آخری وقت
Al-Risala, April 1982, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی کا ایک آخری وقت مقرر ہے۔ کسی پر سوتے ہوئے وہ وقت آجاتا ہے، کوئی راہ چلتے پکڑ لیا جاتا ہے اور کوئی بستر پر بیمار ہو کر مرتا ہے۔ یہ وقت بہر حال ہر ایک پر آنا ہے، خواہ وہ ایک صورت میں آئے یا دوسری صورت میں۔
موت کا یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے۔ ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے۔ ایک ہنستا ہوا چہرہ لمحہ بھر میں اس طرح ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بے قیمت حوصلوں اور تمناؤں سے بھری ہوئی ایک روح دفعۃً اس طرح منظر عام سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ زندگی کس قدر بامعنی ہے، مگر اس کا انجام اس کو کس قدر بے معنی بنا دیتا ہے۔ بظاہر کتنا آزاد ہے، مگر موت کے سامنے وہ کتنا مجبور نظر آتا ہے۔ انسان اپنی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے، مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنی بے رحمی کے ساتھ کچل دیتا ہے۔
آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے۔ بہتر زندگی کا واحد راز یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہو جائے، اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بڑی معلم ہے۔
موت آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ کسی کو حقیر نہ سمجھے۔ کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خود سب سے زیادہ حقیر ہوگا۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی کو نہ کیونکہ بہت جلد وہ خود ہزاروں من مٹی کے نیچے دبا ہوا ہوگا۔