جب خدا ظاہر ہوگا
Al-Risala, April 1982, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کو جب ایک شخص پاتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ اس حقیقت کو بھی پالینا ہے کہ خدا نے اس کو اور اس کائنات کو عبث نہیں بنایا ہے۔ جس کائنات کا بنانے اور چلانے والا ایک طاقت ور اور باخبر خدا ہو وہاں یہ ناممکن ہے کہ اتنا بڑا کائناتی کارخانہ یوں ہی خاموش کھڑا رہے اور کبھی اس کی معنویت ظاہر نہ ہو۔
اس طرح آدمی کا ایمان اس کو اس یقین تک پہنچاتا ہے کہ ضرور ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب کہ وہ خدا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے جو کائنات کے تمام واقعات کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ پھر یہی یقین اس کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات کے خالق و مالک کا ظہور اس طرح کا غیر متعلق ظہور نہیں ہوگا جیسے تاریک رات کے بعد روشن سورج نکلتا ہے۔ یہ ایک باشعور اور طاقت ور مالک کا ظہور ہوگا۔ خداوند کائنات کا ظہور کائنات کے لئے عدالت کے ہم معنی بن جائے گا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی اس کے تمام سرکش اور خود پرست بندے خدا کی دنیا میں بالکل بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ اس دن مکھی اور مچھر سے بھی زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ دوسری طرف اس کے خدا پرست اور وفادار بندے اچانک سرفرازی کا مقام حاصل کر لیں گے۔
خدا کا غیب میں ہونا خدا کے سرکش بندوں کو اچھل کود کے مواقع دئے ہوئے ہے۔ کا ظاہر ہونا خدا کے وفادار بندوں کے لئے سرفرازی کا دن بن جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی، زیادہ بہتر اور مکمل دنیا شروع ہوگی جہاں سرکش لوگ ابدی طور پر جہنم میں ڈال دئے جائیں گے اور وفادار لوگ ابدی طور پر خوشیوں اور لذتوں کی جنت میں زندگی گزاریں گے۔