غلبہ اسلام
Al-Risala, March 1982, pp. 31–36
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا سوال آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ابھرا ہوا مگر اس سلسلے میں ان کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض اسباب سے ان کے اندر عظمت ماضی کو دوبارہ واپس لانے کی ایک مجہول خواہش تو ضرور پیدا ہوگئی ہے مگر ماضی کی تاریخ کو حال کا واقعہ بنانے کے لئے جو ضروری عمل درکار ہے اس کا واضح شعور انہیں حاصل نہیں۔ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو فضائل اسلام کی طلسماتی کہانیاں سنا کر مسجدوں کی آبادی میں اضافہ کرو، اور اس کے بعد ساری دنیا اپنے آپ تمہاری ہوجائے گی۔ مگر یہ حل ایسا ہی ہے جیسے ٹوٹنے ٹوٹکے کے ذریعہ ہمالیہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے کھسکانے کی امید قائم کرلی جائے۔ دوسرا طبقہ پر جوش تقریریں کرنے اور شاعرانہ الفاظ بولنے کو مسئلہ کا حل سمجھتا ہے۔ وہ بھول گیا ہے کہ خدا کی دنیا محکم قوانین کی دنیا ہے۔ لفظوں کا کمال دکھا کر کسی واقعہ کو ظہور میں نہیں لایا جا سکتا۔ ایک اور طبقہ اس انقلابی غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اپنے کسی بادشاہ کو تخت سے اتار کر یا اپنے کسی حکمراں کو پھانسی پر چڑھاکر وہ اسلام کی عظمت رفتہ کو واپس لانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں کہ یہ مسئلہ عالمی طاقتوں کو زیر کرنے کا مسئلہ ہے نہ کہ قوم کے کچھ افراد کو اسلام دشمنی کی'' علامت ٹھہرا کر ان کو کسی نہ کسی تدبیر سے ہلاک کر دینے کا۔ تبدیلی اقتدار کا قانون قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کا مالک اللہ ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے (آل عمران ۲۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کسی گروہ کا غلبہ واقتدار حاصل کرنا کوئی سادہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ براہ راست خدا کے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایک گروہ کا غلبہ ہمیشہ دوسرے گروہ کی مغلوبیت کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ایسے ایک واقعہ کے ظہور کے لئے خارجی دنیا میں ایسی وسیع تر تبدیلیوں کا پیش آنا ضروری ہے جو ایک گروہ کے حق میں حالات کو موافق کر دیں اور دوسرے گروہ کے حق میں اس کو مخالف بنا دیں۔
اجتماعی زندگی میں اس قسم کا غیر معمولی تغیر ہمیشہ مافوق اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ اسلامی ہو یا غیر اسلامی ، ہمیشہ ان اسباب کے زیر اثر آتا ہے جو کبھی کسی شخص یا جماعت کے اپنے اختیار میں روس کا اشتراکی انقلاب (۱۹۱۷) پہلی جنگ عظیم کے پیدا کردہ ہنگامی حالات کے بطن سے موجودہ صدی کے وسط میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کی مغربی استعمار سے آزادی دوسری جنگ
عظیم کے پیدا کئے ہوئے ہنگامی حالات کے اندر سے برآمد ہوئی۔ جب کہ اس قسم کی عالمی جنگ کو برپا کرنا نہ اشتراکی تحریک کے اختیار میں تھا اور نہ وطنی آزادی کی تحریک کے اختیار میں۔ اسی طرح دورِ اول مسلمانوں کی تیز فتوحات کا خاص سبب یہ تھا کہ ایران و روم کی سلطنتیں عین اسی زمانہ میں لمبی لڑائیاں لڑ کر بالکل کمزور ہو چکی تھیں۔ اور ظاہر ہے کہ وقت کی دوسرے بڑی طاقتوں کے درمیان اس قسم کی تباہ کن جنگ چھیڑ نا صرف خدا کے اختیار میں تھا نہ کہ کسی انسان کے اختیار میں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عام قوموں کے درمیان سیاسی تبدیلیاں خدا کے قانون دفع (بقرہ ۲۵۱) کے تحت ظہور میں آتی ہیں۔ یعنی ایک ظالم اور مفسد کی سیاسی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے اس کی جگہ کسی دوسرے کو لے آنا، ایک گروہ کے ذریعہ کسی دوسرے گروہ کو ہٹا دینا۔ بالفاظِ دیگر، عام سیاسی تبدیلیاں زیادہ تر سلبی مقصد کے تحت ہوتی ہیں۔ مگر جہاں تک اسلامی انقلاب کا تعلق ہے وہ ایجابی مقصد کے تحت وقوع میں اسلامی انقلاب اس لئے برپا کیا جاتا ہے کہ اللہ اپنے ان خاص بندوں پر احسان کرے جنہوں نے خدا کے مطلوبہ معیار کے مطابق اپنے شعور اور اپنے کردار میں صلاحیت کا ثبوت دے دیا ہے :
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان سے اللہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں حکومت عطا کرے گا جیسا مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى کہ ان لوگوں کو حکومت دی جو ان سے پہلے گزرے، اور لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ان کے دین کو جمارے گا جس کو ان کے لئے پسند کیا ہے اور (النور ۵۵) ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے کہ وہ عام طرز کی سیاسی یا غیر سیاسی تدبیروں سے وقوع میں آجائے۔ یہ کفر و شرک کی عالمی بالا دستی کو ختم کرنے کا مسئلہ ہے۔ یہ غالب تہذیب کو مغلوب کرنے اور مغلوب تہذیب کو دوبارہ غلبہ کا مقام دینے کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک تاریخی دور کو ختم کر کے دوسرا تاریخی دور واپس لانے کا مسئلہ ہے۔ مختصر الفاظ میں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے خدائی طاقتوں کی کارفرمائی درکار ہے۔
اس کے لئے ضرورت ہے کہ ایک طوفان نوح برپا ہو جس میں شیطان کی تمام نسل غرق ہو کر رہ جائے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ معجزہ موسوی ظاہر ہو جو فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر کی موجوں کے حوالے اس کے لئے ضرورت ہے کہ خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں اور " بدر" کے میدان میں وقت کے تمام بڑوں کو جمع کر کے انھیں مسلمانوں کے قبضہ میں دے دیں۔ یہ واقعہ خدائی مدد سے ظہور میں آنے والا واقعہ ہے۔
مسلمان صرف اپنی محدود کوششوں سے اس کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔
اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا قافلہ اپنے ہی قدموں پر چل کر آگے بڑھے گا مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس کے لئے زینہ خدا کی طرف سے فراہم ہو گا جس سے چھلانگ لگا کر وہ اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔ حالات میں اس قسم کی غیر معمولی تبدیلی کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اس کا اہتمام ہمیشہ کائنات کے رب کی طرف سے ہوتا ہے۔
آج مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں ہیں اس سے نکلنے کی سبیل محض معمولی کی تحریکی کوششوں میں نہیں ہے بلکہ غیر معمولی حالات کے ظہور میں ہے۔ ہمارے حوصلوں کی کامیابی کا امکان صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ خداعی مداخلت ہماری جدوجہد کو ہمارے لئے سازگار بنا دے۔ جب زمین و آسمان کا مالک اپنی مافوق قوتوں سے سیاسی اور تمدنی چٹانوں میں ایسے درے پیدا کر دے جن سے نفوذ کر کے ہم آگے وہ ایسی موافق آندھیاں چلائے جس سے ایک طرف مخالف کیمپ کی طنابیں اکھڑیں اور دوسری طرف ملت اسلامیہ کی راہ ہموار ہوتی ہو۔ وہ ایسی بارش برسائے جو ایک کے لئے کیچڑ اور دلدل بنے اور دوسرے کے لئے سیرابی اور تازگی کا سامان پیدا کرے۔ وہ ایسا زلزلہ برپا کرے جس سے بلندیاں پست ہو جائیں اور پستیاں ابھر کر اوپر آ جائیں۔ وہ مقابلہ کے وقت ایک فریق کے اوپر رعب اور دوسرے فریق کے اوپر آمنہ نازل کرے۔ جب تک اس قسم کی غیر معمولی آسمانی مدد ہمارا ساتھ نہ دے، محض سیاسی کارروائیاں یا جلسہ جلوس ہم کو کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔ دور اول کا اسلامی قافلہ بھی اسی قسم کی خداوندی نصرت سے کامیاب ہوا تھا اور آج بھی وہ کامیاب ہوگا تو اسی قسم کی نصرتوں سے کامیاب ہوگا۔ غلبہ کا ذریعہ دعوت الی اللہ خدا کی اس برتر نصرت کا مستحق بننے کے لئے کسی مومن گروہ کو جس اہلیت کا ثبوت دینا ہے وہ ذاتی اصلاح کے بعد دعوت ہے۔ مومنین کے گروہ کے لئے خدا نے جس اجتماعی نصرت کا وعدہ کیا ہے وہ تمام تر اس پر موقوف ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں صاحب ایمان ہو، اور پھر دائی الی اللہ ہونے کا ثبوت دے۔ موجودہ دنیا میں اہل ایمان کی اصل ذمہ داری شہادت علی الناس (حج) ہے۔ اہل ایمان دنیا کی قوموں کے اوپر خدا کی طرف سے حق کے گواہ ہیں (انتم شہداء اللہ فی الارض، حدیث) اس لئے بالکل فطری ہے کہ اسی اصل حیثیت کے تحقق پر ان کو خدا کا وہ عظیم انعام ملے جس کو غلبہ وسرفرازی کہا جاتا ہے۔
مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ایک گروہ دوسرے گروہ کو لوٹتا ہے، جہاں ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر غالب آنے کے لئے سرگرمیاں دکھاتا ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے لئے دوسری
قوموں کی طرف سے بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بار بار دوسرے گروہ کی زد میں آجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف جذبات ابھرتے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کی طرف سے اپنے کو خطرہ میں پاکران کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس مسئلہ کو قرآن کی روشنی میں دیکھئے تو اس کا جواب اس سے بالکل مختلف ملے گا جو ایک عام قومی لیڈرایسے حالات میں سوچتا ہے۔ قرآنی جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ خواہ جان و مال کے نقصان کی سطح پر پیدا ہو مگر اس کا حل تمہارے لئے ابدی طور پر دعوتی عمل میں رکھ دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ہر حال میں جدوجہد کا مقام دعوت الی اللہ ہے نہ کہ وہ دنیوی محاذ جہاں بظاہر ان کا حریف انہیں خطرہ بنا ہوا نظر آتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے واسطہ سے امت کو یہی سبق دیا گیا ہے:
یا ایہا الرسول بلغ ما أنزل اليك من ربك اے رسول جو کچھ تم پر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے وفإن لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک اسے پہنچادو اگر تم نے ایسانہ کیا تو تم نے اللہ کا پیغام نہ پہنچایا من الناس (مائدہ (۶۷) اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ جب بھی اہل ایمان کے لئے دوسروں کی طرف سے عدم تحفظ کا خطرہ ہویا مغلوبیت کا سوال پیدا ہو تو ان کو دعوت الی اللہ کے کام کی طرف دوڑنا چاہئے اسی کام میں لگنے سے خدا کا قانون ان کے حق میں متحرک ہو گا اور وہ غیر معمولی اسباب پیدا ہوں گے جو بالاخر ان کے لئے نجات اور کامیابی کا زینہ بن جائیں۔
دعوت دین کے کام کی ایک خاص فوقیت (Advantage) یہ ہے کہ فطرت کو ابدی طور پر اس کا ہم نوا بنادیا گیا ہے تعصب کی سطح پر کوئی آدمی خواہ کتنا ہی مخالف ہو مگر فطرت کی سطح پر حق کی آواز تمام انسانوں کے لئے اپنے دل کی آواز ہے۔ حق کی پکار ایک ایسی پکار ہے جس کا ایک شئی ہر آدمی کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ کا دین اور انسان کی فطرت دونوں ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر اپنے خالق کا تصور لئے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کا باطن اس کی اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ہر لمحہ زور کر رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے ڈال دے۔ گویا دین حق ایک ایسا سودا ہے جس کا ہر آدمی پہلے سے خریدار بنا ہوا ہے۔ اس فطری مساعدت کے ساتھ اسلام کو ایک تاریخی مساعدت بھی حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسرے تمام مذاہب اپنے ماننے والوں کی تحریفات کے نتیجہ میں اپنا اصلی حسن کھو چکے ہیں۔ وہ اتنا بدل چکے ہیں کہ ان میں اور فطرت انسانی میں وہ مطابقت باقی نہیں رہی جو فی الواقع دونوں کے خالق نے دونوں کے درمیان رکھی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ کسی دوسرے مذہب کو مانتے ہیں وہ صرف روایت پرستی کی بنا پر اس کو مانتے
وہ تعصب کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں نہ کہ فی الواقع فطری تصدیق کی زمین پر۔ کیونکہ فطری تصدیق وہاں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اگر ہم کسی طرح تعصب کا پردہ ہٹا دیں تو تمام دوسرے مذاہب بے زمین ہو جائیں گے اور لوگوں کو اس کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہ دے گا کہ وہ اسلام کے سایہ میں پناہ لیں ۔ دعوتی تسخیر کی مثالیں دعوت میں ہمارے لئے زندگی کا راز چھپا ہوا ہے، یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ اسلام کی تاریخ اس نظریہ کے حق میں واضح تائید پیش کرتی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنے پیغمبرانہ کام کا آغاز فرمایا۔ مگر مکہ کی زمین آپ کے لئے انتہائی سخت ثابت ہوئی۔ نبوت کے بارھویں سال بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کی تاریخ مکہ سے شروع ہو کر مکہ ہی میں ختم ہو جائے گی۔ مگر اس کے بعد حیرت انگیز طور پر یثرب (مدینہ) میں یہ مواقع پیدا ہو گئے کہ آپ ہجرت کرکے وہاں جائیں اور وہاں اسلام کا مرکز قائم کریں۔ مدینہ میں یہ نیا امکان کیوں کر پیدا ہوا۔ اس کا ایک ہی جواب ہے، اور وہ یہ کہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ ۔ مدینہ میں چند لوگوں کی دعوتی جد و جہد کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہاں گھر گھر اسلام پھیل گیا (حتی لم تبق دار من دور الانصار الا وفيها رجال ونساء مسلمون، سيرة ابن هشام جلداول) اس طرح انتہائی مشکل اور مایوس کن حالات میں اسلام کی اشاعت کے ذریعہ مدینہ میں مسلمانوں کے لئے زندگی کے مواقع کھلے ۔
ہجرت نے اگرچہ مسلمانوں کے لئے اپنا ایک علاقہ مہیا کر دیا تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے باقاعدہ جنگ چھیڑ کر دوبارہ اسلام کے لئے شدید حالات پیدا کر دئے ۔ اسلام ایسی مشکلات میں گھر گیا کہ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ اسلام کے دشمن شاید اسلام کا وجود مٹا دیں گے ۔ اس وقت پھر دعوت ہی تھی جس نے دوبارہ اسلام کے لئے نئے حالات کا دروازہ کھولا۔ حدیبیہ کی صلح کی صورت میں ہر ممکن قیمت دے کر جنگ و جدال کا ماحول ختم کر دیا گیا اور پر امن حالات میں از سر نو دعوتی عمل جاری کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو سال میں مسلمانوں کی تعداد چوگنے سے بھی زیادہ ہو گئی۔ بالآخر قریش کے سردار اتنا مرعوب ہوئے کہ لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دئے ۔
فتح مکہ کے بعد پھر ایک بہت بڑا مسئلہ قبیلہ ثقیف کی صورت میں پیدا ہوا۔ وہ بے حد سرکش تھے اور دیواری شہر کے مالک ہونے کی وجہ سے ان پر فوجی کارروائی کرنا مسلمانوں کے لئے اپنے حالات کے لحاظ سے بظاہر نا ممکن تھا۔ اس وقت قبیلہ ثقیف کو جس چیز نے زیر کیا وہ دعوت ہی تھی۔ قبیلہ ہوازن (۶ ہزار) کے ساتھ تالیف قلب کا طریقہ اختیار کر کے انہیں اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ قبیلہ مہازن طائف کے قبیلہ ثقیف کا الرسائل، مارچ ۱۹۸۲
چنانچہ ان کے عمومی طور پر اسلام قبول کرتے ہی قبیلہ ثقیف کو محسوس ہوا کہ ان کا بازو ٹوٹ چکا ہے اور اب ان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ مدینہ جاکر اسلام قبول کرلیں اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجائیں ۔ طائف کا دروازہ فوجی مہم کے لئے بند تھا، مگر دعوتی مہم کے لئے وہ کھلا ہوا نظر آیا۔ اس کے بعد اسلامی تاریخ مختلف مراحل طے کرتی ہوئی آٹھویں صدی ہجری میں پہنچتی ہے۔ تاتاری قبائل ملکوں اور شہروں کو زیر و زبر کرتے ہوئے اسلامی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں اور بغداد کی عظیم مسلم سلطنت کو تاراج کرکے رکھ دیتے ہیں۔ چنگیز خاں وسط ایشیا سے ۱۲۱۶ء میں ساٹھ ہزار وحشی انسانوں کو لے کر نکلا۔ یہ لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر اور تیر اور تلوار لئے ہوئے آبادیوں پر ٹوٹ پڑے اور تمام تمدنی نشانات کو برباد کر ڈالا۔ عراق، ایران، ترکستان ان کے قدموں کے نیچے زیر و زبر ہو گئے، جہاں اس وقت کی طاقت ور ترین سلطنت قائم تھی۔ سارے عالم اسلام پر دہشت کا سناٹا چھا گیا۔ ۱۳۵۳ء میں چنگیز خاں کے پوتے ہلاکو کی سرکردگی میں یہ طوفان دوبارہ اٹھا اور ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو بھی تہس نہس کر ڈالا جو عظیم مسلم خلافت کی بربادی کے بعد ابھرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہم عصر مورخ ابن اثیر (م ۴۳۰ھ) کے الفاظ میں " اگر کوئی شخص کہے کہ آدم سے لے کر اب تک ایسا کوئی حادثہ دنیا میں پیش نہیں آیا تو اس کا کہنا غلط نہ ہوگا " ایک مغربی مورخ کے نزدیک یہ واقعہ اتنا ہولناک تھا کہ اس کے قلم سے یہ الفاظ نکلے ۔ " آسمان نے زمین پر گر کر تمام چیزوں کو مٹا دیا۔