فیصلہ کا دن
Al-Risala, April 1982, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ دن آنے والا ہے جب تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کئے جائیں گے کہ ایک مالک کائنات کے سوا سب کی آوازیں پست ہوں گی۔ صرف سچائی میں وزن ہوگا، اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو چکی ہوں گی۔ کا دن ہوگا۔
ہمارے اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لئے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لئے مقدر ہے۔ ہر بار جب سورج ڈوبتا ہے تو وہ ہماری عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے، اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں۔ ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں، ایسے چند دن جن کا انجام لا محدود مدت تک بھگتنا پڑے گا۔ جس کا آرام بے حد خوش گوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد درد ناک۔ قبل اس کے کہ موت آکر ہم کو اس عالم سے جدا کر دے جہاں صرف کرنا ہے اور اس عالم میں پہنچا دے جہاں کرتا نہیں صرف پانا ہے، ہمارے لئے ضروری ہے ہم اپنی زندگی کا احتساب کر لیں۔ ہم سب کو ایک روز مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ کیسے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو خدا اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے۔ کیوں کہ وہی لوگ اس دن عزت والے ہوں گے۔ کیسے بدبخت ہیں وہ لوگ جن کو خدا رد کر دے۔ کیوں کہ اس کے بعد ان کے لئے رسوائی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔