اسلام جدید دور میں
Al-Risala, March 1982, pp. 38–46
By Maulana Wahiduddin Khan
نپولین نے ۱۷۹۸ء میں مصر و شام پر حملہ کیا۔ اس سے دو سو سال پہلے سولھویں صدی عیسوی میں پرتگالی تاجر ہندوستان اور دوسرے ایشیائی ملکوں میں داخل ہو چکے تھے۔ اس کے بعد دوسری مغربی قومیں آئیں۔ اس طرح پچھلی چند صدیوں میں پرتگال، ہالینڈ، فرانس اور برطانیہ نے پوری مسلم دنیا پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اولاً برصغیر ہند کی مغل سلطنت اور اس کے بعد ترکی کی عظیم عثمانی خلافت ختم ہوگئی۔ موجودہ صدی میں اگرچہ سیاسی استعمار ختم ہو چکا ہے مگر تکنیکی استعمار کی صورت میں مغرب اب بھی پوری طرح مسلم دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ دفاعی ہتھیاروں کی خریداری سے لے کر قرآن مقدس کی طباعت و اشاعت تک تمام کاموں کے لئے مسلمان اٹھیں مغربی قوموں کے دست نگر ہیں۔
مغربی تسلط کا مسئلہ پیدا ہوتے ہی پوری مسلم دنیا میں اس کے خلاف تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور اب بھی بدستور جاری ہیں۔ پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کے درمیان جتنی بھی تحریکیں اٹھی ہیں سب کے پیچھے اصل قوت محرکہ یہی اجنبی تسلط کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ یہ تحریکیں بظاہر ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے۔ یہ سب کا طرز فکر بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ ان سب کو ایک عنوان کے تحت جمع کرنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ ان کا مقصد اجنبی اقوام کے پیدا کروہ مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنا تھا۔ یہ تحریکیں تقریباً بلا استثنا صدی صد ناکام رہیں۔ جان و مال کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود ان کا کوئی حقیقی حاصل مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا ــــــــ مسلمانوں کے عالمی سیاسی اتحاد کے لئے اتحاد اسلامی (پان اسلام ازم) کی تحریک چلائی گئی۔ مگر اس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ عثمانی خلافت اور مغل سلطنت دونوں ٹوٹ گئیں اور ان کے زیر حکومت علاقے درجنوں الگ الگ مسلم خطے میں بٹ گئے مسلمانوں نے مغرب کے سیاسی استعمار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بے شمار جانیں قربان کیں اور بے حساب مال لٹادیا مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ سیاسی استعمار ختم ہو کر سائنسی اور تکنیکی استعمار ان کے اوپر مسلط ہو گیا۔ مسلمانوں نے اجنبی محکومی سے نجات پانے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دی مگر جب اجنبی محکومی ختم ہوئی تو خود اپنے ملک کے ملحدوں اور باغیوں کی محکومی ان کے اوپر قائم ہو چکی تھی۔ مسلمانوں نے ایک اسلامستان بنانے کے لئے تاریخ کی سب سے بڑی قربانی دی۔ مگر جب دہ بنا تو صرف یہ ہوا کہ ایک واحد ملک کے مسلمان کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہو گئے ـــــ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے سوال پر ساری مسلم دنیا ایک ہوگئی اور اس کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالا جو ان کے بس میں تھا۔ مگر اسرائیل کا حال یہ ہے کہ اس کی طاقت اور رقبہ میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جس جس میدان میں بھی کوشش کی ہے ہر میدان میں انھوں نے صرف کھویا ہے، انھوں نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ہے۔ بابل کے نبی جی کے الفاظ میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کر رہا ہے“ مگر اس عمومی محرومی کی فضا میں حیرت انگیز طور پر ایک ایسا میدان موجود ہے جہاں اسلام اپنے آپ پیش قدمی کر رہا ہے۔ جب کہ بقیہ میدانوں میں بے شمار کوششیں اور قربانیاں بھی کوئی نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام ہیں، یہاں کسی قابل ذکر کوشش کے بغیر اپنے آپ مفید نتیجہ ظاہر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
یہ میدان اسلام کی اشاعت کا میدان ہے۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو غیر مسلموں تک پہنچانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ تقریباً ساری دنیا میں اسلام اپنے آپ غیر مسلم
قوموں میں پھیلتا جارہا ہے ۔ ہندوستان میں ہر زمین عمومی پیمانہ پر اسلام قبول کر رہے ہیں جاپان میں سنجیدہ طبقہ بہت تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہو رہا ہے ۔ امریکہ میں کالی نسل کے لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ افریقہ کے پس ماندہ قبائل ہر دن ہزاروں کی تعداد میں اسلام کے دائرہ میں داخل ہو رہے ہیں، وغیرہ۔ اسلام کی یہ لہر صرف نچلے طبقات تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً ہر ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اونچی حیثیت کے لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا ہے ، اور یہ سب کچھ مسلمانوں کی کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ ہو رہا ہے ۔ مواقع انتظار کرتے رہے ۱۹ ویں صدی کے نصف ثانی اور ۲۰ ویں صدی کے نصف اول میں جب کہ مسلم قائدین انتہائی بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان سے اپنا سر ٹکرا رہے تھے ، متعدد ایسے نمایاں واقعات ظہور میں آئے جو کھلا ہوا اشارہ دے رہے تھے کہ کرنے کا کام دعوت و تبلیغ ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی تصادم ۔ نمونہ کے طور پر ایک واقعہ ملاحظہ ہو، کان میکاد و الیابان قد ارسل في زمن وجود السيد بالاستانه (۱۸۹۱) كتابا الى السلطان عبد الحميد يخطب فيه مودته ويقول : ان كلامنا ملك شرقي ، ومن مصلحتنا ومصلحة شعوبنا ان نتعارف و نتزا ور وتكون الصلات بيننا قوية تجاه الدول والشعوب الغربية التى تنظر الينا بعين واحدة ، اننى ارى شعوب الا فرنج يرسلون الى بلادنا دعاة الى دينهم لحرية الدين عندنا ولا اراكم تفعلون ذلك ، فانا احب ان ترسلوا الينا دعاة يدعون الى دينكم ( الاسلام ) ويمكن ان يكون هؤلاء صلة معنوية بيننا وبينكم ( صفحه ۳۴) محمود ابورية جمال الدين افغانی، لجنة التعريف بالاسلام، القاهره ، ۱۳۸۶ ھ ۱۸۹۱ میں جب کہ سید جمال الدین افغانی آستانہ (ترکی) میں تھے ، جاپان کے شہنشاہ میجی (۱۹۱۲ - ۱۸۶۰) نے سلطان عبد الحمید ثانی کے پاس ایک خط بھیجا۔ اس خط میں اس نے دوستی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ہم دونوں مشرقی بادشاہ ہیں ۔ ہماری مصلحت اور ہماری قوم کی مصلحت یہ ہے کہ ہم باہم متعارف ہوں اور ملیں جلیں ۔ ہمارے درمیان مضبوط رشتہ ہو تاکہ ہم مغربی قوموں اور سلطنتوں کا مقابلہ کر سکیں جو ہم سب کو ایک نظر سے دیکھتی میں دیکھتا ہوں کہ مغربی قومیں ہمارے ملک میں اپنے دینی مبلغ بھیج رہی ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں مذہبی مگر میں نہیں دیکھتا کہ آپ بھی ایسا کرتے ہوں ۔ میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ آپ بھی جاپان میں ایسے لوگ بھیجیں جو یہاں آپ کے دین اسلام کی تبلیغ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ہمارے اور آپ کے درمیان مضبوط معنوی رشتہ قائم ہو جائے ۔
شہنشاہ جاپان کا یہ خط جب ترکی کے دار السلطنت پہنچا، اس وقت سید جمال الدین افغانی اور دوسرے بڑے بڑے علماء اور اکابر وہاں موجود تھے سلطان عبد الحمید ثانی نے ان لوگوں کو جمع کر کے شہنشاہ جاپان کا
خط کھایا مگر کسی نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی۔ جاپان کا سرکاری قاصد رسمی شکریہ کا جواب لے کر واپس چلا گیا۔
قریبی ماضی میں اس طرح کے عظیم واقع کو استعمال نہ کرنے کی وجہ صرف ایک تھی، دعوتی کام کی اہمیت سے مسلمانوں کا غافل ہونا۔ لوگ بطور خودجن سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے بس اسی کو وہ کام سمجھتے رہے۔ اور غیر مسلموں میں تبلیغ و دعوت کے کام کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ غیر مسلموں کا قافلہ خود ان کے یہاں آکر ان کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک فرد لارڈ ہیڈلے فاروق نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں گابون (افریقہ) کے صدر مملکت محمد عمر بانگو نے اسلام کو اپنا دین بنانے کا اعلان کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسی طرح غیر مسلم اقوام کے لاکھوں لوگ، اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ ان میں نہ صرف عوام ہیں بلکہ تاجر، ڈاکٹر، انجینئر، اہل علم اور سرکاری عہدہ دار جیسے لوگ بھی کثیر تعداد میں شامل ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی انتہائی نادان سیاست کے نتیجہ میں اسلام اور مسلمان سخت مغلوبیت کی حالت میں پہنچ گئے تھے، اچانک اسلام کی دعوتی قوت نے اپنا کرشمہ دکھایا اور یہاں کے پس ماندہ طبقات نے عمومی پیمانہ پر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ یہ واقعہ کتنا عظیم ہے۔ اس کا اندازہ ایک اقتباس سے ہو گا۔ مسٹر کرشنا دھن سردار (رامیشور پور، مغربی بنگال) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ہندو دوسرے جنم میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور ہندو ازم کا نیا جنم عمومی طور پر اسلام قبول کرنے کی صورت میں فروری کے وسط میں تامل ناڈو میں شروع ہو گیا ہے: Hindus believe in re-birth and the re-birth of Hinduism has taken place in Meenakshipuram (Tamil Nadu) in the middle of February (1981) in the form of mass conversion to Islam. Radiance Weekly, August 9, 1981 اس قسم کے واقعات جو دنیا بھر میں ہو رہے ہیں وہ مسلمانوں کی تمام موجودہ تحریکوں کو خدا کی نظر میں بے اعتبار (Discredit) ٹھہرانے کے ہم معنی ہیں۔ مسلمان جن میدانوں میں جان و مال کی قربانی دے کر اپنا مستقبل تلاش کرتے رہے وہاں سے کسی بھی درجہ میں مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ ان میدانوں میں ان کی کوششیں حبط اعمال کا مصداق بنتی رہیں۔ دوسری طرف وہ میدان جہاں جدید مسلم قیادت نے دنیا بھر میں کہیں سرے سے کوئی کوشش ہی نہ کی تھی وہاں اپنے آپ لہلہاتی ہوئی فصل نکلی چلی آرہی ہے۔ اس طرح خدا بتا رہا ہے کہ تم جن مقامات پر میری مدد تلاش کر رہے ہو وہاں مجھے مدد د دینا مطلوب ہی نہیں ہے۔
وہ زمین ہی نہیں جہاں میرے انعامات کی فصل اگتی ہو۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میری وہ مدد تمہیں حاصل ہو جس سے بند دروازے کھلتے ہیں اور چٹانیں اپنی جگہ سے کھسکنے لگتی ہیں تو تم دعوت کی زمین میں اپنی کوششیں صرف کرو جس کو میں نے اتنا زرخیز بنایا ہے کہ کسی عمل کے بغیر ہی اس کے اندر سے شان دار فصل نکلی چلی آرہی ہے۔ خدا ہم کو دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر مسلمان قدرت کے اس اشارہ کو سمجھیں اور اپنی کوششوں کو غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں تو موجودہ نتائج کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ موجودہ نسل ہی میں غلبہ اسلام کا وہ خواب پورا ہو جائے جس کی تعبیر ہم صدیوں سے دوسرے میدانوں میں تلاش کر رہے ہیں مگر وہ کسی طرح پورا نہیں ہوتا۔ عبرت ناک منظر مغرب کے مشہور مفکر جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰ - ۱۸۵۶) نے کہا تھا کہ اگر کوئی مذہب ہے جو اگلے سو سال میں انگلستان پر حکومت کرے، نہیں بلکہ سارے یورپ پر حکومت کرے تو وہ صرف اسلام ہوگا۔ نے محمد کے مذہب کو ہمیشہ بڑی قدر کی نظر سے دیکھا ہے۔ کیونکہ اس کے اندر حیرت انگیز طاقت ہے۔ مذہب ہے جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کو اپنے اندر جذب کر سکے، جس کے اندر ہر دور کے لئے اپیل ہے:
If any religion has the chance of ruling over England, nay Europe, within the next hundred years, it can only be Islam. I have always held the religion of Muhammad in high estimation because of its wonderful vitality. It is the only religion which appears to me to possess the assimilating capability to the changing face of existance, which can make its apeal to every age. ہندوستان کے مشہور ہندو مفکر سوامی ویویکانند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) نے لکھا تھا کہ ادویتا واد مذہب اور فکر کی دنیا میں آخری لفظ ہے اور واحد پوزیشن ہے جہاں سے ایک شخص تمام مذاہب اور فرقوں کو محبت کی نظر سے دیکھ سکتا ہے۔ تاہم عملی ادویتا داد جو تمام انسانیت کو خود اپنی طرح دیکھتی ہے اور اپنوں کا سا سلوک کرتی ہے، کبھی ہندوؤں میں پیدا نہ ہوسکی۔ دوسری طرف میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی مذہب قابل لحاظ حد تک اس مساوات کو پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ اسی لئے میں قطعی طور پر یہ خیال رکھتا ہوں کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر ویدانت کے نظریات بالکل ہی بے قیمت ہیں۔ ہمارے مادر وطن (ہندوستان) کے لئے جو دو عظیم نظام ات، ہندوازم اور اسلام کا مقام اتحاد ہے، ویدانت کا دماغ اور اسلام کا جسم ہی واحد امید ہے۔ میں اپنے تصور کی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان موجودہ انتشار اور اختلاف سے نکل کر شان دار اور غیر مفتوح بن رہا ہے، اور یہ ویدانت کے دماغ اور
اسلام کے جسم کے ذریعہ ہو رہا ہے :
I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strive, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. Letters of Swami Vivikanand (1970) P.453 کیسی عجیب بات ہے۔ جدید انسان کو جہاں اپنی زندگی کی کہانی اسلام کے بغیر نامکمل دکھائی دیتی ہے، وہاں ہمیں کرنے کا کوئی کام نظر نہیں آتا۔ اور جہاں جدید انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے بغیر اس کی کہانی آخری حد تک مکمل ہے، وہاں ہم اس کی پتھریلی دیوار سے اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ عبرتناک منظر شاید آسمان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی واحد امید ہے، دنیا کی بھی اور خود مسلمانوں کی بھی۔ دنیا، اپنی تمام ترقیوں کے باوجود، اس لئے بے چین ہے کہ اس کو مالک کائنات کی سچی رہنمائی حاصل نہیں۔ مسلمان اس لئے برباد ہیں کہ ان کے ذمہ خدا کی سچائی کو دوسروں تک پہنچانے کا کام سپرد کیا گیا تھا اور اس کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ حق سے محرومی کی سزا بھگت رہی ہے اور مسلمان حق سے غفلت کی۔ یہ صورتِ حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک مسلمان حق کے داعی بن کر کھڑے نہ ہوں۔ دوسرے کاموں میں مشغول ہونا یا دوسرے کاموں کو دعوت و تبلیغ کا نام دینا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے، نہ کہ وہ انھیں خدا کی رحمتوں کا مستحق بنائے۔ مسلمان اگر دعوت الی اللہ کا کام کریں تو ان کے لئے اس دنیا میں سب کچھ ہے اور اگر وہ اس مطلوبہ کام کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کی اس دنیا میں ان کے لئے کچھ نہیں۔
آسٹریلیا کی ایک مسیحی خاتون نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے بجاطور پر لکھا ہے : This is the passing glimpse of Islam. And it has much to offer to our restless world. But it seems to be an abandoned treasure, abandoned by those who bear its name. No wonder their lives are so different from the glory I described. And unless they return back to it again, they will remain in bewilderment in the rear of humanity's procession. For it is remedy, light and guidance from God, for them and for the world. (P.44) Dr Cheris Wady, The Muslim Mind, Macmillan Co. Ltd. Bombay یہ اسلام کا ایک سرسری خاکہ ہے۔ اور اس میں ہماری بے چین دنیا کے لئے بہت کچھ ہے۔ مگر یہ بظاہر ایک چھوٹا ہوا خزانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کو ان لوگوں نے چھوڑ رکھا ہے جو اس کا نام لیتے ہیں۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ ان کی زندگیاں اس عظمت سے بہت مختلف ہیں جو میں نے بیان کیا۔ اور جب تک وہ دوبارہ اس اسلام کی طرف واپس نہ ہوں وہ حیران و پریشان انسانیت کے قافلہ سے بچھڑے ہی رہیں گے۔ کیونکہ خدا کی طرف سے یہی ایک علاج۔ روشنی اور رہنمائی ہے ان کے لئے بھی اور ساری دنیا کے لئے بھی۔
اوپر ہم نے قرآن کے اس ارشاد کا تاریخی مطالعہ کیا ہے کہ عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ۔ میں ہے (مائدہ ۶۷) یہ بات جب پہلی بار پیغمبر کی زبان پر جاری کی گئی تو وہ واقعات سامنے نہیں آئے تھے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ یہ تاریخ ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی۔ ایسے وقت میں ان الفاظ پر یقین لانا اور اس کی راہ میں اپنے جان و مال کو وقف کرنا بلا شبہ مشکل ترین کام تھا۔ تاریخ کو اس کے اختتام پر دیکھنا جتنا آسان ہے ، تاریخ کو اس کے آغاز پر دیکھنا اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ دور اول کے مسلمانوں نے تاریخ کے مشکل ترین کام کو انجام دیا۔ انھوں نے واقعہ کے ظہور میں آنے سے پہلے واقعہ کو دیکھا اور اس کی خاطر مطلوبہ عمل کیا۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے حصہ میں تاریخ کا آسان ترین کام آیا تھا۔ ایک اصول کے تاریخی واقعہ بن جانے کے بعد ہمیں اپنی زندگیوں میں اسے دہرانا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہمارے پیش رو تو مشکل ترین امتحان میں پورے اترے اور ہم آسان ترین امتحان میں بھی ناکام ہو گئے۔
بے شک اللہ انکار کرنے والوں کو راستہ نہیں دکھاتا (مائدہ ۶۷) اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلمان اگر خدا کے بتائے ہوئے اصول پر دعوت الی اللہ کا کام کریں تو خدا ان کے مخالفین کو ایسا اندھا کر دے گا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہ کر سکیں اور ان کو برباد کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہوں۔ تا ہم دوسرے پہلو کے اعتبار سے اس کا تعلق خود داعی سے بھی ہے ، اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے مسئلہ کی وضاحت کے بعد اگر مسلمان اس کو نہ مانیں اور اس طریقہ کو چھوڑ کر وہ اپنے تحفظ اور احیار کے لئے دوسرے راستوں میں محنت کریں تو خدا ان کی محنتوں کو بار آور ہونے نہ دے گا۔ وہ ان کو کامیابی کے رخ پر نہیں چلائے گا۔ ان کی بڑی بڑی کوششیں بھی عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج مسلمانوں کی کوششوں کے ساتھ یہی کچھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے احیار کے لئے جان و مال کی بے حساب قربانیاں دیں مگر ان کی تمام قربانیاں بالکل لا حاصل ہو کر رہ گئیں۔ حضرت مسیح سے پہلے نبی حجتی نے جو کچھ یہود کے بارے میں کہا تھا وہ آج پوری طرح مسلمانوں کے اوپر چسپاں ہو رہا تم نے بہت سابویا پر تھوڑا کاٹا تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ تم نے بہت کی امید رکھی اور تم کو تھوڑا ملا اور جب تم اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اُڑا دیا۔
مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں۔ مگر خدا نے ان کے "کھیلان" کو ہوا میں یہ خدائی تنبیہ اگر مسلمانوں کے لئے کافی نہیں تو اس کے بعد ان کی بیداری کے لئے صور اسرافیل کا انتظار کرنا چاہئے۔
دیکھو رول نمبرہ ملی تعمیر کا کام ماہنامہ الرساله ۔ جمعیتہ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ ۔ مقام اشاعت جمعیتہ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ وقفہ اشاعت ماهانه نام پرنٹر (طابع) ثانی اثنین خاں پته جمعیتہ بلڈ نگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام پبلشر (ناشر) ثانی اثنین خاں پتہ جمعیتہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام ایڈیٹر (مدیر مسئول) ثانی اثنین خاں پتہ جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ نام اور پتہ مالک رسالہ ثانی اثنین خاں جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی ۶ میں ثانی اثنین خاں تصدیق کرتا ہوں کہ جو تفصیلات اوپر دی گئی ہیں، میرے علم و یقین کے مطابق صحیح ہیں۔ ثانی اثنین خاں یکم مارچ ۱۹۸۲ء سب سے پہلے ملت کے افراد میں شعور پیدا کرنے کا کام ہے بہترین صورت یہ ہے کہ ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں پہنچایا جائے ۔
حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب اپریل ۱۹۸۲ کے آخری ہفتہ میں بمبئی کا دورہ اس سلسلے میں پروگرام کی تفصیلات انشاء اللہ ماہ اپریل ۱۹۸۲ کے الرسالہ میں شائع کر دی جائیں گی۔
مقامی حضرات اس سلسلے میں ذیل کے پتہ پر معلومات حاصل کر سکتے ہیں : ۱ـ ہارون ٹریڈنگ کمپنی - ۱۱ بھاجی پالالین - بمبئی ۳ ۲- نورالدین آزادصاحب - ۱۰۴ کامبیکر اسٹریٹ - بمبئی ۳ Telephone : 335423, 861057, 866233 اسلام کے عمومی تعارف کے لئے آسان اور مختصر کتابوں کا سیٹ