Al-Risala · April 1982

قیامت کی چنگھاڑ

Al-Risala, April 1982, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ واقعی معنوں میں اپنے رب کو پالیں وہ ایک اور ہی انسان بن جاتے ہیں ۔ بظاہر وہ عام آدمیوں کی طرح ہوتے ہیں مگر ان کا اندرونی انسان بالکل دوسرا انسان ہو جاتا ان کی جینے کی سطح عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔

ایسے لوگ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں ۔ کی ہر چیز ان کے لئے آخرت کا آئینہ بن جاتی ہے۔ آج کی رونقوں میں انھیں جنت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں ۔ آج کی تلخیاں ان کو جہنم کی یاد دلانے والی بن جاتی ہیں ۔ وہ دنیا میں آخرت کو دیکھ لیتے ہیں ، وہ زندگی میں موت کا پیغام سن لیتے ہیں ۔

مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالت غیب میں رہتے ہوئے حالت شہود میں پہنچ جائے ۔ غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ آخرت کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگر یہ دیکھنا اس وقت ہو گا جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہری پردوں کو پھاڑ دے گی ۔ جب غیب اور شہود کا فرق مٹ جائے گا ۔ مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہوگا نہ کہ ایمان ویقین کا ثبوت

قیامت کا فرشتہ صور لئے کھڑا ہے کہ کب حکم ہو اور پھونک مار کر سارے عالم کو تہ و بالا کر دے۔ یہ بے حد ہولناک وقت ہوگا۔ اس وقت آدمی بولنا چاہے گا مگر وہ بول نہ سکے گا۔ وہ چلنا چاہے گا مگر اس کے پاؤں چلنے کی طاقت کھو چکے ہوں گے ۔

Printed page