عجیب محرومی
Al-Risala, April 1982, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کی دوڑ دھوپ آج کس چیز کے لئے ہے_ کھانا، کپڑا، مکان، عزت، دولت اور خوشیوں کی زندگی کے لئے۔ ہر شخص اپنی ساری طاقت بس انہیں چیزوں کے پانے میں لگائے ہوئے ہے۔ سب کی توجہ انہیں چیزوں کی طرف ہے۔ انہیں کے ملنے سے لوگ خوش ہوتے ہیں اور انہیں کے نہ ملنے سے ناخوش۔
مگر موت کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ خوشیاں موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے مقدر نہیں۔ یہاں اگر کوئی شخص ان تمام چیزوں کو پالے تب بھی وہ بے حد عارضی مدت کے لئے انہیں پچاس سال کی جدوجہد کے بعد جب آدمی اپنی ترقیوں کے کنارے پہنچتا ہے تو عین اس وقت موت آجاتی ہے اور اچانک اس کی تمام ترقیوں کو باطل کر دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا ان چیزوں کے پانے کی اصل جگہ نہیں۔ پانے کی جگہ حقیقتہ موت کے بعد آنے والی دنیا ہے جہاں آدمی کو ہمیشہ رہنا ہے۔ ساری قوتوں کو دنیا کے مستقبل کو بنانے میں لگائے ہوئے ہیں، آخرت کے مستقبل کو بنانے کی کسی کو فکر نہیں۔ موجودہ عارضی دنیا میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز کے طالب ہیں اسی سے وہ زندگی کے اگلے طویل تر مرحلہ میں سب سے زیادہ غافل ہو گئے ہیں۔ آدمی اسی چیز کو کھو رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔ محرومی کی یہ قسم بھی کیسی عجیب ہے۔