ایک تاریخی سبق
Al-Risala, March 1982, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
تاتاریوں کا یہ قیامت خیز واقعہ امام تقی الدّین ابن تیمیہ (۱۲۸ - ۷۲۸ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ کی عظمت کو مٹتا ہوا دیکھ کر انھیں جوش آیا۔ امام ابن تیمیہ مجاہدانہ جذبہ کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے۔ شام و مصر کے مسلمانوں کو یہ نعرہ دیا کہ جنگ کا علاج جنگ ہے (الحرب انفی للحدیث) وہ ۷۰۲ھ میں مصر کے سلطان الناصر کے ساتھ تاتاریوں سے جنگ کے لئے نکلے۔ ابتدائی طور پر انھیں تاتاریوں کے ایک دستہ کے مقابلہ میں کچھ فوجی کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر بالاخر تاتاری غالب رہے اور امام ابن تیمیہ کچھ دن دمشق کے قلعہ میں اور کچھ دن تدریس و تصنیف میں زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے گئے۔
امام ابن تیمیہ تاتاریوں کے مسئلہ کو فوجی قوت سے ختم کرنا چاہتے تھے مگر وہ اس کو ختم نہ کرسکے۔ اس وقت اسلام کی دعوتی قوت ظاہر ہوئی اور اس نے تاتاریوں کے مسئلہ کو نہ صرف ختم کیا بلکہ ان کو اسی اسلام کا خادم بنا دیا جس کی جڑوں کو اکھاڑنے کے لئے وہ قسمیں کھا چکے تھے ______ آٹھویں صدی ہجری کا یہ تجربہ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے سبق دے رہا تھا کہ اسلام کی حفاظت اور اس کی سربلندی کے لئے انھیں کیا مگر عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے اس عظیم تاریخی واقعہ سے کوئی سبق نہیں لیا۔ میں دورِ جدید کے تاتاریوں کی طرف سے اسلام کے لئے مسائل پیدا ہوئے تو دوبارہ مسلمانوں کی پوری قیادت حملہ آوروں کے خلاف سیاسی جہاد میں مصروف ہوگئی۔ اس پوری مدت میں کوئی قابلِ ذکر شخص نظر نہیں آتا جو دعوتی جہاد کو جہاد سمجھے اور اس کے لئے سرگرم ہو۔