Al-Risala · March 1982

شکایت نہیں

Al-Risala, March 1982, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹامس کارلائل کا قول ہے ”کیا تم نے اس آدمی کے بارے میں نہیں سنا جو سورج کو اس لئے کوستا تھا کہ وہ اس کی سگریٹ نہیں جلاتا کارلائل نے جو بات تمثیلی انداز میں کہی ہے وہ ہم میں سے اکثر لوگوں پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ آپ کو یہ شمار لوگ کسی نہ کسی کی شکایت کرتے ہوئے ملیں گے حکومت کی شکایت، پڑوسیوں کی شکایت، رشتہ داروں کی شکایت، دوستوں کی شکایت۔ اور اسی طرح دوسری شکایت۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اکثر شکایتیں بالکل بے بنیاد ہوتی ہیں۔ وہ اپنی کوتاہی کے لئے دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے ہم معنی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ہیں جیسے کوئی سگریٹ پینے والا اپنا سگریٹ سورج کی طرف کر کے یہ چاہے کہ سورج کی گرمی سے اس کا سگریٹ جل جائے اور سورج جب اس طرح اس کے سگریٹ کو نہ جلائے تو وہ سورج کو کوسنے لگے۔ حالانکہ ایسے آدمی کو اپنی بے عقلی اور اپنی بے ہمتی کا شاکی ہونا چاہئے نہ کہ آسمان کے سورج کا۔

کسی نے بالکل بجا طور پر کہا ہے کہ جتنی زیادہ امید اتنی ہی زیادہ مایوسی جب بھی آپ کو کسی شخص سے شکایت پیدا ہو تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے اس شخص سے اس سے زیادہ کی امید کر لی تھی جو امید فی الواقع آپ کو اس سے کرنی اگر آپ ایک لکڑی سے یہ امید قائم کر لیں کہ وہ آپ کے لئے لوہے کا کام دے گی تو اس کے بعد مایوسی کے سوا اور کیا چیز آپ کے حصہ میں آئے گی۔

ایک شخص جس کے پاس آپ کے لئے صرف زبانی ہمدردی تھی اس سے آپ نے عملی ہمدردی کی امید قائم ایک شخص جس کو آپ سے صرف اتنا تعلق تھا کہ وہ ملاقات کے وقت آپ کو چائے پلا دے اس سے آپ نے یہ امید کر لی کہ وہ آپ کے لئے پیسہ خرچ کرے گا اور آپ کی خاطر جان لڑائے گا۔ ایک شخص جو آپ کا صرف رسمی دوست تھا اس کے بارے میں آپ نے یقین کر لیا کہ وہ آپ کا جگری دوست ثابت ہوگا۔ ایک شخص جو صرف اچھے حالات میں آپ کا

ساتھ دے سکتا تھا اس کے متعلق آپ نے یہ امید باندھ لی کہ وہ برے حالات میں آپ کا ساتھ ہی بنے گا۔ ایک شخص جو صرف بناؤ کے وقت شریف رہ سکتا تھا اس سے آپ نے یہ توقع کرلی کہ وہ بگاڑ کے وقت شریف بنا رہے گا یہ سب چیزیں حقیقت واقعہ کے خلاف ہیں اور موجووہ دنیا میں حقیقت واقعہ کے خلاف چیزوں کا کوئی وجوہ نہیں۔ اس قسم کی امیدیں کبھی بھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے وہ آپ کے حق میں بھی پوری نہیں ہوئیں۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ کسی شخص سے بس اس کی طاقت کے بقدر چاہا جائے ، اس سے زیادہ نہیں۔ اگر آپ ایسا کریں کہ دوسرا سے اتنی ہی امید کریں جتنی امید ان سے کرنی چاہئے تو آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ مطمئُن زندگی کا سب سے بڑا راز حقیقت پسندی ہے۔

آپ صرف ایک سادہ سی بات کو پکڑ لیجئے اور اس کے بعد آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ "اپنے آپ کو بھی اسی پیمانہ سے ناپئے جس پیمانہ سے آپ دوسروں کو ناپنا چاہتے ہیں"؛ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی معاملہ میں ایک شخص سے بگڑ جاتا ہے کہ اس نے ایسا کیا اور ایسا کیا۔ حالاں کہ اگر وہ اس طرح سوچے کہ میں اس شخص کی جگہ ہوتا تو ایسے حالات میں کیا کرتا تو یقیناً وہ اس رائے پر پہنچے گا کہ ایسے حالات میں خود وہ بھی دوسروں کے ساتھ وہی کچھ کرتا جو دوسروں نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ آپ دوسرے کو کبھی وہ نہیں دے پاتے جس کی امید دہ آپ سے قائم کئے ہوئے ہے۔ پھر دوسرے سے اگر آپ کو یہی تجربہ ہو تو آپ کو دوسرے سے شکایت کرنے کا کیا حق۔ جو آدمی شکایتی مزاج کا ہو اس کے حصہ میں مزید یہ نقصان آتا ہے کہ وہ ہر ایک سے بیزار ہو جاتا ہے۔ کسی کے اوپر اعتماد نہیں کرپاتا۔ اگر آپ سورج سے یہ چاہیں کہ وہ آپ کے راستہ کو روشن کردے تو سورج آپ کو بہت بڑی نعمت نظر آئے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ یہ چاہنے لگیں کہ آپ اپنا سگریٹ سورج کی طرف کریں اور ود آپ کی سگریٹ سلگا دے تو سورج آپ کو بے کارسی چیز معلوم ہونے لگے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی آپ کو کچھ نہ کچھ دے سکتا ہے۔ مگر آدمی آپ کو وہی چیز دیتا ہے جو وہ خود آپ کو دینا چاہتا ہے نہ کہ وہ چیز جو آپ اس سے اپنے لئے لینا چاہتے ہیں۔

جو آدمی دوسرے دوسروں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ امید باندھ لے اس کو ہر آدمی ناقص معلوم ہوگا ، وہ کسی کو اپنا نہیں سمجھے گا۔ وہ بھرے ہوئے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جائے گا۔ یہی بات ایک ترکی کہاوت میں اس طرح کہی گئی ہے "جس کو ایسے دوست کی تلاش ہے جس میں کوئی کمی نہ ہو اس کو کبھی کوئی دوست نہیں

Printed page