اصلی ہار جیت
Al-Risala, April 1982, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں کوئی کامیاب نظر آتا ہے اور کوئی ناکام ۔ اس بنا پر لوگ اسی دنیا کو ہار جیت کی جگہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا ذہن یہ ہوجاتا ہے کہ اسی دنیا کی جنت جنت ہے اور اسی دنیا کی دوزخ دوزخ۔
مگر یہ محض دھوکا ہے۔ ہار جیت تو دراصل وہ ہے جو اگلی زندگی میں سامنے آنے وہ لوگ جو دنیا میں اپنے کو کامیاب سمجھتے ہیں جب پردہ ہٹے گا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اصل حقیقت تو کچھ اور تھی ۔ اس وقت معلوم ہوگا کہ کون گھاٹے میں رہا اور کون نفع کمالے گیا۔ کس نے دھوکا کھایا اور کون ہوشیار نکلا۔ کون مقابلہ کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا اور کون آگے بڑھنے والا ثابت ہوا۔ کس نے اپنی صلاحیتوں کو نتیجہ خیز کام میں لگایا اور کون تھا جس نے اپنی قوتوں کو وقتی تماشوں میں ضائع کر دیا۔ عزت پائی اور کون رسوا اور ذلیل ہو کر رہ گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہار اس کی ہے جو آخرت میں ہارا۔ اور جیت اس کی ہے جو آخرت کے دن جیتا۔ وہ لوگ جو مصلحت پرستی اور موقع شناسی کی مہارت دکھا کر آج کی دنیا میں عزت اور ترقی حاصل کر رہے ہیں ، کل کی دنیا میں ان کی یہ مہارتیں بالکل بے کار ثابت ہوں گی۔ مرنے کے بعد جب وہ آخرت کے عالم میں پہنچیں گے تو وہاں کے حالات میں عزت کی جگہ لینے کے لئے وہ اسی طرح اپنے آپ کو نا اہل پائیں گے جس طرح ایک قدیم طرز کا دستکار آدمی روایتی ماحول میں با کمال نظر آتا ہے۔ لیکن اگر وہ جدید طرز کے ٹیکنکل معاشرہ میں پہنچ جائے تو وہاں وہ بالکل بے قیمت ہو جائے گا۔