Al-Risala · April 1982

بنم

Al-Risala, April 1982, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر شخص کے اوپر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو موت کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے گا۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جس کو وہ چھوڑ چکا، جس میں اب وہ واپس اور سامنے وہ عالم ہوگا جس میں اب اسے داخل ہونا ہے، جس میں داخلہ سے وہ اپنے آپ کو روک نہیں سکتا۔

فیصلہ کا یہ دن ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس دن ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو جائے گا خواہ اس نے اپنے اوپر کتنے ہی زیادہ پر دے ڈال رکھے ہوں، خواہ اس نے اپنے آپ کو کیسے ہی خوبصورت الفاظ میں چھپا رکھا ہو۔ موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے کہ ایک خود پرست آدمی اپنے آپ کو خدا پرست کے روپ میں ظاہر کرے۔ ایک شخص کو اپنے جاہ و مرتبہ سے دل چسپی ہو مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو اس انداز میں پیش کرے گویا وہ حق کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔ شخص کا یہ حال ہو کہ ذاتی مصلحتیں اور ذاتی مفادات اس کی سرگرمیوں کا مرکز و محور ہوں مگر اپنی تقریر و تحریر سے وہ لوگوں پر ایسا جادو کرے کہ لوگ اس کو حق کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھنے لگیں۔

مگر موت انسانی زندگی کا وہ واقعہ ہے جو اس قسم کی تمام چیزوں کو باطل کر دینے موت کے بعد آدمی جس دنیا میں پہنچتا ہے وہاں اچانک اس قسم کے تمام لبادے اس کے اوپر سے اتر جاتے ہیں۔ وہ اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں سامنے آجاتا ہے، اپنے لئے بھی اور دوسرے انسانوں کے لئے بھی۔

Printed page