حقیقت پسندی
Al-Risala, May 1982, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ نے اگست ۱۹۴۵ میں اپنے دو ایٹم بم جاپان پر گرائے۔ اس کے نتیجہ میں جاپان تہس نہس ہو کر رہ گیا۔ مگر جاپانیوں کو اس پر غصہ نہیں۔ کیونکہ امریکیوں کی کارروائی یک طرفہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ جاپان کی متشددانہ کارروائی کے جواب میں کی گئی ـــــــــ جاپانیوں کا یہی حقیقت پسندانہ مزاج ہے جس نے انھیں موجودہ زمانہ میں غیر معمولی ترقی کے مقام تک پہنچایا ہے۔
امریکہ نے جاپان کے دو بڑے صنعتی شہروں ، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ کے اندر دونوں آباد شہر عظیم الشان کھنڈر بن گئے۔ ان میں سے ہر ایک شہر۔ میل سے زیادہ بڑے رقبہ میں بسا ہوا تھا۔ مگر جب ان پر ایٹم بم گرا تو یہ حال ہوا کہ انسان، حیوان، درخت سب جل بھن کر رہ گئے۔ ڈیڑھ لاکھ آدمی مر گئے ۔ دس ہزار آدمی ایسے تھے جو حادثہ کے بعد فوراً بخارات میں تبدیل ہو گئے۔ آج یہ دونوں شہر شان دار طور پر دوبارہ آباد ہو چکے ہیں۔ چوڑی سڑکیں ، کشادہ مکانات ، جگہ جگہ پارک اور باغ نے شہر کو بالکل نیا منظر عطا کیا ہے۔ اب شہر میں صرف ایک ٹوٹی ہوئی عمارت باقی ہے جو دیکھنے والوں کو یاد دلاتی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں اس شہر پر کیسی قیامت آئی تھی ۔
ہندوستان ٹائمس (نئی دہلی) کے ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ جاپان گئے تھے۔ اپنے سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے جاپان میں ایک بے حد عجیب بات دیکھی۔ جب کہ بقیہ دنیا نے ہیروشیما اور ناگاساکی کے واقعات کو بہت بڑے پیمانہ پر امریکہ کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا ہے، خود جاپانی ان واقعات کو امریکہ کے خلاف نہیں لیتے۔ خوشونت سنگھ نے اپنے جاپانی رفیق سے اس کی بابت سوال کیا تو خلاف توقع اس نے نرم لہجہ میں کہا :
We hit them first at Pearl Harbour. We killed a lot of them. They warned us of what they were going to do but we thought they were only bluffing. They beat us fair and square. We were quits. And now we are friends. پہلے ہم نے ان کے پرل ہاربر پر حملہ کیا۔ ہم نے ان کے بہت سے لوگوں کو مار ڈالا۔ اس کے جواب میں وہ جو کچھ کرنے والے تھے اس سے انھوں نے ہمیں آگاہ ہی دی۔ مگر ہم نے سمجھا کہ یہ محض دھونس ہے۔ انھوں نے ہمیں کسی دھوکے کے بغیر کھلے طور پر مارا۔ پہلے ہم ایک دوسرے سے دور تھے۔ اب ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں (ہندوستان ٹائمس ۴ اپریل ۱۹۸۱)
ایٹمی حملہ سے مرنے والوں کی یادگار ہیروشیما میں قائم کی گئی ہے۔ امن میوزیم (Peace Museum)
میں جنگی تباہ کاریوں کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھنے کے لئے ہر سال تقریباً ۷ لاکھ جاپانی ہیروشیما آتے ہیں۔ گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عام جاپانی کے دل میں امریکہ کے خلاف نفرت چھپی ہوئی تاہم وہ اپنے عملی رویہ میں اس کا اظہار ہونے نہیں دیتے۔ انھوں نے اپنے مخالفانہ جذبات پر حقیقت پسندی کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ جاپانیوں کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ جنگ کے بعد بہت تھوڑی مدت میں انھوں نے دوبارہ غیر معمولی ترقی کر لی۔ ان کے یہاں نہ تیل نکلتا ہے اور نہ ان کے پاس معدنیات کی کانیں ان کو بیش تر خام مال باہر سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود جاپان آج اپنے اعلیٰ سامانوں کی بدولت دنیا کی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے۔
مسٹر خوشونت سنگھ نے جاپان میں وکیلوں کی بابت معلوم کیا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہاں وکالت کے پیشہ کا حال اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہوتی ہے تو وہ عدالت میں جانے کے بجائے باہمی گفتگو سے اس کو طے کر لیتے ہیں۔ جب آدمی اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار ہو تو جھگڑا کبھی آگے نہیں جھگڑا ختم نہ ہونے کی وجہ اکثر حالات میں یہ ہوتی ہے کہ یک آدمی ایک طرفہ طور پر دوسرے کو الزام دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے دوسرے کے اندر بھی ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ اور مسئلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب ایک فریق اپنی جانب کی غلطی مان لے تو دوسرے کے اندر بھی جھکاؤ پیدا ہوگا اور مسئلہ وہیں کا وہیں ختم ہو جائے گا۔ اس حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کا جاپان کو یہ بہت بڑا فائدہ ملا ہے کہ ایک جاپانی دوسرے جاپانی پر اعتماد ہندوستان جیسے ملکوں میں تجارتی معاہدے اور تجارتی خط کتابت عام طور پر ایسے ماہرین انجام دیتے ہیں جو بہت بندھے ہوئے الفاظ اور قانونی پہلوؤں کی کامل رعایت کرنے والی زبان لکھنا جانتے ہیں۔ اپنا وقت اس قسم کے تحریری مسودات تیار کرنے میں ضائع نہیں کرتے۔ امریکہ میں قانون دانوں کی تعداد ۵۰ ہزار ہے جب کہ جاپان میں قانون دانوں کی تعداد صرف ہزار ہے۔ جاپان میں ایسے لفظی ماہرین کا زیادہ کام ہی نہیں۔ جاپان کے اکثر تجارتی ادارے زبانی معاہدوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اولاً اس کا رواج جاپانیوں کے باہمی تعلقات میں ہوا مگر اب باہر کے تاجر بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ جاپانی کے منھ سے بولے ہوئے لفظ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ سے آزادی کا یہ فائدہ ہے کہ کام تیزی سے ہوتا ہے اور غیر ضروری لفظی پابندیاں کار کردگی میں حارج نہیں بنتیں۔ جاپان کے اس مزاج نے اس کو باہمی اتحاد کا تحفہ دیا ہے۔ اور اتحاد بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ کی ترقی کا راز جاپانیات کے ایک ماہر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔
Never quarrelling amongst themselves, always making everything together آپس میں کبھی نہ جھگڑنا، ہر کام ہمیشہ مل جل کر کرنا (ہندوستان ٹائمز ۴ اپریل ۱۹۸۱ء)