Al-Risala · March 1982

غصہ سے بچیے

Al-Risala, March 1982, pp. 3–5

By Maulana Wahiduddin Khan

ارسطو کا قول ہے "غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے اور شرمندگی پر ختم ہوتا ہے" اس کی وجہ یہ ہے کہ غصہ ایک نفسیاتی ہیجان کی حالت ہے اور ہیجان کی حالت میں جو کارروائی کی جائے اس میں کبھی اعتدال نہیں غیر معتدل حالت میں آدمی جب کوئی کارروائی کرتا ہے تو اعتدال پر آنے کے بعد اکثر اسے اس احساس سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔

امریکہ میں پولیس قانون کے نفاذ میں بہت مستعد رہتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص ٹرافک اصول کی خلاف ورزی کرے یا سڑک پر گندگی ڈالے تو فوراً اس پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک بار کسی سڑک پر ایک کار تیزی سے گزری۔ ڈرائیور مقررہ رفتار (۵۵ میل فی گھنٹہ) سے زیادہ تیز اپنی گاڑی چلا رہا تھا۔ امریکی پولیس نے اس کا پیچھا کیا۔ دور جا کر اس نے اس کو پکڑا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ اتنے فاصلہ سے اس کا پیچھا کرتی آرہی ہے۔ چونکہ وہ مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلا رہا تھا اس لئے اس کو چاہئے کہ وہ قانون کے مطابق تیس ڈالر جرمانہ ادا کرے۔ یہ سن کر موٹر سوار پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی۔ اس وقت اس کے ہاتھ میں جلتا ہوا سگریٹ تھا۔ اس نے اظہار بیزاری میں سگریٹ سڑک پر پھینک دیا۔ پولیس کے آدمی نے فوراً کہا : جناب عالی، اب آپ مزید پچاس ڈالراس کوڑا ڈالنے (Littering) کے بھی ادا کیجئے ـــــــــ آدمی نے فوراً جرمانہ ادا کیا ہوتا تو وہ ۳۰ ڈالر میں چھوٹ جاتا۔ مگر اس کے غصہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمانہ کی رقم بڑھ کر ۸۰ ڈالر ہوگئی۔

"غلطی کے بعد بہترین صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کرلے،" کسی کا یہ قول بہت با معنی ہے۔ اگر فوراً اپنی غلطی کو مان لے تو وہ سستا چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اگراس نے غلطی کو ماننے میں دیر کی یا غصہ میں کوئی اور غلطی کر ڈالی تو یہ صرف اس کے جرم میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا اور اس کے اوپر لگنے والی "جرمانہ" کی رقم بڑھتی چلی جائے گی۔

جرم اگر بالکل کھلا ہوا ہو تو اس کا اعتراف نہ کرنا ڈھٹائی بن جاتا ہے، اور ڈھٹائی تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اور اگر آدمی ایسا کرے کہ جرم کی نشان دہی کرنے والے سے لڑنے لگے تو وہ اپنے بچاؤ کے آخری موقع کو بھی کھودے گا۔ اس کی طرف سے قصور کا اعتراف نہ کرنا فریقِ ثانی کے اندر مزید ردِ عمل پیدا کرے گا اور وہ قصور وار کو اس سے زیادہ سخت سزا دینے پر اتر آئے گا جو ابتداءً وہ اس کو دینا چاہتا تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے "صابن کپڑے کے میل کو صاف کرتا ہے اور اعترافِ اخلاق کے میل کو۔

اپنی غلطی کا اعتراف مسئلہ کو فوری طور پر ختم کرنے کی سب سے آسان تدبیر ہے۔ ایک فریق جب نرمی سے اپنی غلطی کو مان لے تو دوسرا فریق بھی فوراً نرم پڑ جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف دوسرے شخص کے غصہ پر ٹھنڈا پانی ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔

ایک دکاندار نے محلہ کے ایک نوجوان شخص پر چوری کا الزام لگایا۔ یہ الزام غلط تھا۔ نوجوان کو سخت غصہ اس نے دکاندار کا گریبان کھینچا اور اس کو پکڑ کر مارنا شروع کیا۔ اس کے بعد بات بڑھی۔ محلہ میں کافی شور و دونوں ایک دوسرے کو دھمکی دیتے اور زور دکھاتے رہے۔ نوجوان کے آدمیوں نے اس سے کہا کہ تم معافی مگر وہ کسی طرح معافی مانگنے پر تیار نہ ہوا۔ اگلے روز دوبارہ لوگ جمع ہوئے اور یہی بات شروع ہوئی۔ کسی حال میں معافی مانگنے کے لئے تیار نہ تھا۔ آخر دکاندار اٹھا۔ وہ عمر میں کافی زیادہ تھا۔ اس نے بڑھ کر نوجوان کو اپنے سینہ سے لگا لیا۔ اس نے کہا "اگر تم معافی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہو تو چلو میں ہی تم سے معافی مانگتا ہوں، اس قصہ کو ختم کرو"

اس کے بعد نوجوان ڈھ پڑا۔ دکاندار نے خود ٹھیک کر نوجوان کو بھی جھکا دیا۔ نوجوان اچانک دکاندار کے قدموں میں گر پڑا۔ اس نے کہا "آپ معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں۔ آپ میرے لئے باپ کے برابر ہیں۔ قصور میرا ہے۔ آپ مجھے معاف کر دیجئے"

بہت کم لوگ ہیں جو غصہ آنے کے بعد غصہ کے انجام سے بچتے ہوں۔ حالاں کہ غصہ کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا آسان بھی ہے اور ممکن بھی۔ غصہ کوئی مستقل حالت نہیں۔ وہ خارجی اسباب کے تحت وقتی طور پر آدمی کے اوپر طاری ہوتا ہے۔ اور جو چیز وقتی اور خارجی نوعیت کی ہو اس کو دور کرنا اتنا ہی آسان

ہے جتنا کپڑے پر میں لگنے کے بعد کپڑے کو دھو کر پاک کرنا۔

غصہ آنے کے بعد غصہ کے انجام سے بچنے کے لئے صرف ایک چیز درکار ہے۔ اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لئے سنبھالنے کی طاقت۔ غصہ آنے کے بعد اگر ایک لمحہ کے لئے بھی آپ اپنے کو اس کے زیر اثر آنے سے روک لیں تو یقینی طور پر آپ اپنے کو غصہ کے انجام سے بچا سکتے ہیں۔

جیفرسن کا قول ہے ”اگر تم غصہ میں ہو تو بولنے سے پہلے ایک سے دس تک گنو۔ اگر بہت زیادہ غصہ میں ہو تو سو تک۔ بے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی نہایت آسان تدبیر ہے۔ غصہ کی حالت میں سو تک گنتی گننا در اصل اپنے ذہن کو غصہ سے پھیرنا ہے۔ آدمی اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنے ذہن کو کسی دوسری طرف موڑ سکے تو اس کے غصہ کی آگ اپنے آپ ٹھنڈی ہو جائے گی۔

Printed page