یہ بے خبری
Al-Risala, April 1982, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
آج لوگوں کے لئے سب سے آسان کام بولنا ہے اور سب سے مشکل کام چپ رہنا۔ مگر بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ بولنا اتنا سنگین کام معلوم ہوگا کہ لوگ سوچیں گے کہ کاش وہ ساری عمر اپنی زبان کو بند رکھتے ، کاش انھوں نے اپنے ہونٹوں کو سی لیا ہوتا۔ وہ الفاظ رکھنے کے باوجود بے الفاظ ہو جاتے۔
آدمی کے وجود میں زبان سب سے زیادہ فتنہ کی چیز ہے مگر آدمی اپنی زبان ہی کا سب سے زیادہ غلط استعمال کرتا ہے۔ زبان حق کے اعتراف کے لئے ہے مگر آدمی اپنی زبان کو حق کے انکار کے لئے استعمال کرتا ہے۔ زبان اس لئے ہے کہ آدمی اس سے بھلائی کے الفاظ بولے مگر وہ اپنی زبان سے برائی کے الفاظ نکالتا ہے۔ جب کسی سے معاملہ پڑتا ہے تو آدمی ایک جواب دے کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ اگر اس کو احساس ہو کہ آخری جواب کسی انسان کو نہیں بلکہ خدا کو دینا ہے تو وہ بولنے کے بجائے چپ رہنا پسند کرے ۔ بچانے کے بجائے وقار کو کھو دینا اس کی نظر میں زیادہ محبوب ہو جائے۔ اس قسم کی تمام باتوں کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نے غلط طور پر اپنے آپ کو اپنا مالک سمجھ لیا ہے ، اس کو یاد نہیں کہ بہت جلد اس کا خالق و مالک ظاہر ہوگا اور اس کو گرفتار کر کے بے بسی کے گڑھے میں پھینک دے گا۔
اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کل ان کا کیا انجام ہونے والا ہے تو ان کا آج ان کے لئے بے لذت ہو جائے۔ ان کی ڈھٹائی اچانک عاجزی میں تبدیل ہو جائے۔ یہ صرف آنے والے کل سے بے خبری ہے جس نے لوگوں کے آج کو ان کے لئے لذیذ بنا رکھا ہے۔