Al-Risala · May 1982

ایک کے بجائے دو

Al-Risala, May 1982, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ولیم دوم (1941 - 1859) جرمنی کا بادشاہ تھا۔ اپنے باپ شہنشاہ فریڈرک کے بعد 1888 میں تخت پر بیٹھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ اس نے جرمنی کو فوجی اعتبار سے ترقی دینے میں کافی دلچسپی لی۔ مگر اس کا فوجی استحکام اس کی شہنشاہیت کو بچانے میں کامیاب نہ ہوا۔ ملکی حالات کے تحت اس کو تخت چھوڑنا پڑا۔ 1918 میں وہ حکومت چھوڑ کر ہالینڈ چلا گیا اور وہاں خاموشی کے ساتھ زندگی گزار کر مر گیا۔ اس کی جلاوطنی کی موت گویا اس بات کا ایک واقعاتی ثبوت تھی کہ فوجی قوت کے مقابلہ میں حالات کی قوت زیادہ اہم ہے جنگِ عظیم اول سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے۔ جرمنی کا مذکورہ بادشاہ ولیم دوم سوئزرلینڈ گیا ہوا تھا، وہ وہاں کی منظم فوج کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے مزاحیہ انداز میں سوئزرلینڈ کے ایک فوجی سے پوچھا: اگر جرمنی کی فوج جس کی تعداد تمہاری فوج سے دگنی ہو، تمہارے ملک پر حملہ کر دے تو تم اس وقت کیا کرو گے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :

Printed page