بنارسی کلاتھ اسٹور ۔ ابراہیم پورہ ۔ بھوپال
Al-Risala, April 1982, pp. 12–3
By Maulana Wahiduddin Khan
Banarsi Cloth Store - Brahimpura - Bhopal 462001
زندگی کی حقیقت جاننے کی بات کل کو جانو وقت سے پہلے آدمی اگر جانے آہ یہ انسان فرشتہ یا شیطان حادثے سے بچئے موت کا سبق سب سے بڑی مجبوری زندگی کا سفر خدا کا سایہ قبر کا دروازہ بولنا بند ہوجائے گا آخری وقت ۲۶ آنے والا دن ۲۷ موت کی یاد ۲۸ کیسی عجیب غفلت ۲۹ آدمی اکیلا ہے ۳۰ آخرت کا طوفان ۳۱ یہ بے خیری ۳۲ قیامت کی چنگھاڑ ۳۳ فیصلہ کا دن ۳۴ ایک ہی موقع ۳۵ اصلی ہار جیت ۳۶ سب سے بڑا بھونچال ۳۷ موت کے کنارے ۳۸ بہت جلد ۳۹ خدا کی ترازو ۴۰ موت کے بعد ۴۱ عدالت میں پیشی ۴۲ سب سے بڑا حادثہ ۴۳ آخرت کا اعلان ۴۴ دعوتی ذمہ داری ۴۵ اس وقت کیا ہوگا ۴۶ اسلام کی روح ۴۷ بھیٹر کے درمیان سناٹا ۴۸
زندگی میں سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ خوف کا جذبہ ہے۔ خوف کا جذبہ آدمی کے فکر وعمل کی صلاحیتوں کو جتنا جگاتا ہے کوئی دوسری چیز اس کو اتنا نہیں جگاتی۔
دنیا کی تمام سرگرمیاں کسی نہ کسی خوف کا نتیجہ ہوتی ہیں ـــــ معاشی بدحالی کا خوف، بے عزت ہونے کا خوف، برتر طاقت کا خوف، قوی دشمن کا خوف، یا اور کوئی خوف۔ ہر آدمی کسی دیکھے یا ان دیکھے خوف کے تحت عمل کرتا ہے ، خواہ وہ اس کو شعوری طور پر جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ مگر یہ تمام جھوٹے خوف ہیں۔ اصلی خوف جس کے تحت آدمی کو متحرک ہونا چاہئے وہ صرف ایک خدا کا خوف ہے۔ خدا ہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس سے تمام اندیشے وابستہ کئے جائیں۔ وہ تمام سرگرمیاں باطل ہیں جو کسی دوسرے خوف کی بنیاد پر ابھری ہوں۔ اور صرف وہی سرگرمی سچی سرگرمی ہے جو اللہ کے خوف کی بنیاد پر قائم ہو۔
خدا نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے یہ واقعہ کافی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ خدا نے انسان کو صرف پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ ہر شخص کو بالآخر اپنے پاس بلائے گا۔ اس دن وہ ہر ایک سے اس کے قول وعمل کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے کار نامہ زندگی کے مطابق اچھا یا برا بدلہ دے گا۔
واقعہ کا یہ پہلو زندگی کے معاملہ کو بے حد سنگین بنا دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ماتحتی میں دے دے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ سخت ترین سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ کرنے کا کام کیا ہے ، اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ اپنے آپ کو اور دوسرے بندگان خدا کو آگ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ خدا کے پیغمبروں نے زندگی کی جو حقیقت بتائی ہے اس کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس آنے والے دن کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچانا اور دوسرے انسانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا، یہی موجودہ دنیا میں مسلمانوں کا اصل کام ہے۔ اس کے سوا جو مطلوب چیزیں ہیں وہ سب اسی کام کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔