ایمانی انقلاب
Al-Risala, April 1982, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس کی پکڑ بہت بڑی ہے اور اس کی سزا بھی ایسے خدا پر ایمان لانا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ خدا پر ایمان جب کسی کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔
آدمی شیر کو کھلا ہوا دیکھتا ہے تو اس کی شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ ہلچل آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ خدا کو پالے۔ خدا پر ایمان لانا خدا کو پانے کا اقرار کرنا ہے۔ جب کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کو پاتا ہے تو خدا اس کے لئے وہ حقیقت بن جاتا ہے جس پر وہ سب سے زیادہ یقین کرے، خدا اس کے لئے وہ طاقت بن جاتا ہے جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے۔
ایمان وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں بھونچال بن کر داخل ہو۔ جو قیامت کے زلزلہ سے پہلے آدمی کے لئے زلزلہ بن جائے۔
اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو اس کے پورے وجود پر خدا کا ڈر چھا جاتا ہے۔ اس کے لئے ہر معاملہ خدا کا معاملہ بن جاتا ہے۔ کسی چھوٹے کو بے عزت کرنے سے وہ اس طرح کانپتا ہے گویا وہ مالک کائنات کے سفیر کو بے عزت کر رہا ہے۔ کسی بڑے کی خوشامد کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ خدا کی غیرت کو چیلنج کر رہا ہے۔ حق واضح ہونے کے بعد اس کو نظر انداز کرنا اس کے نزدیک ایسا بن جاتا ہے جیسے کوئی شخص جنت اور جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے، پھر بھی جنت کے باغوں کو چھوڑ کر جہنم کی آگ میں کود پڑے۔