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ رسول ہمارے لئے مصیبت بن کر آیا ہے۔ مگر یہ وہی بات ہے جو عین مطلوب ہے۔ حق کی دعوت اسی لئے اٹھتی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کا مصرف آخرت کی دنیا ہے نہ کہ موجودہ دنیا۔ اس لئے اگر رسول کا لایا ہوا دین اختیار کرنے میں دنیوی نقشہ بگڑتا ہوا نظر آئے تو اس پر آدمی کو مطمئن رہنا چاہتے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی متاع کو خدا نے آخرت کے لئے قبول کر لیا۔

Printed page