Al-Risala · April 1982

فرشتہ یا شیطان

Al-Risala, April 1982, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے وفادار بندوں کے مشیر فرشتے ہوتے ہیں اور خدا کے باغی بندوں کے مشیر اپنی بول چال میں اور زندگی کے معاملات میں کوئی آدمی جو انداز اختیار کرتا ہے اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون آدمی کس کو اپنا مشیر بنائے ہوئے ہے۔ جو آدمی اختلاف کے وقت تواضع اختیار کرے اور جب کوئی حق اس کے سامنے پیش کیا جائے تو حق کے سامنے جھک جائے وہ فرشتوں کا ساتھی ہے۔ ایسا آدمی اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو یہ توفیق ملی ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے مشیر بنیں۔ یہ فرشتوں کی صفت ہے کہ وہ گھمنڈ نہیں کرتے۔ وہ کسی جھجھک کے بغیر حق کا فوراً اعتراف کر لیتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ لوگ جو اختلاف کے وقت ظلم اور بے انصافی پر اتر آئیں اور متکبرانہ طریقہ اختیار کریں وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ شیطان کے ساتھی انھوں نے شیطان کو اپنا مشیر بنا رکھا ہے۔ کیوں کہ قرآن میں گھمنڈ اور سرکشی کو شیطان کی صفت بتایا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ موت اور آخرت کے معاملات سے بے خبری ہے جس نے لوگوں کو سرکشی اور بے انصافی کے لئے جری بنا دیا ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کیسا ہیبت ناک دن ان کی طرف دوڑا چلا آ رہا ہے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں اور ان کے پاس بولنے کے لئے الفاظ نہ رہیں ۔ جھوٹی تاویلیں کرنے کے بجائے وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں ۔

Printed page