Al-Risala · March 1982

آپ کا عمل آپ کی قسمت ہے

Al-Risala, March 1982, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ڈینش کہاوت ہے " خوش قسمتی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور پوچھتی ہے کہ کیا سمجھ داری گھر کے اندر موجود ہے" اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش قسمتی سمجھ دار آدمی کے حصہ میں آتی ہے نہ کہ بے سمجھ آدمی کے حصہ میں۔ خوش قسمتی دراصل اس نتیجہ کا نام ہے جو سمجھ داری کے ساتھ عمل کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں وہ مواقع ضرور آتے ہیں جب کہ وہ بروقت صحیح عمل کر کے اپنے مقدر کو اچھا بنا سکے۔ ہر شخص پر وہ لمحات گزرتے ہیں جو اس کی دانش مندی اور اس کی قوتِ عمل کا امتحان ہوتے ہیں۔ مگر یہ مواقع ہمیشہ اچانک آتے ہیں۔ آدمی کو بس چند لمحات کے اندر انہیں پہچاننا پڑتا ہے۔ جو شخص ایسے مواقع پر سمجھ داری اور قوتِ فیصلہ کا ثبوت دے وہ کامیاب رہتا ہے اور جو شخص سمجھ داری اور قوتِ فیصلہ کا ثبوت نہ دے سکے وہ ناکام رہتا ہے۔

نقصان یا ناکامی کسی کا مقدر نہیں، وہ اپنی کوتاہی کی قیمت ہے۔ اگر آپ نے موقع کو پہچاننے میں غفلت کی ہے تو آپ کو ضرور اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ اپنی غفلت کے لئے کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہر آکر آپ اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنے سے بچ نہیں سکتے۔ بھرتری ہری نے سچ کہا ہے "نقصان کیا ہے وقت پر چوک جانا" اگر آپ وقت پر چوک گئے تو دوسرے کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کی تلافی کرنا ممکن نہیں۔ آپ بہت سے لوگوں کو زمانہ کی شکایت کرتے ہوئے پائیں گے۔ وہ کہیں گے "کیا کریں ہماری قسمت ہی بری ہے" یا یہ کہ "مقدر نے میرا ساتھ نہ دیا ورنہ میری کامیابی یقینی تھی"، اس قسم کے جملے اگر چہ قواعدِ زبان کے اعتبار سے درست ہیں مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہیں۔ کیونکہ زمانہ کسی کا دوست یا کسی کا دشمن وہ ایک کے لئے بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے کے لئے۔

پال شرر نے کتنی عمدہ بات کہی کہ "آج کی محنت ہی کل کی قسمت ہے" آدمی جس چیز کو قسمت کا فیصلہ کہتا ہے وہ دراصل اس کی اپنی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ قسمت کے ترازو پر ہر آدمی کا انجام تل رہا ہے۔ مگر انجام کے پلہ میں کسی آدمی کو اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا عمل کے پلہ میں اس نے رکھا ہے۔ دنیا کے بازار میں عمل ہی ہر سودے کی قیمت یہاں جو شخص جتنا عمل کرے گا اتنا ہی سودا اس کے حصہ میں آئے گا۔

ایک پرانی کہاوت ہے کہ "کوئی موقع تمہارا دروازہ صرف ایک بار کھٹکھٹاتا ہے"، اگر آپ کسی موقع کو استعمال کرنے میں ناکام رہیں تو اس کے بعد مزید غلطی نہ کیجئے کہ کسی دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف شکایت کرنے بیٹھ جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسری بار جب کوئی موقع آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا تو آپ اس کی آواز تر

نہیں سن سکیں گے اور دوبارہ ناکام رہیں گے۔ جو آدمی فریاد و ماتم میں مشغول ہو اس کے کان اپنی ہی آوازوں سے بھرے ہوتے ہیں، پھر اس کو باہر کی آواز کس طرح سنائی دے گی۔

اتھرو وید میں کہا گیا ہے "میرے دائیں ہاتھ میں عمل ہے اور میرے بائیں ہاتھ میں فتح" حقیقت یہ ہے کہ عمل اور کامیابی دونوں باہم اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں میں وہی رشتہ ہے جو بیج اور درخت میں ہوتا ہے، درخت اسی کے حصہ میں آتا ہے جس نے درخت کے لئے بیج ڈالا ہو۔ اسی طرح کامیابی کا مالک صرف وہ شخص بنتا ہے جس نے اس کے لئے ضروری عمل کیا ہو۔ صحیح حالات ملنا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ضرور درخت بنے۔ اسی طرح درست عمل اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچ کر رہے۔

یاد رکھئے، امیدوں کا محل اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے ٹوٹتا ہے۔ اگر آپ خود چوکس ہوں تو کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ کتنی با معنی ہے یہ چیک کہاوت ـــــــــ "بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہوتی ہے جو ہم خود اس کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔

Printed page